Connect with us

اتر پردیش

خواجہ یونیورسٹی میں اودھی زبان کو نصاب میں شامل کرنے کا اعلا ن

Published

on

(پی این این )
لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں اودھی ریسرچ چیئر کی پہلا اجلاس نہایت کامیابی کے ساتھ انعقاد ہوا۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد اودھی زبان، اس کے ادب اور لوک ثقافت کے تحفظ، فروغ اور تعلیمی ارتقا کو ایک منظم اور مؤثر سمت دینا تھا۔میٹنگ کی صدارت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا نے کی۔
اس موقع پر انھوں نے اودھی زبان کی تاریخی، ثقافتی اور سماجی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اودھی ہماری تہذیبی وراثت کی ایک طاقتور اور زندہ علامت ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یونیورسٹی جلد ہی اودھی زبان کو ایک مستقل اور باقاعدہ مضمون کے طور پر نصاب میں شامل کرے گی، تاکہ طلبہ و طالبات کو اپنی لوک زبان میں تعلیم اور تحقیق کے بہتر مواقع حاصل ہو سکیں۔وائس چانسلر نے مزید کہا کہ اودھی زبان کے ذریعے لوک ثقافت، ادب اور سماج کے درمیان گہرے اور مضبوط رشتے کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت یونیورسٹی اودھی سے متعلق تحقیقی منصوبوں، سمیناروں، ورکشاپس اور دیگر علمی و ادبی سرگرمیوں کو خصوصی ترجیح دے گی۔
اجلاس میں اودھی ریسرچ چیئر کے اراکین، پروفیسر سوریہ پرتاپ دکشت، پروفیسر ودیا بندھو سنگھ، ڈاکٹر رام بہادر مشرا اور ڈاکٹر سرویش استھانا نے شرکت کی۔ تمام اراکین نے اودھی زبان کے تحفظ، اس کی دستاویز سازی، ادبی تحقیق اور نئی نسل تک اس کے فروغ کے حوالے سے قیمتی تجاویز پیش کیں اور اودھی ادب کو علمی و تحقیقی سطح پر مستحکم کرنے کے لیے ٹھوس حکمتِ عملی وضع کرنے پر زور دیا۔اس موقع پر اودھی ریسرچ چیئر کے کنوینر ڈاکٹر نیرج شکلا کے ساتھ ڈاکٹر یوگیندر سنگھ، ڈاکٹر آرادھنا استھانا اور ڈاکٹر ہمانشو گنگوار بطور معاون کنوینر موجود رہے۔
کنوینر منڈل نے چیئر کی آئندہ عملی منصوبہ بندی، تحقیقی موضوعات کے انتخاب، اشاعتی سرگرمیوں اور مجوزہ تعلیمی پروگراموں پر تفصیلی غور و خوض کیا۔اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اودھی زبان اور ثقافت سے متعلق خصوصی کورسز، سرٹیفکیٹ پروگرام، تحقیقی منصوبے اور ثقافتی تقاریب منعقد کی جائیں گی، تاکہ طلبہ کو تعلیمی کے ساتھ ساتھ عملی سطح پر بھی فائدہ پہنچایا جا سکے۔ مزید برآں اودھی ادب، لوک گیتوں، لوک ناٹک اور روایتی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے ایک جامع ڈیجیٹل آرکائیو تیار کرنے کی تجویز پر بھی سنجیدگی سے غور کیا گیا۔
میٹنگ کے اختتام پر تمام اراکین نے متفقہ طور پر اس عزم کا اظہار کیا کہ اودھی زبان کو قومی سطح پر شناخت دلانے اور اسے علمی و ادبی منظرنامے میں نمایاں مقام عطا کرنے کے لیے یونیورسٹی کی کوششوں کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جائے گا۔

اتر پردیش

اے ایم یو کا طلبا کیلئے ذہنی صحت بیداری ورکشاپ کی سیریز منعقد کرنے کا اعلان

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ: طلبہ کی ذہنی صحت کے سلسلہ میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے ”مائنڈ میٹرز: اسٹوڈنٹس ویلبیئنگ سیریز“کے عنوان سے ورکشاپ کی ایک سیریز منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پہل ڈین آف اسٹوڈنٹس ویلفیئر (ڈی ایس ڈبلیو) کی جانب سے ایڈوانسڈ سینٹر فار ویمنس اسٹڈیز (اے سی ڈبلیو ایس) اور غیرسرکاری سماجی تنظیم انکلوزیو فیوچرز فاؤنڈیشن کے اشتراک سے کی جا رہی ہے۔
”ہر طالب علم صرف اچھے نمبر ہی نہیں بلکہ ایک صحت مند ذہن کا بھی حقدار ہے“ کے عنوان سے منعقد ہونے والی اس سیریز کا مقصد طلبہ کو ذہنی تندرستی، حوصلہ مندی اور جذباتی استحکام کے لیے عملی تربیت فراہم کرنا ہے۔ اسٹوڈنٹس کاؤنسلنگ سینٹر، فیکلٹی آف سوشل سائنسز اور جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، اے ایم یو کے ماہرین اور کاؤنسلرز اپنی مہارت سے طلبہ و طالبات کو مستفید کریں گے۔
پروگرام کے ابتدائی مرحلے میں اے ایم یو کے مختلف اسکولوں میں ورکشاپ منعقد کی جائیں گی۔ اس سلسلہ کی پہلی ورکشاپ 16 اپریل کو ایس ٹی ایس اسکول (منٹو سرکل) میں منعقد ہوگی، اس کے بعد 22 اپریل کو اے بی کے گرلز اسکول، 25 اپریل کو سینئر سیکنڈری اسکول (بوائز) اور 29 اپریل کو سینئر سیکنڈری اسکول (گرلز) میں سیشن منعقد کیے جائیں گے۔
ورکشاپ میں دماغی و ذہنی صحت سے متعلق آگہی، گراؤنڈنگ تکنیک، برین جم ایکسرسائز، مائنڈفُلنیس پریکٹس، کوگنیٹیو ری اسٹرکچرنگ، گائیڈیڈ امیجری، کوگنیٹیو ری ہیبیلیٹیشن اور گبرش میڈیٹیشن جیسے موضوعات شامل ہوں گے۔ورکشاپ کی تنظیمی ٹیم میں پروفیسر اطہر انصاری (ڈی ایس ڈبلیو)، پروفیسر صبوحی خان (ڈپٹی ڈی ایس ڈبلیو)، پروفیسر نبی اللہ خان (ڈپٹی ڈی ایس ڈبلیو)، پروفیسر عذرا موسوی (ڈائریکٹر، اے سی ڈبلیو ایس) اور ڈاکٹر جوہی گپتا (اسسٹنٹ پروفیسر، اے سی ڈبلیو ایس اور صدر، انکلوزیو فیوچرز فاؤنڈیشن) شامل ہیں۔

Continue Reading

اتر پردیش

خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں مشن شکتی کے تحت شعری نشست کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں مشن شکتی کے تحت ایک بامقصد اور فکرانگیز شعری نشست و کاویہ پاٹھ کا انعقاد وائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا کی زیرِ نگرانی ہائبرڈ ہال ابوالکلام آزاد اکیڈمک بلاک میں کیا گیا۔ اس ادبی پروگرام کا بنیادی مقصد خواتین کے حقوق، ان کی آزادی، خودمختاری، مساوات اور بااختیار بنانے کے پیغام کو شاعری اور نظموں کے ذریعے طلبہ تک مؤثر انداز میں پہنچانا تھا۔ اس نشست نے ادب کو سماجی بیداری کے ایک طاقتور وسیلے کے طور پر پیش کیا، جہاں اشعار اور نظموں کے ذریعے عورت کے وجود، اس کی شناخت، اس کے خواب اور اس کے حقوق کو نہایت دلنشیں انداز میں اجاگر کیا گیا۔
اس موقع پر شعبۂ ہندی کی استاذ ڈاکٹر آرادھنا آستھانہ نے شعری نشست اور کاویہ پاٹھ کی معنویت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کاویہ پاٹھ ہندوستانی ادبی روایت کا ایک نہایت اہم حصہ ہے، جو نئی نسل کو اپنی تہذیبی جڑوں، اخلاقی اقدار اور سماجی شعور سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاعری میں عورت صرف حسن و محبت کی علامت نہیں بلکہ طاقت، حوصلے، مزاحمت اور خود شناسی کی علامت بھی ہے۔ ان کے مطابق زبان و ادب کے ذریعے خواتین کے وقار، خودمختاری اور سماجی بیداری کے پیغام کو زیادہ گہرائی اور اثر پذیری کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے۔
پروگرام کے دوران ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شویتا اگروال نے اپنے خطاب میں کہا کہ مشن شکتی محض خواتین کے تحفظ کی مہم نہیں بلکہ ان کے ذہنی، تعلیمی، تخلیقی اور قائدانہ استحکام کا ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاعری اور ادبی اظہار طالبات کو اپنی آواز بلند کرنے، اپنے تجربات بیان کرنے اور اپنی شناخت کو مضبوط بنانے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ان کے مطابق جب عورت اپنی بات شعر اور نظم کے پیرائے میں پیش کرتی ہے تو وہ صرف احساسات کا اظہار نہیں کرتی بلکہ اپنے حق، اپنی آزادی اور اپنی خودمختاری کا اعلان بھی کرتی ہے۔
اسی سلسلے میں لیگل اسٹڈیز کے ڈاکٹر انشل پانڈے نے اپنے بیان میں کہا کہ مشن شکتی خواتین کے قانونی حقوق، سماجی تحفظ اور انصاف تک رسائی کے شعور کو فروغ دینے کی ایک مضبوط مہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاعری ہمیشہ سے ظلم، ناانصافی اور سماجی نابرابری کے خلاف ایک توانا آواز رہی ہے۔ ادب اور قانون کا باہمی رشتہ معاشرے میں برابری، انصاف، احترامِ نسواں اور انسانی وقار کے تصور کو مضبوط کرتا ہے۔ ان کے مطابق جب حقوق کی زبان شاعری کے آہنگ سے ملتی ہے تو اس کا اثر دل و دماغ دونوں پر دیرپا ہوتا ہے۔
شعبۂ اردو کے ڈاکٹر ظفر النقی نے کہا کہ اردو شاعری کی روایت میں عورت کے کردار کو ہمیشہ ایک خاص مقام حاصل رہا ہے۔ کلاسیکی اور جدید اردو شاعری میں عورت کبھی محبت کی علامت، کبھی صبر و استقامت کی مثال اور کبھی مزاحمت، خودداری اور بیداری کی آواز کے طور پر سامنے آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیض، پروین شاکر، کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض جیسے شعرا و شاعرات نے عورت کے احساسات، اس کے مسائل اور اس کے حقوق کو شاعری کا موضوع بنا کر سماج میں بیداری پیدا کی۔ ان کے مطابق اس طرح کی شعری نشستیں طلبہ میں زبان و ادب سے شغف پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین کے حقوق کے تئیں حساسیت، احترام اور سماجی ذمہ داری کے شعور کو بھی فروغ دیتی ہیں۔

Continue Reading

اتر پردیش

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بی ایس سی اور بی اے پروگراموں کے داخلہ امتحانات منعقد

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے بیچلر آف سائنس (بی ایس سی)، بی ایس سی ایگریکلچر، بیچلر آف آرٹس (بی اے) اور بی اے فارین لینگویجز کورس میں داخلے کے لیے ملک بھر کے مختلف مراکز پر داخلہ امتحانات خوش اسلوبی کے ساتھ منعقد کئے۔
بی ایس سی اور بی ایس سی ایگریکلچر کے لیے صبح کے سیشن میں ہونے والے امتحان میں کل 9,339 درخواست دہندگان میں سے 7,828 امیدوار شریک ہوئے۔ یہ امتحانات علی گڑھ، لکھنؤ، کولکاتا، سری نگر، پٹنہ، کوژی کوڈ، امپھال اور کھاناپارہ (گوہاٹی) سمیت مختلف مراکز پر منعقد ہوئے۔بی اے اور بی اے فارین لینگویجز پروگراموں کے لیے 6,264 امیدواروں نے درخواست دی تھی، جن کے داخلہ امتحانات دوپہر 3 بجے سے شام 5 بجے تک منعقد ہوئے۔
کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر مجیب اللہ زبیری نے امتحانات کے پُرامن اور منظم انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام مراکز پر امتحانات خوش اسلوبی سے مکمل ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ سینئر اساتذہ کو مبصرین کے طور پر تعینات کیا گیا تھا، جبکہ علی گڑھ سے باہر کے مراکز پر نگراں مقرر کیے گئے تھے تاکہ بہتر تال میل کو یقینی بنایا جا سکے۔ امتحان میں شریک طلبہ اور ان کے والدین کی رہنمائی کے لیے یونیورسٹی کیمپس میں اہم مقامات پر نیشنل سروس اسکیم (این ایس ایس) کے خصوصی امدادی کیمپ بھی قائم کیے گئے تھے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network