Connect with us

اتر پردیش

ملیح آباد قلعہ پر تنازعہ ،مندرہونے کادعویٰ 

Published

on

(پی این این )
لکھنؤ:اتر پردیش کے ملیح آباد میں ایک قلعے کو لے کر نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے ۔ ہندوفریق نے اسے مندر ہونے کا دعویٰ  کیاہے جبکہ مسلمانوں نے اس کولیکر وقف املاک بتایاہے جس کے کاغذات موجود ہیں۔یہ قلعہ تاریخی اور مذہبی اہمیت ہے ۔غورطلب ہے کہ ملیح آباد کے گاؤں کسمنڈی کلا میں ایک قدیم قلعہ نما ڈھانچہ کو لے کر تنازعہ گہرا ہو گیا ہے۔ ہندو پاسی برادری اور مسلم کمیونٹی نے ڈھانچے کی تاریخی اور مذہبی شناخت کا مقابلہ کیا ہے، جس کی وجہ سے ایک کشیدہ تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے۔
اس تنازعہ کے حوالے سے پاسی برادری کے بارے میں بات کرتے ہوئے لکھن پاسی تنظیم اور پاسی برادری کا دعویٰ ہے کہ کسمنڈی کلا میں پرائمری ہیلتھ سینٹر (PHC) کے پیچھے بنایا گیا یہ ڈھانچہ 11ویں صدی کے طاقتور ناگاونشی بادشاہ کانسا (راجپاسی مہاراج کانسا) کا قدیم قلعہ اور شیو مندر ہے۔پاسی برادری کے ارکان کا کہنا ہے کہ قلعہ نما ڈھانچہ کی دیواروں پر سانپوں، پھولوں اور گلدانوں سے نقش و نگار بنائے گئے ہیں جو کہ ہندو روایت اور فن تعمیر کا حصہ ہیں۔ ان فن پاروں کا اسلامی فن تعمیر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
واضح ہوکہ مہاراجہ کانسا پاسی کو پاسی برادری میں ایک بہادر اور طاقتور حکمران کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس نے تقریباً 980 سے 1031 تک اودھ کے علاقے پر حکومت کی۔ اس کا اثر ملیح آباد، کاکوری، اناؤ، سندیلا اور ہردوئی تک پھیلا۔ لوک داستانیں اور سماجی روایات انہیں ایک جنگجو کے طور پر یاد کرتی ہیں جس نے غیر ملکی حملہ آوروں کے خلاف لڑا۔نوادرات کے علاوہ پاسی برادری تاریخ کا حوالہ بھی دیتی ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ جب غیر ملکی حملہ آور سید سالار مسعود غازی اودھ کے علاقے میں پہنچے تو بادشاہ کنسہ نے ان کا زبردست مقابلہ کیا۔ ان کا الزام ہے کہ مندر اور قلعہ بعد میں ایک مقبرے اور مسجد میں تبدیل ہو گیا۔اس معاملے میں دوسرا فریق مسلم کمیونٹی ہے۔ مسلم کمیونٹی اور مقامی علماء کا کہنا ہے کہ یہ ڈھانچہ تاریخی طور پر ایک مسجد اور ایک مقبرہ تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس جگہ کو کئی دہائیوں سے سرکاری اور وقف بورڈ کے دستاویزات میں مسجد اور قبرستان کے طور پر درج کیا گیا ہے، اور وہاں طویل عرصے سے نماز ادا کی جاتی رہی ہے۔ انہوں نے پاسی برادری کے دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ہند وفریق کے دعویٰ کے بعد ملیح آباد میں حالات کشیدہ ہیں ۔انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر پی اے سی اور پولیس کو تعینات کیاہے ۔

 

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

uttar pradesh

اترپردیش میں بجلی کابحران، عوام پریشان،ریاست میں ناقابل برداشت ’شدید بجلی آفت‘ کی وجہ سے مسلسل بڑھتے ہوئے عوامی غصے سے بچنے کے لیے خوفزدہ ہوکردکھاوے کا خط لکھ رہے ہیں بی جے پی کے ایم ایل اے اور ایم پی :اکھلیش یادو

Published

on

(پی این این)
لکھنؤ:سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھلیش یادو نے اتر پردیش میں بجلی کے بحران پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت پر شدید حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اتر پردیش میں ناقابل برداشت ’بڑی بجلی آفت‘ کی وجہ سے مسلسل بڑھتے ہوئے عوامی غصے سے بچنے کے لیے خوفزدہ بی جے پی کے ایم ایل اے اور ایم پی دکھاوے کے خط کو کاغذی ڈھال بنا رہے ہیں۔
مسٹر یادو نے پیر کو ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ خط دراصل اپنی حکومت کو لکھا گیا کوئی ’عوامی مفاد کا خط‘ نہیں ہے، بلکہ بی جے پی نامی ڈوبتے ہوئے جہاز کو چھوڑ کر اپوزیشن سے آئندہ انتخابات میں ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے ’درخواست فارم‘ ہے۔
انہوں نے صاف کیا کہ ہمارے اتحاد میں ایسے لیڈروں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، جو عوام کو دکھ درد اور پریشانیوں کے سوا کچھ نہیں دیتے۔اکھلیش نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کا حل پوچھنے پر دونوں ہاتھ کھڑے کر کے نعرہ لگا کر بچ نکلنے والوں کے رہتے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔
اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ اتر پردیش کی بی جے پی حکومت بھی جانتی ہے کہ اب وہ کبھی واپس نہیں آئے گی۔ اسی لیے وہ عوام کی مشکلات اور مطالبات کو پوری طرح نظر انداز کر کے بس اپنے خزانے بھرنے میں لگی ہے۔ انہوں نے لکھا، ”عوام کہہ رہی ہے آج کا، بوجھ بن گئی بی جے پی۔“

Continue Reading

uttar pradesh

گئو کشی کے نام پر مسلمانوں پرکئے جارہے ہیں مظالم،مہنگائی اور بے روزگاری سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے مذہبی اور فرقہ وارانہ موضوعات کو ہوادے رہی ہے بی جے پی:عمران مسعود

Published

on

(پی این این)
سہارنپور: کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے پیر کے روز مرکزی حکومت کی اقتصادی اور خارجہ پالیسی پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے دباؤ میں مہنگی پیٹرولیم مصنوعات خریدی جا رہی ہیں، جس کے باعث ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
اپنی رہائش گاہ پر منعقدہ پریس کانفرنس میں عمران مسعود نے کہا کہ مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے اور دال، چاول، گیہوں، مکئی، پھل، سبزیوں اور دواؤں کی قیمتیں عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی ڈبل انجن حکومتیں مہنگائی اور بے روزگاری جیسے بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے مذہبی اور فرقہ وارانہ موضوعات کو ہوا دے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلمانوں، مساجد اور مدارس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور گئو کشی کے نام پر مسلمانوں پر ظلم ہو رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے گئو کشی پر مکمل پابندی لگانے اور گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ بھی دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس سماجی ہم آہنگی اور قومی اتحاد کی سیاست کرتی ہے، جبکہ بی جے پی سماج میں نفرت پھیلانے کا کام کر رہی ہے۔
عمران مسعود نے آئندہ اسمبلی انتخابات کے حوالے سے بڑا سیاسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس بار ان کے خاندان کا کوئی فرد الیکشن نہیں لڑے گا۔ پریس کانفرنس کے دوران ان کے بھائی نومان مسعود بھی موجود تھے۔ عمران نے کہا کہ کانگریس ریاست کی تمام 403 اسمبلی نشستوں پر انتخاب لڑنے کی تیاری کر رہی ہے اور تنظیم کو بوتھ سطح تک مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں سے ممکنہ اتحاد کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں آخری فیصلہ پارٹی ہائی کمان کرے گی۔ بی ایس پی کے بارے میں انہوں نے تبصرہ کیا کہ ’’بی ایس پی کا ہاتھی بی جے پی کی طرف جاتا دکھائی دے رہا ہے۔‘‘ جبکہ سماج وادی پارٹی سے اتحاد کے بارے میں بھی فیصلہ ہائی کمان پر چھوڑ دیا۔
رکن پارلیمنٹ نے کشیپ سماج کی ایک خاتون کو انصاف دلانے کے مطالبے کو لے کر ایس پی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن کے ساتھ پولیس انتظامیہ کی جانب سے کیی گئی مبینہ بدسلوکی کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو عوامی نمائندوں کی بات سنجیدگی سے سننی چاہیے اور غیر جانبدارانہ طریقے سے مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔

Continue Reading

uttar pradesh

نانکہ گندیوڑہ میں عظیم الشان روحانی، اصلاحی اور تعلیمی مجلس کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
جلال آباد:نانکہ گندیوڑہ میں ایک عظیم الشان روحانی اصلاحی اور تعلیمی مجلس کا انعقاد عمل میں آیا جس میں علمائے کرام، مشائخ عظام، حفاظ، ائمہ مساجد اور عوام الناس کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پروگرام روحانیت، اصلاحِ باطن اور دینی تعلیمات کے فروغ کے حوالے سے نہایت اہم اور مؤثر ثابت ہوا۔مجلس کی صدارت جامعہ ہذا کے صدر اور عارف باللہ حضرت حافظ جمیل احمد نانکوی نے فرمائی جبکہ نظامت کے فرائض مولانا مفتی عطاء الرحمن جمیل قاسمی نانکوی ناظم جمعیت علماء سہارنپور نے نہایت عمدگی کے ساتھ انجام دیے۔ پروگرام کے کنوینر الحاج فضل الرحمان رحیمی نانکوی نبیرۂ قطب عالم نے تمام مہمانانِ گرامی کا پرتپاک استقبال کیا اور اختتام پر شکریہ ادا کرتے ہوئے مجلس کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔
پروگرام کا باقاعدہ آغاز جامعہ کے استاذِ حفظ قاری محمد اعظم کمال رحمانی کی پُرسوز اور دلنشیں تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا جس نے حاضرین کے دلوں کو منور کر دیا۔ اس کے بعد جامعہ کے طلباء نے نعتیہ کلام، نظمیں اور تقاریر پیش کر کے حاضرین سے خوب داد وصول کی۔اس روحانی مجلس کا ایک اہم مرحلہ وہ تھا جب سلسلۂ رائے پور کے عظیم روحانی پیشوا حضرت شیخ حافظ عبد الستار نانکویؒ کے صاحبزادہ و جانشین حضرت حافظ جمیل احمد نانکوی نے مولانا مفتی رئیس احمد قاسمی دہرہ دون اور حضرت الحاج قاری سعید احمد تڑفوی کو اجازتِ بیعت سے سرفراز فرمایا۔ اس موقع پر حاضرین میں خوشی اور روحانی جذبات کی ایک خاص کیفیت دیکھی گئی۔
مہمانِ خصوصی مولانا مفتی رئیس احمد قاسمی نے اپنے تفصیلی خطاب میں قطبِ عالم حضرت شیخ حافظ عبد الستار نانکوی رحمۃ اللہ علیہ کی تقویٰ، طہارت، عاجزی، انکساری، اخلاص اور اعلیٰ اخلاق پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے فرمایا کہ حضرت کو سلسلۂ رائے پور کے بزرگ حضرت شیخ عبد القادر رائے پوریؒ سے بے حد محبت تھی اور یہی نسبت ان کی روحانی عظمت کا اہم سبب بنی۔ انہوں نے مکہ مکرمہ میں حضرت کی وفات کے روح پرور واقعات بھی بیان کیے جنہیں حاضرین نے انتہائی عقیدت کے ساتھ سنا۔
پروگرام کے اختتامی مرحلہ میں کے سالانہ امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کو انعامات سے نوازا گیا۔ اسی طرح حالیہ مسابقاتی پروگراموں تجوید، سیرت النبی ﷺ اور جنرل نالج کے تینوں فروع میں اول، دوم اور سوم آنے والے طلباء کو بھی خصوصی انعامات اور اسناد پیش کی گئیں۔
اس موقع پر متعدد اہم شخصیات نے شرکت فرمائی جن میں قاری محمد اشرف، مولانا سرور عالم قاسمی، مولانا خالد ندوی، مفتی ضیاء الرحمن نانکوی، عثمان ملک، حاجی گل رحمان، قاری مطیع الرحمن، حاجی شفیق الرحمن، مولانا نوید مظاہری، قاری عبد الرحمن سندر پور، قاری محمد فرقان، قاری محمود دھتولی، قاری محمد حسین نیتا جی، حافظ جنید ملک، مولانا مفتی اطہر جمالی قاری محمد سرفراز الحاج ماسٹر توصیف، قاری صداقت، قاری محمد عابد، قاری محمد سلیمان، عظیم محمد کامل، حاجی اکرام، عبدالرحمن انصاری، یعقوب، حافظ یامین سمیت دیگر معزز حضرات شامل تھے۔پروگرام مہمان خصوصی حضرت الحاج قاری سعید احمد کی دعا پر اختتام پذیر ہوا۔ جس میں امت مسلمہ کی فلاح، مدارس دینیہ کی ترقی اور ملک میں امن و بھائی چارے کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network