Connect with us

بہار

فوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد

Published

on

(پی این این)
سیتامڑھی :بہار کے سیتا مڑحی ضلع میں فوقانیہ اور مولوی امتحانات 2026 کے کامیاب، پرامن، اور دھوکہ دہی سے پاک انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے منگل کو کلکٹریٹ میں اجلاس منعقد ہوئی جس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر راگھویندر منی ترپاٹھی، ضلع سطح کے عہدیداران، اور ال بہار مدرسہ اسوسی ایشن کے صدر، مولانا مطیع الرحمان قاسمی نے شرکت کی۔
اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ کے بورڈ امتحانات ضلع کی تعلیمی ساکھ سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے امتحان مراکز کا انتخاب مکمل شفافیت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ تمام مراکز پر منصفانہ امتحانات کو یقینی بنانا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے تمام عہدیداروں کو واضح طور پر ہدایت دی کہ امتحان کے دوران کسی بھی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ امتحان 19 سے 25 جنوری 2026 تک منعقد ہوگا۔ فوقانیہ اور مولوی امتحانات کے لیے پہلی نشست 8:45 سے 12:00 بجے تک اور دوسری نشست 1:45 سے 5:00 بجے تک منعقد ہوگی۔ فوقانیہ امتحان 2026 کے لیے ضلع میں تیرہ اور مولوی امتحان کے لیے پانچ مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ فوقانیہ اور مولوی امتحانات 2026 کے لیے مجوزہ امتحانی مراکز کی فہرست پیش کی گئی۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے مراکز کے جغرافیائی محل وقوع، نقل و حمل کی سہولیات، کلاس روم کی گنجائش، برقی انتظامات، بیت الخلا کے حالات اور حفاظتی معیارات کا قریب سے جائزہ لیا۔
ضلع مجسٹریٹ نے اجلاس میں کہا کہ امتحان کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے تمام مراکز پر فلائنگ اسکواڈ، مجسٹریٹ اور پولیس کو تعینات کرنا لازمی ہوگا۔ مزید برآں، تمام کلاس روم میں سی سی ٹی وی کیمروں اور بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ فوقانیہ اور مولوی امتحانات 2026 ضلع میں مثالی انتظامات کے ساتھ منعقد کیے جائیں۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر راگھویندر منی ترپاٹھی، ایس ڈی او صدر آنند کمار، ایس ڈی او بیلسنڈ، ڈسٹرکٹ پروگرام آفیسر، آل بہار مدرسہ ٹیچرس اسوسی ایشن کے صدر مولانا مطیع الرحمن قاسمی، سریش کمار، سنجیو چودھری بھی موجود تھے۔

بہار

ارریہ ضلع کی 211 پنچایتوں میں پی ڈی ایس دکانوں کی جانچ شروع

Published

on

(پی این این)
ارریہ: ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دوہن کی ہدایات پر ضلع کی تمام 211 پنچایتوں میں عوامی تقسیم کے نظام (پی ڈی ایس) کی دکانوں کی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔ اس مہم کا مقصد سرکاری اسکیموں کے موثر نفاذ، شفافیت اور مستحقین تک اناج کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی متعلقہ پنچایتوں میں چلنے والی پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم (PDS) دکانوں کا معائنہ کریں اور مقررہ فارمیٹ کے مطابق تفصیلی معائنہ رپورٹ تیار کریں۔
معائنہ کے دوران، دکانوں کی باقاعدگی، اسٹاک کی دستیابی، قیمت کی فہرست کی نمائش، فائدہ مندوں کو اناج کی تقسیم کی حیثیت، اور ای پی او ایس مشین کے کام کاج سمیت دیگر اہم نکات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس بات کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے کہ دکاندار مقررہ معیارات پر عمل پیرا ہوں۔
ضلع مجسٹریٹ نے تمام متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ معائنہ کو سنجیدگی سے لیں اور مقررہ مدت کے اندر رپورٹ ڈسٹرکٹ سپلائی برانچ کو پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر چھان بین کے دوران کوئی بے ضابطگی پائی گئی تو متعلقہ پبلک ڈسٹری بیوشن فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ یہ جامع تحقیقاتی مہم مزید مضبوط اور ضلع میں عوامی تقسیم کے نظام کو مزید شفاف بنائے گی۔

Continue Reading

بہار

تعلیم ہی قوموں کی ترقی اور خوشحالی کا دارومدار : امیرشریعت

Published

on

(پی این این)
کشن گنج: امارت پبلک اسکول کے زیرِ اہتمام کمیونٹی ہال کشن گنج میں ایک عظیم الشان اجلاسِ عام کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت امیرشریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی (سجادہ نشین خانقاہِ رحمت مونگیر) نے کی۔ امیرِ شریعت نے اپنے تفصیلی خطاب میں تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم ہی وہ بنیادی ستون ہے جس پر قوموں کی ترقی اور خوشحالی کا دارومدار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں صرف دینی تعلیم کافی نہیں بلکہ دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم بھی نہایت ضروری ہے، تاکہ نئی نسل علم کے ساتھ ساتھ دین و اخلاق سے بھی وابستہ رہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے دنیاوی تعلیم پر توجہ دیتے ہیں، مگر ان کے دین و ایمان کی فکر سے غافل ہو جاتے ہیں۔ مزید فرمایا کہ اسلام محض ایک مذہب نہیں بلکہ مکمل ضابطۂ حیات ہے، اس لیے ہمیں اپنی زندگی کے ہر شعبے میں سنتِ نبوی ﷺ کو اپنانا چاہیے۔ انہوں نے شادی بیاہ کے مواقع پر فضول خرچی اور اسراف سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے سادگی کو فروغ دینے پر زور دیا ۔
مولانا مفتی سعید الرحمن قاسمی (ناظمِ اعلیٰ امارت شرعیہ، بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ، پھلواری شریف پٹنہ) نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم ترقی کی شاہ کلید ہے اور جو قوم تعلیم کو اپنائے گی وہی کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔ انہوں نےوالدین کو نصیحت کی کہ وہ اپنے بچوں کو عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم سے بھی آراستہ کریں ساتھ ہی جہیز جیسی سماجی برائی کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بیٹیوں کو جہیز کے بجائے تعلیم سے آراستہ کریں، نکاح کو آسان بنائیں اور شادی بیاہ میں فضول خرچی سے مکمل پرہیز کریں۔
مولانا حکیم الدین قاسمی (جنرل سکریٹری، جمعیۃ علماء ہند) نے نوجوان نسل میں بڑھتے ہوئے نشہ اور منشیات کے رجحان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس کے سدباب کے لیے سنجیدہ اقدامات کی اپیل کی مفتی جاوید احمد قاسمی (صدر، جمعیۃ علماء ہند بہار) نے تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں دینی و دنیاوی دونوں علوم کا حصول نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے سیاسی بصیرت و حکمت اپنانے اور تجارت و تعلیم کو مضبوطی سے اختیار کرنے کی تلقین کی۔

Continue Reading

بہار

بہارمیں شراب بندی کے معاملے پر مانجھی نے اپنی ہی حکومت کوبنایا نشانہ

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور ’ہم‘ پارٹی کے سرپرست جیتن رام مانجھی نے ریاست میں نافذ شراب بندی کے قانون کے حوالے سے ایک بار پھر اپنی صاف گوئی کا اظہار کیا ہے۔
پٹنہ ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بہار میں شراب بندی کی پالیسی تو درست ہے، لیکن اس کو عملی طور پر نافذ کرنے کے طریقے میں بڑی خرابیاں ہیں۔ مانجھی کے مطابق اس قانون کا سب سے زیادہ نقصان معاشرے کے غریب طبقے کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
مانجھی نے کہا کہ شراب بندی کے باعث غریب طبقے کو دو طرح کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پہلا یہ کہ اس قانون کی آڑ میں بڑی تعداد میں غریب لوگ قانونی پیچیدگیوں اور پولیس کارروائیوں میں پھنس رہے ہیں، جس سے ان کی معاشی اور سماجی حالت بگڑ رہی ہے۔ دوسرا یہ کہ ریاست میں شراب بندی کے باوجود غیر قانونی شراب کا کاروبار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مافیا عناصر جلد بازی میں یوریا اور دیگر خطرناک کیمیکل ملا کر زہریلی شراب تیار کر رہے ہیں، جس کے استعمال سے غریب لوگ 50 سے 60 سال کی عمر میں ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
ریاست میں حالیہ اقتدار کی تبدیلی اور سمراٹ چودھری کے وزیرِ اعلیٰ بننے پر مانجھی نے کہا کہ انہیں بڑے فیصلے لینے میں کچھ وقت لگے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی حکومت شراب بندی کے قانون کو ختم کرنے پر غور کرے گی۔ مانجھی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ شراب بندی کی پالیسی پر نظرِ ثانی ہونی چاہیے۔ جو خرابیاں موجود ہیں انہیں دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ریاست کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو اور غریبوں کو بلاوجہ کی اذیت سے بچایا جا سکے۔

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network