تازہ ترین
یتیم خانہ اسلامیہ گیا نے پیش کی خدمت، ایثار اور انسان سازی کی روشن مثال، یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت کے 109 سال:وزیر ڈاکٹر سنتوش کمار سمن سمیت اہم شخصیات کی شرکت، پانچ زبانوں میں طلبہ کی تقریروں نے حاصل کی توجہجامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں 40 روزہ تفہیم قرآن ورکشاپ کا آغاز14 سال بعد خاتون سپاہی کو 5سال کی قید, بڑی بدعنوانی معاملے میں عدالت نے سنایافیصلہ، 16.25 لاکھ روپے کا جرماعائدکھگڑیا کے ایس پی کیخلاف خواتین کمیشن میں معاملہ درج، آئی پی ایس افسر کو سمن جاری،کمیشن میںجلدحاضرہونے کی دی گئی ہدایت2 سال سے زائد عمر کے بچوں کا برتھ سرٹیفکیٹ نہ بننےسے والدین پریشانلکھنؤ میں اچھانک پلٹ گیا فارملین کیمیکل سے بھرا ٹینکر، رساؤ کے باعث آس پاس کے علاقوں میں کھانسی، خارش اور آنکھوں میں جلن کی شکایاتمدارس اسلامیہ کے تحفظ کیلئے خوف زدہ ہونے کے بجائے اختیار کی جائیں دعا، اصلاح اور ضروری احتیاطی تدابیر : حضرت مولانا مفتی ابو القاسم نعمانیمنھ میں جوتا ٹھونس دوں گا:ایم ایل اے، تاجرگرپوں کے درمیان تنازع حل کرانے پہنچے بی جے پی کے رکن اسمبلی ہوئے برہم
Bihar

2 سال سے زائد عمر کے بچوں کا برتھ سرٹیفکیٹ نہ بننےسے والدین پریشان

(پی این این)
بھاگلپور: بہار میں دو سال سے زائد عمر کے بچوں کے پیدائشی سرٹیفکیٹ بنانے کے ضابطوں میں تبدیلی کے بعد والدین پریشان ہیں۔ برتھ سرٹیفکیٹ بنانے کا عمل رک گیا ہے اور والدین سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ دراصل، بہار حکومت کے ڈائریکٹوریٹ آف اکنامکس اینڈ اسٹیٹسٹکس کی جانب سے جاری کردہ سرکاری رہنما ہدایات اور ہندوستان کے گزٹ میں شائع نوٹیفکیشن کے تحت ملک بھر میں پیدائش و اموات کے اندراج (ترمیمی) قانون کو یکم اکتوبر 2026 سے سختی کے ساتھ نافذ کردیا گیا ہے۔
اس نئے اور سخت ترمیمی قانون کے نفاذ کے بعد سے بھاگلپور سمیت پوری ریاست میں دو سال سے زائد عمر کے بچوں کے پیدائشی سرٹیفکیٹ بنانے کا عمل فی الحال مکمل طور پر رک گیا ہے، جس سے والدین کی مشکلات میں کافی اضافہ ہوگیا ہے۔ اصل قانون میں کی گئی ان وسیع تر ترامیم کا بنیادی مقصد پیدائش اور اموات کے اعداد و شمار میں مکمل شفافیت لانا اور فرضی یا من مانے طریقے سے تاخیر کے ساتھ ہونے والے اندراجات پر مؤثر روک لگانا ہے۔
نئے ضابطوں کے مطابق، اگر کسی بچے کی پیدائش یا کسی شخص کی موت کی اطلاع ایک سے دو سال کے اندر دی جاتی ہے تو ایسے معاملات کا اندراج اب صرف ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم)، ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ (اے ڈی ایم/ایس ڈی ایم) یا ان کی جانب سے مجاز قرار دیے گئے ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کے تحریری حکم کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ اس مقصد کے لیے بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا 2023 کے تحت مقرر کیے گئے ایگزیکٹیو مجسٹریٹوں کو مجاز بنایا گیا ہے، جو مکمل جانچ پڑتال اور مقررہ فیس کی ادائیگی کے بعد ہی حکم جاری کریں گے۔
وہیں، اگر پیدائش یا موت کی اطلاع واقعے کے دو سال گزر جانے کے بعد دی جاتی ہے تو اس کا اندراج کرانے کے لیے اب براہِ راست فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ کے حکم کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ بھاگلپور میونسپل کارپوریشن کے دفتر میں ان دنوں بچوں کے والدین کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ مایوس ہوکر خالی ہاتھ لوٹنا ان کی مجبوری بن گیا ہے۔ پیدائش اور اموات کے اندراج کے نئے ترمیم شدہ قانون کے نفاذ اور سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ کرنے میں تاخیر کے باعث دو سال سے زائد عمر کے بچوں کے پیدائشی سرٹیفکیٹ بنانے کا عمل پوری طرح ٹھپ ہوگیا ہے۔صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوجاتی ہے، جب آئندہ نومبر اور دسمبر سے ریاست کے مختلف نجی اسکولوں میں نئے تعلیمی سیشن کے لیے داخلے کا عمل شروع ہونے والا ہے۔ اسکولوں میں داخلے کی دوڑ اور عمر کی تصدیق کی لازمی شرط کے پیش نظر والدین وقت رہتے سرٹیفکیٹ بنوانے کے لیے روزانہ میونسپل کارپوریشن کے دفتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔
تاہم، محکمہ کی ہدایات کے مطابق دو سال سے کم عمر کے بچوں کے پیدائشی سرٹیفکیٹ بنانے کا کام اب بھی معمول کے مطابق جاری ہے۔میونسپل کارپوریشن میں اپنے بچوں کے پیدائشی سرٹیفکیٹ بنوانے پہنچے مکیش مشرا، راہل جھا، پنکج کمار اور بھاسکر کمار جیسے والدین نے اپنی پریشانی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ کئی دنوں سے دفتر کے چکر کاٹ رہے ہیں، لیکن نئے ضابطوں کے حوالے سے واضح معلومات نہیں مل رہی ہیں۔
نومبر سے ہی نجی اسکولوں میں داخلے کے فارم ملنے شروع ہوجائیں گے۔ ایسے میں اچانک پیدا ہونے والی اس انتظامی تعطل اور تکنیکی رکاوٹ کے باعث بڑی تعداد میں بچوں کے مستقبل پر خطرات منڈلانے لگے ہیں اور خدشہ ہے کہ وہ اس تعلیمی سیشن میں داخلے کے عمل سے محروم رہ جائیں گے۔بھاگلپور میونسپل کارپوریشن کے شعبۂ پیدائش و اموات کے انچارج وکاس ہری نے بتایا کہ محکمہ کی جانب سے موصولہ ہدایات کے مطابق نئے ترمیم شدہ ضابطوں کو مؤثر طریقے سے نافذ کردیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں