دیوبند:آئندہ 11؍اکتوبر کو دیوبند میں مجوزہ تیاگی برہمن بھومیہار مہاکنبھ سے متعلق سماجی خدمتگار اورتنظیم کے رہنما جگنو تیاگی نے بڑا دعویٰ کیا ہے ۔انہوںنے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 11؍اکتوبر کو دیوبند کی سرزمین سے انقلاب اور زندہ باد کی ایسی آواز گونجے گی جس سے تیاگی برہمن سماج اپنے اتحاد اور طاقت کا احساس کرائے گا ۔جگنو تیاگی نے کہا کہ تیاگی برہمن اور بھومیہار سماج طویل عرصہ سے متحد ہوکر کام کررہا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ سماج اپنے اتحاد کو مضبوطی کے ساتھ پیش کرے ۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 11؍اکتوبر کو ہونے والے پروگرام میں مغربی اترپردیش ہی نہیں بلکہ پورے صوبہ کی سیاست کے لئے ایک نیاپیغام ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ اب بلڈوزر نہیں بلکہ ٹریکٹر ایکتا کا نشان بنے گا ۔جگنو تیاگی نے بلڈوزر کی کارروائی سے متعلق بھی ایک تلخ بیان دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ کی عوام اس مرتبہ بلڈوزر کی چابی چھین کر ٹریکٹر کو آگے بڑھانے کا پیغام دے گا ۔کیونکہ ٹریکٹر کسان کی پہچان ہے اور سب کی روزی روٹی سے اس کا تعلق ہے ۔
انہوںنے کہا کہ آپسی بھائی چارہ اور اتحاد کو مضبوط بنانے کے لئے ٹریکٹر کو ہی پہچان کا نشان بنایا جائے گا ۔جگنو تیاگی نے گورو تیاگی اورچراغ تیاگی کے قتل کا ذکر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ملزمان کے گھروں پر ابھی تک بلڈوزر کارروائی نہیں کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح کی کارروائی کو لے کر عوام میں سوالات جنم لے رہے ہیں ۔اس لئے ان تمام مسائل کو 11؍اکتوبر کے پروگرام میں خصوصی طور پر اٹھایا جائے گا ۔جگنو تیاگی نے نوجوان سے متحد رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھیں ،انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص تنظیم یا کوئی بااثر گروپ اپنے تکبر وغرور کے باعث استحصال کے بارے میں سوچتا ہے یا ایسا کرتا ہے تو جمہوری طریقہ سے اس کا جواب دیا جائے گا ۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر دعویٰ کیا کہ 11؍اکتوبر کی مہاسبھا تاریخی سماج کے اتحاد اور سیاست سے متعلق ایک بڑا پیغام ہوگی ۔
گیارہ اکتوبر کو تیاگی برہمن سماج کی مجوزہ مہاسبھا میں گونجیں گے انقلاب زندہ باد کے نعرے
