نئی دہلی: نیلے پیلے کپڑے سے کوئی صوفی نہیں ہوتا۔پیرداناشیخ جنیدبغدادی نے بڑے پتے کی بات کہی ہے کہ جس کسی میں ایثار، اطاعت، صوف، صبر، قناعت ، غربت اور فقر جمع ہوجاتا وہ صوفی ہوتا ہے۔ یہ بات اتوار کو یہاں معروف اسلامی اسکالر پدم شری اخترالواسع نے کہی۔وہ تصوف پر ایک مذاکرے کی صدارت کررہے تھے۔
ذہنی انتشار وفکری تصادم کے اس دور میں مکالمے کے داعی و محرک نوزائیدہ میگزین ’امکانات‘ نے اپنے دوسرے شمارے کے مرکزی موضوع پر اتوار کو آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے مرکزی دفتر میں علمی مذاکرے کا اہتمام کیا۔ موضوع کی کشش اہل علم کی کثیرتعدادکو یہاں کھینچ لائی تھی۔ شرکائے مذاکرہ نے اس سوال کے گرد کہ’’کیا تصوف ایک متوازی دین ہے؟‘‘ تصوف کی دینی حیثیت، اس کے فکری و عملی پہلوؤں اور اسلام کے بنیادی ماخذ سے اس کے تعلق پر اظہار خیال کیا۔
مذاکرے میں مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی نے موضوع پر اپنے تفصیلی مطالعہ کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تصوف کے اصولی عناصر مثلاً عقائد، اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ جو کتاب و سنت اور مسلمہ اسلامی اصولوں سے مستند طور پر ماخوذ ہیں، انہیں دین کے بالمقابل قرار دینا درست نہیں؛ کیوں کہ وہ اسلامی شریعت کے کلی دائرے ہی میں اپنی علمی و عملی حیثیت رکھتے ہیں۔
رہے صوفیہ کے سلوکی و تربیتی اجتہادات تو وہ شریعت کے مقابل کوئی مستقل تشریعی نظام نہیں بلکہ تزکیہ، احسان، سلوک اور اصلاحِ باطن سے متعلق مسائل میں شرعی اصولوں کی تطبیق اور انسانی فہم کی ایک صورت ہیں۔ اس لیے ان میں صواب و خطا دونوں کا امکان تسلیم کیا جائے گا، بلکہ اسی طرح جس طرح فروعی عقائد واعمال واخلاق میں فقہا اور متکلمین کے اجتہادات وتحقیقات میں یہ دونوں احتمالات موجود ہیں۔
اس سے قبل مذاکرہ کے کنوینر احمد جاوید نے سوال اٹھایا کہ کیا جس طرح اسلام کو تاریخی طورپر نیا دین کہنے کے بجائے ہم ایک تسلسل میں دیکھتے ہیں کہ یہ دین آدم سے ایں دم تک ایک ہی ہے اور دوسرے علوم دین کو بھی اسی تسلسل کا حصہ مانتے ہیں۔
، اگر فقہ، حدیث اور تفسیر کی طرح تصوف و تزکیہ بھی ایک علم ہے تو اسے بھی اسی تسلسل کا حصہ کیوں نہیں مانا جاتا؟ انہوں نے یہ سوال بھی اسکالرز کے سامنے رکھا کہ تعلیمات تصوف میں ترک، توجہ، مراقبہ وغیرہ کی جو مشابہت بودھ مذہب اور یوگ سےہے، وہ اس تسلسل کا حصہ کیوں نہیں ہے؟ اور یہ کہ تصوف کو ایک علم کے طور پر لینے کے بجائے اسراراور راز بنا کر رکھنے سے کیا اس علم کا نقصان ہوا جب کہ ہم کتب تصوف میں اس عہد تخصص کے کم ازکم پانچ چھ علوم پاتے ہیں ، جیسےعلم النفس، علم السلوک، معالجہ ٔ نفس اور علم الاسراروغیرہ ۔
ڈاکٹر سید قمر الاسلام نے مولانا علیمی کے مقالے پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ اہل تصوف ناقدین کے اعتراضات کو ہلکے میں نہ لیں، سنجیدگی سے کام لیں ، ضرورت جدید ذہن کو سمجھنے اور ان کے سوالات کو ایڈریس کر نے کی ہےاور یہ مقالہ اس کی ایک عمدہ کوشش ہے۔ ڈاکٹر وارث مظاہری نے بھی مقالہ کوسنجیدہ مکالمہ اور علمی تحقیق کی ایک عمدہ مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سوال پر اس لیے گفتگو کرنے کی ضرورت ہے کہ تصوف کو متوازی دین مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا وحیدالدین خان اور غامدی جیسے مصنفین کہہ رہے ہیں، ورنہ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں کہاکہ کون کیا کہہ رہا ہے، اس پر توجہ دینے سےزیادہ ضرورت آج کے مسائل اور آج کی نسل کے لیے تصوف کی کیا افادیت ہے، اس پرتوجہ دینے کی ہے۔ جبکہ پروفیسر کنور محمد یوسف امین نے اپنے تاثرات میں تصوف کے تعلق سے جدید ذہن کے اعتراضات کا علمی جواب دینے کی کوشش کی اور علامہ صادق الحسینی نے تصوف وعرفان کے موضوع پر شیعہ امامیہ نقطۂ نظر سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ یہ سوال بے بنیاد ہے کہ کیاتصوف ایک متوازی دین ہے۔
پروگرام کی نظامت امکانات کے چیف ایڈیٹر مولانا ڈاکٹرذیشان احمد مصباحی نے کی۔ مذاکرہ کا آغاز مولانا ارشاد احمد سعیدی نے تلاوت کلام پاک سے کیا،جب کہ جناب حسن طالب نے نعت رسول مقبول ﷺ کے اشعار پیش کیے اورمولانا عبدالمعید ازہری صاحب نے موضوع پر تمہیدی گفتگو کی ۔مذاکرے کااختتام ‘امکانات’ کے ڈائریکٹر اور مجلس مذاکرہ کےشریک صدرمولانا حسن سعید صفوی کی دعا پر ہوا۔ مذاکرے میں علم دوست افراد کی ایک بڑی تعداد موجود تھی،جن میں حقانی القاسمی، ڈاکٹر محمود عاصم، ڈاکٹر محمد علی، سید تالیف حیدر، مولانا منظر محسن،ڈاکٹر موسیٰ رضا، مولانا شوکت سعیدی، مولانا فیضان عزیزی، ڈاکٹر عمران علیمی، مولانا محمد احمد سلفی، سید شاداب حسین رضوی، شاہ عمران حسین اور ڈاکٹر انظر عقیل کے نام بطور خاص قابل ذکر ہیں۔
کیا تصوف ایک متوازی دین ہے؟ امکانات کے علمی مذاکرے میں سنجیدہ بحث
