تازہ ترین
بہار کےبرطرف امینوں نے حکومت کیخلاف کھولا مورچہ، ملازمت سے ہٹائے جانے پر امین مشتعل، احتجاج میں شدت لانے کی دھمکی، ہڑتالی امینوں کو ان کی ذمہ داریوں سے فارغ کرنے اور ای-ماپی پورٹل پر ان کی شناختی آئی ڈی غیر فعال کرنے کے آمرانہ حکم پر نہیں رہیں گے خاموش: یونینانسانیت اور بھائی چارے کا پیغام لے کر آج سے شروع ہوگا3 روزہ تبلیغی اجتماع، ملک بھر کے نامور علمائے دین کریں گے شرکت،ڈی ایم اور ایس ایس پی نے تیاریوں کا لیا جائزہپولیس پر لگے الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور قانون کے مطابق سخت کارروائی ضروری، مدھوبنی گولی باری معاملے پر جن سوراج کا شدید ردعمل،ریاستی سطح کی ٹیم نے گاؤں پہنچ کر متاثرہ خاندانوں سے کی ملاقات، یتیم بچوں کے مستقبل اور خاندان کی کفالت کے لیے 50 لاکھ روپے معاوضہ اور سرکاری ملازمت کا مطالبہ11 نومبر کو منعقد ہونے والے ’’مدارس اسلامیہ کنونشن‘‘ کی تیاریوں کے جائزہ کے بعد اطمینان کا اظہاراتر پردیش انتخابات کے پیش نظر پرینکا گاندھی سرگرم، سیٹوں کی تقسیم کے معاملے میں کانگریس کی قیادت بھی انہی کے حوالےدیوبند: مولانا اعجاز اور کارڈرائیور کی سڑک حادثہ میں دردناک موتجامعہ عائشہ للبنات چھٹمل پور میں’’ایک شام اولیاء اللہ کے ساتھ‘کے عنوان سے پروقار اور روحانی مجلس کا انعقاد’نفرت کے بڑے سے بڑے اندھیروں کو مٹا سکتا ہےمحبت کا ایک چھوٹا سا چراغ ‘، میرٹھ میںچودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں جشن دیوالی اور رنگو لی کا شاندار انعقاد
بہار

پسماندہ مسلم کمیونٹی کو ایس سی/ایس ٹی ایکٹ میں کیا جائے شامل: ڈاکٹر اعجاز علی

(پی این این)
چھپرہ:آل انڈیا یونائیٹڈ مسلم مورچہ کے زیر اہتمام اتوار کو بھکھاری ٹھاکر آڈیٹوریم میں تحفظ معاشرہ کانفرنس منعقد کیا گیا۔کانفرنس میں پسماندہ مسلم کمیونٹی کو ایس سی/ایس ٹی (مظالم کی روک تھام) ایکٹ 1989 میں شامل کرنے کا پرزور مطالبہ کیا گیا۔مورچہ کے قومی صدر و سابق ایم پی ڈاکٹر اعجاز علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقلیتی برادری کے کمزور طبقات کا تحفظ اور احترام وقت کی اہم ضرورت ہے۔جمہوریت کو 75 سال ہو چکے ہیں۔لیکن سیاست اب بھی مندر،مسجد اور ہندوستان۔پاکستان کے مسائل کے گرد گھومتی ہے۔اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت مہنگائی،بے روزگاری اور بدعنوانی کو روکے اور سماجی انصاف کو مضبوط کرے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ SC/ST ایکٹ کے نفاذ کے بعد سے دلت اور قبائلی برادریوں کے خلاف مظالم میں کمی آئی ہے۔لہذا ایکٹ کے اندر پسماندہ مسلم کمیونٹیز کو شامل کرنے سے اقلیتی برادری کے اندر سماجی توازن بھی بحال ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ درجنوں مسلم ذاتیں جن میں فقیر،دھوبی،حلال خور،صفائی کرنے والے،جھاڑو دینے والے،بُننے والے،کھٹک،مداری،ڈفالی،موچی،پاسی،کاریگر،بھٹیارا اور بارڈوں سمیت درجنوں مسلم ذاتیں اس ایکٹ کے لیے اہل ہیں۔انہوں نے مرکزی حکومت سے سنجیدگی سے کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔دہلی سے آئے ہوئے حافظ غلام سرور نے کہا کہ موجودہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 1989 کے پریوینشن آف ایٹروسیٹیز ایکٹ میں ترمیم کی جانی چاہیے۔پسماندہ برادری کو اپنے دائرہ کار میں لانا سماجی انصاف کی جانب ایک تاریخی قدم ہوگا۔
کانفرنس میں مورچہ کے ضلع صدر انجینئر سمیر،حسنین انصاری،توفیق شاہ،احمد حسین،نور حسن آزاد،خورشید سراج،وسیم راجہ،مولانا پرویز،کمپیوٹر بابا اور فیض اللہ انصاری سمیت متعدد مقررین نے اس مطالبے کی حمایت کی۔پروگرام کی صدارت محمد سلیم نے اور نظامت ظاہر حسین نے کی۔خطبہ استقبالیہ قمر الدین انصاری نے پیش کیا۔انجینئر محمد سمیر علی نے شکریہ ادا کیا۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔