تازہ ترین
ایم ایل سی انتخابی نتائج پر جے ڈی یو میں کشمکش، منعقدہ جائزہ میٹنگ میں جے ڈی یوکی تمام ناراض لیڈران کو منانے اوراسے مطمئن کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوششانکاؤنٹر کلچر کو فروغ دے کر آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے سمراٹ حکومت، منیر انکاؤنٹر پر میسا بھارتی کے بعد روہنی آچاریہ بھی سرگرم، بہار سرکارکو بنایا نشانہیونانی طب کے فروغ کے لیے جدید تحقیق اور قدیم طبی روایات کا امتزاج ضروری’کوئی بھی اہل شہری ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے سے نہ رہے محروم‘، ارریہ میں خصوصی سمری ریویژن پروگرام کے حوالے سے تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ منعقدپریاگ راج میں 250 کروڑ روپے کا زیورات کا کاروباراے ایم یو کے عبداللہ اسکول میں تقسیم انعامات تقریب کا انعقاددہلی فسادات: کرکرڈوما کورٹ سے چھ مسلمان باعزت بریکرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں
دیش

وندے ماترم کسی پر لازم نہیں، سپریم کورٹ کی وضاحت

(پی این این)
نئی دہلی:جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے وندے ماترم سے متعلق سپریم کورٹ آف انڈیا کے ذریعہ آج ظاہر کردہ موقف پر ردِّعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کا یہ واضح اور اصولی موقف ہے کہ وندے ماترم ہمارے بنیادی عقیدۂ توحید کے خلاف ہے، اس لیے کسی بھی حکم یا ہدایت کے ذریعے اسے گانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ کسی شہری کو اس کے مذہب، عقیدہ اور ضمیر کے خلاف کسی عمل پر مجبور کرنا نہ صرف آئینی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ آئین کے بنیادی ڈھانچے پر براہِ راست حملہ ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ بھارت کا آئین ہر شہری کو ضمیر اور مذہب کی آزادی کا مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے، جسے کسی بھی انتظامی ہدایت، سرکاری دباؤ یا سماجی جبر کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
مولانا مدنی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آج ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے یہ حقیقت دوٹوک انداز میں بیان کی ہے کہ 28؍جنوری 2026 کو وندے ماترم سے متعلق سرکاری گائیڈلائن محض ایک ’’مشورہ‘‘ ہے اور اس کی کوئی لازمی حیثیت نہیں ہے، نیز اس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں کوئی تعزیری کارروائی بھی مقرر نہیں۔
مولانا مدنی نے خبردار کیا کہ اگر ملک کے کسی بھی حصے میں کسی فرد، طالب علم یا ادارے کو اس معاملے میں مجبور کیا گیا، یا اس کے مذہبی و آئینی حقوق کو پامال کرنے کی کوشش کی گئی، تو جیسا کہ سپریم کورٹ نے آج خود واضح کیا ہے، جمعیۃ علماء ہند عدالت سے رجوع کرے گی اور ہر ممکن قانونی جنگ لڑے گی۔انھوں نے مزید کہا کہ یہ وقت ملک میں آئین کی بالادستی کو مضبوط کرنے کا ہے، نہ کہ ایسے اقدامات کو فروغ دینے کا جو شہریوں کے درمیان خوف، دباؤ اور تفریق کو جنم دیں۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حساس معاملے میں واضح ہدایات جاری کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ کسی بھی سطح پر کسی شہری کے ساتھ جبر، امتیاز یا زیادتی نہ ہو۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔