دیش
وندے ماترم کسی پر لازم نہیں، سپریم کورٹ کی وضاحت
(پی این این)
نئی دہلی:جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے وندے ماترم سے متعلق سپریم کورٹ آف انڈیا کے ذریعہ آج ظاہر کردہ موقف پر ردِّعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کا یہ واضح اور اصولی موقف ہے کہ وندے ماترم ہمارے بنیادی عقیدۂ توحید کے خلاف ہے، اس لیے کسی بھی حکم یا ہدایت کے ذریعے اسے گانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ کسی شہری کو اس کے مذہب، عقیدہ اور ضمیر کے خلاف کسی عمل پر مجبور کرنا نہ صرف آئینی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ آئین کے بنیادی ڈھانچے پر براہِ راست حملہ ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ بھارت کا آئین ہر شہری کو ضمیر اور مذہب کی آزادی کا مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے، جسے کسی بھی انتظامی ہدایت، سرکاری دباؤ یا سماجی جبر کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
مولانا مدنی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آج ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے یہ حقیقت دوٹوک انداز میں بیان کی ہے کہ 28؍جنوری 2026 کو وندے ماترم سے متعلق سرکاری گائیڈلائن محض ایک ’’مشورہ‘‘ ہے اور اس کی کوئی لازمی حیثیت نہیں ہے، نیز اس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں کوئی تعزیری کارروائی بھی مقرر نہیں۔
مولانا مدنی نے خبردار کیا کہ اگر ملک کے کسی بھی حصے میں کسی فرد، طالب علم یا ادارے کو اس معاملے میں مجبور کیا گیا، یا اس کے مذہبی و آئینی حقوق کو پامال کرنے کی کوشش کی گئی، تو جیسا کہ سپریم کورٹ نے آج خود واضح کیا ہے، جمعیۃ علماء ہند عدالت سے رجوع کرے گی اور ہر ممکن قانونی جنگ لڑے گی۔انھوں نے مزید کہا کہ یہ وقت ملک میں آئین کی بالادستی کو مضبوط کرنے کا ہے، نہ کہ ایسے اقدامات کو فروغ دینے کا جو شہریوں کے درمیان خوف، دباؤ اور تفریق کو جنم دیں۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حساس معاملے میں واضح ہدایات جاری کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ کسی بھی سطح پر کسی شہری کے ساتھ جبر، امتیاز یا زیادتی نہ ہو۔
دیش
چیف جسٹس کو گالی دینے والے پر نہیں ہوگی کارروائی
نئی دہلیسپریم کورٹ میں جمعہ کے دن ایک غیر معمولی واقعہ دیکھنے کو ملا، جب ایک عرضی دہندہ وکیل نے ہوا میں فائلیں چھالیں اور سی جے آئی سوریہ کانت کو گولی دی، یہ پورا واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے۔ جس پر شدید ردعمل کا اظہار ہورہا ہے اور وکیل پر کارروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اس کے باوجود سپریم کورٹ نے ملزم کے خلاف کوئی ایکشن لینے سے انکار کردیا ہے۔
دراصل جمعہ کے روز سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ایک درخواست گزار نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ اس نے عدالت میں نازیبا الفاظ کہے اور کورٹ روم میں کیس کی فائل پھینک دی۔ اس وقت سی جے آئی سوریہ کانت کورٹ روم میں موجود نہیں تھے۔ جسٹس کے وی وشوناتھن اور جسٹس آلوک ارادھے کی بنچ اس درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔ عرضی گزار بغیر کسی وکیل کے خود ہی اپنا کیس لڑ رہا تھا۔
سپریم کورٹ نے کورٹ روم میں ہنگامہ آرائی کرنے، کیس سے متعلق دستاویزات ہوا میں اچھالنے اور ہندوستان کے چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے والے عرضی گزار پربل پرتاپ کے خلاف فی الحال کوئی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم عدالت عظمیٰ نے درخواست گزار کے رویے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس کی درخواست بھی خارج کر دی۔ جسٹس کے وی وشوناتھن اور جسٹس آلوک ارادھے پر مشتمل بنچ کے سامنے عرضی گزار نے ایسی حرکت کی تھی، جس کے بعد سیکورٹی اہلکار اسے حراست میں لے کر کورٹ روم سے باہر چلے گئے۔
سپریم کورٹ کا ماننا ہے کہ سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے بھی ایسے واقعات کو انجام دیا جاتا ہے۔ ایسے میں کوئی قانونی قدم اٹھانے سے متعلقہ شخص اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا۔ رجسٹرار کی جانب سے جب چیف جسٹس کو اس واقعے کے بارے میں مطلع کیا گیا تو انہوں نے بھی اس معاملے میں آگے کوئی قدم نہ اٹھانے کی ہدایت دی۔
دراصل جمعہ کے روز سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ایک درخواست گزار نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ اس نے عدالت میں نازیبا الفاظ کہے اور کورٹ روم میں کیس کی فائل پھینک دی۔ اس وقت سی جے آئی سوریہ کانت کورٹ روم میں موجود نہیں تھے۔ جسٹس کے وی وشوناتھن اور جسٹس آلوک ارادھے کی بنچ اس درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔ عرضی گزار بغیر کسی وکیل کے خود ہی اپنا کیس لڑ رہا تھا۔
سماعت کے دوران اس نے خود کو ’خود مختار‘ بتایا اور کیس کی فائل کے کاغذات ہوا میں اچھال دیے۔ عرضی گزار کے اس رویے سے کورٹ روم میں کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی اور سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر اسے کورٹ روم سے باہر نکال دیا۔ جیسے ہی سماعت شروع ہوئی عرضی گزار نے کہا کہ ’’یور آنر، میں آپ کو لکھنؤ کے اے سی پی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیتا ہوں۔‘‘ جسٹس کے وی وشوناتھن نے حیرت کا اظہار کیا اور پوچھا کہ ’’کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟‘‘ عرضی گزار نے جواب دیا ’’میری طرف سے بس اتنا ہی، سب کچھ ریکارڈ پر ہے۔‘‘ پھر اس نے کیس کی فائل ہوا میں پھینک دی اور نازیبا الفاظ کا استعمال کرنے لگا۔ سیکورٹی اہلکاروں نے فوری مداخلت کرتے ہوئے اسے کورٹ روم سے باہر لے گئے۔
21 جولائی کی ریلی پر سیاسی گھمسان، ترنمول نے کلکتہ ہائی کورٹ کا کھٹکھٹایادروازہ
کولکاتا: مغربی بنگال کی سیاست میں 21 جولائی کی روایتی یومِ شہداء ریلی اس بار شدید سیاسی اور قانونی کشمکش کا مرکز بن گئی ہے۔ کولکاتہ پولیس کی جانب سے دھرمتلہ میں جلسے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے کے بعد ’’کالی گھاٹ ترنمول‘‘ نے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے، جبکہ دوسری جانب ریتوبرتا بنرجی کی قیادت والی خود کو ’’اصل ترنمول‘‘ کہنے والی تنظیم بھی اسی دن پروگرام کے انعقاد کے لیے سرگرم ہے۔ اس طرح 21 جولائی کی ریلی محض ایک سیاسی اجتماع نہیں بلکہ ترنمول کانگریس کے اندر جاری طاقت کی کشمکش کی علامت بنتی جا رہی ہے۔کولکاتہ پولیس پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ دھرمتلہ جیسے انتہائی مصروف علاقے میں 21 جولائی کو کسی بڑے جلسے کی اجازت دینا ممکن نہیں۔ اس فیصلے کے بعد ریتوبرتا بنرجی کے حامیوں نے ریاستی پولیس کے ڈائریکٹر جنرل سدھاناتھ گپتا سے ملاقات کر کے متبادل مقام کی درخواست کی اور گاندھی مجسمہ کے قریب جلسہ منعقد کرنے کی اجازت مانگی۔ ادھر ممتا بنرجی کی قیادت والی ’’کالی گھاٹ ترنمول‘‘ نے پولیس کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔واضح رہے کہ ترنمول کانگریس گزشتہ کئی دہائیوں سے 21 جولائی کو یومِ شہداء کے طور پر مناتی آئی ہے۔ یہ دن 1993 میں اس وقت کے یوتھ کانگریس کارکنوں پر مہاکرن مارچ کے دوران پولیس فائرنگ میں 13 افراد کی ہلاکت کی یاد میں منایا جاتا ہے اور ہر سال دھرمتلہ اس تاریخی اجتماع کا مرکز رہا ہے۔ تاہم اس سال صورتحال یکسر مختلف ہے کیونکہ پارٹی کے اندر اختلافات اور قیادت کے بحران نے اس روایت کو بھی متاثر کر دیا ہے۔ پارٹی کے انتخابی نشان، تنظیمی اختیار اور مالی وسائل کو لے کر رسہ کشی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ متعدد ارکانِ پارلیمنٹ اور اسمبلی پارٹی قیادت سے ناراض بتائے جا رہے ہیں، جبکہ ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی کی قیادت کو لے کر بھی اختلافات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ ایسے میں 21 جولائی کی ریلی کو پارٹی اپنی سیاسی طاقت اور تنظیمی اتحاد کے مظاہرے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ذرائع کے مطابق ’’کالی گھاٹ ترنمول‘‘ اس مرتبہ ان تمام رہنماؤں اور کارکنوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کر رہی ہے جو مشکل وقت میں پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے لیکن انہیں مناسب سیاسی مقام یا ذمہ داری نہیں مل سکی۔ قیادت کو امید ہے کہ اس حکمت عملی سے پارٹی کے اندر اتحاد کو مضبوط کیا جا سکے گا، تاہم ریلی کے مقام پر تاحال غیر یقینی برقرار ہے۔
دیش
طلبا کو بارش سے بچانے کیلئے دیپکے نے ٹینٹ لگانے کی مانگی اجازت
نئی دہلی:نیٹ پیپر لیک معاملے اور دیگر بدعنوانیوں کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی ) کے جنتر منتر پر مظاہرہ کا بیسواں دن ہے۔ اس دوران دہلی میں بارش بھی ہورہی ہے ، بتایا جاتا ہے کہ سی جے پی کے بانی دیپکے نے پولیس والوں کے سامنے ہاتھ جوڑے کہ انھیں ٹینٹ لگانے کی اجازت دے، کیونکہ طلبا بارش میں بھیگ رہے ہیں۔ انھوں نے ایک ویڈیو پر پولیس میں ترپال لگانے کی کوشش کرنے والے طلبا کے ساتھ پولیس پر بدسلوکی کا بھی الزام لگایا، انھوں نے لکھا ہے کہ خاتون طلبا کو پولیس والوں نے دھکا دیا۔
غورطلب ہے کہ جنتر منتر کے مظاہرے میں معروف سماجی خدمت گار وانگچک بھی بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ان کے یہ بھوک ہڑتال کا بارہ واں دن ہے۔ سی جے پی امتحانات میں بدعنوانیوں کے خلاف وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ مانگ رہی ہے۔ اس مظاہرے میں کئی نامی گرامی سوشل ایکٹوسٹ بھی شامل ہیں، وانگچک 28 جون سے بھوک ہڑتال کررہے ہیں ان کا وزن تیزی سے گرتا جارہا ہے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
