دیوبند:معاوضہ میں اضافہ کئے جانے سمیت مختلف مطالبات کو لے کر پیر کے روز بڑی تعداد میں آشا ملازمین نے جوائنٹ آشا سنگٹھن کے کنوینر سنجے والیا کی قیادت میں سی ایم او دفترسے ضلع ہیڈکواٹر تک جلوس نکالا ۔
گھنٹہ گھر اور کورٹ روڑ سے ہوتے ہوئے جانے والے اس جلوس میں آشا ملازمین نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے اپنے مطالبات دہرائے ۔واضح ہوکہ گزشتہ ایک ہفتہ سے سی ایم او کے دفترپر آشائوں ،این این ایم اور جی این ایم کا احتجاج اور ہڑتال جاری ہے ۔احتجاج کے دوران سنجے والیا اور آشاملازمین نے کہا کہ انہیں محض 2200؍روپے سے 3؍ ہزار روپے تک کا معاوضہ دیا جاتاہے جبکہ ان سے دن ورات کام لیا جاتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ خواتین کے یہاں ڈلیوری کرانے کے کام سے لے کر محکمہ صحت کے مختلف کاموں کی ذمہ داری بھی انہیں مسلسل نبھانے پڑتی ہے ۔ان آشا ملازمین کا کہنا ہے کہ روزانہ بڑھنے والی مہنگا ئی کو دیکھتے ہوئے اتنے کم معاوضہ میں اپنے گھر کی ضرورتوں کو پورا کرنا ،بچوں کی اسکولوں کی فیس کی ادائیگی اور دیگر گھریلو اخراجات پورے کرنا بہت زیاد ہ مشکل ہوگیا ہے ۔
احتجا ج کرنے والی آشا ملازمین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے معاوضہ میں اضافہ کرکے 26؍ ہزاروروپے ماہانہ مقرر کیا جائے ۔احتجاج کرنے والی آشا خواتین نے بتایا کہ اب تنگ آکر انہوں نے اپنے کاموں اور ڈیوٹی کا بھی بائیکاٹ کردیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں کئے جاتے تو وہ کام پر واپس نہیں آئیں گے ۔انہوں نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے مطالبات پر جلد ازجلد فیصلہ نہیں لیا گیا تو اس احتجاج اور ہڑتال کو مزید تیز کرتے ہوئے غیرمعینہ مدت کی ہڑتال شروع کی جائے گی ۔
معاوضہ میں اضافہ کے مطالبات کو لے کر سڑکوں پر اتریں آشا ملازمین
