Connect with us

دیش

عام آدمی پارٹی بہار میں نہیں لڑے گی الیکشن: آتشی

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:اس سال سب کی نظریں سال کے آخر میں ہونے والے بہار اسمبلی انتخابات پر ہوں گی۔ یہاں بی جے پی-جے ڈی یو کی حکومت ہے جس کی قیادت نتیش کمار کر رہے ہیں۔ تاہم 2020 سے اب تک نتیش بابو نے لالو یادو کی راشٹریہ جنتا دل اور بھارتیہ جنتا پارٹی دونوں کو اپنا حلیف بنایا ہے۔ اپوزیشن جے ڈی یو-بی جے پی مخلوط حکومت کو شکست دینے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ ایسے میں یہ سوال فطری طور پر اٹھتا ہے کہ عام آدمی پارٹی اس انتخابی معرکے میں خود کو کہاں پاتی ہے۔ دہلی کی اپوزیشن لیڈر آتشی کے ساتھ ایک انٹرویو میں ان سے بہار الیکشن لڑنے کے بارے میں سوال پوچھا گیا۔ آتشی نے اس آسان سوال کا کیا جواب دیا۔ ان سے یہ سوال بھی پوچھا گیا کہ بہار میں کس کی حکومت بننے والی ہے
دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ آتشی نے تمام سوالات کے درمیان، ان سے بہار اسمبلی انتخابات 2025 کے بارے میں بھی پوچھا گیا، ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی پارٹی یعنی عام آدمی پارٹی بہار انتخابات میں حصہ لے گی؟ اس پر آتشی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ان کی پارٹی اس بار بہار کا الیکشن نہیں لڑے گی۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں پارٹی کی کوئی تنظیم نہیں ہے، اس لیے پارٹی وہاں الیکشن لڑنے پر غور نہیں کر رہی ہے۔AAP کے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں، آتشی نے کہا کہ ہم آنے والے گوا، گجرات، پنجاب اور دیگر MCD انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس کے بعد آتشی سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اس بار بہار میں کون جیتے گا؟ وہ زور سے ہنسا اور کہا کہ وقت ہی بتائے گا۔
بہار میں اکتوبر یا نومبر میں انتخابات ہو سکتے ہیں۔ تاہم الیکشن کمیشن نے اس بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔ آنے والے مہینوں میں تاریخوں کا اعلان کیا جائے گا۔ بہار میں 2020 کے انتخابات کے نتائج میں آر جے ڈی اتحاد کو 110 سیٹیں ملیں۔
جس میں لالو یادو کی پارٹی کو 75 اور کانگریس کو 19 سیٹیں ملیں۔ بی جے پی کو 74 اور جے ڈی یو کو 43 سیٹیں ملی تھیں۔ اقتدار کے بیچ میں نتیش کمار نے بی جے پی سے تعلقات توڑ لیے اور لالو یادو کی پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی۔ تاہم، نتیش بابو نے پھر سے اپنا ارادہ بدل لیا اور دوبارہ این ڈی اے اتحاد میں شامل ہو گئے۔ نتیش ہر پلیٹ فارم سے بار بار کہہ رہے ہیں کہ اب وہ کبھی ادھر نہیں جائیں گے اور صرف این ڈی اے میں رہ کر بہار کو فتح کرنے کی تیاری کریں گے۔

دیش

پانچ کلو وزن ہواکم،وانگچک کے بھوک ہڑتال کا ساتواں دن

Published

on

نئی دہلی:جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا دھرنا جاری ہے۔ ان کے اندولن کے ساتھ معروف سماجی خدمات گار سونم وانگچک بھی شریک ہوچکے ہیں آج ان کے بھوک ہڑتال کا ساتواں دن ہے۔ جس میں ان کا پانچ کلو وزن کم ہوگیا ہے۔ اس دوران سی جے پی نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبہ کو تیز کردیا ہے۔ واضح ہو کہ جنتر منتر پر طلبا نیٹ ، یوجی سمیت مقابلہ جاتی امتحانات میں بدعنوانی کولیکر مظاہرہ کررہے ہیں۔

Continue Reading

دیش

حکومت پر تنقید جمہوریت کا حصہ ، جرم نہیں : بمبئی ہائی کورٹ

Published

on

بمبئی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ جمہوری نظام میں شہریوں کو حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے، اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور پُرامن احتجاج کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ صرف حکومت مخالف نعرے لگانے یا احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے کی بنیاد پر کسی شہری کو اس کے اپنے شہر سے بے دخل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے اسی بنیاد پر مہاراشٹر پولیس کی جانب سے جاری ایک سالہ ایکسٹرنمنٹ (شہر بدری) کا حکم منسوخ کر دیا۔
یہ فیصلہ جسٹس مادھو جمدار کی بنچ نے سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے مہاراشٹر کے جنرل سیکریٹری اور سابق لوک سبھا امیدوار سعید احمد عبد الواحد چودھری کی درخواست پر سنایا۔ عدالت نے واضح کیا کہ انتظامی اختیارات کا استعمال شہریوں کے آئینی اور بنیادی حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے نہیں کیا جا سکتا۔
سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کی کارروائی اور اس کے جواز پر کئی اہم سوالات اٹھائے۔ جسٹس مادھو جمدار نے ریمارکس دیے کہ ہر شہری کو حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے، احتجاج کرنے اور اختلاف رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
عدالت نے سوال کیا کہ محض ’’بی جے پی حکومت مردہ باد‘‘ یا ’’امت شاہ مردہ باد‘‘ جیسے نعرے کسی شخص کے خلاف شہر بدری جیسی سخت کارروائی کی بنیاد کیسے بن سکتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت میں اختلاف رائے کو دبانے کے بجائے اسے برداشت کرنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
جسٹس جمدار نے گزشتہ برسوں میں مختلف مسابقتی امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوام ایسے معاملات پر احتجاج کریں اور اس کے جواب میں ان پر مقدمات درج کیے جائیں تو یہ جمہوری اقدار کے مطابق نہیں ہوگا۔ عدالت نے واضح کیا کہ پولیس عوام کی خدمت کے لیے ہے اور اس کی جواب دہی شہریوں کے سامنے ہے، نہ کہ کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے سامنے۔
اپنے تحریری فیصلے میں ہائی کورٹ نے کہا کہ حکومت کے بعض فیصلوں کی مخالفت کرنا کسی شخص کو اس کے رہائشی علاقے سے بے دخل کرنے کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت کے مطابق ایسی کارروائی اظہارِ رائے کی آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار کے خلاف جاری کیے گئے ایکسٹرنمنٹ آرڈر کی اصل وجہ مختلف احتجاجی پروگراموں کا انعقاد اور ان میں شرکت تھی۔ عدالت نے کہا کہ صرف اسی بنیاد پر کسی شہری کے خلاف اتنی سخت انتظامی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
سعید احمد عبد الواحد چودھری شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی)، بابری مسجد تنازع، گیان واپی مسجد معاملہ، وقف بورڈ میں مبینہ بدعنوانی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سمیت کئی عوامی مسائل پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں سرگرم رہے ہیں۔

Continue Reading

دیش

رام مندر کے بعد بدری ناتھ میں چڑھاوا چوری معاملہ ، کرمچاریوں سے جواب طلب

Published

on

نئی دہلیایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوا چوری کا معاملہ چل ہی رہا ہے کہ اب معروف کیدار بدری ناتھ چڑھاوا چوری کا معاملہ بھی اجاگر ہوا ہے اس سلسلے میں انتظامیہ نے فوری طور پر کرمچاریوں کو نوٹس دیا ہے اور تین دن میں جواب دینے کو کہا ہے۔ غورطلب ہے کہ شری بدری ناتھ-کیدار ناتھ مندر کمیٹی (بی کے ٹی سی) نے معاملے کی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے۔ کمیٹی کے ایک عہدیدارکے مطابق دہرادون واقع ’بھیرو سینا‘ نامی تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ بدری ناتھ دھام میں تعینات ایک ملازم عطیات اور نذرانوں کی رقم میں گڑبڑی کر رہا ہے۔ حالانکہ انتظامیہ کی جانب سے ان الزامات کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے، لیکن معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے کمیٹی نے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ ساتھ ہی عطیات کی رقم کی گنتی سے منسلک ملازمین سے بھی وضاحت طلب کی گئی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network