تازہ ترین
ریاستی حکومت کی بہار کو 3 گنگا پتھ کی سوغات،سمراٹ حکومت کا 25 سالہ ٹریفک پلان، بہار اسٹیٹ روڈ کنسٹرکشن ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی نگرانی میں کام جاری، بیدوپور-دیگھوارہ اور بکسر-کوئیلور تک پتھ ہوگا تعمیر،جبکہ کونہوا سے ڈمریا گھاٹ تک بنائی جائے گی سڑکگاندھی جی کی سچائی اور عدم تشدد سے سبق لیں بچے : ابو فیصل،اردو پرائمری اسکول چاتَرگھاٹ میں گاندھی جی اور شاستری جی کوپیش کیا گیا خراجِ عقیدتصغریٰ وقف اسٹیٹ میں ہو رہی بدعنوانی اور بے ضابطگیوں سے متعلق متعدد انکشافاتروح پرور مجلس اور دستارِ خلافت،ایک یادگار تقریب منعقد’سمپورن سمادھان دیوس‘ میں 53فریادی لے کر پہنچے شکایات ،موقع پر 4شکایات کا ازالہ53 طلبہ وطالبات مختلف اعزازات سے سرفراز,نوجوانوں کے مستقبل کو سنوارنے کی ہر سطح پرکی جائے کوشش: ساجدہ صبابہار کا تین چوتھائی حصہ سیلاب سےمتاثر،سالانہ 6.4ہزار کروڑ کا صرفہ،یوپی میں 15ندیاں طغیانی پر ،مدھیہ پردیش میں مانسون کو الوداعاپنے حق کیلئے لڑ رہے ہیں ملک بھر کے لوگ،ان کے ساتھ کھڑا ہونا میری ذمہ داری ، راہل گاندھی نے لانچ کیا ’ستیہ گرہ‘پورٹل
Bihar

صغریٰ وقف اسٹیٹ میں ہو رہی بدعنوانی اور بے ضابطگیوں سے متعلق متعدد انکشافات

(پی این این)
بہار شریف: بہار ریاستی سنی وقف بورڈ کی تین رکنی جانچ ٹیم کے ذریعہ صغریٰ وقف اسٹیٹ میں ہوئی بے ضابطگی، بدعنوانی، مالی بے ضابطگی اور آئین اور ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف کام کرنے جیسے سنگین معاملے پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنی رپورٹ حکومت کے پاس بھیج دی گئی۔
سماجی لیڈر محمد نواب حسن، انجمن مفید الاسلام کے نائب صدر میر ارشد حسین، اور شہر کے دیگر دانشوروں کی جانب سے وزیر اعلیٰ بہار، اقلیتی بہبود وزیر کو دی گئی درخواست کی روشنی میں اقلیتی بہبود محکمہ نے سنی وقف بورڈ کو جانچ کرانے کا حکم دیا تھا جس کے بعد سنی وقف بورڈ نے تین رکنی ٹیم کے ذریعہ اس کی جانچ کرائی۔ جانچ کے دوران ٹیم نے دونوں گروپ سے بات چیت کی اور ثبوت حاصل کیے۔ کئی بار ہوئی جانچ کے بعد سنی وقف بورڈ نے الزام کو سچ پایا اور اپنی رپورٹ اقلیتی بہبود محکمہ کو سونپ دی۔
جانچ کے دوران ٹیم نے جو رپورٹ پیش کی اس کے مطابق اس بار 2020 میں صغریٰ وقف اسٹیٹ کی کمٹی کا قیام ہوا تھا اور اس کی مدت 5 سال کے لیے تھی۔ شکایت کنندہ نے الزام لگایا تھا کہ سغریٰ وقف اسٹیٹ، سغریٰ ہائی اسکول، سغریٰ کالج اور مدرسہ میں بدعنوانی کا بازار گرم ہے، مالی بے ضابطگی، عہدے کا غلط استعمال، اسٹیٹ کے آئین اور معز ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ضلع افسر نالندہ اور ایس ڈی او بہار شریف کو ہٹا کر وقف بورڈ کے سابق ممبر سیف الدین فردوسی،کو کارگزار صدر ارشاد اللہ کے ذریعہ 137 سال پرانے آئین کو غلط طریقے سے ختم کر کے سیف الدین فردوس کو صدر بنا دیا گیا ہے جیسے الزامات لگائے گئے تھے۔
اس کے بعد چیف ایگزیکٹو آفیسر بہار ریاستی سنی وقف بورڈ نے اس کی جانچ 3 رکنی ٹیم سے کرائی۔ ٹیم نے کئی بار غیر جانبداری سے اس کی جانچ کی۔ کافی لمبی چلی جانچ کے بعد جانچ کمیٹی نے 14 اگست 2026 کو چیف ایگزیکٹو آفیسر کو رپورٹ سونپ دی۔رپورٹ میں کئی چونکانے والے معاملے بھی سامنے آئے۔ جانچ میں پایا گیا کہ وقف نامہ کے خلاف رقم صغریٰ ہائی اسکول اور کالج سے لی گئی، اس کے علاوہ وقف نامہ کو بدل کر نیا وقف نامہ بھی تیار کیا گیا، اس کی جانکاری سنی وقف بورڈ کو نہیں دی گئی۔
جانچ رپورٹ میں جو باتیں سامنے آئیں اس کے مطابق:1- بربیگھہ بس اسٹینڈ کی نیلامی نہیں کرائی گئی،2- وقف نامہ اور پٹنہ ہائی کورٹ کے حکم کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ڈی ایم کو ہٹایا گیا اور خود صدر بن گئے،3- صغریٰ ہائی اسکول سے 5 لاکھ اور صغریٰ کالج سے 25 لاکھ روپیہ بغیر تعلیمي بورڈ کی اجازت اور وقف بورڈ کی منظوری لیے صغریٰ وقف اسٹیٹ نے لے لیے،4- عدالت میں چل رہے سغریٰ وقف اسٹیٹ کے کئی مقدمات میں سغریٰ وقف اسٹیٹ نے پیروی نہیں کی جس کی وجہ سے مقدمہ خارج ہو گیا،5- 2020 میں تشکیل ہوئی صغریٰ وقف اسٹیٹ کی کمیٹی نے 5 سالوں میں نہ تو سب کمیٹی، نہ ہی فائنانس کمیٹی اور نہ ہی ڈیولپمنٹ کمیٹی کا قیام کیا،6- بی بی جین وقف نمبر 5 کی جائیداد کی آمدنی کا حساب اب تک نہیں دیا گیا،7- وقف نامہ میں اچھے لوگوں کو عہدہ دینے کی بات کہی گئی تھی، مگر اس بار مجرمانہ کردار کے لوگوں کو عہدہ دیا گیا،8- راجگیر قبرستان کمیٹی نمبر 478 اور 700 کی زمین کو 99 سال کے لیے لیز پر دے دیا گیا،9- صغریٰ ہائی اسکول کے بائی لاز کو بغیر بورڈ کو اطلاع دیے بدل دیا گیا،اور sdo کو باہر کا راستہ دکھایا گیا۔
اس کے علاوہ دیگر معاملات پر بھی جانچ کے دوران روشنی ڈالی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ صغریٰ وقف اسٹیٹ، اسکول، کالج، مدرسہ اور راجگیر قبرستان کمیٹی میں بدعنوانی، مالی بے ضابطگی عروج پر ہے۔جانچ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صغریٰ کالج، سوغریٰ ہائی اسکول تعلیم محکمہ اور پاٹلی پتر یونیورسٹی کی دیکھ ریکھ میں ہے، اس لیے اس پر نظر تعلیم محکمہ اور یونیورسٹی کی ہے، اس کے باوجود بھی اب تک 5 سال پورا ہونے کے بعد بھی سوغریٰ ہائی اسکول میں نہ تو ایڈمنسٹریٹر بحال ہوئے اور نہ ہی ایڈہاک کمیٹی بنی۔مذکورہ تمام لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے بدعنوان لوگوں پر سخت کارروائی کی جائے، کارگزار متولی، نائب دوم صدر، نائب صدر کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے ایسے لوگوں کو جیل بھیجا جائے۔ یہ بھی کہا گیا کہ سوغریٰ ہائی اسکول میں ہوئی بحالی غیر قانونی ہے، اس کی بھی جانچ چل رہی ہے۔

متعلقہ خبریں