بہار
سیتامڑھی :ضلع انتظامیہ نے منشیات سے آزادی کا لیا حلف
(پی این این)
سیتامڑھی :منشیات سے پاک ہندوستان مہم کی 5ویں سالگرہ کے موقع پر، سیتامڑھی ضلع انتظامیہ اور ضلع سماجی تحفظ سیل نے منشیات کے استعمال کے خلاف عوامی بیداری بڑھانے کیلئے کلکٹریٹ میں ضلعی سطح کی حلف برداری کی تقریب کا انعقاد کیا۔ ہدایت کے مطابق تمام ضلعی سطح کے افسران اور ان کے ماتحتوں نے پروگرام میں شرکت کی اور منشیات سے آزادی کا حلف لیا۔ پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ رچی پانڈے نے منشیات سے پاک ہندوستان مہم کی مطابقت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ ضلع میں پہلے ہی سے پابندی کا مثبت ماحول ہے، اور یہ مہم آنے والی نسلوں کو صحت مند، محفوظ اور ترقی یافتہ معاشرہ فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ یہ مہم بہت سی مثبت کامیابیوں کی راہ ہموار کر رہی ہے، بشمول سماجی رویے میں تبدیلی اور سڑک حادثات میں کمی۔ منشیات کے استعمال کے سماجی، ذہنی اور جسمانی منفی اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے تمام سرکاری دفاتر کو ہدایت کی کہ وہ مکمل طور پر منشیات سے پاک ماحول کو برقرار رکھیں اور 100 فیصد تعمیل کو یقینی بنائیں۔
ضلع مجسٹریٹ کی ہدایت کے مطابق ضلع کے تمام بلاکس، پنچایت عمارتوں، سرکاری دفاتر، اسکولوں، آنگن واڑی مراکز، اور صحت مراکز میں منشیات سے نجات کے عہد کا پروگرام بھی منعقد کیا گیا، جس سے وسیع پیمانے پر عوامی بیداری کو یقینی بنایا گیا۔
انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ منشیات اور الکحل کے استعمال یا فروخت کے بارے میں معلومات ملنے پر فعال مداخلت کریں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس انتظامیہ منشیات کی سپلائی میں ملوث افراد کی نشاندہی کے لیے مسلسل کارروائی کر رہی ہے۔ اس تقریب میں ڈپٹی ڈیولپمنٹ کمشنر سندیپ کمار کے علاوہ تمام ضلعی سطح کے افسران کے ساتھ ساتھ ضلع کے مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے نمائندے، افسران اور ملازمین موجود تھے۔
Bihar
پولیس کی من مانی پرروک لگانا ضروری،ریاست میں امن و قانون کی صورتحال ہوچکی ہے انتہائی بدحال،ایس پی کیخلاف شکایت لے کر ڈی جی پی سے ملے تیجسوی یادو، اے کے-47 سے فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ
(پی این این)
پٹنہ:بہار کے قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے جمعہ کے روز ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) ونئے کمار سے ملاقات کی۔ اس دوران انہوں نے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) سمیت دیگر پولیس افسران کے خلاف شکایت پیش کی۔
تیجسوی یادو نے طلبہ تحریک کے دوران اے کے-47 جیسے مہلک ہتھیاروں سے فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی متعلقہ ضلع کے ایس پی سمیت دیگر افسران کے خلاف بھی کارروائی کرنے کی درخواست کی۔
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے کارگزار صدر تیجسوی یادو نے اس معاملے میں ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) ونئے کمار کو ایک تحریری عرضداشت بھی پیش کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپر لیک کے خلاف طلبہ کے جمہوری احتجاج پر بہار پولیس نے فائرنگ کی اور نہایت بے رحمانہ لاٹھی چارج کیا۔ڈی جی پی ونئے کمار سے ملاقات کے موقع پر تیجسوی یادو کے ہمراہ آر جے ڈی کے سینئر رہنما عبدالباری صدیقی، منگنی لال منڈل، اُدے نارائن چودھری اور قانون ساز کونسل کے رکن (ایم ایل سی) سنیل سنگھ سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
تیجسوی یادو نے خبردار کیا کہ اگر نامزد پولیس اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تو اپوزیشن پورے بہار میں ریاست گیر تحریک شروع کرے گی۔ انہوں نے ریاست میں قانون و نظم کی بحالی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
تیجسوی یادو نے جمعہ کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے درج ذیل پانچ مطالبات پر مشتمل ایک یادداشت ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کو پیش کی ہے،جن میںبہار پولیس نے طلبہ پر اے کے-47 سے گولیاں کیوں چلائیں؟بہار پولیس نے بچوں پر ’’شوٹ ٹو کِل‘‘ کی ذہنیت کے ساتھ گولیاں برسائیں، جو نہایت افسوسناک اور جمہوری اقدار کے منافی ہے۔بہار پولیس نے ہجوم پر قابو پانے کے لیے مقررہ گریڈیڈ ریسپانس ایکشن پلان (مرحلہ وار ردِعمل کے ضابطۂ کار) پر عمل کیوں نہیں کیا؟فائرنگ کا حکم دینے والے سینئر پولیس افسران کے خلاف اب تک کوئی ٹھوس کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟طلبہ تحریک کے دوران پولیس کی مبینہ بربریت اور کارروائی کی عدالتی نگرانی میں جانچ کرائی جائے، وغیرہ مطالبات شامل ہیں۔
قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں امن و قانون کی صورتحال انتہائی ابتر ہو چکی ہے اور پولیس انتظامیہ من مانی پر اتر آیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس کی من مانی پر روک لگائی جائے اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی دوبارہ تکرار روکنے کے لیے ضروری ہدایات جاری کی جائیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ طلبہ تحریک کے دوران بہار بھر میں شدید احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ اس دوران احتجاج کرنے والے طلبہ و طالبات اور پولیس اہلکاروں کے درمیان متعدد مقامات پر جھڑپیں ہوئیں۔ کئی شہروں میں پتھراؤ اور لاٹھی چارج کے واقعات میں مظاہرین طلبہ زخمی ہوئے تھے۔
سیوان میں طلبہ تحریک نے پُرتشدد رخ اختیار کر لیا تھا۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ پولیس نے مظاہرین پر گولیاں چلائیں، جس کے نتیجے میں تین طلبہ زخمی ہو گئے تھے۔ بعد ازاں سیوان کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) پورن کمار جھا نے اے کے-47 سے فائرنگ کرنے والے کانسٹیبل ابھیشیک کمار کو معطل کر دیا تھا۔ ہاتھ میں اے کے-47 تھامے فائرنگ کرتے ایک پولیس اہلکار کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہوئی تھی۔
Bihar
جمہوری حقوق کا استحصال ناقابل قبول، اساتذہ کی آواز دبانے کی کوشش کی سخت مذمت:بنشی دھربرجواسی
(پی این این)
مظفرپور: بہار اسٹیٹ ٹیچرس ایسوسی ایشن، ضلع اکائی مظفرپور، بہار قانون ساز کونسل کے معزز رکن بنشی دھر برجواسی کی جانب سے اساتذہ کے خلاف شکایات درج کرانے اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ایسوسی ایشن کا ماننا ہے کہ کسی بھی استاد کو تعلیمی نظام، اساتذہ کے مفادات یا عوامی مفاد سے متعلق مسائل پر جمہوری اور آئینی طریقے سے اپنی رائے پیش کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ اگر کسی کو کسی استاد کی رائے سے اختلاف ہے تو اس کا جواب حقائق، دلائل اور مکالمے کے ذریعے دیا جانا چاہیے، نہ کہ انتظامی شکایات کے ذریعے انہیں خوف زدہ کرنے یا خاموش کرانے کی کوشش کی جائے۔
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں متعدد اساتذہ نے شکایت کی ہے کہ ان پر مختلف ذرائع سے دباؤ ڈال کر ان کے خلاف انتظامی کارروائی کرانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان تمام شکایات کی غیر جانبدارانہ اور شفاف جانچ ہونی چاہیے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کہیں انتظامی نظام کا استعمال تنقیدی آوازوں کو دبانے کے لیے تو نہیں کیا جا رہا۔بہار اسٹیٹ ٹیچرس ایسوسی ایشن ضلع انتظامیہ اور محکمۂ تعلیم سے مطالبہ کرتی ہے کہ کسی بھی شکایت پر کارروائی سے قبل غیر جانبدارانہ، شفاف اور حقائق پر مبنی جانچ کو یقینی بنایا جائے اور فطری انصاف (Natural Justice) کے اصولوں کی مکمل پاسداری کی جائے۔
ایسوسی ایشن کے میڈیا انچارج وویک کمار نے کہا کہ اگر اساتذہ کی آواز دبانے کا سلسلہ جاری رہا تو تنظیم جلد ہی “پول کھول مہم” شروع کرے گی۔ اس مہم کے ذریعے عام اساتذہ کے سامنے ایسے تمام معاملات کو منظرِ عام پر لایا جائے گا جن میں اساتذہ نے اپنے خلاف غیر ضروری دباؤ، بے بنیاد شکایات یا کارروائی کی کوششوں کا الزام عائد کیا ہے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ یہ مہم صرف مصدقہ حقائق اور دستیاب سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر چلائی جائے گی۔بہار اسٹیٹ ٹیچرس ایسوسی ایشن نے دوٹوک انداز میں کہا کہ وہ ہر استاد کے وقار، آزادیٔ اظہار اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ہمیشہ جدوجہد کرتی رہے گی اور ضرورت پڑنے پر جمہوری اور قانونی طریقوں سے وسیع پیمانے پر تحریک بھی چلائے گی۔
Bihar
جامعہ خلفاء راشدین،پورنیہ میں’’النادی العربی‘‘ کے تعلیمی پروگرام کا انعقاد
(پی این این)
پورنیہ:جامعہ خلفاء راشدین کے زیرِ اہتمام طلباء کی علمی، فکری اور لسانی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے’’النادی العربی‘‘ کا شاندار تعلیمی پروگرام منعقد کیا گیا۔ یہ دو روزہ پروگرام تین مختلف نشستوں پر مشتمل تھا، جس میں جامعہ کے طلباء نے عربی زبان و ادب پر اپنی مضبوط گرفت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فصیح و بلیغ تقاریر اور بہترین مکالمات پیش کر کے حاضرین کو ششدر کر دیا۔
اس باوقار تعلیمی تقریب کی صدارت جامعہ کے مہتمم حضرت مولانا کفیل الدین ندوی نے فرمائی، جبکہ مہمانِ خصوصی کے طور پر معروف علمی و دینی شخصیت حضرت مفتی عمران احمد قاسمی صاحب (سابق شیخ الحدیث پانولی، گجرات) رونقِ اسٹیج رہے۔ طلباء کے مابین منعقدہ تعلیمی مقابلوں میں جانچ اور بہترین پرکھ کے لیے تین معزز منصفین (ججز) کا پینل مقرر تھا، جس میں حکمِ اول کے فرائض مفتی خالد حبیب صاحب ندوی (استاذ جامعہ صدیقیہ ڈگروا)، حکمِ دوم کے فرائض مفتی جاوید اشرف صاحب قاسمی اور حکمِ ثالث کے فرائض مولانا نیاز احمد صاحب ندوی نے انجام دیئے۔ علاوہ ازیں نظامت النادی العربی کے مربی،معروف مقرر اور جامعہ کے ا ستاذ حدیث وفقہ مفتی حسنین اشاعتی نے فرمائی۔
ججز کے اس پینل نے طلباء کے تلفظ، روانی، مواد اور لب و لہجے کا باریک بینی سے جائزہ لے کر نتائج مرتب کیے۔پروگرام کے دوران جامعہ کے مختلف درجات کے طلبا ء نے معاصر اور دینی موضوعات پر عربی زبان میں انتہائی پر اعتماد انداز میں تقاریر کیں۔
اس دو روزہ پروگرام کی مختلف نشستوں میں تعلیمی مقابلوں کے نتائج کے تحت طبقہ سفلی (ابتدائی درجات) میں درجہ اعدادیہ کے محمد شاہجہاں نے اول، محمد فیضان نے دوم، جبکہ تمہید قمر نے سوم پوزیشن حاصل کی۔طبقہ وسطیٰ (متوسط درجات) میں عربی دوم کے طالب علم ابوبکر نے اول، عربی سوم کے عبد القادر نے دوم، جبکہ عربی دوم کے ہی شاداب اقبال نے سوم پوزیشن حاصل کی۔طبقہ علیا (اعلیٰ درجات) کے سخت مقابلے میں عالیہ ثانیہ کے طالب علم حماد اکرم نے اول، درجہ خامسہ کے محمود عالم نے دوم، جبکہ عالیہ ثانیہ کے ہی شبلی نعمانی نے سوم پوزیشن حاصل کر کے نمایاں کامیابی حاصل کی۔تقریب میں دیگر دینی و علمی اداروں سے وابستہ شریک ذمہ داران اور معزز شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور طلباء کے پراعتماد انداز اور فصیح عربی گفتگو کی خوب ستائش کی۔ مہمانوں نے جامعہ خلفاء راشدین کے اساتذہ کرام کی مخلصانہ تربیت اور اراکینِ عاملہ (انتظامیہ) کے بہترین انتظامات اور اعلیٰ تعلیمی حکمتِ عملی کی زبردست پذیرائی کی اور انہیں مبارکباد پیش کی۔
پروگرام کے اختتام پرمہمان خصوصی حضرت مفتی عمران احمد قاسمی نے اپنے خطاب میں طلباء کو مبارکباد دیتے ہوئے فرمایا کہ عربی زبان قرآن وحدیث کی زبان ہے اور موجودہ دور میں اس پر مہارت حاصل کرنا دعوت دین کے لیے انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے جامعہ کی تعلیمی ترقی پراپنی دلی مسرت کا اظہار کیا۔تقریب کا باقاعدہ اختتام مہمانِ خصوصی حضرت مفتی عمران احمد قاسمی صاحب کی رقت آمیز اور خصوصی دعا پر ہوا، جس میں ملک و ملت کی ترقی، امن و امان اور جامعہ کی مزید تعلیمی و تعمیری ترقیاں مانگی گئیں۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
