انٹر نیشنل
سیاحت کے مستقبل کو تیز کرنے کیلئے113BNڈالرکااعلان
ٹورائز سیاحت کے لیے ایک نئے افق کی تشکیل کرنے والے جرات مندانہ عالمی پلیٹ فارم نے آج اعلان کیا ہے کہ اس نے ریاض میں افتتاحی ٹورائز سربراہی اجلاس میں کل USD 113BN کی سرمایہ کاری کے پورٹ فولیوز کو متحرک کیا ہے۔ یہ سنگ میل سیاحت، ٹکنالوجی، سرمایہ کاری، اور عالمی سیاحت کے اگلے 50 سالوں کے لیے ایک مشترکہ روڈ میپ ترتیب دینے کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے رہنماؤں کو بلانے کے ذریعے اعلیٰ قیمت کے معاہدے کے بہاؤ کو کھولنے کے لیے ٹورائز کے مشن کی عکاسی کرتا ہے۔ مربوط، تجربہ کی قیادت میں پیش رفت،فلاح و بہبود، منزل اور طرز زندگی کی پیشکش، ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ، اور AI سے چلنے والے پلیٹ فارمز۔اجتماعی طور پر، یہ وعدے مستقبل کی سیاحت کی ضروریات کو پورا کرنے اور مسافروں کے سفر کو نئے سرے سے ڈیزائن کرنے کے لیے جو کچھ ممکن ہے، اور کس چیز کی ضرورت ہے، کے لیے ایک نیا معیار قائم کرتے ہیں۔
صرف کچھ بین الاقوامی اور مقامی کمپنیاں جنہوں نے USD 113BN کے حصے کے طور پر اپنے پورٹ فولیوز کا اعلان کیا ان میں شامل ہیں: میلیا ہوٹلز، بی ڈبلیو ایچ ہوٹلز، جی او سی او ہاسپٹلٹی، سینومی، ریڈیسن، ارتھ ہوٹلز، ڈیلونکس اور اوشین لنک، الفوزان ہولڈنگ، الکتھیری ہولڈنگ، الوتھائم، اور نالج اکنامک سٹی۔انسانی سرمائے کے ساتھ سخت انفراسٹرکچر کو ملا کر، اور ڈیٹا، ڈیزائن اور مہمان نوازی کو ملا کر، یہ سرمایہ کاری سیاحت کے ایکو سسٹم میں نئی قدر کو کھولے گی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی، اور بڑے پیمانے پر ناقابل فراموش، مقصد پر مبنی تجربات فراہم کرے گی۔ سب سے بڑھ کر، بہت سے سعودیوں پر توجہ مرکوز تھی، جس نے مملکت کی بین الاقوامی مسابقت اور خواہش کو ایک معروف عالمی سیاحتی مقام کے طور پر مستحکم کیا، جہاں ثقافت، اختراعات، اور عالمی معیار کی خدمات ایک ساتھ آتی ہیں، اور شراکت داروں اور سرمایہ کاروں کو یہ اشارہ دیتی ہیں کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سیاحت کی ترقی کا اگلا دور تعمیر کیا جائے گا۔
سرمایہ کاری عالمی سیاحتی معیشت کے اگلے باب میں شروع ہو رہی ہے۔ احمد الخطیب، وزیر سیاحت اور بورڈ آف دی بورڈ کے چیئرمینTOURISE، نے تبصرہ کیا کہTOURISE وہ اتپریرک رہا ہے جو سرمایہ کاروں، پالیسی سازوں اور اختراع کاروں کو ایک ہی میز پر لاتا ہے، وژن کو بینک کے قابل شراکت داریوں اور اعلیٰ اثر والے سودوں میں تبدیل کرتا ہے۔ ہم ایک ساتھ مل کر پوری مسافر معیشت کی نئی تعریف کر رہے ہیں، جو AI کے ذریعے تقویت یافتہ ہے، جس پر بنایا گیا ہے۔منزل اور تجربہ فضیلت، اور اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ترقی اور مواقع ہر طرف پھیل جائیں۔
ماحولیاتی نظام۔اعلان TOURISE کے بانی مقصد کو آگے بڑھاتا ہے۔ عوامی اور نجی شعبوں میں فیصلہ سازوں اور خلل ڈالنے والوں کو متحد کرنا تاکہ تبدیلی کی شراکت کو تیز کیا جا سکے اور اعلیٰ اثر والے ڈیل میکنگ کے ذریعے عزائم کو عمل میں تبدیل کیا جا سکے۔ سیاحت کے ماحولیاتی نظام میں اس طرح کی بے مثال سطحوں کے اعلان کے ساتھ، یہ اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ کس طرح TOURISE صحیح وقت پر صحیح لوگوں کو ساتھ لاتا ہے تاکہ ایسے نتائج حاصل کیے جا سکیں جو دنیا کے سفر کرنے، جڑنے اور بڑھنے کے طریقے کو نئی شکل دیں گے۔
انٹر نیشنل
منیٰ کی کیمپوں میں سعودی معلم کی خدمات میں زبردست کمی
ہندوستانی پرائیویٹ عازمین حج کو کئی طرح کی دشواریوں کاسامنا
حکومت ہند اورسعودی حکومت سے کمی دور کرنے کامطالبہ
(پی این این )
مکہ :اس سال حج کے سفر پہ گئے ہوئے تقریباً70 فیصد عازمین حج کو حج کے موقع پہ منیٰ کے خیمہ میں ’ سعودی معلم‘ کے ذریعے فراہم کی جانے والی خدمات میں بڑی کمی دیکھی گئی ہے۔حاجیوں کی شکایت ہے کہ ’سودی معلم ‘ کا کوئی بھی کارکنان خیمے کے اس پاس نہیں دکھ رہا ہے اور نہ ہی معلم خود بھی یہاں پہ موجود ہے۔
سعودی حکومت حج کے موقع پہ منیٰ مزدلفہ اور عرفات کے لیے ہندوستان کے پرائیویٹ حج آپریٹر سے حج کے نسوخ پورٹل کے ذریعے معلم کی فیس ان لائن سبھی حج آپریٹر سے جمع کروا لیتی ہے۔ معلم کا انتخاب سعودی وزارت حج خود کرتی ہے۔ اس میں کسی بھی پرائیویٹ آپریٹر کا کہیں بھی دخل نہیں ہوتا ہے،لہٰذا حج کےپانچ دنوںکا انتظامات اور مینجمنٹ ٹوٹل سعودی منسٹری آف حج کے ذریعہ منتخب کیے گئے معلم پر دارومدار رہنا پڑتا ہے۔
پرائیویٹ حج پہ گئے ہوئے عازمین حج کہ ان پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے ہندوستان کے سبھی پرائیویٹ آپریٹر ( دہلی، ممبئی، حیدرآباد ،لکھنو ،چنئی اور گجرات) نے حکومت ہندوستان اور حکومت سعودی عرب کے منسٹری آف حج سے یہ گزارش کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس طرح کی کمی اور اندیکھی کو فوری دور کیا جائے تاکہ آنے والے وقت میں سبھی پرائیویٹ عازمین حج کو پوری خدمات دستیاب ہو۔ اس بار ہندوستان سے پرائیویٹ ٹور آپریٹر کے ذریعے 52,508 عازمین حج کو حج بیت اللہ کے لیے بھیجا گیا ہے۔
افسوسناک امر تو یہ ہےکہ ہندوستانی عازمین خواہ وہ پرائیویٹ آپریٹر کے ذریعہ ہی حج کیلئے کیوں نہیں گیاہو ۔قونصلیٹ جدہ کا فریضہ ہے کہ وہ ان کی مشکلات کو بھی دورکرنے کی کوشش کرے مگر پرائیویٹ عازمین کاکوئی پرسان حال نہیں ہے ۔
انٹر نیشنل
ایمان افروز فضاؤں میں حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ بحسن خوبی ادا
(ایجنسیاں)
مکہ مکرمہ:ارض مقدس میں 1لاکھ 75 ہزارہندوستانی عازمین حج سمیت 21لاکھ عازمین نے حج کا رکن اعظم ادا کیا۔ ذی الحجہ کی نویں تاریخ کو ہزاروں افراد نےظہر اور عصر کی نماز مسجد نمرہ میں ادا کرنے کی سعادت حاصل کی۔ عازمین حج مسجد نمرہ میں عبادات کے ساتھ عرفات کے میدان میں خطبہ حج سے بھی فیضیاب ہوئے۔
خطبہ اورعرفہ کے دن ظہر اور عصر کی نمازیں براہ راست سیٹ لائٹ کے ذریعہ نشر کی گئیں۔خطبہ حج کا ترجمہ 35زبانوں میں نشر کیا گیا۔ خطبہ حج کے بعد حجاج نے نماز ظہر اور عصر کی قصر ادا کی، اور غروب آفتاب ہوتے ہی وہ مزدلفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ جہاں انھوں نے نماز مغرب اور عشا کی قصر ادا کی۔ حجاج نے سورج غروب ہونے تک خشوع وخضوع کے ساتھ عبادت کی۔ اور حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ بحسن خوبی ادا کیا۔ اس دوران حجاج کرام میدان عرفات میں موجود رہے، جبل رحمت پر قیام کیا۔جہاں حضوراکرمؐ نے اپنا آخری خطبہ دیا تھا۔
دعا مانگنے اور عبادات کے بعد حجاج غروب آفتاب سے قبل میدان عرفات سے مزدلفہ پہنچے وہاں شب گزاری کی، اور واپس منیٰ پہنچے۔ غورطلب ہے کہ مغرب سے پہلے میدان عرفات چھوڑنے کا حکم ہے۔ جمعہ کو منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد رکن حج کی ادائیگی کریں گے، اور قربانی کریں گے۔ قربانی کے بعد حجاج احرام اتاریں گے، اور بال منڈوا کر مسجد الحرام جائیں گے ، طواف کے بعد واپس منیٰ جاکر ایام تشریق گزاریں گے۔
سعودی وزارت صحت نے طبی خدمات فراہم کرنے کے لیے ہنگامی مراکز فعال کر رکھے ہیں جہاں ہیٹ اسٹروک یا تھکن سے متاثرہ حجاج کو فوری امداد دی جا رہی ہے۔ جبلِ رحمت کے قریب قائم اسپتال اور درجنوں ایمبولینس پوائنٹس ہمہ وقت الرٹ پر ہیں۔ان تمام انتظامات کے باوجود گرمی کی شدت کی وجہ سے انتظامیہ نے حجاج کرام کو ہدایت دی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نہ نکلیں، سایہ دار علاقوں میں رہیں، پانی کا استعمال جاری رکھیں اور اپنے ساتھ موجود سمارٹ ایپلیکیشنز سے رہنمائی لیتے رہیں۔واضح ہوکہ درجہ حرارت 47ڈگری سے تجاوز کرچکاہے ۔
انٹر نیشنل
لاکھوں عازمین پہنچے منیٰ،مناسک حج جاری
(ایجنسیاں)
منیٰ :مناسک حج کا آج سے آغاز ہو چکا ہے۔ لبیک الہم لبیک کی صداؤں کے ساتھ پوری دنیا سے آئےعازمین حج کے مناسک اداکررہے ہیں۔وہ آج میدان عرفات میں حج کے رکن اعظم کی ادائیگی کریں گے ۔عازمین کی سہولت کیلئے سعودی حکومت کی جانب سے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اطلاع کے مطابق 180 ممالک کے تقریبا ً21لاکھ عازمین حج کی ادائیگی کے لئے ارض مقدس پہنچے ہیں جس میں ایک لاکھ 75ہزار ہندوستانی عازمین بھی شامل ہیں۔جبکہ4 لاکھ مقامی عازمین بھی اس سال فریضہ حج اداکررہے ہیں۔
حج انتظامات کو بہتر بنانے اور مسلسل لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے 40 مختلف حکومتی ادارے اور 3لاکھ افسران و اہلکار فرائض کے انجام دہی میں مصروف ہیں۔ وزیر حج توفیق ال رابعیہ نےبتایا کہ حجاج کے لیے 50 ہزار اسکوائر میٹر کے علاقے کو شیڈز لگا کر گرمی سے بچانے کی کوشش کی گئی ہے ، میڈیکل اسٹاف کی بڑی تعداد میں موجودگی کے ساتھ ساتھ دوائیوں کی بروقت دستیابی کو بھی یقینی بنانے کیلئے اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ 500کولنگ یونٹس بھی قائم کر دیئے گئے ہیں۔زائرین کی بڑی تعداد یہاں موجود ہے تو اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو نقل و حرکت کو دیکھنے کے لیے ڈرونز اور جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا گیا ہے ۔
منیٰ میں خیموں کا اپ گریڈ شدہ انفراسٹرکچر 25 لاکھ مربع میٹر پر محیط ہے، جسے سخت ترین حفاظتی معیارات کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہاں 26 لاکھ سے زائد حجاج کی گنجائش موجود ہے۔ہر سال منیٰ صرف ایک میزبانی کی جگہ ہی نہیں رہتا ۔
غورطلب ہے کہ حج کا رکن اعظم وقوف عرفات آج ہوگا۔ عازمین میدان عرفات میں مسجد نمرہ میں امام صاحب سے خطبہ حج سنیں گے اور نمازِ ظہر اور عصر بیک وقت ایک اذان اورالگ الگ اقامت سے ادا کریں گے۔ وہ غروب آفتاب تک میدان عرفات میں وقوف کریں گے۔ اس کے بعد وہ مزدلفہ روانہ ہوجائیں گے اور وہاں پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک وقت میں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ باجماعت یا الگ الگ ادا کریں گے۔
حجاج مزدلفہ میں رات کھلے آسمان تلے گذارتے ہیں ۔حجاج کرام اتوار 10ذی الحجہ کو نمازِ فجر کی ادا کرنے کے بعد سورج طلوع ہونے تک مناجات کریں گےاوردعائیں مانگیں گے ۔ اس عمل کے بعد حجاج کرام عقبہ جمرہ کو کنکریاں مارنے کیلئے منیٰ واپس آجائیں گے اور منیٰ میں حرم کی جانب واقع جمرات کمپلیکس میں صرف بڑے جمرہ یعنی بڑے شیطان کو7 عدد کنکریاں ماریں گے۔
واضح ہوکہ رمی جمرات کے بعد قربانی کا عمل ہوتا ہے اور قربانی مکمل ہونے کے بعد حجاج کرام حلق یا قصر کروا کر حالت احرام سے باہر آ جاتے ہیں۔ حج کا آخری فرض طوافِ زیارت ہے ۔ حرم پہنچ کر کعبۃ اللہ کا طواف زیارت کرتے ہیں۔پھر سعی کے بعد حجاج کرام واپس منیٰ آ جاتے ہیں اوررات منیٰ میں قیام کرتے ہیں ۔ اگلے دو دن یعنی 11 اور 12 ذی الحجہ کو زوال کے بعد تینوں جمرات کو 7، 7 کنکریاں ماری جاتی ہیں ۔ پھر 12یا 13 ذی الحجہ کی رمی کے بعد اپنی رہائش گاہوں کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار6 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
دلی این سی آر9 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
