دیش
رام مندر چوری معاملہ:2ملزمین کے گھروں پر بلڈوزر ایکشن کی تیاری
ایودھیا:اترپردیش سرکار کافی دبائو میں ہے۔ رام مندر چوری معاملے میں دو ملزمین کے گھروں پر بلڈوزر ایکشن کی تیاری ہورہی ہے۔ لیکن چمپت رائے اور انل مشرا جیسے بڑے لوگوں پر مقدمہ درج نہیں ہونے کے خلاف ایودھیا کے وکلا کے پرزور مظاہرہ کیا ہے۔
ایودھیا کے رام مندرمیں چڑھاوا کی مبینہ چوری کے ملزم لوکش مشرا کے زیرِتعمیرمکان کے خلاف بھی کارروائی ہوسکتی ہے۔ بدھ کے روزایودھیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے افسران نے تعمیراتی مقام کا معائنہ کیا۔ ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا کہ تعمیرپوری زمین پر کی گئی ہے اور عمارت کے لیے مقررہ تعمیراتی حدود (بلڈنگ کوریج) کی مکمل خلاف ورزی کی گئی ہے۔ ملزم کے ایک پڑوسی کے مطابق افسران نے مکان کی پیمائش کی، سروے کیا اورواپس چلے گئے۔
دوسری جانب، پولیس نے بدھ (یکم جولائی، 2026) کے روزلوکش مشرا کے پڑوسی راج کمارپانڈے سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ راج کماراسی محلے، شہادت گنج میں رہتے ہیں، جہاں لوکش مشرا کا نیا مکان زیرِ تعمیرہے۔ پولیس نے ان سے دریافت کیا کہ ان کی لوکش مشرا سے کب اورکیسے جان پہچان ہوئی، وہ اسے کتنا جانتے تھے، دونوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت ہوتی تھی، زمین کب اورکتنی قیمت میں خریدی گئی، تعمیراتی کام کب شروع ہوا، پلاٹ پرکون کون آتا تھا اورزمین کس شخص سے خریدی گئی۔ ان تمام معاملات سے متعلق پولیس نے تفصیلی معلومات حاصل کیں۔
تحقیقات کے مطابق، ماہانہ صرف 18 ہزارروپئے تنخواہ حاصل کرنے والا لوکش مشرا تقریباً ایک ہزارمربع فٹ کے پلاٹ پردومنزلہ عالی شان مکان تعمیرکرا رہا تھا۔ گراؤنڈ فلورپرتین کمرے بنائے جا رہے تھے اورہرکمرے کے ساتھ منسلک غسل خانہ (اٹیچڈ واش روم) موجود ہے۔ دوسری منزل پربھی تین کمرے تعمیرکئے گئے تھے، جن میں ایک لگژری سوئٹ طرزکا کمرہ شامل تھا، جس میں الگ رہائشی حصہ (لونگ ایریا)، الگ خواب گاہ اورمنسلک غسل خانہ بنایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ تیسری منزل کی تعمیرکی بھی تیاری مکمل کر لی گئی تھی اورستونوں کی ڈھلائی کے لیے سریے کا فریم ورک بھی تیارہوچکا تھا۔
ایودھیا میں ایک کمرے کے مکان میں رہنے والے اور ماہانہ صرف 18 ہزارروپئے تنخواہ پانے والے لوکش مشرا کا یہ عالیشان زیرِتعمیرمکان نے ہرکسی کوحیران کردیا ہے۔ گزشتہ نومبرمیں پلاٹ کی رجسٹری کرائی گئی، فروری میں تعمیراتی کام شروع ہوا اورمئی تک تقریباً دومنزلوں کی تعمیرمکمل ہوچکی تھی۔ ذرائع کے مطابق، پلاٹ کی اصل قیمت تقریباً 25 لاکھ روپئے بتائی جا رہی ہے، تاہم سرکاری دستاویزات میں اس کی قیمت صرف 8 لاکھ روپئے درج کی گئی ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ یہ زمین لوکش مشرا نے اپنی اہلیہ سپریا کے نام پرخریدی تھی۔
Bihar
چڑھاوا چوری کے خلاف پپویادو کاانوکھا احتجاج،ایم پی نے سادھو سنتوں کوکیا جمع، وزیر اعظم کی رہائش گاہ جانے سے روکے جانے پر سڑک پر لیٹ گئے پپویادو
(پی این این)
پٹنہ؍نئی دہلی:ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوے میں مبینہ بے ضابطگی کے معاملے پر بہار کے پورنیہ سے رکنِ پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپو یادو پیر کو سادھو سنتوں کے احتجاج میں شامل ہوئے۔ ملک بھر سے سیکڑوں کی تعداد میں سادھو سنت منڈی ہاؤس پہنچے تھے، جن کی حمایت میں پپو یادو بھی وہاں پہنچے۔
سادھو سنت چڑھاوے کی مبینہ چوری کے معاملے کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی کے نام ایک یادداشت پیش کرنا چاہتے تھے۔ جب دہلی پولیس نے انہیں ایک مقام پر بھیڑ جمع کرنے سے منع کیا تو وہ سڑک پر لیٹ گئے۔ احتجاج کے دوران ان کے ہاتھوں میں تختیاں بھی نظر آئیں۔پپو یادو نے سوشل میڈیا پر احتجاج کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی نشانہ بنایا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تصاویر کے ساتھ پپو یادو نے لکھا:’’چندہ چور گدی چھوڑ، رام جی کے لٹیرے کرسی چھوڑو!رام مخالف کال نیمیوں کے سرپرست وزیر اعظم کواصلی سادھو سنتوں سے خوف کیوں ستا رہا ہے؟‘‘’’جب جب مودی ڈرتے ہیں، پولیس کو آگے کرتے ہیں‘‘ — اس نعرے کو ایک بار پھر وزیر اعظم صاحب نے سچ ثابت کر دیا۔ سادھو سنتوں کے خلاف بھی پولیس بھیج دی!مودی جی، آگے آئیے، یادداشت وصول کیجیے!
پیر کے روز ایودھیا کے رام مندر میں رام دھن کے مبینہ غبن کے معاملے کی سی بی آئی کی نگرانی میں جانچ کرانے کے مطالبے کو لے کر ملک کے مختلف علاقوں سے تقریباً 500 سادھو سنت دہلی کے منڈی ہاؤس میں جمع ہوئے۔
بتایا جا رہا ہے کہ ہنومان گڑھی سے بھی کچھ سادھو اس احتجاج میں پہنچے تھے۔ کئی مہنت، مہامنڈلیشور اور دیگر سادھو سنت بھی اس میں موجود تھے۔سادھو سنت وزیر اعظم کو یادداشت پیش کرنے کے لیے جلوس کی شکل میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی جانب مارچ کرنے والے تھے۔
لوگوں کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے دہلی پولیس کی ٹیم بھی موقع پر پہنچ گئی۔ سکیورٹی وجوہات کے پیشِ نظر بی این ایس ایس کی دفعہ 163 نافذ ہونے کی وجہ سے جب پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے منع کیا تو کئی سادھو سنت زمین پر لیٹ گئے۔ پورنیہ کے رکنِ پارلیمنٹ پپو یادو بھی زمین پر لیٹ کر نعرے لگانے لگے۔’’جے شری رام‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے انہوں نے رام بھکتوں کے چڑھاوے میں مبینہ خرد برد کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے انہیں حراست میں لے کر دوسری سمت بھیج دیا۔
دیش
سسٹم کے چکرویومیں پھنسے ہوئے ہیں نوجوان
پریاگ راج:پارلیمنٹ میں حذب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے پریاگ راج میں چھاتروں کی گونج پروگرام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ہزار میں صرف 12 نوجوانوں کی مستقل نوکری ہے۔ ہندوستان کا نظام نوجوانوں کو چکرویو میں پھنسا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہندوستان کے پاس چالیس کروڑ نوجوان ہیں اور یہی نوجوان ملک کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ انھوں نے الزام لگایا کہ سسٹم نوجوانوں کو اپنے چنگل میں لے رہا ہے۔ خاندان والوں سے لاکھوں کروڑ روپے لئے جاتے ہیں۔ اور بدلے میں ایم اے ، بی اے کی ڈگری ملتی ہے۔لیکن یہ سرٹیفکیٹ روزگار کی گارنٹی نہیں دیتا۔ راہل گاندھی کے ساتھ پرینکا گاندھی کی بیٹی ماریا واڈرا بھی آئی ہوئی ہیں۔ اس سے قبل راہل گاندھی ائیر پورٹ سے سیدھے سوراج بھون پہنچے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں ان کی دادی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کا جنم ہوا تھا اب یہ میوزیم ہے۔ یہ مقام جنگ آزادی کا مرکز رہا ہے۔ راہل گاندھی کے اس پروگرام میں یوپی کے 23 اضلاع کے طلبا آئے ہوئے تھے۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ پروگرام کے لئے دولاکھ سے زائد طلبا نے رجسٹریشن کرایا ہے۔ راہل گاندھی نے اس موقع پر نیٹ پیپر لیک ، امتحانات میں گڑ بڑی ، طلبا پر لاٹھی چارج جیسے ایشو کو اٹھایا۔ انھوں نے کہا کہ ریل بنانا اکیسویں صدی کا نشہ ہے۔
اس موقع پر راہل گاندھی نے کہا کہ اے آئی آپ کے ڈاٹا کے دم پر بنتا ہے ،بیسویں صدی میں پٹرول طاقت تھا۔ لیکن اکیسویں صدی میں اے آئی طاقت ہے۔ یہ ڈاٹا آپ کا اور ملک کا ہے۔
دیش
مدھیہ پردیش ،گجرات، یوپی ،بہار سمیت 16ریاستوں میں بھاری بارش
بھوپال/جے پور/پٹنہ:ملک بھر میں زبردست بارش کا دور جاری ہے۔ مدھیہ پردیش گجرات، اترپردیش، بہار سمیت 16 ریاستوں میں زبردست بارش ہورہی ہے۔ بستی مہاراشٹر، مراٹھاواڑہ، بیدر اور تلنگانہ میں ریڈ الرٹ جاری کردیا گیاہے۔ ریڈ الرٹ کا مطلب ہے کہ 24 گھنٹے میں حد سے زیادہ بارش۔
دریں اثنا اتراکھنڈ میں ردپریا کے گوری کنڈ کے پاس لینڈ سلائڈنگ سے کیدار ناتھ یاترا تیسرے دن بھی بند رہی ۔ اس دوران کئی گھروں میں پتھروں کا ملبہ گھس گیا۔ اور نصف درجن گاڑیوں کے بہنے کی خبریں ہیں۔ کانوڑیوں کو بچانے کے لئے ایس ڈی آر ایف ٹیم لگی ہوئی ہے۔ آسام میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد اب سو سے پار کرگئی ہے۔ پانچ لاکھ سے زائد آبادی والے علاقے زیر آب ہیں۔ وہاں کے لوگ دوسرے محفوظ علاقوں میں منتقل کردیئے گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ایک اگست تک آسام اور دوسری ریاستوں میں بھاری بارش اور بجلی گرنے کے امکانات ہیں۔آسام میں تنسکویا، بھیما جی ، لکھیم پور، شیو ساگر، جورہارٹ اور گولہ گھاٹ جیسے سرحدی اضلاع کو الرٹ کردیا گیا ہے۔
گجرات میں دو دنوں کی بارش نے عام زندگی مفلوج کردی ہے یہاں بھی ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ مدھیہ پردیش میں بھی بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ وہاں کے 17 اضلع متاثر ہیں۔ یوپی ، بہار کے کئی اضلاع میں بھی انتظامیہ الرٹ ہے۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
