تازہ ترین
پیپر لیک روکنے کے لیےسمراٹ حکومت کا بڑا فیصلہ، بہار کے29اضلاع میں قائم کئے جائیں گے امتحانی مراکز اور اسٹرونگ روماے آئی ایس اے کا جے پی یونیورسٹی میں بدنظمی کے خلاف احتجاج’’عظمتِ رفتہ کی جستجو‘‘علم و تاریخ کے بھولے ہوئے چراغوں کی بازیافت: فضل رحمٰن رحمانیسہارنپورمیں مسجد کا انہدامی معاملہ تشویشناک،آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی ’گاندھی-امبیڈکر سماد یاترا‘ چوتھے دن پہنچی بجنوردارالعلوم فاروقیہ میں موطا امام مالک کے پہلے سبق کی مجلس، مولانا مجیب اللہ گونڈوی نے درس کاکرایاباوقار آغازجانی فوسٹر وسیع تخلیقی کینوس کے ایک معتبرشاعر : پروفیسر گلریز،اے ایم یو میں’’در ودیوار سے پہلے‘‘کی تقریب رسم اجرا کا انعقادکینڈا میں بیف بنانے سے روکنے پر ہندو عورت گرفتار،جبراً گھر میں گھسنے ، بیف پھینکنے کا کرایہ دار نے لگایا الزاماتراکھنڈ:بہہ گیا 170فٹ لمبا برج، عام زندگی مفلوج،چھتیس گڑھ کے کئی کالج طلبا ندی میں لاپتہ،بہار میں 47 لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر
بہار

جے ڈی یو لیڈرساجد عالم کا ڈومیسائل پالیسی نافذ کرنے کا مطالبہ

(پی این این)
چھپرہ :جے ڈی یو کے سابق ریاستی سکریٹری ساجد عالم سونو نے کارگذار قومی صدر سنجے جھا اور مرکزی وزیر راجیو رنجن سنگھ سے چھپرہ آمد پر ملاقات کر ایک درخواست پیش کیا۔جس میں بہار میں سرکاری ملازمتوں بالخصوص اساتذہ کی بھرتی میں ڈومیسائل پالیسی کے نفاذ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
درخواست میں انہوں نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی کوششوں سے بہار کی شرح خواندگی میں اضافہ ہوا ہے۔لیکن تعلیم یافتہ نوجوانوں کی اکثریت روزگار کی تلاش میں بہار سے ہجرت کرنے پر مجبور ہے۔پچھلے دو سالوں میں دوسری ریاستوں خاص طور پر اتر پردیش کے امیدواروں نے کسی نہ کسی طرح BPSC اساتذہ کی بھرتی میں 10 فیصد سے زیادہ سیٹوں پر قبضہ کر لیا ہے۔تمام قابلیت ہونے کے باوجود بہار کے استاد امیدوار بے روزگار ہیں اور ادھر ادھر بھٹک رہے ہیں۔ہر روز دوسری ریاستوں میں کام کرنے والے بہاری مزدوروں اور امیدواروں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔دھونس اور مار پیٹ کے واقعات سوشل میڈیا اور اخبارات میں دیکھنے اور سننے کو مل رہے ہیں۔
جے ڈی یو کے حق میں مہم چلانے کے لیے اپنے دوروں کے دوران جب میں نے گاؤں کے طلبہ،نوجوانوں،دانشوروں،بزرگوں اور خواتین سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ ہمارے گاؤں کے بچے تعلیم حاصل کرنے کے بعد گھر میں بے روزگار بیٹھے ہیں اور پیسہ کمانے کے لیے باہر جانے پر مجبور ہیں۔دوسری طرف ہماری ریاست کے اسکولوں میں دوسری ریاستوں کے لوگ پڑھا رہے ہیں اور دوسرے سرکاری دفاتر میں کام کرکے روزی کما رہے ہیں۔بہار کے عام لوگوں کا ایک ہی نکتہ مطالبہ ہے کہ بہار کی نوکریوں میں ڈومیسائل پالیسی کو لاگو کیا جائے۔خاص طور پر اساتذہ کی بھرتی میں تاکہ بہار کی نوکریوں پر پہلا حق بہاری نوجوانوں اور طلباء کا ہو۔سرکاری ملازمتوں کی تیاری کرنے والے امیدوار ڈومیسائل پالیسی کے حق میں پٹنہ میں مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔