Bihar
جامعہ خلفاء راشدین،پورنیہ میں’’النادی العربی‘‘ کے تعلیمی پروگرام کا انعقاد
(پی این این)
پورنیہ:جامعہ خلفاء راشدین کے زیرِ اہتمام طلباء کی علمی، فکری اور لسانی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے’’النادی العربی‘‘ کا شاندار تعلیمی پروگرام منعقد کیا گیا۔ یہ دو روزہ پروگرام تین مختلف نشستوں پر مشتمل تھا، جس میں جامعہ کے طلباء نے عربی زبان و ادب پر اپنی مضبوط گرفت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فصیح و بلیغ تقاریر اور بہترین مکالمات پیش کر کے حاضرین کو ششدر کر دیا۔
اس باوقار تعلیمی تقریب کی صدارت جامعہ کے مہتمم حضرت مولانا کفیل الدین ندوی نے فرمائی، جبکہ مہمانِ خصوصی کے طور پر معروف علمی و دینی شخصیت حضرت مفتی عمران احمد قاسمی صاحب (سابق شیخ الحدیث پانولی، گجرات) رونقِ اسٹیج رہے۔ طلباء کے مابین منعقدہ تعلیمی مقابلوں میں جانچ اور بہترین پرکھ کے لیے تین معزز منصفین (ججز) کا پینل مقرر تھا، جس میں حکمِ اول کے فرائض مفتی خالد حبیب صاحب ندوی (استاذ جامعہ صدیقیہ ڈگروا)، حکمِ دوم کے فرائض مفتی جاوید اشرف صاحب قاسمی اور حکمِ ثالث کے فرائض مولانا نیاز احمد صاحب ندوی نے انجام دیئے۔ علاوہ ازیں نظامت النادی العربی کے مربی،معروف مقرر اور جامعہ کے ا ستاذ حدیث وفقہ مفتی حسنین اشاعتی نے فرمائی۔
ججز کے اس پینل نے طلباء کے تلفظ، روانی، مواد اور لب و لہجے کا باریک بینی سے جائزہ لے کر نتائج مرتب کیے۔پروگرام کے دوران جامعہ کے مختلف درجات کے طلبا ء نے معاصر اور دینی موضوعات پر عربی زبان میں انتہائی پر اعتماد انداز میں تقاریر کیں۔
اس دو روزہ پروگرام کی مختلف نشستوں میں تعلیمی مقابلوں کے نتائج کے تحت طبقہ سفلی (ابتدائی درجات) میں درجہ اعدادیہ کے محمد شاہجہاں نے اول، محمد فیضان نے دوم، جبکہ تمہید قمر نے سوم پوزیشن حاصل کی۔طبقہ وسطیٰ (متوسط درجات) میں عربی دوم کے طالب علم ابوبکر نے اول، عربی سوم کے عبد القادر نے دوم، جبکہ عربی دوم کے ہی شاداب اقبال نے سوم پوزیشن حاصل کی۔طبقہ علیا (اعلیٰ درجات) کے سخت مقابلے میں عالیہ ثانیہ کے طالب علم حماد اکرم نے اول، درجہ خامسہ کے محمود عالم نے دوم، جبکہ عالیہ ثانیہ کے ہی شبلی نعمانی نے سوم پوزیشن حاصل کر کے نمایاں کامیابی حاصل کی۔تقریب میں دیگر دینی و علمی اداروں سے وابستہ شریک ذمہ داران اور معزز شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور طلباء کے پراعتماد انداز اور فصیح عربی گفتگو کی خوب ستائش کی۔ مہمانوں نے جامعہ خلفاء راشدین کے اساتذہ کرام کی مخلصانہ تربیت اور اراکینِ عاملہ (انتظامیہ) کے بہترین انتظامات اور اعلیٰ تعلیمی حکمتِ عملی کی زبردست پذیرائی کی اور انہیں مبارکباد پیش کی۔
پروگرام کے اختتام پرمہمان خصوصی حضرت مفتی عمران احمد قاسمی نے اپنے خطاب میں طلباء کو مبارکباد دیتے ہوئے فرمایا کہ عربی زبان قرآن وحدیث کی زبان ہے اور موجودہ دور میں اس پر مہارت حاصل کرنا دعوت دین کے لیے انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے جامعہ کی تعلیمی ترقی پراپنی دلی مسرت کا اظہار کیا۔تقریب کا باقاعدہ اختتام مہمانِ خصوصی حضرت مفتی عمران احمد قاسمی صاحب کی رقت آمیز اور خصوصی دعا پر ہوا، جس میں ملک و ملت کی ترقی، امن و امان اور جامعہ کی مزید تعلیمی و تعمیری ترقیاں مانگی گئیں۔
Bihar
پولیس کی من مانی پرروک لگانا ضروری،ریاست میں امن و قانون کی صورتحال ہوچکی ہے انتہائی بدحال،ایس پی کیخلاف شکایت لے کر ڈی جی پی سے ملے تیجسوی یادو، اے کے-47 سے فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ
(پی این این)
پٹنہ:بہار کے قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے جمعہ کے روز ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) ونئے کمار سے ملاقات کی۔ اس دوران انہوں نے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) سمیت دیگر پولیس افسران کے خلاف شکایت پیش کی۔
تیجسوی یادو نے طلبہ تحریک کے دوران اے کے-47 جیسے مہلک ہتھیاروں سے فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی متعلقہ ضلع کے ایس پی سمیت دیگر افسران کے خلاف بھی کارروائی کرنے کی درخواست کی۔
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے کارگزار صدر تیجسوی یادو نے اس معاملے میں ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) ونئے کمار کو ایک تحریری عرضداشت بھی پیش کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپر لیک کے خلاف طلبہ کے جمہوری احتجاج پر بہار پولیس نے فائرنگ کی اور نہایت بے رحمانہ لاٹھی چارج کیا۔ڈی جی پی ونئے کمار سے ملاقات کے موقع پر تیجسوی یادو کے ہمراہ آر جے ڈی کے سینئر رہنما عبدالباری صدیقی، منگنی لال منڈل، اُدے نارائن چودھری اور قانون ساز کونسل کے رکن (ایم ایل سی) سنیل سنگھ سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
تیجسوی یادو نے خبردار کیا کہ اگر نامزد پولیس اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تو اپوزیشن پورے بہار میں ریاست گیر تحریک شروع کرے گی۔ انہوں نے ریاست میں قانون و نظم کی بحالی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
تیجسوی یادو نے جمعہ کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے درج ذیل پانچ مطالبات پر مشتمل ایک یادداشت ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کو پیش کی ہے،جن میںبہار پولیس نے طلبہ پر اے کے-47 سے گولیاں کیوں چلائیں؟بہار پولیس نے بچوں پر ’’شوٹ ٹو کِل‘‘ کی ذہنیت کے ساتھ گولیاں برسائیں، جو نہایت افسوسناک اور جمہوری اقدار کے منافی ہے۔بہار پولیس نے ہجوم پر قابو پانے کے لیے مقررہ گریڈیڈ ریسپانس ایکشن پلان (مرحلہ وار ردِعمل کے ضابطۂ کار) پر عمل کیوں نہیں کیا؟فائرنگ کا حکم دینے والے سینئر پولیس افسران کے خلاف اب تک کوئی ٹھوس کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟طلبہ تحریک کے دوران پولیس کی مبینہ بربریت اور کارروائی کی عدالتی نگرانی میں جانچ کرائی جائے، وغیرہ مطالبات شامل ہیں۔
قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں امن و قانون کی صورتحال انتہائی ابتر ہو چکی ہے اور پولیس انتظامیہ من مانی پر اتر آیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس کی من مانی پر روک لگائی جائے اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی دوبارہ تکرار روکنے کے لیے ضروری ہدایات جاری کی جائیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ طلبہ تحریک کے دوران بہار بھر میں شدید احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ اس دوران احتجاج کرنے والے طلبہ و طالبات اور پولیس اہلکاروں کے درمیان متعدد مقامات پر جھڑپیں ہوئیں۔ کئی شہروں میں پتھراؤ اور لاٹھی چارج کے واقعات میں مظاہرین طلبہ زخمی ہوئے تھے۔
سیوان میں طلبہ تحریک نے پُرتشدد رخ اختیار کر لیا تھا۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ پولیس نے مظاہرین پر گولیاں چلائیں، جس کے نتیجے میں تین طلبہ زخمی ہو گئے تھے۔ بعد ازاں سیوان کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) پورن کمار جھا نے اے کے-47 سے فائرنگ کرنے والے کانسٹیبل ابھیشیک کمار کو معطل کر دیا تھا۔ ہاتھ میں اے کے-47 تھامے فائرنگ کرتے ایک پولیس اہلکار کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہوئی تھی۔
Bihar
این ڈی اے کے اپنے ہی رکن پارلیمنٹ نے کی بنگلہ دیش آبی معاہدے کی مخالفت
(پی این این)
پٹنہ؍نئی دہلی:بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان 1996 میں ہونے والے گنگا آبی معاہدے کی مدت رواں سال دسمبر میں ختم ہو رہی ہے۔ اس تناظر میں ایک پارلیمانی کمیٹی نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈھاکہ کے ساتھ مزید کسی تاخیر کے بغیر مذاکرات کا آغاز کرے اور اس معاہدے کی تجدید کو یقینی بنائے۔
دوسری جانب، مرکز میں بی جے پی کی اتحادی جماعت جنتا دل (یونائٹیڈ) (جے ڈی یو) کے قومی کارگزار صدر اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے جھا نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے معاہدے کی تجدید کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کر دی ہے۔ سنجے جھا نے کل راجیہ سبھا میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ 1996 کے فرخہ آبی تقسیم معاہدے کی تجدید نہ کی جائے۔جے ڈی یو کے رکنِ پارلیمنٹ نے کہا کہ کسی بھی نئے آبی انتظام کو حتمی شکل دینے سے قبل بہار کی طویل مدتی آبی سلامتی اور ترقیاتی ضروریات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔ راجیہ سبھا میں خصوصی تذکرے کے ذریعے یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے سنجے کمار جھا نے کہا کہ 1996 میں طے پانے والے فرخہ آبی معاہدے کی مدت رواں سال کے اختتام پر ختم ہونے والی ہے، اس لیے گنگا کے کنارے واقع ریاستوں، بالخصوص بہار، کی آبی ضروریات کا جامع سائنسی جائزہ لیے بغیر اس معاہدے کی تجدید نہیں کی جانی چاہیے۔انہوں نے استدلال پیش کیا کہ 1996 کے بعد سے بہار کی آبادی تقریباً دوگنی ہو چکی ہے، جس کے باعث پینے کے پانی، آبپاشی اور مقامی صنعتوں کے لیے پانی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
جے ڈی یو کے رکنِ پارلیمنٹ نے اسے’’قومی مفاد کا معاملہ‘‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے بہار کے مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔
سنجے جھا نے کہا کہ فرخہ بیراج کی تعمیر دریائے ہگلی میں مناسب آبی بہاؤ برقرار رکھنے اور کولکاتا بندرگاہ کی ضروریات پوری کرنے کے مقصد سے کی گئی تھی، لیکن بہار گزشتہ کئی دہائیوں سے دریائے گنگا کے پانی کی ناکافی دستیابی کے مسئلے سے دوچار ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی بہار کے متعدد اضلاع میں زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے، جس کے باعث پینے کے پانی اور آبپاشی دونوں کے لیے پانی کی شدید قلت پیدا ہو رہی ہے۔سنجے جھا نے کہا کہ بہار کی موجودہ اور مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دریائے گنگا کے پانی کی وافر دستیابی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2050 تک بہار کو اضافی دو ہزار کیوسک پانی کی ضرورت ہوگی۔
انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ موجودہ شکل میں معاہدے کی تجدید نہ کی جائے، بلکہ نئی آبی حکمتِ عملی مرتب کرنے سے قبل تمام متعلقہ ریاستوں کی ضروریات کا سائنسی بنیادوں پر جامع جائزہ لیا جائے۔انہوں نے کہا، “جب تک بہار کے مفادات کا مکمل تحفظ یقینی نہیں بنایا جاتا، اس معاہدے کی تجدید ریاست کے طویل مدتی مفاد میں نہیں ہوگی۔”
واضح رہے کہ گنگا آبی معاہدہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان دریائے گنگا کے پانی کی تقسیم سے متعلق ایک اہم سمجھوتہ ہے۔ اس پر 12 دسمبر 1996 کو نئی دہلی میں اُس وقت کے بھارتی وزیرِاعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا اور بنگلہ دیش کی اُس وقت کی وزیرِاعظم شیخ حسینہ نے دستخط کیے تھے۔ یہ معاہدہ 30 برس کے لیے کیا گیا تھا، جس کی مدت رواں سال دسمبر 2026 میں مکمل ہو رہی ہے۔اس معاہدے کے مطابق گرمی کے موسم میں دریائے گنگا کے پانی کی تقسیم کی جاتی ہے۔ معاہدے کی شرائط کے تحت اگر فرخہ بیراج پر پانی کا بہاؤ 70 ہزار کیوسک سے زیادہ ہو تو بھارت اور بنگلہ دیش کو طے شدہ فارمولے کے مطابق پانی دیا جاتا ہے، جس میں بھارت کو تقریباً 35 ہزار سے 40 ہزار کیوسک پانی ملتا ہے۔ تاہم اگر پانی کا بہاؤ 70 ہزار کیوسک سے کم ہو جائے تو دونوں ممالک دستیاب پانی کو مساوی طور پر، یعنی 50-50 فیصد کے تناسب سے تقسیم کرتے ہیں۔
Bihar
جمہوری حقوق کا استحصال ناقابل قبول، اساتذہ کی آواز دبانے کی کوشش کی سخت مذمت:بنشی دھربرجواسی
(پی این این)
مظفرپور: بہار اسٹیٹ ٹیچرس ایسوسی ایشن، ضلع اکائی مظفرپور، بہار قانون ساز کونسل کے معزز رکن بنشی دھر برجواسی کی جانب سے اساتذہ کے خلاف شکایات درج کرانے اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ایسوسی ایشن کا ماننا ہے کہ کسی بھی استاد کو تعلیمی نظام، اساتذہ کے مفادات یا عوامی مفاد سے متعلق مسائل پر جمہوری اور آئینی طریقے سے اپنی رائے پیش کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ اگر کسی کو کسی استاد کی رائے سے اختلاف ہے تو اس کا جواب حقائق، دلائل اور مکالمے کے ذریعے دیا جانا چاہیے، نہ کہ انتظامی شکایات کے ذریعے انہیں خوف زدہ کرنے یا خاموش کرانے کی کوشش کی جائے۔
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں متعدد اساتذہ نے شکایت کی ہے کہ ان پر مختلف ذرائع سے دباؤ ڈال کر ان کے خلاف انتظامی کارروائی کرانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان تمام شکایات کی غیر جانبدارانہ اور شفاف جانچ ہونی چاہیے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کہیں انتظامی نظام کا استعمال تنقیدی آوازوں کو دبانے کے لیے تو نہیں کیا جا رہا۔بہار اسٹیٹ ٹیچرس ایسوسی ایشن ضلع انتظامیہ اور محکمۂ تعلیم سے مطالبہ کرتی ہے کہ کسی بھی شکایت پر کارروائی سے قبل غیر جانبدارانہ، شفاف اور حقائق پر مبنی جانچ کو یقینی بنایا جائے اور فطری انصاف (Natural Justice) کے اصولوں کی مکمل پاسداری کی جائے۔
ایسوسی ایشن کے میڈیا انچارج وویک کمار نے کہا کہ اگر اساتذہ کی آواز دبانے کا سلسلہ جاری رہا تو تنظیم جلد ہی “پول کھول مہم” شروع کرے گی۔ اس مہم کے ذریعے عام اساتذہ کے سامنے ایسے تمام معاملات کو منظرِ عام پر لایا جائے گا جن میں اساتذہ نے اپنے خلاف غیر ضروری دباؤ، بے بنیاد شکایات یا کارروائی کی کوششوں کا الزام عائد کیا ہے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ یہ مہم صرف مصدقہ حقائق اور دستیاب سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر چلائی جائے گی۔بہار اسٹیٹ ٹیچرس ایسوسی ایشن نے دوٹوک انداز میں کہا کہ وہ ہر استاد کے وقار، آزادیٔ اظہار اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ہمیشہ جدوجہد کرتی رہے گی اور ضرورت پڑنے پر جمہوری اور قانونی طریقوں سے وسیع پیمانے پر تحریک بھی چلائے گی۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
