محاسبہ
بنے ہیں اہل ہوس، مدعی بھی منصف بھی
ملک کی جمہوریت کا چوتھا ستون میڈیا نے جس طرح اپنے فرائض اور حق گوئی سے منہ موڑا ہے اس سے ہندوستان کے اقدار اور سنسکار اور وکاس کا ایسا خسارہ ہوا ہے جس کی بھرپائی نہیں ہوسکتی، میڈیا جو کبھی ظالم کے خلاف اک صدائے احتجاج بن کر کھڑا ہوتا تھا جس کے دم سے سرکار بھی ہل جاتی تھی وہی میڈیا ظلم پر نہ صرف خموش ہے بلکہ ظالم قوتوں کا ہمنوا بن چکا ہے، سرکار سے سوال پوچھنے کے بجائے اس کی ہاں میں ہاں ملا رہا ہے نتیجہ یہ ہے کہ صرف میڈیا کی اس زہریلی روش سے ملک میں نفرت کی ایسی لہر چل پڑی ہے جو کب تھمے گی کچھ نہیں کہا جاسکتا، اور وقت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ایوان عدل جو کبھی انصاف کے مندر کہے جاتے تھے اب وہ بھی انصاف دینے میں تساہلی یا تاخیر سے کام لے رہے ہیں جس سے ظالم کا حوصلہ بڑ ھ رہا ہے۔ ملک میں ایک مخصوص طبقہ کے خلاف نفرت کی لہر بڑھتی ہی جارہی ہے عمر خالد ، شرجیل امام کو پانچ برسوں سے ضمانت عرضی التوا میں پڑی ہوئی ہے جس سے اقلیتی طبقہ میں ایک بددلی کا عالم ہے تو دہلی فساد میں زہریلی تقریر کرنے والے کپل شرما کو کلین چٹ دے دی گئی۔ یہ آج عدل وقانون کا عبرتناک منظرنامہ ہے حد تو یہ ہے کہ بے روزگاری سے پریشان نوجوانوں کو دلجوعی کے بجائے انھیں کاکروچ یا پیرا سائٹ سے تعبیر کرنے والی عدالت پر سے اب عوام کا اعتماد بھی متزلزل ہورہا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ راتوں رات ملک کے نئے ماحول کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کا وجود عمل میں آچکا ہے اور جس طرح دہلی میں جنتر منتر پر بے روزگار نوجوانوں اور طلبا نے صدائے احتجاج بلند کیا ہے وہ آنے والے دور میں حکومت وقت کے سامنے ایک چیلنج سے کم نہیں جس کے آگے میڈیا سے لیکر ملک کے آئینی ادارے بھی سرنگوں ہوچکے ہیں۔آج ملک کا دلسوز منظرنامہ یہ ہے کہ جس طرح گودی میڈیا ملک کی خبروں میں نفرت بھررہا ہے وکاس وترقی کے بجائے مذہبی جنون کا نقارہ بجارہا ہے تو دوسری طرف عدلیہ بھی حکومت کی جوابدہی طے کرنے اور فرقہ پرست قوتوں پر قدغن لگانے سے گریزاں ہے نتیجہ یہ ہے کہ ہندوستانی میڈیا دنیا میں 150ویں نمبر میں 145ویں نمبر پر ہے تو دوسری جانب ہندوستان کی عدلیہ پر بداعتمادی کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ دنوں لندن گئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ بلاشبہ سی جے آئی کی توہین ملک کی توہین کے مترادف ہے مگر سوال تو یہ ہے کہ ایسی نوبت کیوں آئی۔ سوال تو یہ ہے کہہ کیا عدل وقانون کے مندر بھی ایک مخصوص فکرونظر سے متاثر ہوچکا ہے ابھی گزشتہ دنوں پانچ نئے جج سپریم کورٹ میں لائے گئے ہیں مگر ان کی تقرری پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ اگر ان کے ماضی کو دیکھا جائے تو سبھی کسی نہ کسی طور پر حکومت وقت کے ہم نوا رہے ہیں کیا وہ سپریم کورٹ جاکر عدل وقانون کے سرپرست رہیں گے ، یہ بڑا سوال ہے۔
مگر ان تمام تر کشاکش کے باوجود امید کی کرنیں معدوم نہیں ہوئی ہیں عدلیہ کے بعض فیصلے آج بھی ہندوستانی اقدار وسنسکار کے تحفظ اور عدل وقانون کی برتری کی مثال بنے ہوئے ہیں اور آج کے عدالتی نظام پر بھی سوال کھڑا کررہے ہیں ، اسی سپریم کورٹ میں ایک جج نے UAPAقانون کو ملک کے وکاس کی راہ کے لئے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
گزشتہ دنوں مدراس ہائی کورٹ نے عدالتی نظام پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے جو فیصلہ دیا ہے وہ ایک نظیر ہے جس میں دس برسوں سے التوا میں پڑے ایک اہم مقدمے میں ڈی ایم کے کے ایک ہارے ہوئے امیدوار کے حق میں فیصلہ دیا ہے، ڈی ایم کے امیدوار جو صرف 151ووٹوں سے اے ڈی آئی ایم کے امیدوار سے ہار گیا تھا تب سے یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں تھا جو بعد مدراس ہائی کورٹ منتقل ہوگیا تھا جس میں یہ ثابت ہوگیا کہ الیکشن کمیشن کی وجہ سے ہارا ہوا امیدوار فاتح قرار دیا گیا ۔ حالانکہ جیتا ہوا امیدوار مدراس اسمبلی میں اپنی کارکردگی کی مدت بھی پوری کرچکا ہے اور اب پنشن بھی لے رہا ہے۔ عدالت نے تساہلی کے لئے نظام عدل کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اب حکم دیا ہے کہ ایم ایل اے فہرست میں ڈی ایم کے امیدوار کا نام درج کیا جائے اور ایک سابق ایم ایل اے کی جو سہولیات ہیں وہ دی جائیں اور آئی ڈی ایم کے سابق ممبر اسمبلی کا پنشن روک کر ڈی ایم کے امیدوار کو جاری کیا جائے۔
ادھر یوپی میں بلڈوزر کارروائی پر بھی سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کیا اور اسے عدل وقانون کے منافی قرار دیا۔ مگر ان تمام برہمی کے باوجود یوپی میں ایک خاص طبقہ کے خلاف فتنہ سازی اور بلڈوزر کارروائی کا دور دورہ ہے، مدرسے ، درگاہیں، قبرستان ، مساجد سب بلڈوزر کے نشانے پر ہیں۔ چنانچہ الہ آباد ہائی کورٹ نے سخت رویہ اپناتے ہوئے کہا کہ یہاں کی پولیس آئین اور جمہوریت کے تئیں وفادار نہیں ہے بلکہ سرکار کی وفادارہے۔ امن وشانتی کے نام پر بے گناہوں کو حراست میں لے رہی ہے۔
ابھی حال ہی میں الہ آباد ہائی کورٹ کا ایک ایسا تاریخی فیصلہ آیا ہے جس سے نہ صرف ہندوستانی جمہوریت اور مظلومین کی آنکھوں میں امید کی کرن پیدا کردی ہے بلکہ ایوان اقتدار وعدل وقانون کے آگے بھی سوال کھڑا کردیا ہے۔غورطلب ہے کہ پریاگ راج کے منصور احمد کو پولیس نے آٹھ دنوں تک غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا تھا اور پھر جب رہائی نہ ملی تو معاملہ ہائی کورٹ میں پہنچا تو عدالت نے امن وشانتی کے نام پر پولیس کے اس فرعونی حرکت پر زبردست پھٹکار لگائی ، اس نے کہا کہ کسی بھی جمہوریت ملک میں ایک شہری کی ذاتی آزادی سب سے اوپر ہوتی ہے ، منصور احمد کو 8دنوں تک غیر قانونی حراست میں رکھنا ایک سنگین جرم ہے عدالت نے اترپردیش سرکار کو 6ہفتے کے اندر دو لاکھ روپے مظلوم کو معاوضہ دینے کا حکم دیا ۔ عدالت نے معاوضہ کی یہ رقم ذمہ دار افسر کی تنخواہ سے کاٹے جانے کا حکم دیا ساتھ ہی ساتھ محکماتی کارروائی کا بھی حکم دیا ۔ عدالت کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک شخص کا نہیں بلکہ قانون، نظم ونسق اور ایک شہری کے اختیار اور ذمہ داری سے جڑا ہوا ہے ہندوستان کا آئین واضح طور پر کہتا ہے کہ کسی بھی شخص کو قانونی عمل کے بغیر اس کی آزادی کو ضرب نہیں پہنچایا جاسکتا ایک شہری کے بنیادی حقوق میں اس کی آزادی بھی شامل ہے ۔ ظاہر ہے کہ منصور احمد کو آٹھ دنوں تک جس طرح حراست میں رکھا گیا ، بے وجہ تکلیف پہنچائی گئی اسے عدالت نے قانون کے نام پر ایک ضرب قرار دیا۔ اور یہ بڑی بات ہے کہ عدالت نے اتنا سخت رویہ اختیار کیا اور پولیس محکمہ پر ہی کارروائی کا حکم دیا۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے اس تاریخی فیصلے نے بلاشبہ انصاف کا پرچم بلند کردیا ہے ، مگر سوال تو یہ بھی ہے کہ جس طبقہ کے ایک فرد کے خلاف یہ فیصلہ آیا ہے وہ طبقہ تو ایک دہائی سے معتوب زمانہ ہے، کیا منصور احمد کے معاملے میں عدالت کے فیصلے کا احترام کیا جائے گا ، کیونکہ ابھی گزشتہ ہفتے سنبھل میں نماز کو لیکر پولیس محکمہ نے اپنا فرعونی رویہ اختیار کرتے ہوئے سڑک پر نماز پڑھنے پر کارروائی کا اعلان کیا تھا جس پر ایک جج نے انتظامیہ اور پولیس کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگ جو نظم ونسق سنبھال نہیں سکتے انھیں مستعفی ہوجانا چاہئے۔ جج نے کہا تھا کہ سڑک پر نماز کی ادائیگی سے نظم ونسق کو کوئی خطرہ نہیں ہے، یہ پولیس کا کام ہے کہ وہ اسے سنبھالے مگر افسوس حق گوئی کی پاداش میں جج صاحب کا روسٹر ہی تبدیل کردیا گیا ، اب وہ دیوانی مقدمات دیکھ رہے ہیں ، بہرحال الہ آباد ہائی کورٹ کے جج کی جرأت کو سلام ، جنھوں نے عدل و انصاف کا پرچم سربلند رکھا اور اترپردیش کی پولیس محکمہ ودیگر ایجنسیوں کو بھی واضح پیغام دیا کہ شہریوں کے حقوق واختیارات کسی بھی طاقت ، کسی بھی حکومت سے بالا تر ہیں۔ بقول غالب
بنے ہیں اہل ہوس، مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں