تازہ ترین
مظفرپور میں مفت طبی کیمپ کا انعقاد،ماہر ڈاکٹروں نے دی صحت سے متعلق رہنمائی،سیوا ٹرسٹ کی پہل، بچوں اور خواتین سمیت مختلف امراض کے مریضوں کو ملی طبی سہولت، مفت ادویات بھی تقسیمسپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیا جائیگا اردو ٹی ای ٹی امیدواروں کا مقدمہ دائرارریہ: سدبھاونا منچ کے اراکین نے مختلف درگا پوجا پنڈالوں کاکیا دورہ، باہمی محبت اور بھائی چارے کا دیا پیغام،وسرجن میں شامل ہونے والے افراد کا استقبال اور کیا جائے گا اعزازسرسید احمد خاں نے قوم کو تعلیم کی اہمیت سے کرایاروشناس ،اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام یومِ سرسید کی پر تقریب کا انعقادوائس چانسلر نعیمہ خاتون کے ہاتھوں دس کتابوں کا اجرا ،یوم سر سید پر سر سید اکیڈمی کی جانب سےتقریب رسم اجرا کا انعقاددھام پور میں جشنِ سرسید تقریب کا انعقاد، عصری علوم کے حصول پرزور،سرسید احمد خاں کی خدمات کوپروقار اور شاندار انداز میںپیش کیاگیا خراجِ عقیدت5 افراد کی موت کے معاملے میں بہن، بہنوئی سمیت تین گرفتاردہلی حکومت جمنا کو صاف کرنے کے لیےکر رہی ہے کام : سی ایم ریکھا
اتر پردیش

برقہ پوش مسلم لڑکی سے زبردستی برقعہ اتروایا, ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

اتر پردیش پولیس

(پی این این)

مظفرنگر: مظفر نگر ضلع میں سوشل میڈیا (Social Media) پر اس وقت ایک ویڈیو بہت تیزی کے ساتھ وائرل (Viral Video) ہو رہی ہے جس میں ایک برقہ پوش مسلم لڑکی سے زبردستی برقعہ اتروایا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ موجود ایک لڑکے کے ساتھ کچھ شرپسند عناصر بدسلوکی اور مارپیٹ کرتے نظر آ رہے ہیں۔

اس واقعے کو ایک نوجوان نے اپنے موبائل میں قید کر لیا سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا۔بتایا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ منگل 12 اپریل کا ہے۔ جیسے ہی اس واقعہ کی اطلاع پر پولیس کو دی گئی پولیس نے نوجوان لڑکی کو ہجوم کے چنگل سے آزاد کروا کر تھانے پہنچایا۔ متاثرہ لڑکی کی شکایت پر سنگین دفعات کے تحت شرپسندوں کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے اس معاملے میں چھ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔

دراصل مظفر نگر کے کھالا پار تھانہ علاقے کی رہائشی ایک مسلم خاتون اتکرشٹ اسمال فائننس لمیٹڈ کمپنی میں سچن نامی ایک ہندو نوجوان کے ساتھ بینک کی قسط وصول کرنے کا کام کرتی ہے۔ منگل کو خاتون نے اپنی بیٹی کو سوجڈو گاؤں کی رہائشی شمع اہلیہ شاہنواز کے یہاں سے قسط وصول کرنے کے لیے اپنی بیٹی کو سچن کے ساتھ بھیجا تھا۔ا جس وقت یہ لڑکی اور سچن بائیک پر سوار ہو کر سوجڈو گاؤں سے آ رہے تھے تو کھالاپار محلے میں واقع درزی والی گلی میں اٹھ سے دس لوگوں نے انہیں جبراً روک دیا۔متاثرہ لڑکی کا الزام ہے کہ اس دوران ان سبھی لوگوں نے ان کے ساتھ گالی گلوچ اور بدسلوکی کرتے ہوئے مار پیٹ کی۔ اس دوران کسی نوجوان نے پورا واقعہ اپنے موبائل میں قید کر سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا۔

اس معاملے میں مزید معلومات دیتے ہوئے سی او سٹی راجو کمار ساؤ نے بتایا کہ گزشتہ 12 اپریل 2025 کو شام کے چار سے ساڑھے چار بجے کے بیچ تھانہ بھون شاملی کا رہائشی ایک ہندو نوجوان اور کھالا پار کی رہائشی مسلم لڑکی اتکرسٹ سمال فائنانس بینک کے لون کی قسط کو سوجڑو سے جب وصول کر کے ارہے تھے تو کھالا پار میں ہی درزی والی گلی کے سامنے کچھ مقامی لوگوں نے ان کو روک کر ان کے ساتھ بدسلوکی کی اور ان کے ساتھ مار پیٹ کی۔

 اس معاملے میں تھانہ کھالاپار پولیس کو جب اطلاع موصول ہوئی تو متاثرہ کی تحریر پر سنگین دفعات میں مقدمہ دائر کر دیا گیا اس پورے واقعے کی کچھ لوگوں نے ویڈیو بھی بنایا تھا اسے ویڈیو میں یہ سب ہوتا دکھ بھی رہا ہے اس ویڈیو میں جن لوگوں کے ذریعے اس واردات کو انجام دیا جا رہا ہے ان کی پہچان کی جارہی ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔