Connect with us

دلی این سی آر

اسکولوں میں چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیوں کی تشکیل کی ہدایت

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر ترنجیت سنگھ سندھو نے ہدایت دی کہ جولائی کے مہینے کے آخر تک دہلی کے تمام 5,633 اسکولوں میں چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیوں کی تشکیل کو یقینی بنایا جائے ۔
سندھو اور وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے جولائی کے مہینے کے دوران منائے جا رہے چائلڈ پروٹیکشن ماہ’ کے تحت چل رہے مختلف پروگراموں، مہم اور حفاظتی اقدامات کا آج ایک اعلیٰ سطحی جائزہ لیا۔ جائزہ میٹنگ میں دہلی کے چیف سکریٹری، پولیس کمشنر، سکریٹری تعلیم، سکریٹری برائے ترقی خواتین و اطفال، ڈائریکٹر ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن اور محکمہ ترقی خواتین و اطفال، ڈی سی پی (ایس پی یو ڈبلیو اے سی) اور مختلف محکموں کے سینئر افسران موجود تھے ۔ لیفٹیننٹ گورنر اور وزیر اعلیٰ نے واضح ہدایات دیں کہ بچوں کی حفاظت سے متعلق تمام پروگرام صرف جولائی کے مہینے تک محدود نہ رہیں، بلکہ انہیں تمام اداروں کے باقاعدہ اور مستقل نظام کا حصہ بنایا جائے ۔ میٹنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ دہلی حکومت کے تمام اسکولوں میں پوکسو (پوکسو) ایکٹ کے مطابق چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیاں تشکیل دی جا چکی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی ہدایات دیں کہ جولائی کے آخر تک دہلی کے تمام 5,633 اسکولوں میں ایسی کمیٹیوں کی تشکیل کو یقینی بنایا جائے ۔ میٹنگ میں یہ معلومات بھی دی گئیں کہ تقریباً ایک ہزار تعلیمی اور پیشہ ورانہ رہنمائی کے مشیر (کاؤنسلرز) دہلی حکومت کے اسکولوں میں بچوں کو گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ، صنفی حساسیت اور ذاتی حدود کے بارے میں بیدار کر رہے ہیں۔ اس پر ہدایات دی گئیں کہ راجدھانی کے ہر اسکول میں ایسے مشیروں کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے ۔
سندھو نے جولائی کے مہینے کے اندر تمام اسکولوں میں ماسٹر ٹرینرز اور دیگر ٹرینرز کی ٹریننگ اور صلاحیت سازی کو مکمل کرنے کی ہدایات دیں۔ طلبہ کی حفاظت سے متعلق چیک لسٹ کی تعمیل کا سرٹیفکیٹ پیش کیا جائے ۔ تمام اسکولوں میں پوکسو معاملات کے تصفیے کے لیے تفصیلی معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پی) نافذ کیا جائے ۔ اولیاء کے نمائندوں، محکمہ تعلیم، محکمہ ترقی خواتین و اطفال، دہلی پولیس اور اسکول کے سربراہان کو شامل کرتے ہوئے مشترکہ معائنہ ٹیمیں تشکیل دے کر تمام اسکولوں کا معائنہ کرایا جائے ۔ والدین اور بچوں کے لیے پیرنٹ ٹیچر میٹنگز (پی ٹی ایم)، آڈیو ویژول میڈیم، مطبوعہ تشہیری مواد اور دیگر ذرائع سے وسیع عوامی بیداری مہم چلائی جائے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بچوں کی حفاظت سے جڑے تمام پروگراموں اور سرگرمیوں پر مؤثر اور وقت کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنانا ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں صرف ایک ماہ تک محدود نہ رہ کر تمام اداروں کے باقاعدہ طریقہ کار کا حصہ بنیں تاکہ ہر بچے کو محفوظ اور حساس ماحول مل سکے ۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہلی حکومت بچوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے تمام محکموں کے درمیان مؤثر تال میل کے ساتھ ہر ہدایت کی بروقت تعمیل کو یقینی بنائے گی۔ حکومت کا مقصد بچوں کی حفاظت کے لیے ایسا مضبوط اور مستقل نظام تیار کرنا ہے ، جس سے راجدھانی کا ہر بچہ محفوظ، باوقار اور قابل اعتماد ماحول میں آگے بڑھ سکے ۔

 

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

سنگل متاثر ہونےسے کشمیری گیٹ میٹرو اسٹیشن پر اچانک بھیڑ

Published

on

 

(پی این این)
نئی دہلی : رات کشمیری گیٹ میٹرو اسٹیشن پر میٹرو خدمات متاثر ہوئیں۔ اس دوران بھیڑ بڑھتی رہی۔ 30 منٹ سے زیادہ لوگوں کو کشمیری گیٹ سے رتلہ تک میٹرو ٹرین کا انتظار کرتے دیکھا گیا۔ اس دوران دونوں پلیٹ فارمز پر بھیڑ بڑھتی رہی۔ کشمیری گیٹ سے غازی آباد اور دلشاد گارڈن تک میٹرو ٹرین بھی پلیٹ فارم پر کھڑی رہی۔یہ بالکل آگے نہیں بڑھا۔ مسافروں نے الزام لگایا کہ میٹرو خدمات میں اس طرح کی رکاوٹ روزانہ رات کے وقت ہوتی ہے۔ مسافروں نے بتایا کہ اتوار کو رتلہ جانے والی میٹرو ٹرین کشمیری گیٹ میٹرو اسٹیشن پر 30 منٹ سے زیادہ نہیں پہنچی۔ اس دوران پلیٹ فارم بورڈ پر لگے ٹائمر نے میٹرو کے لیے ایک منٹ کا انتظار کا وقت دکھایا۔کئی بزرگوں اور خواتین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔میٹرو میں تاخیر کے معاملے پر دہلی میٹرو ریل انتظامیہ نے 9:40 بجے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پیغام پوسٹ کیا۔ ڈی ایم آر سی نے کہا کہ ریڈ لائن پر میٹرو خدمات میں تاخیر شاستری پارک میٹرو اسٹیشن پر سگنلنگ کے مسئلے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اس کے بعد میٹرو انتظامیہ نے رات 10:03 بجے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر دوبارہ ایک پیغام پوسٹ کیا، جس میں کہا گیا کہ ریڈ لائن پر میٹرو خدمات معمول پر آ گئی ہیں۔
مسافروں نے الزام لگایا کہ میٹرو ٹرین 30 منٹ سے زیادہ وقت تک کشمیری گیٹ سے رتلہ نہیں پہنچی۔ اس دوران غازی آباد اور دلشاد گارڈن جانے والی میٹرو ٹرین بھی بالکل نہیں چلی۔ اس دوران میٹرو کا کوئی عملہ یا کارکن بھیڑ کو سنبھالنے کے لیے نہیں پہنچا۔ میٹرو انتظامیہ کی جانب سے یہ سراسر غفلت ہے۔ کئی بزرگوں اور خواتین کو بھی چکر آنے لگے۔ اس دوران دیگر مسافروں نے انہیں پانی پلایا اور تسلی دی۔

Continue Reading

دلی این سی آر

دہلی کے 75 سے زیادہ علاقوں میںرہےگی پانی کی قلت

Published

on

نئی دہلی :دہلی جل بورڈ نے ایک الرٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ شہر کے دو اسمبلی حلقوں سمیت 75 سے زیادہ علاقوں میں اگلے ہفتے کے اوائل میں دو دن تک پانی کی سپلائی میں خلل پڑ جائے گا۔ (جنوبی) UGR, G.K. MBR، سرائے کالے خان UGR، Apollo UGR، اور سریتا وہار UGR کے زیر اثر علاقوں میں پانی کی فراہمی متاثر ہوگی۔سوشل میڈیا پر ایک پریس نوٹ کا اشتراک کرتے ہوئے، جل بورڈ نے کہا، “دہلی ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق، پانی کی سپلائی متاثر رہے گی نئی بچھائی گئی 1500 ملی میٹر قطر کی پائپ لائن (مائلڈ اسٹیل کے قریب) کے کنکشن کے کام کی وجہ سے متاثر ہوگی۔ گاؤں خضر آباد۔” مکینوں کو درپیش مشکلات کے پیش نظر جل بورڈ نے ان علاقوں کے مکینوں سے درخواست کی ہے کہ وہ پہلے سے وافر مقدار میں پانی ذخیرہ کریں اور اسے سمجھداری سے استعمال کریں۔ جل بورڈ نے کسی بھی پانی کی ایمرجنسی یا پانی کے ٹینکر کی ضرورت کے لیے فون نمبر بھی جاری کیے ہیں، اور انہیں دہلی جل بورڈ کے ہیلپ لائن نمبر، 1916 پر کال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔کیلاش کے مشرق کے ڈی، ای، اور ایف بلاکس، سنت نگر، ایم این ڈبلیو ایس ایریا، گیتانجلی انکلیو، نوجیون وہار، ساکیت، کھرکی، حوز رانی، شیخ سرائے فیز-II، مالویہ نگر، شیوالک، ایم ایم ٹی سی، سادھنا انکلیو، سوامی نگر، شیخ سرائے سرائے، دہلی فیز 1، سرائے ناگر، لاوا 1۔ ادارہ جاتی علاقہ، کٹواریہ سرائے، اڈچینی، سروودیا انکلیو، نیب سرائے، انوپم اپارٹمنٹس، سیدولاجاب، فریڈم فائٹر انکلیو، IGNOU، کالو سرائے، سروپریہ وہار، بیگم پور، پنچشیل پارک، پشپ وہار، GK-II OHT، GK-II OHT، GKNDAIII اپارٹمنٹس، DKNDAIII پاکٹ 52، سی آر پارک، ڈی بلاک یو جی آر، سی آر پارک، سری نواسپوری، گڑھی اور آس پاس کے علاقے۔ایشین گیمز ولیج، کھیل گاوں، حوز خاص، گل موہر پارک، گرین پارک، مالویہ نگر، چھتر پور ودھان سبھا، مہرولی ودھان سبھا، وسنت کنج کی تمام جیبیں، ہرن پارک اور آس پاس کے علاقے۔سرائے کالے خان گاؤں، سدھارتھ نگر، آشرم، سن لائٹ کالونی-I اور II، بھگوان نگر، کلوکری گاؤں، شالیمار، ہری نگر آشرم، جنگ پورہ بی اور آس پاس کے علاقے۔جسولا گاؤں، جسولا وہار، علی وہار، مدن پور کھدر، بدر پور گاؤں، مولاربند گاؤں، بدر پور ایکسٹینشن، میٹھا پور ایکسٹینشن، جیت پور ایکسٹینشن، جیت پور گاؤں، میٹھا پور گاؤں، ہری نگر گاؤں اور ایکسٹینشن، ڈی ڈی اے فلیٹ اور آس پاس کے علاقےمتاثر ہوں گے۔

 

Continue Reading

دلی این سی آر

ادبی چوپال فاؤنڈیشن، دہلی کے زیرِ اہتمام کل ہند مشاعرہ و تقریبِ اعزاز کا کامیاب انعقاد

Published

on

نئی دہلی: ادبی چوپال فاؤنڈیشن، دہلی کے زیرِ اہتمام 4 جولائی 2026، بروز ہفتہ، ایوانِ غالب نئی دہلی میں ایک شاندار کل ہند مشاعرہ و تقریبِ اعزاز کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس باوقار ادبی تقریب میں ملک بھر سے تشریف لائے ممتاز شعراء، شاعرات، ادباء، دانشوران کے علاوہ محبانِ اُردو اور ادب نواز سامعین نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے محفل کو یادگار بنایا۔اس عظیم الشان پروگرام کا اہتمام ادبی چوپال فاؤنڈیشن کے بانی و صدر، معروف و استاد شاعر خمار دہلوی اور ان کے شاگرد و فاؤنڈیشن کے جنرل سیکریٹری پنڈت پریم بریلوی نے کیا۔مشاعرے کے کنوینر کسی وجہ سے شریک نہ ہو سکے! اس موقع پر محبِ اُردو ڈاکٹر ظاہر خان، عبدالحق ، وارث صدیقی ، جاوید خان، استاد صاحب قوال اور ڈاکٹر سید اصدر علی خصوصی طور پر موجود رہے۔ تقریب کے مہمانانِ خصوصی میں قاضی نجم الاسلام نجم اور احترام صدیقی شامل تھے جبکہ معزز مہمانان میں ایڈمرل خرم نور، چاند خان چاند اور قاضی ظاہر بجنوری نے شرکت فرما کر تقریب کی رونق میں اضافہ کیا۔تقریب کا آغاز نہایت پروقار انداز میں ہوا۔ ادبی چوپال فاؤنڈیشن کے بانی و صدر خمار دہلوی، مشاعرے کے صدر ڈاکٹر سجاد سید اور دیگر معزز مہمانان و شعرائے کرام نے شمع روشن کرکے پروگرام کا باضابطہ افتتاح کیا۔ شمع روشن ہوتے ہی ایوانِ غالب کی فضا ادب، تہذیب اور شعری روایت کی خوشبو سے معطر ہو گئی۔اس کے بعد تقریبِ اعزاز منعقد ہوئی، جس میں اُردو ادب اور شاعری کی خدمات انجام دینے والی ممتاز شخصیات کو مختلف اعزازات سے نوازا گیا۔
استاد شمیم سردھنوی کو استاد داغ دہلوی ایوارڈ2026، او۔ پی۔ اگروال (سراج دہلوی) کو پنڈت گلزار دہلوی ایوارڈ2026،
اعجاز انصاری کو انور جلال پوری ایوارڈ2026، پیکر پانی پتی کو الطاف حسین حالی ایوارڈ2026، معید رہبر لکھنوی کو منور رانا ایوارڈ2026، تابش رامپوری کو ثاقب عظیم آبادی ایوارڈ2026 اور سلیم دریاپوری کو قیصرالجعفری ایوارڈ2026 سے سرفراز کیا گیا۔
تمام اعزاز یافتگان کی یکِ بعد دیگرے گل پوشی کر کے شال سے نوازہ گیا مزید یہ کہ توصیفی اسناد اور یادگاری مومنٹو پیش کر کے اُن کی ادبی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔ اعزاز یافتہ شعراء و ادباء نے ادبی چوپال فاؤنڈیشن کی اس کاوش کو نہایت قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام نئی نسل کو ادب سے جوڑنے اور شعر و ادب کی روایت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تقریب کے دوران ایک خوشگوار اور جذباتی لمحہ اُس وقت آیا جب اسلم بیتاب، ایڈمرل خرم نور اور ہُما دہلوی نے استاد شاعر خمار دہلوی کو شال اوڑھاکر اور پھول مالا پہناکر کر اُن کی گراں قدر ادبی خدمات کا اعتراف کیا۔ حاضرین نے پُرزور تالیوں کے ساتھ اس منظر کا خیرمقدم کیا۔
تقریبِ اعزاز کے بعد کل ہند مشاعرے کا آغاز معروف ناظم و شاعر وسیم جھنجھانوی نے نعتِ پاک سے کیا۔ اُن کی پُرسوز آواز اور عقیدت سے بھرپور کلام نے سامعین کے دلوں کو منور کر دیا۔اس کے بعد رات گئے تک جاری رہنے والے اس مشاعرے میں ملک کے نامور شعراء نے اپنے بہترین کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ مشاعرے میں استاد شمیم سردھنوی، خمار دہلوی، ڈاکٹر سجاد سید، اعجاز انصاری، پیکر پانی پتی، تابش رامپوری، معید رہبر لکھنوی، سلیم دریاپوری، چاند خان چاند، سہیل فاروقی، خرم نور، پنڈت پریم بریلوی، اسلم بیتاب، جاوید عباسی، شکیل خان ساگر، قاضی ظاہر بجنوری، علامہ کمال حفیظی، حامد علی اختر، نعیم بدایونی، قاضی نجم الاسلام نجم، کامل راز دہلوی، سنجے گھائلِ اویس رائن سیہور، وسیم جھنجھانوی، احترام صدیقی، سریندر صفر، گولڈی غضب، اختر گورکھپوریِ عرشمان انصاری عرش، عاصم فراز انصاری، ہُما دہلوی اور طوبیٰ فراز انصاری سمیت متعدد شعرائے کرام نے اپنا منتخب کلام پیش کیا۔
محبت، انسانیت، قومی یکجہتی، سماجی اقدار، بھائی چارے اور انسانی احساسات پر مبنی اشعار نے سامعین سے خوب داد وصول کی۔ جگہ جگہ “واہ واہ”، “مکرر ارشاد” اور تالیوں کی گونج سے ایوانِ غالب کی فضا بار بار معطر ہوتی رہی۔
مشاعرے میں شریک تمام شعرائے کرام و شاعرات کی خدمت میں بھی پھول مالا، سپاس نامہ اور شال پیش کرکے سبھی کو اعزاز سے نوازا گیا۔
یہ تقریب شام 6 بجے شروع ہوئی اور مسلسل رات 10 بجے تک جاری رہی۔ پروگرام کی صدارت ڈاکٹر سجاد سید نے فرمائی، جبکہ معروف شاعر و ناظم اسلم بیتاب نے نہایت شائستگی، خوش اسلوبی اور برجستگی کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دئے، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔
اختتامی کلمات میں خمار دہلوی نے کہا کہ اردو اور ہندی ہماری مشترکہ تہذیبی وراثت کی دو خوبصورت زبانیں ہیں جو ادب محبت، اخوت اور انسانیت کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادبی چوپال فاؤنڈیشن آئندہ بھی ایسے معیاری ادبی پروگرام منعقد کرتی رہے گی تاکہ نئی نسل کو ادب سے جوڑا جا سکے اور اردو و ہندی کی مشترکہ ادبی روایت کو مزید فروغ ملے۔
یہ کل ہند مشاعرہ و تقریبِ اعزازات ہر لحاظ سے کامیاب اور یادگار ثابت ہوئی۔ ایوانِ غالب میں منعقد ہونے والی اس ادبی محفل کی خوشگوار یادیں حاضرین کے دلوں میں دیر تک محفوظ رہینگی اور ادب دوست حلقوں میں اسے ایک اہم اور تاریخی ادبی تقریب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
​مشاعرہ میں پیش کردہ اشعار:-
​بُغض و نفرت ہی جن کا شیوہ ہے
وہ کبھی نہیں ملتے، ہم نشیں محبت سے۔
— استاد شمیم سر دھنوی
​تیرگی حکمراں ہوئی جب سے
روشنی منہ چھپائے بیٹھی ہے!
— خمار دہلوی
​تمہارے ہاتھ کا پتھر کوئی نیا تو نہیں
جبیں سے سنگ کا رشتہ بہت پرانا ہے!
— ڈاکٹر سجاد سید
​دشمن کی صف میں بھائی تھا تلوار پھینک دی
لیکن یہ جنگ ہار کے ہارا نہیں ہوں میں!
— اعجاز انصاری
پھر اسی محفل میں لیکر آئی ہے قسمت مجھے
کل جہاں “پیکر” ہوئی تھی اپنی رسوائی بہت
پیکر پانی پتی
​پروازِ تخیل ہے اگر اوجِ فلک پر
گہرے ہیں سمندر سے خیالات ہمارے۔
— تابش رامپوری
​میری منزل کہاں ہے یہ نہیں معلوم ہے لیکن
میں ان سے ہٹ کے چلتا ہوں، جو رستے عام رہتے ہیں۔
— معید رہبر لکھنوی
​جھوٹوں نے اقتدار کا گلشن بنا لیا
قبضہ کیا زمین پہ، آنگن ہتھا لیا!
سلیم دریابادی
​ایسے ایسے بھی شبِ ہجر کے مارے دیکھے
رات آنکھوں میں کٹی، دن میں ستارے دیکھے۔
چاند خاں چاند
​آج کے سامنے آتا نہیں کل کا چہرہ
بدلا بدلا نظر آتا ہے غزل کا چہرہ۔
— سہیل فاروقی
​دوستی، پیار، تعلیم اور شاعری
یہ روایت رہی خاندانی میری۔
— ایڈمرل خرم نور
​کاریگری کمال ہے تیری میرے خدا
ظاہر ہوئے بغیر ہی کیا کیا بنا دیا۔
— پنڈت پریم بریلوی

​مجھ کو منزل نہیں ملی ‘اسلم’
میں نے کانٹوں پہ چل کے دیکھ لیا۔
— اسلم بیتاب

​آپ کے گلشن میں دلکشی ہی نہیں
کیسے کہہ دوں بہار آئی ہے۔
— جاوید عباسی
​کچھ رشتے اس بہانے ابھی بے قرار ہیں
کبھی شادیوں میں، آ گئے کبھی انتقال میں!
— قاضی ظاہر بجنوری
​ہر آدمی سے سخن کی نہ پوچھئے باتیں
ہر ایک شہر میں حضرتِ کمال تھوڑی ہے!
علامہ کمال حفیظی
​جب دعاؤں کے لیے ہاتھ اٹھائے ہم نے
نقش تیرے ہی تصور میں سجائے ہم نے!
حامد علی اختر
​آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے اچھا نہیں کیا
دل لے گئے نکال کے اچھا نہیں کیا!
— نعیم بدایونی
​دامنِ شب سے جو خوابوں کے پرندے نکلے
اڑ گئے صبح کو جینے کے معنی دے کر۔
— قاضی نجم اسلام نجم
​خود ہی برباد ہوا بیٹھا ہوں دل کے ہاتھوں
میں کسی اور پہ الزام لگاؤں کیسے۔
محمد کامل راز دہلوی
​اے اردو زباں تجھ پہ بہت ناز ہے مجھ کو
باریکیءِ تہذیب کا انداز ہے مجھ کو!
سنجے گھائل
​احسان دشمنوں پہ ہمارا ہے دوستو
ہم نے تو دوستوں کو بھی مارا ہے دوستو۔
— احترام صدیقی
​شکوہ گلہ نہ کوئی شکایت کیا کرو
چھوٹی سی زندگی ہے محبت کیا کرو۔
— وسیم جھنجھانوی
​گاؤں خالی ہو رہے ہیں شہر کے چکر میں
راہ بھولیں کشتیاں لہر کے چکر میں!
— سریندر سُفر
​سفر میں ساتھ چلنے کا ارادہ چھوڑ دیتے ہیں
ہم ایسے راہگیروں سے ہی ناطہ چھوڑ دیتے ہیں۔
— گولڈی غضب
​امیر لوگ ہیں دل سے کہاں لگاتے ہیں
غریب پیار کی میت اٹھائے پھرتا ہے!
— اختر گورکھپوری

​سورج، چاند، ستارے ہیں، جیون کا اجیارا ہے
‘عرش ترنگے کا سمان ہم کو جان سے پیارا ہے!
عرشمان انصاری عرش

​ہم بچے کس کام کے ہیں، موبائل کے نام کے ہیں
مسجد سے اسکول تلک، چرچے میرے نام کے ہیں۔
عاصم فراز انصاری
​یہ محبت بھی کیا مصیبت ہے
لمحہ لمحہ عجب اذیّت ہے!
— ہما دہلوی
​دہلی والوں کے دل کو بھاتا کیا
نام اس کا لبوں پر آتا کیا
طوبیٰ فراز انصاری
​سفِ سامعین میں بیٹھ کر جن دوستو نے محفل کے معیارو تمدن میں اضافہ کیا ان کے اسماءِ گرامی:-
​ڈاکٹر ظاہر خان، عبدالحق، وارث صدیقی، جاوید خاں، حاجی زبیر احمد، محمد افسر رائین سیہور، استاد قوال، ممتاز احمد (آر.این.آئی)، نیل سنیل، شاعر حالاتی، اکرام الدین انصاری، محمد سرفراز، محمد شہباز، حافظ انعام الحق، حاجی اسرار قریشی، محمد آہل انصاری، سمرین جہاں، شاکرہ خاتون، رفعت انجم انصاری، ثنا انجم انصاری، اریزہ انصاری اور ان کے علاوہ بھی کثیر تعداد میں سامعین نے تقریب کی رونق بڑھائی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network