Connect with us

دلی این سی آر

اردو اکادمی دہلی کے زیرِ اہتمام سمر کیمپ اور اردو تھیٹر ورکشاپ کا شاندار انعقاد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:اردو زبان و ثقافت کے فروغ اور اسکولی بچوں کی شخصیت سازی کے مقصد سے اردو اکادمی دہلی کی جانب سے اکیس روزہ سمر کیمپ کا انعقاد کیا گیا جو 15 مئی سے 4 جون 2025 تک جاری رہا۔ اسی کے ساتھ 20 مئی تا 20 جون 2025 اردو تھیٹر ورکشاپ کا اہتمام کریسنٹ پبلک اسکول، دریا گنج اور کریسنٹ اسکول، موج پور میں کیا گیا، جہاں معروف تھیٹر شخصیات شاہین شیخ اور فہد خاں نے بچوں کو ایک ماہ تک ڈرامے کی باقاعدہ تربیت دی۔
یہ سمر کیمپ اور اردو تھیٹر ورکشاپ اردو اکادمی دہلی کے ذمہ داران و کارکنان کی خصوصی دلچسپی کے باعث ممکن ہو سکی،جنھوں نے اس کیمپ کی کامیابی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس اقدام کا مقصد بچوں میں اردو زبان، تہذیب اور فنونِ لطیفہ سے محبت اور دلچسپی پیدا کرنا تھا اور یہ ایک سنجیدہ اور مؤثر کوشش ثابت ہوئی۔ کیمپ میں چھ سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا، جن میں شخصیت سازی (لازمی)، خطاطی، پینٹنگ، غزل سرائی، داستان گوئی اور اردو زبان دانی شامل تھیں۔ ہر طالب علم کے لیے شخصیت سازی کا کورس لازمی قرار دیا گیا تھا، جبکہ باقی پانچ میں سے دو سرگرمیوں کا انتخاب اختیاری تھا، یوں ہر طالب علم تین عملی سرگرمیوں میں شریک ہوا۔سمرکیمپ کے لیے دہلی کے مختلف اسکولوں سے 500 سے زائد طلبہ و طالبات نے آن لائن رجسٹریشن کرایا تھا جن میں سے 200 طلبہ و طالبات کو منتخب کیا گیا، جنھوں نے مختلف سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لے کر اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا خوب موقع پایا۔
23 اور 24 جون 2025 کو اردو تھیٹر ورکشاپ اور سمر کیمپ کے دوران تیار کردہ ڈراموں اور داستانوں کی پیش کش سری رام سینٹر، منڈی ہاؤس، نئی دہلی میں کی گئی۔ اس موقع پر مہمانِ خصوصی کے طور پر حکومتِ دہلی کے محکمہ فن، ثقافت و السنہ کی سکریٹری محترمہ رشمی سنگھ، آئی اے ایس نے شرکت کی۔ انہوں نے بچوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا:مجھے بے حد خوشی ہوئی اور یہ میرے لیے ایک حیران کن تجربہ ہے کہ اتنے کم وقت میں بچوں کے فن کو اس قدر خوبصورتی سے نکھارا گیا۔ اس کامیابی کے لیے تمام اساتذہ، ورکشاپ سے وابستہ افراد، بچوں کے والدین اور اردو اکادمی کے ذمہ داران مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ہماری کوشش رہتی ہے کہ بچوں کے ہنر کو بہتر سے بہتر طریقے سے نکھارا جائے اور اردو اکادمی، دہلی اس خواب کو حقیقت میں تبدیل کر رہی ہے۔ بچوں کی پیش کش دیکھ کر میں نہ صرف حیران ہوئی بلکہ اکادمی کی کارکردگی سے بے حد متاثر بھی ہوئی۔ مجھے یقین ہے کہ اردو اکادمی،دہلی بچوں کے علم و فن کو جِلا بخشنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔
23 جون کو کریسنٹ پبلک اسکول، دریا گنج میں تھیٹر ورکشاپ کے دوران تیار کردہ ڈراما ’’ملا نصرالدین‘‘ بچوں نے نہایت مہارت سے پیش کیا، جس کی ہدایت کار شاہین شیخ تھیں۔ اس ڈرامے میں بیس سے زائد بچوں نے حصہ لیا، جن میں اکثر کی عمر دس برس سے کم تھی۔ ڈرامے کا دورانیہ تقریباً چالیس منٹ تھا۔24 جون کو کریسنٹ اسکول، موج پور میں ورکشاپ کے دوران طلبا نے موسیقیت سے بھرپور ڈراما ’’ناک لے لو ناک‘‘ پیش کیا، جس کے ہدایت کارفہد خاںتھے۔ اس ڈرامے میں بھی بیس سے زائد بچوں نے مختلف کردار ادا کیے۔ اس کا دورانیہ بھی تقریباً چالیس منٹ تھا۔
دونوں دن بچوں نے مختصر ادبی تحریروں اور کہانیوں کو داستان کی شکل میں نہایت دلکش انداز میں پیش کیا۔ داستان گوئی کا ہنر معروف داستان گو ساحل آغا نے نہایت محنت اور لگن سے بچوں کو سکھایا۔پہلے دن جن کہانیوں کو پیش کیا گیا، ان میں ’’اردو‘‘ (عروبہ شیخ)،’’ادھورے خواب‘‘ (فاطمۃ الزہرا)، ’’بحر طویل‘‘ (محمد ریان پٹھان) اور’’گالیاں استاد کی اردو میں‘‘ (شفا سیفی) شامل تھیں۔دوسرے دن پیش کی گئی داستانوں میں ’’خسرو دریا پریم کا‘‘ (ایاز احمد سیفی)، ’’ماں کی دعا‘‘ (محمد توحید)، ’’میں بچ گئی ماں‘‘ (شفا ارشاد)،’’سچا دوست‘‘ (محمد ابوذر)،’’دوستی‘‘ (عروبہ ناز)،’’میرا نام اردو ہے‘‘ (افرا)،’’ایک آئینہ‘‘ (مومنہ خالد)،’’داستان امیر حمزہ‘‘(ریحان عارف)،’’دنیا کی سب سے لمبی داستان‘‘ (من تشا)، ’’شیر کا جال‘‘ (فاطمۃ الزہرا)، ’’داستان امیر خسرو‘‘ (محمد ساجد)، ’’حضرت بہلول دانا‘‘ (عائشہ و تسمیہ) اور’’داستان کرامت‘‘ شامل تھیں، جن میں تقریباً پچیس بچوں نے حصہ لیا۔
دونوں دن سری رام سینٹر کا آڈیٹوریم بچوں کے والدین، اساتذہ اور عام ناظرین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، اور ہر پیشکش کو بے حد سراہا گیا۔
اس موقع پر یہ اعتراف بھی بے حد ضروری ہے کہ اس سمر کیمپ اور ورکشاپ کو کامیاب بنانے میں شامل انسٹرکٹرز نے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے بچوں کی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اقرا قریشی (شخصیت سازی)، شمیم احمد اور زبیر احمد (خطاطی)، شیراز حسین عثمانی (پینٹنگ)، ذیشان ضمیر (غزل گائیکی)، سید ساحل آغا (داستان گوئی) اور نیہا ریاض، جاوید حسین، رضوان خاں اور ریاض احمد (اردو زبان دانی) نے نہ صرف اپنے اپنے فن میں مہارت سے بچوں کی رہنمائی کی بلکہ اْن کے اندر خود اعتمادی، جمالیاتی حس اور تخلیقی اظہار کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ یہ تمام اساتذہ واقعی ستائش کے مستحق ہیں جن کی محنت نے ان بچوں کو اس قابل بنایا کہ وہ بڑے اعتماد کے ساتھ اسٹیج پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں۔

دلی این سی آر

روہنی حادثہ: 4 افراد کی موت،ملبے میں زندگی کی تلاش جاری

Published

on

دہلی کے روہنی سیکٹر 16 میں بدھ کو ایک تین منزلہ زیر تعمیر عمارت گر گئی۔ حادثے میں چار افراد کی موت ہو گئی، جب کہ ایک مزدور کو زندہ بچا لیا گیا۔ روہنی کے سیکٹر 26 میں پیش آئے حادثے کے بعد این ڈی آر ایف سمیت کئی ایجنسیوں نے رات بھر راحت اور بچاؤ کا کام کیا۔ ملبے سے برآمد ہونے والی لاشوں میں ایک گزرنے والا بائیکر، ایک مزدور اور گھر کے مالک کے والد شامل ہیں۔32 سالہ صدام عرف راوی کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا۔ مرنے والوں کی شناخت درزی رام (42) کے طور پر کی گئی ہے، جو سیکٹر 16، روہنی کے رہنے والے ہیں۔ دوارکا کے رہنے والے کیفے عرف نورل (24)؛ اور رام دعا (62) جو سیکٹر 16، روہنی کے رہائشی ہیں۔ رام دعا کا بیٹا عمارت تعمیر کر رہا تھا۔ پولیس نے متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔روہنی سیکٹر 16 کے جی بلاک میں 26 گز کے دو پلاٹوں کو جوڑ کر ایک تین منزلہ عمارت تعمیر کی گئی۔پولیس کے مطابق بدھ کو عمارت کے اندرونی حصے پر تعمیراتی کام جاری تھا۔ شام 4 بجے عمارت اچانک گر گئی۔ فائر آفیسر نے بتایا کہ نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی ٹیم کو فوری طور پر جائے وقوعہ پر بلایا گیا۔ تین گھنٹے کی کوشش کے بعد 32 سالہ صدام کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا اور فوری طور پر ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔
چار منزلہ عمارت کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے رات بھر ریسکیو آپریشن جاری رہا۔ 120 فائر اور این ڈی آر ایف کے افسران اور اہلکاروں نے ہلکی بارش کے درمیان بھی بچاؤ کی کوششیں جاری رکھیں۔ ریسکیو ٹیم کے ایک رکن نے بتایا کہ عمارت گر گئی تھی، جس کی وجہ سے ایک چھت دوسری پر گر گئی۔ نتیجتاً کافی مقدار میں ملبہ ہٹانا پڑا، اور کام احتیاط کے ساتھ کیا جا رہا تھا۔ اس لیے این ڈی آر ایف کی ایک ٹیم کو بھی بلایا گیا۔ دوارکا سے این ڈی آر ایف کی ایک خصوصی ٹیم آلات اور ڈاگ اسکواڈ کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچی۔
جب ٹیم ریسکیو آپریشن میں مصروف تھی تو انہوں نے ایک شخص کے کراہنے کی آواز سنی۔ اندر جانے پر، انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص کا ہاتھ کچلا گیا تھا، اور وہ ملبے کے نیچے بری طرح پھنس گیا تھا۔ اس کے بعد پھنسے ہوئے شخص کو سانس لینے میں دشواری کم کرنے کے لیے پائپ کے ذریعے آکسیجن فراہم کی گئی۔ اس کے بعد پانی دیا گیا۔ فائر فائٹرز کو کبھی کبھار اسے تسلی دیتے ہوئے دیکھا گیا۔ صدہ کو شام 7 بج کر 15 منٹ پر بحفاظت ملبے سے نکالا گیا۔ اسے بی ایس اے ہسپتال لے جایا گیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
عمارت اچانک گرنے سے آس پاس کا علاقہ لرز اٹھا۔ مقامی دکاندار راج کمار نے بتایا کہ ایک لمحے کے لیے ایسا لگا جیسے زلزلہ آیا ہو۔ دھول صاف ہوئی تو معلوم ہوا کہ عمارت گر چکی ہے۔ عمارت سڑک کے ایک کونے پر تعمیر کی جا رہی تھی، اور گرنے سے ٹریفک جام ہو گیا۔ ریسکیو ٹیموں کو جائے وقوعہ تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ حادثے کی وجہ سے قریبی عمارتوں میں بھی دراڑیں پڑنے کی اطلاعات ہیں۔ پولیس ایسی عمارتوں کی مضبوطی کی جانچ کے لیے ایم سی ڈی کو لکھے گی۔ڈی ڈی اے انتظامیہ نے شام 7 بجے کے بعد اس واقعہ سے متعلق ایک بیان جاری کیا۔ بدھ کو. روہنی سیکٹر 16 میں عمارت گرنے کے واقعے کے بارے میں، ڈی ڈی اے انتظامیہ نے بتایا کہ اس علاقے کو 2016 میں ڈی نوٹیفائی کر کے مقامی ادارے کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ ایسے علاقوں میں تعمیراتی کام کی نگرانی مقامی ادارہ کرتی ہے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

جی ٹی بی اسپتال کےباہر’آپ ‘کارکنان کا احتجاج

Published

on

نئی دہلی:عام آدمی پارٹی نے ریکھا گپتا حکومت کے مبینہ 650 کروڑ روپے کے دوا گھوٹالے کے خلاف تیسرے روز بھی علامتی احتجاج جاری رکھا۔ بدھ کے روز آپ کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھردواج کی قیادت میں جی ٹی بی اسپتال کے باہر پارٹی کارکنوں نے، ایم ایل اے سنجیو جھا اور کلدیپ کمار کے ساتھ، خاموش احتجاج کیا۔ سوربھ بھردواج نے کہا کہ ہم عوام کو یہ بتا رہے ہیں کہ انہیں اسپتالوں میں دوائیں اس لیے نہیں مل رہیں کیونکہ ریکھا گپتا حکومت نے 650 کروڑ روپے کا گھوٹالا کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جمعرات کو بابا صاحب امبیڈکر اسپتال کے باہر بھی احتجاج کیا جائے گا۔انہوں نے الزام لگایا کہ اس گھوٹالے کے مرکزی ملزم راجیو رنگیلا کو حکومت نے ملک سے باہر بھیج دیا ہے اور اب جانچ کے نام پر عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ حکومت ہر شعبے میں لوٹ مار میں مصروف ہے اور قواعد کے خلاف ٹینڈر جاری کر کے بھاری کمیشن وصول کیا جا رہا ہے۔سوربھ بھردواج نے کہا کہ گزشتہ تین دنوں سے عام آدمی پارٹی دہلی کے مختلف سرکاری اسپتالوں کے باہر خاموش اور علامتی احتجاج کر رہی ہے تاکہ عوام کو بتایا جا سکے کہ اگر اسپتالوں میں دوائیں دستیاب نہیں ہیں تو اس کی وجہ ریکھا گپتا حکومت کا مبینہ 650 کروڑ روپے کا گھوٹالا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ 100 کروڑ روپے کی ادویات 400 کروڑ روپے میں خریدی گئیں، یعنی 300 کروڑ روپے کا کمیشن کھایا گیا۔ اسی طرح 10 لاکھ روپے کی ایکس رے مشین 33 لاکھ روپے میں خریدی گئی، جس میں 103 کروڑ روپے کا کمیشن لیا گیا، جبکہ 150 روپے کی چادر 450 روپے میں خرید کر 50 کروڑ روپے کا کمیشن حاصل کیا گیا۔ ان کے مطابق مجموعی طور پر 650 کروڑ روپے کا گھوٹالا کیا گیا اور اس کے مبینہ ماسٹر مائنڈ راجیو رنگیلا کو جرمنی بھیج دیا گیا۔ سوربھ بھردواج نے کہا کہ دہلی حکومت ایک ماہ تک جانچ کے نام پر خاموش بیٹھی رہی اور اسی دوران مرکزی ملزم کو جرمنی فرار ہونے کا موقع مل گیا۔ جب اصل ملزم ہی ملک سے باہر چلا گیا تو اب جانچ کس کے خلاف ہوگی؟ حکومت صرف جانچ کا ڈرامہ کر رہی ہے۔بچوں کے مڈ ڈے میل میں چھپکلی نکلنے اور صحت سے کھلواڑ کے سوال پر سوربھ بھردواج نے کہا کہ حکومت ہر جگہ لوٹ مار میں مصروف ہے۔ غلط طریقے سے ٹینڈر دیے جا رہے ہیں اور بھاری کمیشن لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سی بی آئی، ای ڈی اور اے سی بی غیر جانبدارانہ کارروائی نہیں کر رہیں، کیونکہ جن لوگوں پر الزامات ہیں وہی جانچ کو متاثر کر رہے ہیں۔اس موقع پر براڑی سے آپ کے ایم ایل اے سنجیو جھا نے کہا کہ دہلی حکومت نے صرف ادویات اور اسپتالی سامان کی خریداری میں ہی 650 کروڑ روپے کا گھوٹالا کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 400 کروڑ روپے کی ادویات خریدنے کا ریکارڈ دکھایا گیا، جبکہ حقیقت میں صرف 100 کروڑ روپے کی ادویات خریدی گئیں اور 300 کروڑ روپے کا براہِ راست گھوٹالا ہوا۔ ان کے مطابق یہ بات خود اے سی بی کی ایف آئی آر میں بھی سامنے آئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مختلف اشیا بازار قیمت سے 10 سے 12 گنا زیادہ قیمت پر خریدی گئیں۔سنجیو جھا نے کہا کہ جی ٹی بی اسپتال کے اندر پھٹے ہوئے بستر موجود ہیں، مریضوں کے لیے مناسب سہولتیں نہیں ہیں اور نہ ہی علاج کا مناسب انتظام ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے اسپتالوں کو بھی بدعنوانی کا مرکز بنا دیا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اے سی بی کی ایف آئی آر درج ہونے کے بعد کیا اس ٹھیکیدار کو گرفتار کیا گیا جس پر بدعنوانی کے الزامات ہیں؟ کیا متعلقہ وزیر نے استعفیٰ دیا؟ ان کے مطابق اگر وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا یہ سمجھتی ہیں کہ اس معاملے کو دبا دیا جائے گا تو ایسا نہیں ہوگا۔سنجیو جھا نے مزید کہا کہ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اے سی بی کی کارروائی صرف دباؤ بنانے کے لیے تھی تاکہ لوٹ کی رقم صرف وزیر صحت تک محدود نہ رہے بلکہ وزیر اعلیٰ تک بھی پہنچے۔ اگر اس معاملے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو عام آدمی پارٹی اسپتالوں کے باہر مسلسل احتجاج جاری رکھے گی اور اسمبلی میں بھی یہ معاملہ اٹھاتی رہے گی۔اس دوران کونڈلی سے آپ کے ایم ایل اے کلدیپ کمار نے کہا کہ حکومت نے دہلی کے عوام کی دوائیں بھی کھا لی ہیں، اسی لیے آج اسپتالوں میں دوائیں دستیاب نہیں ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ 2.5 روپے کا او آر ایس پیکٹ 15 روپے میں اور 150 روپے کی چادر 450 روپے میں خریدی گئی۔ ان کے مطابق حکومت نے 15 سینئر افسران کو نظرانداز کرتے ہوئے اور ویجیلنس جانچ زیر التوا ہونے کے باوجود ڈاکٹر وتسلا اگروال کو ڈی جی ایچ ایس کا سربراہ مقرر کیا۔کلدیپ کمار نے کہا کہ اگر حکومت نے صرف ڈیڑھ سال میں ہی ایسے کارنامے انجام دیے ہیں تو اس سے اس کی آئندہ کارکردگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ حکومت دہلی کو لوٹنے والی حکومت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج عوام علاج کے لیے پریشان ہیں جبکہ 650 کروڑ روپے کا گھوٹالا کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کو فوری طور پر وزیر صحت سے استعفیٰ لینا چاہیے اور غیر جانبدارانہ جانچ کے لیے خود بھی استعفیٰ دینا چاہیے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اس گھوٹالے کی رقم کن کن افراد تک پہنچی۔سی بی آئی اور ای ڈی سے جانچ کرانے کے مطالبے پر کلدیپ کمار نے کہا کہ اگر یہ ایجنسیاں چھوٹے معاملات میں کارروائی کر سکتی ہیں اور مبینہ شراب گھوٹالے میں اروند کیجریوال کو چھ ماہ تک جیل میں رکھ سکتی ہیں تو پھر 650 کروڑ روپے کے اس مبینہ گھوٹالے میں کارروائی کیوں نہیں ہو رہی؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ کے خلاف بھی کارروائی کی جائے تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آ سکے۔کلدیپ کمار نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کا یہ احتجاج عوام کو حقیقت سے آگاہ کرنے کے لیے ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے صرف ڈیڑھ سال میں عوام کو لوٹا ہے اور 650 کروڑ روپے کا دوا گھوٹالا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں دوائیں کیوں نہیں مل رہیں، ٹیسٹ کیوں نہیں ہو رہے اور مریضوں کی لمبی قطاریں کیوں لگی ہوئی ہیں، اپوزیشن یہ سوالات اٹھاتی رہے گی۔ ان کے مطابق حکومت اپنے قریبی افسروں کو اہم عہدوں پر بٹھا کر ان کے ذریعے عوامی وسائل کی لوٹ میں ملوث ہے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

موسلا دھار بارش، سڑکیں ندیوں میں تبدیل

Published

on

نئی دہلی :موسلا دھار بارش نے دہلی-این سی آر میں تباہی مچا دی ہے۔ کئی مقامات پر سڑکیں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ بازاروں کا برا حال ہے۔ سڑکیں پانی میں ڈوبی نظر آتی ہیں۔ دہلی، نوئیڈا اور گروگرام میں مختلف مقامات پر ٹریفک جام ہوگیا۔ نوئیڈا میں ایک عمارت کا کچھ حصہ منہدم ہو گیا، کئی گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں۔ دریں اثناء روہنی میں کل رات شدید بارش کے دوران ایک عمارت گرنے سے چار لوگوں کی موت ہو گئی۔ موسلا دھار بارش سے پانی جمع ہو گیا ہے۔ پولیس نے ٹریفک ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ غازی آباد ضلع کے اسکول آج بند ہیں۔دہلی میں بارش کی وجہ سے کیلاش کے مشرق میں راجہ دھیر سنگھ مارگ پر دو درخت گر گئے، جس سے علاقے میں ٹریفک میں خلل پڑا۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ ڈی ایف ایس کو صبح 3:40 بجے اطلاع ملی کہ راجہ دھیر سنگھ مارگ پر اسکون مندر کے قریب ایک درخت گر گیا ہے۔ اسی سڑک پر نیشنل ہارٹ انسٹی ٹیوٹ کے باہر ایک اور درخت بھی گرا۔وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے شالامار گاؤں میں پانی جمع ہونے سے نمٹنے کے لیے نکاسی آب کے انتظامات کا معائنہ کیا۔ انہوں نے وہاں موجود عہدیداروں کو پانی کی مناسب نکاسی کے لئے ہدایات بھی دیں۔ دہلی حکومت اور تمام محکمے دہلی میں مانسون کی شدید بارشوں کے درمیان پانی جمع ہونے سے نمٹنے کے لیے تندہی سے کام کر رہے ہیں۔بدھ کی رات سے جاری موسلادھار بارش نے غازی آباد شہر میں معمولات زندگی کو مکمل طور پر درہم برہم کر دیا ہے۔ وسندھرا سیکٹر 13 میں ایک پرائیویٹ کنسٹرکشن سائٹ سیلاب میں ڈوب گئی۔ جس کی وجہ سے سڑک کنارے کھڑی کار اور اسکوٹر بھی مٹی کے ساتھ دھنس گئے۔ علاقہ مکینوں نے کسی بڑے حادثے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔وسندھرا سیکٹر 13 میں زمین کے ایک بڑے پلاٹ پر ایک طویل عرصے سے تعمیراتی کام جاری ہے۔ اس جگہ پر ایک ٹین شیڈ نصب ہے۔ تہہ خانے کی کھدائی کے بعد نیچے کام جاری تھا۔ بدھ کی رات سے ہونے والی بارش کا پانی تہہ خانے میں بھر گیا، جس سے مٹی کا کٹاؤ ہوا اور یہ غار میں داخل ہوگیا۔ جمعرات کی صبح تقریباً 11 بجے، سڑک کے کنارے کی مٹی بھی دھنس گئی۔ وہاں کھڑی ایک اسکوٹر اور ایک کار بھی مٹی کے ساتھ گر گئی۔ اس سے نیچے سیوریج لائن کو بھی نقصان پہنچا، جس سے مزید پانی جمع ہو گیا۔ جگہ پر نصب بجلی کا کھمبہ کسی بھی وقت گر سکتا ہے۔ مقامی لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔ ہاؤسنگ اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل کے ایگزیکٹیو انجینئر نکھل مہیشوری نے کہا کہ انہیں ابھی ابھی اطلاع ملی ہے۔ زیر تعمیر تعمیرات کی تحقیقات کے لیے ایک ٹیم بھیجی جائے گی۔ ان معلومات کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔آئی ایم ڈی نے دہلی کے لیے ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آج دوپہر میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش اور بجلی گرنے کا امکان ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق مانسون وسطی بھارت سے شمال کی طرف منتقل ہو کر ہمالیہ کے دامن تک پہنچ گیا ہے جس کے باعث گزشتہ دو روز سے مسلسل بارشیں ہو رہی ہیں۔ آئی ایم ڈی کے مطابق، دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت 24.3 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 3.6 ڈگری کم ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network