دلی این سی آر
اردو اکادمی دہلی کے زیرِ اہتمام سمر کیمپ اور اردو تھیٹر ورکشاپ کا شاندار انعقاد
(پی این این)
نئی دہلی:اردو زبان و ثقافت کے فروغ اور اسکولی بچوں کی شخصیت سازی کے مقصد سے اردو اکادمی دہلی کی جانب سے اکیس روزہ سمر کیمپ کا انعقاد کیا گیا جو 15 مئی سے 4 جون 2025 تک جاری رہا۔ اسی کے ساتھ 20 مئی تا 20 جون 2025 اردو تھیٹر ورکشاپ کا اہتمام کریسنٹ پبلک اسکول، دریا گنج اور کریسنٹ اسکول، موج پور میں کیا گیا، جہاں معروف تھیٹر شخصیات شاہین شیخ اور فہد خاں نے بچوں کو ایک ماہ تک ڈرامے کی باقاعدہ تربیت دی۔
یہ سمر کیمپ اور اردو تھیٹر ورکشاپ اردو اکادمی دہلی کے ذمہ داران و کارکنان کی خصوصی دلچسپی کے باعث ممکن ہو سکی،جنھوں نے اس کیمپ کی کامیابی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس اقدام کا مقصد بچوں میں اردو زبان، تہذیب اور فنونِ لطیفہ سے محبت اور دلچسپی پیدا کرنا تھا اور یہ ایک سنجیدہ اور مؤثر کوشش ثابت ہوئی۔ کیمپ میں چھ سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا، جن میں شخصیت سازی (لازمی)، خطاطی، پینٹنگ، غزل سرائی، داستان گوئی اور اردو زبان دانی شامل تھیں۔ ہر طالب علم کے لیے شخصیت سازی کا کورس لازمی قرار دیا گیا تھا، جبکہ باقی پانچ میں سے دو سرگرمیوں کا انتخاب اختیاری تھا، یوں ہر طالب علم تین عملی سرگرمیوں میں شریک ہوا۔سمرکیمپ کے لیے دہلی کے مختلف اسکولوں سے 500 سے زائد طلبہ و طالبات نے آن لائن رجسٹریشن کرایا تھا جن میں سے 200 طلبہ و طالبات کو منتخب کیا گیا، جنھوں نے مختلف سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لے کر اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا خوب موقع پایا۔
23 اور 24 جون 2025 کو اردو تھیٹر ورکشاپ اور سمر کیمپ کے دوران تیار کردہ ڈراموں اور داستانوں کی پیش کش سری رام سینٹر، منڈی ہاؤس، نئی دہلی میں کی گئی۔ اس موقع پر مہمانِ خصوصی کے طور پر حکومتِ دہلی کے محکمہ فن، ثقافت و السنہ کی سکریٹری محترمہ رشمی سنگھ، آئی اے ایس نے شرکت کی۔ انہوں نے بچوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا:مجھے بے حد خوشی ہوئی اور یہ میرے لیے ایک حیران کن تجربہ ہے کہ اتنے کم وقت میں بچوں کے فن کو اس قدر خوبصورتی سے نکھارا گیا۔ اس کامیابی کے لیے تمام اساتذہ، ورکشاپ سے وابستہ افراد، بچوں کے والدین اور اردو اکادمی کے ذمہ داران مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ہماری کوشش رہتی ہے کہ بچوں کے ہنر کو بہتر سے بہتر طریقے سے نکھارا جائے اور اردو اکادمی، دہلی اس خواب کو حقیقت میں تبدیل کر رہی ہے۔ بچوں کی پیش کش دیکھ کر میں نہ صرف حیران ہوئی بلکہ اکادمی کی کارکردگی سے بے حد متاثر بھی ہوئی۔ مجھے یقین ہے کہ اردو اکادمی،دہلی بچوں کے علم و فن کو جِلا بخشنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔
23 جون کو کریسنٹ پبلک اسکول، دریا گنج میں تھیٹر ورکشاپ کے دوران تیار کردہ ڈراما ’’ملا نصرالدین‘‘ بچوں نے نہایت مہارت سے پیش کیا، جس کی ہدایت کار شاہین شیخ تھیں۔ اس ڈرامے میں بیس سے زائد بچوں نے حصہ لیا، جن میں اکثر کی عمر دس برس سے کم تھی۔ ڈرامے کا دورانیہ تقریباً چالیس منٹ تھا۔24 جون کو کریسنٹ اسکول، موج پور میں ورکشاپ کے دوران طلبا نے موسیقیت سے بھرپور ڈراما ’’ناک لے لو ناک‘‘ پیش کیا، جس کے ہدایت کارفہد خاںتھے۔ اس ڈرامے میں بھی بیس سے زائد بچوں نے مختلف کردار ادا کیے۔ اس کا دورانیہ بھی تقریباً چالیس منٹ تھا۔
دونوں دن بچوں نے مختصر ادبی تحریروں اور کہانیوں کو داستان کی شکل میں نہایت دلکش انداز میں پیش کیا۔ داستان گوئی کا ہنر معروف داستان گو ساحل آغا نے نہایت محنت اور لگن سے بچوں کو سکھایا۔پہلے دن جن کہانیوں کو پیش کیا گیا، ان میں ’’اردو‘‘ (عروبہ شیخ)،’’ادھورے خواب‘‘ (فاطمۃ الزہرا)، ’’بحر طویل‘‘ (محمد ریان پٹھان) اور’’گالیاں استاد کی اردو میں‘‘ (شفا سیفی) شامل تھیں۔دوسرے دن پیش کی گئی داستانوں میں ’’خسرو دریا پریم کا‘‘ (ایاز احمد سیفی)، ’’ماں کی دعا‘‘ (محمد توحید)، ’’میں بچ گئی ماں‘‘ (شفا ارشاد)،’’سچا دوست‘‘ (محمد ابوذر)،’’دوستی‘‘ (عروبہ ناز)،’’میرا نام اردو ہے‘‘ (افرا)،’’ایک آئینہ‘‘ (مومنہ خالد)،’’داستان امیر حمزہ‘‘(ریحان عارف)،’’دنیا کی سب سے لمبی داستان‘‘ (من تشا)، ’’شیر کا جال‘‘ (فاطمۃ الزہرا)، ’’داستان امیر خسرو‘‘ (محمد ساجد)، ’’حضرت بہلول دانا‘‘ (عائشہ و تسمیہ) اور’’داستان کرامت‘‘ شامل تھیں، جن میں تقریباً پچیس بچوں نے حصہ لیا۔
دونوں دن سری رام سینٹر کا آڈیٹوریم بچوں کے والدین، اساتذہ اور عام ناظرین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، اور ہر پیشکش کو بے حد سراہا گیا۔
اس موقع پر یہ اعتراف بھی بے حد ضروری ہے کہ اس سمر کیمپ اور ورکشاپ کو کامیاب بنانے میں شامل انسٹرکٹرز نے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے بچوں کی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اقرا قریشی (شخصیت سازی)، شمیم احمد اور زبیر احمد (خطاطی)، شیراز حسین عثمانی (پینٹنگ)، ذیشان ضمیر (غزل گائیکی)، سید ساحل آغا (داستان گوئی) اور نیہا ریاض، جاوید حسین، رضوان خاں اور ریاض احمد (اردو زبان دانی) نے نہ صرف اپنے اپنے فن میں مہارت سے بچوں کی رہنمائی کی بلکہ اْن کے اندر خود اعتمادی، جمالیاتی حس اور تخلیقی اظہار کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ یہ تمام اساتذہ واقعی ستائش کے مستحق ہیں جن کی محنت نے ان بچوں کو اس قابل بنایا کہ وہ بڑے اعتماد کے ساتھ اسٹیج پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں۔
دلی این سی آر
جامعہ ملیہ اسلامیہ میںمنایا گیاعالمی فیزیو تھیراپی ڈے
(پی این این)
نئی دہلی : سینٹر فار فزیوتھیرپی اینڈ ری ہیبیلی ٹیشن سائنسز ( سی پی آر ایس)جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ’عالمی یومِ فزیوتھیرپی ‘ دوہزار چھبیس‘ کے موقع پر مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا۔ ان سرگرمیوں کا مرکزی موضوع’’قلبی امراض اور فالج کی روک تھام، انتظام اور بحالی میں فزیوتھیراپی اور جسمانی سرگرمی کا کردار تھا‘‘۔
ان تقریبات کے سلسلے میں، سی پی آر ایس نے ’ابوالفضل آر ڈبلیو اے کے اشتراک سے پانچ ستمبر دوہزارچھبیس کو اوکھلا، نئی دہلی کے جامعہ نگر (ڈی-بلاک) میں واقع آرڈبلیو اے کے دفتر میں کمیونٹی کی سطح پر ایک مفت فزیوتھیراپی کیمپ منعقد کیا۔ اس کیمپ کا مقصد کمیونٹی کے اراکین میںدل کی صحت، فالج سے بچاؤ، جسمانی سرگرمی اور صحت و عملی خود مختاری کو برقرار رکھنے میں فزیوتھیرپی کے کردار کے بارے میں بیداری پیدا کرنا تھا۔ واضح ہو کہ یہ کیمپ ڈاکٹر معظم حسین خان کی نگرانی میں منعقد کیا گیا تھا۔تقریبات میں سات ستمبر دوہزار چھبیس کو کھیلوں کی سرگرمیاں بھی شامل تھیں، جن کا مقصد شرکا میں جسمانی سرگرمی اور دل کی صحت کو فروغ دینا تھا۔ جسمانی طور پر فعال رہنے کے لیے شرکا کو تحریک دی گئی جس کے لیے ان سے کہا گیا کہ وہ صحت مندانہ مقابلوں میں حصہ لیں۔
اس سلسلے میں بیڈمنٹن، والی بال، ریلے ریس، رسہ کشی، کھو-کھو اور بازو کی کشتی (آرم ریسلنگ) جیسی سرگرمیاں منعقد کی گئیں، جن سے شرکا کو اپنی جسمانی تندرستی وصحت، باہمی ہم آہنگی، قوتِ برداشت اور ٹیم ورک کو بہتر بنانے کے مواقع ملے۔ پروفیسر سورج کمار اور ڈاکٹر محمد شاہد رضا نے کھیلوں کاپروگرام کوآرڈی نیٹ کیا تھا۔ پروگرام کا اختتام آٹھ ستمبر دوہزار چھبیس کو یونیورسٹی پولی ٹیکنک آڈیٹوریم ،جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقدہ ایک سیمینار کے ساتھ ہوا، جس میں قلبی امراض اور فالج کی روک تھام، انتظام اور بحالی میں فزیوتھیرپی اور جسمانی سرگرمی کے کردار پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس لیکچر پروگرام میں طب اور فزیوتھیرپی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہرین نے شرکت کی۔
سر گنگا رام اسپتال کے سینئر کنسلٹنٹ فزیشن اور صدرِ ہند کے سابق معالج، ڈاکٹر محسن ولی (پدم شری) نے شرکا سے خطاب کیا۔ آئی ایس آئی سی ملٹی اسپیشلٹی اسپتال کی اسسٹنٹ پروفیسر اور آپریشنز ہیڈ ڈاکٹر رمشہ صدیقی، اور اپولو نالج کی کارڈیو ریسپائریٹری فزیوتھراپسٹ اور اسسٹنٹ ڈین ڈاکٹر برنالی بھٹاچاریہ نے بھی قلبی صحت، جسمانی سرگرمی اور بحالی سے متعلق اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار کیا۔ اس پروگرام کا انعقاد ڈاکٹر اقصی مجددی،اسسٹنٹ پروفیسر ، سی پی آر ایس،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور پروگرام انچارچ کی رہنمائی میں کیا گیا۔عالمی یومِ فزیوتھیرپی کی تقریبات کا انعقاد جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سی پی آر ایس کے ڈائریکٹر، پروفیسر مجومی ایم نوہو کی رہنمائی میں ہوا۔ان اقدامات کے ذریعے ، سی پی آر ایس،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے قلبی امراض کی روک تھام، فالج کے خطرے کو کم کرنے اور صحت یابی و بحالی میں معاونت کے لیے باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور عوامی آگاہی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
دلی این سی آر
برکس سمٹ: 35 سڑکیںٹریفک سے رہیں گی متاثر
نئی دہلی :دہلی والوں کے لیے یہ بہت اہم خبر ہے۔ 11 سے 13 ستمبر تک بھارت منڈپم میں منعقد ہونے والی برکس سمٹ کے لیے ٹریفک ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔ اس مدت کے دوران، بہت سی سڑکیں بند رہیں گی اور ڈائیورشن اپنی جگہ پر ہوں گے۔ ٹریفک پولیس نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے سفر پر جانے سے پہلے ایڈوائزری کو چیک کریں۔دہلی میں منعقد ہونے والی برکس سمٹ کے لیے ٹریفک ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ چوٹی کانفرنس 11 سے 13 ستمبر تک بھارت منڈپم میں ہونے والی ہے۔ تاہم غیر ملکی وفود اور خصوصی مہمانوں کی نقل و حرکت کے باعث 10 ستمبر سے 14 ستمبر تک ٹریفک کی پابندیاں جاری رہنے کی توقع ہے۔ سمٹ کے دوران 35 سے زیادہ سڑکوں کے متاثر ہونے کی توقع ہے۔ تقریباً 4,800 اہلکار ٹریفک کنٹرول کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔متاثر ہونے والی بڑی سڑکوں میں سردار پٹیل مارگ، مدر ٹریسا کریسنٹ، تین مورتی مارگ، اکبر روڈ، تیس جنوری مارگ، راجیش پائلٹ مارگ، سبرامنیم بھارتی مارگ، متھرا روڈ، موتی لال نہرو مارگ، ڈاکٹر ذاکر حسین مارگ، جن پتھ، اشوکا روڈ، براکھمبا روڈ، ٹالسٹائی مارگ، نتھل مارگ، نتھل مارگ، اے۔ مارگ، اے پی جے عبدالکلام روڈ، پریس انکلیو روڈ، لال بہادر شاستری مارگ، جوزف بروز ٹیٹو مارگ، اور لالہ لاجپت رائے مارگ۔نوئیڈا-مشرقی دہلی پر اثر: نوئیڈا اور مشرقی دہلی سے پرگتی میدان، وسطی دہلی اور شہر کے دیگر حصوں تک سفر کرنے والے لوگوں کو اہم رابطہ سڑکوں پر پابندیوں کی وجہ سے تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوارکا-دھولا کوان روٹ: دوارکا اور مغربی دہلی سے دھولا کوان، ہوائی اڈے اور وسطی دہلی جانے والے لوگوں کو وی وی آئی پی موومنٹ کے دوران ٹریفک جام اور موڑ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔جنوبی دہلی تشویش: مصری وفد کی ساکیت اور وسطی دہلی میں واقع اس کے ہوٹل کے درمیان نقل و حرکت جنوبی دہلی کے پہلے سے بھیڑ والے علاقوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے، خاص طور پر مصروف اوقات کے دوران۔ ٹریفک پولیس نے پہلے ہی یہ مسئلہ اٹھایا تھا اور وفد کی رہائش وسطی دہلی میں تبدیل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ریئل ٹائم نیویگیشن: ٹریفک پولیس نے آن لائن میپ سروسز کو تعینات کیا ہے۔
دلی این سی آر
ستیہ نکیتن حادثہ : قرول باغ اور چاندنی چوک سمیت 10 علاقوں میںچلے گا بلڈوزر
نئی دہلی :دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں ایک پی جی عمارت گرنے سے پانچ طلباء سمیت سات افراد کی موت ہو گئی۔ اس واقعہ سے سبق لیتے ہوئے، دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کی ٹیم خطرناک عمارتوں، غیر مجاز تعمیرات اور عمارت کے ضوابط کی خلاف ورزیوں کے خلاف اپنی بلڈوزر کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایم سی ڈی ٹیم کی بلڈوزر کارروائی قرول باغ اور چاندنی چوک سمیت 10 علاقوں میں جاری رہنے کی امید ہے۔ایم سی ڈی نے دہلی کے تمام 12 زونوں میں مسماری اور نفاذ کی کارروائیاں جاری رکھیں۔ یہ کارروائی ستیہ نکیتن میں ایک عمارت کے منہدم ہونے کے چند دن بعد ہوئی ہے، جس میں طلباء کے لیے ادائیگی کرنے والے مہمان (PG) کی رہائش تھی۔ سات افراد ہلاک اور کم از کم پانچ زخمی ہوئے۔لکشمی نگر، جگت پوری، اور پانڈو نگر جیسے علاقوں سے آنے والے مناظر میں ایم سی ڈی کی ٹیموں کو عمارت کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والے ڈھانچوں کے خلاف مسماری اور نفاذ کی کارروائیاں کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
پچھلے دو تین دنوں کے دوران، ایم سی ڈی کی ٹیموں نے وشواس نگر، مکھرجی نگر، جامعہ نگر، شاہین باغ، تلک نگر، کرم پورہ، قرول باغ، رمیش نگر، مانسروور گارڈن، چاندنی چوک، اور نہرو وہار میں بھی کارروائیاں کیں۔ ان علاقوں میں آپریشن جاری رہنے کی توقع ہے۔دریں اثنا، ایم سی ڈی نے 6 ستمبر کو ستیہ نکیتن میں منہدم ہونے والی عمارت سے ملحقہ عمارت کو کنٹرول شدہ انہدام کا کام دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ انہدام کا عمل مرحلہ وار اور کنٹرولڈ انداز میں کیا جا رہا ہے۔
یہ آپریشن دہلی بھر میں غیر مجاز تعمیرات، جائیدادوں کے غیر قانونی استعمال اور ساختی طور پر غیر محفوظ عمارتوں کے خلاف وسیع کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔ ستیہ نکیتن کی عمارت گرنے کے بعد اس مہم کو تیز کر دیا گیا ہے۔اس واقعے کے بعد شروع کی گئی حفاظتی تشخیصی مہم کے ایک حصے کے طور پر، MCD نے 7 سے 9 ستمبر کے درمیان 1,252 ادائیگی کرنے والی مہمان عمارتوں کا سروے کیا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق، 1 جون سے 9 ستمبر کے درمیان، شہری ادارے نے 1,053 مسماری کی کارروائیاں کیں، 491 جائیدادوں کو سیل کیا، اور 2,316 کو شوکاز نوٹس جاری کیا اور شہر بھر میں 7 سے 9 کو مسمار کرنے کے نوٹسز جاری کیے۔
-
بہار10 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
