Connect with us

دیش

موبائل پر آفات کی اطلاع دینے والی سروس کا افتتاح

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:شمال مشرقی خطہ کے مواصلات اور ترقی کے مرکزی وزیر، جیوترادتیہ سندھیا نےمرکزی داخلہ اور تعاون کے وزیر امیت شاہ کی رہنمائی میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے تعاون سے تیار کردہ ‘سیل براڈکاسٹ الرٹ سسٹم’ کا آغاز کیا۔حکومت کے مطابق، جدید نظام کو قدرتی آفات، ہنگامی حالات اور عوامی تحفظ سے متعلق اہم معلومات براہ راست شہریوں کے موبائل فون پر حقیقی وقت میں پہنچانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔رول آؤٹ کے ایک حصے کے طور پر، نظام کا ایک ملک گیر ٹیسٹ دن کے اوائل میں کامیابی کے ساتھ کیا گیا۔اس میں کہا گیا کہ ٹیسٹ کے دوران، ملک بھر میں موبائل صارفین کو ان کے آلات پر بیپ کی آواز کے ساتھ ہنگامی الرٹ پیغامات موصول ہوئے۔
حکام نے مزید کہا کہ اس اقدام کو قدرتی آفات، شدید موسمی واقعات اور دیگر ہنگامی حالات کے دوران معلومات کی تیز اور موثر ترسیل کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔پہلے دن میں، حکومت نے قدرتی آفات کے دوران تیاریوں کو مضبوط بنانے اور شہریوں کی حفاظت کے لیے ملک بھر میں دیسی موبائل ایمرجنسی الرٹ سسٹم کا تجربہ کیا۔سسٹم فی الحال این ڈی ایم اے کے ذریعہ جاری کردہ فلیش ایس ایم ایس پیغامات کی شکل میں پورے ہندوستان میں جانچ سے گزر رہا ہے۔
این ڈی ایم اے 2 مئی 2026 کو آپ کے علاقے میں سیل براڈکاسٹ الرٹس کی جانچ کرے گا۔ آپ کے موبائل فون پر پیغام موصول ہونے پر، کسی کارروائی کی ضرورت نہیں ہے۔ براہ کرم گھبرائیں نہیں۔حکام نے نوٹ کیا کہ انتباہات ایک بلند الارم ٹون اور موبائل فون پر ایک چمکتے ہوئے پیغام کے ساتھ دیے گئے تھے۔انتباہات کو مقامی انٹیگریٹڈ الرٹ سسٹم ‘SACHET’ کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے، جسے سینٹر فار ڈیولپمنٹ آف ٹیلی میٹکس (C-DOT) نے تیار کیا ہے، اور یہ بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے تجویز کردہ کامن الرٹنگ پروٹوکول پر مبنی ہیں۔
اس نظام کا مقصد سونامی، زلزلے، آسمانی بجلی گرنے اور انسانی ساختہ خطرات جیسے گیس کے اخراج یا کیمیکل کے واقعات سمیت تباہی اور ہنگامی صورتحال سے متعلق الرٹس کو ہدف بنائے گئے علاقوں میں موبائل صارفین تک پہنچانا ہے۔حکومت نے ماضی میں اس طرح کے متعدد ٹیسٹ کیے ہیں تاکہ ملک گیر رول آؤٹ سے پہلے سسٹم کی کارکردگی اور قابل اعتمادی کا اندازہ لگایا جا سکے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دیش

اتراکھنڈ:بہہ گیا 170فٹ لمبا برج، عام زندگی مفلوج،چھتیس گڑھ کے کئی کالج طلبا ندی میں لاپتہ،بہار میں 47 لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر

Published

on

نئی دہلی:اتراکھنڈ میں زبردست بارش ہورہی ہے۔ جس کی وجہ سے پتھوڑا گڑھ کے پل گاڑھ نالے پر بنا 170 فٹ لمبا بیلی برج تیز بہائو میں نذر ہوگیا۔ اس سے چین سرحد سے منسلک ویاس ، دارما اور چندوس دروں کا رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔جس سے عام زندگی مفلوج ہوگئی ہے، یہ برج 27 اگست ہی بنایا گیا تھا، کیونکہ پرانا پل 18 اگست کو چٹان گرنے سے ٹوٹ گیا تھا۔ ادھر چھتیس گڑھ کے جانجگیر چانپا میں ہسدیو ندی کے بہائو میں چار کالج طلبا بہہ گیے ہیں۔ صرف ایک طالب علم کی لاش ملی ہے۔ ولاس پور کے چوکسے پور کالج کے آٹھ طلبا وطالبات پکنک منانے گائوں پہنچے تھے۔ ندی کے کنارے سیلفی کے دوران ایک طالب علم کا پیر پھسلا جس کو بچانے کے لئے تین طلبا پانی میں کود گئے اور بہہ گئے۔
ادھر بہار میں سیلاب سے پندرہ اضلاع کے 47 لاکھ سے زیادہ افرا د متاثر ہیں۔ وہ رحت کیمپوں میں ہیں، گنگا سمیت کئی ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ یوپی کے چھبیس اضلاع بھی سیلاب کے نرغے میں ہیں۔ یہاں چار لاکھ کی آبادی متاثر ہے۔
21 ہزار سے زیادہ افراد محفوظ مقام پر پہنچائے گئے ہیں۔ کانپور انائو میں گنگا خطرےکے نشان تک پہنچ گئی ہے آس پاس کے علاقوں میں دس فٹ پانی بھرا ہوا ہے۔ ادھر راجستھان میں مانسون سرگرم ہوگیا ہے۔
ایم پی کے پندرہ ضلعوں میں بھاری بارش کا الرٹ ہے۔ جبکہ راجستھان میں 29 اضلاع میں بارش کا امکان ہے۔ راجستھان کے الور ، سوائی مادھو پور ، دوسہ میں تیز بارش سے سڑکوں پر پانی بھر گیا ہے۔ آر ایف بی کے جوان پانی نکالنے میں لگے ہوئے ہیں۔دموہ میں کئی علاقے ڈوب گئے ہیں۔

Continue Reading

دیش

برکس کے مشترکہ بیان میں پہلگام حملے کی مذمت،ہندوستان کی بڑی سفارتی کامیابی،دہشت گردی پر سخت پیغام

Published

on

نئی دہلی :برکس کے مشترکہ اجلاس میں ہندوستان کو بڑی سفارتی کامیابی ملی ہے۔ روس ، چین سمیت برکس کے ملکوں نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ظاہر ہے ان کا اشارہ پاکستان کی طرف تھا۔
برکس کے درمیان مشترکہ بیان جاری کرنے کا اتفاق ایسے وقت میں ہوا ہے جب مغربی ایشیا میں جنگ چل رہی ہے۔ اور ایران سعودی عرب ، یو اے ای کے الگ الگ نظریات ہیں۔ ہندوستان نے گفتگوکے ذریعہ اعتراض کو دور کرنے اور ارکان ممالک کے درمیان عام اتفاق بنانے میں اہم رول نبھایا ہے۔
واضح رہے کہ نئی دہلی میں منعقدہ دو روزہ برکس سربراہی اجلاس میں ہندوستان کو بڑی سفارتی کامیابی ملی ہے۔ بھارت منڈپم میں برکس کے رکن ممالک نے ’برکس نئی دہلی اعلامیہ 2026‘ کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔
تقریباً 45 صفحات پر مشتمل اس اعلامیے میں دہشت گردی کے حوالے سے جس زبان کا استعمال کیا گیا ہے، اسے ہندوستان کی طویل عرصے سے جاری تشویش کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اعلامیے میں پاکستان کا براہ راست نام نہیں لیا گیا، لیکن دہشت گردی کے خلاف اپنائے گئے سخت موقف میں ہندوستان کی اہم تشویش واضح طور پر نظر آتی ہے۔اعلامیے میں 22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ اس حملے میں 26 افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوئے تھے۔
برکس ممالک نے واضح طور پر کہا کہ دہشت گردی کسی بھی مقصد، کسی بھی مقام یا کسی بھی شخص کی جانب سے کی جائے، اسے کسی بھی صورت میں درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ رکن ممالک نے دہشت گردی کے لیے کسی بھی قسم کا جواز قبول نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا۔اعلامیے میں صرف دہشت گردانہ حملوں کی مذمت تک بات محدود نہیں رہی، بلکہ سرحد پار دہشت گردی، دہشت گردی کی مالی معاونت اور دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے خلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
ہندوستان طویل عرصے سے بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر سرحد پار دہشت گردی، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور انہیں محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ برکس ممالک نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے جوڑ کر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔برکس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ دہشت گردی کی کسی بھی کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے اور اسے مجرمانہ اور کسی بھی صورت میں ناقابل قبول سمجھا جاتا ہے، خواہ اس کے پیچھے کوئی بھی مقصد ہو، وہ کہیں بھی اور کسی کے ذریعے بھی کی گئی ہو۔اعلامیے میں 22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی بھی شدید مذمت کی گئی، جس میں 26 افراد کی جان گئی تھی اور کئی دیگر زخمی ہوئے تھے۔ برکس ممالک نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اس میں دہشت گردوں کی سرحد پار نقل و حرکت، دہشت گردی کی مالی معاونت اور انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا بھی شامل ہے۔اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ دہشت گردی کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔ برکس ممالک نے کہا کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تمام افراد اور ان کے حامیوں کو قومی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق جوابدہ بنایا جانا چاہیے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ برکس ممالک نے دہشت گردی کے خلاف اجتماعی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے تمام عناصر، ان کے مالی معاونین اور انہیں محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔

Continue Reading

انٹر نیشنل

امریکہ کے بعدبرطانیہ میں بھی بھاگوت کی پرزور مخالفت

Published

on

لندن:امریکہ کے بعد برطانیہ کی راجدھانی لندن کے میئر صادق خان کو سول سوسائٹی کے 20 تنظیموں نے مکتوب بھیج کر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے پروگرام کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔
مکتوب میں آر ایس ایس کو ایک تانا شاہ اور ملٹری فکر والی تنظیم بتایا گیا ہے۔ اور ایسا ہی ایک خط برطانیہ کے وزارت خارجہ کو بھی بھیجا گیا ہے۔ غورطلب ہے کہ گزشتہ ہفتہ امریکہ میں کئی ہندو تنظیموں نے آر ایس ایس سربراہ کے ’یونیورسل ون نیس سیلیبریشن ‘پروگرام کی مخالفت کی تھی ، مظاہرہ کیا تھا۔
موہن بھاگوت کا یہ پروگرام نیویارک شہر کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں منعقد ہوا تھا۔ لندن کی سوسائٹی کے تنظیموں نے مکتوب میں میئر کو گریٹر لندن اتھارٹی سے اپیل کرنے کو کہا کہ وہ موہن بھاگوت کو برطانیہ دورے کے درمیان آر ایس ایس کے ذریعہ منعقد پروگراموں کا بائیکاٹ کرے۔ موہن بھاگوت ہفتہ کے اختتام میں برطانیہ میں ہندنژاد طبقات کے لئے منعقد ایک پروگرام کو خطاب کریں گے۔
ان تنظیموں نے میئر صادق خان سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ آر ایس ایس کے پروگرام کیلئے جگہ کی اجازت نہ دیں۔ آرا یس ایس کے سو سال پورے ہونے کے موقع پر چلائے جارہے انٹرنیشنل آئوٹ ریچ پروگرام کے تحت بھاگوت کا دورہ امریکہ اور کینڈا میں ہوچکا ہے۔ دا انڈیپنڈنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق انھوں نے آر ایس ایس کو ایک تاناہی اور ملٹری فکر والی تنظیم قرار دیا ہے۔ جس سے یوروپین فاسی واد سے تحریک ملی تھی۔ اور تنظیم نے افسران سے یہ بھی کہا ہے کہ برطانیہ کے الگ الگ ثقافت والے سماج کی تحفظ کےلئے بھی نظم کیا جائے۔ اس مکتوب میں ہندوزفار ہیومن رائٹرس ، یوکے انڈین مسلم کونسل ، انڈیا لیبر سالیڈیٹری اور ساوتھ ایشیا سالیڈیٹری جیسی تنظیموں نے دستخط کئے ہیں۔ مکتوب میں خاص طبقات کی سیکورٹی کے لئے میٹروپولٹن پولیس کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بھی جانکاری مانگی گئی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network