Connect with us

Bihar

لالواور رابڑی پر جیتن رام مانجھی کے تبصرے پر روہنی آچاریہ برہم،میرے لیے والدین سے زیادہ کوئی اہم نہیں

Published

on

چھپرا :(پی این این)سارن لوک سبھا کی سابق امیدوار اور آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو کی بیٹی ڈاکٹر روہنی آچاریہ نے مرکزی وزیر اور ہم (سیکولر) کے سرپرست جیتن رام مانجھی کے لالو اور رابڑی دیوی کے بارے میں مبینہ توہین آمیز تبصرے پر سخت اعتراض کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس دنیا میں ان کے لیے والدین سے زیادہ کوئی اہم نہیں ہے۔روہنی نے کہا کہ آر جے ڈی کے ریاستی دفتر میں آنجہانی دشرتھ مانجھی کی 11ویں برسی کے موقع پر تیجسوی یادو نے غلطی سے دشرتھ مانجھی کے بجائے کا دو بار جیتن رام مانجھی کے نام کا ذکر کر دیا۔جس کو بنیاد بناتے ہوئے مسٹر مانجھی نے لالو اور رابڑی پر تبصرہ کیا۔آر جے ڈی کے سابق ترجمان ہرے لال یادو کے حوالے سے جاری ایک بیان میں روہنی نے کہا کہ اگر کوئی ان کے والدین کے بارے میں توہین آمیز یا غیر مہذب تبصرہ کرتا ہے تو وہ اسی زبان میں جواب دیں گی۔انہوں نے کہا کہ مانجھی نے اس طرح کے بیان سے ان کے والدین کے بارے میں غیر ضروری تبصرہ کیا۔روہنی نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ کسی فرد کا دفاع نہیں کر رہی ہیں اور وہ ہمیشہ سچ کو سچ کہنے کے اپنے موقف کو برقرار رہیں گی۔

 

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Bihar

ٹی آر ای-4 کے امیدواروں نے دی بہاربند کی وارننگ،ٹیچر ریکروٹمنٹ ایگزامینیشن کا اشتہار جاری ہونے کے بعدریاست میں شروع ہوا نیاتنازع،بہار حکومت کے خلاف محاذ کھولنے کا انتباہ جاری

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:ٹیچر ریکروٹمنٹ ایگزامینیشن (ٹی آر ای-4) کا اشتہار جاری ہونے کے بعد شروع ہوا تنازع تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ایک ہی مرحلے میں امتحان منعقد کرانے اور منفی مارکنگ ختم کرنے کے مطالبے کو لے کر جاری احتجاج کو اب خواتین امیدواروں کی بھی حمایت ملنے لگی ہے۔ کل گردنی باغ میں واقع دھرنا گاہ پر بڑی تعداد میں خواتین امیدوار بھی پہنچیں۔ وزیرِ تعلیم کے بیان سے ناراض امیدواروں نے بہار بند کی وارننگ دی ہے۔
طلبہ رہنما دلیپ کمار نے کہا کہ اگر محکمۂ تعلیم اور بی پی ایس سی نے جاری کردہ اشتہار میں ترمیم نہیں کی تو امیدوار بہار بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اس سلسلے میں جلد ہی باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ امیدواروں کے صبر کا امتحان نہ لے۔
امیدواروں نے مطالبہ کیا کہ بی پی ایس سی کے جاری کردہ اشتہار سے منفی مارکنگ اور دو مرحلوں میں امتحان لینے کی شرط فوری طور پر ختم کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹی آر ای-4 میں اچانک امتحان کے طریقۂ کار میں تبدیلی کرنا امیدواروں کے مفاد کے خلاف ہے۔ نئے امتحانی ضابطے ٹی آر ای-5 سے نافذ کی جانی چاہیے۔دوسری جانب وزیرِ تعلیم متھیلیش تیواری کے بیان کے بعد طلبہ میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ وزیرِ تعلیم نے کہا ہے کہ حکومت نے خالی آسامیوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں اور محکمۂ عمومی انتظامیہ اور بی پی ایس سی نے امتحان منعقد کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ طلبہ پی ٹی اور مینس امتحانات کے انعقاد کا خیرمقدم کر رہے ہیں۔ تاہم، امیدواروں کے تمام مطالبات پورے نہیں کیے جا سکتے۔
طلبہ رہنما دلیپ نے کہا کہ اگر حکومت نے طلبہ کے صبر کا امتحان لیا تو اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ حکومت وقت رہتے فیصلہ کرے، ورنہ احتجاج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریک میں بہار کے لاکھوں طلبہ کو شامل ہونے کی اپیل کی جائے گی۔بہار ٹیکنیکل سروس کمیشن کی جانب سے محکمۂ صحت کے تحت ڈریسر کی بھرتی کے معاملے میں امیدوار گردنی باغ میں واقع دھرنا گاہ پر ڈٹے رہے۔ منتخب ڈریسروں کو میرٹ لسٹ میں شامل کرنے سمیت مختلف مطالبات کو لے کر ریاست بھر سے ڈریسر امیدوار احتجاج میں شرکت کے لیے پہنچ رہے ہیں۔کل ساسارام سے ڈریسر کی امیدوار رانی اپنے معصوم بچے کو گود میں لیے دھرنے میں شامل ہوئیں۔ انہوں نے ڈریسر کی بھرتی کے عمل میں بے ضابطگی کا الزام لگاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ خامیوں کو دور کیا جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔

 

Continue Reading

Bihar

ارریہ:زرعی سائنس مرکز نے گاجر گھاس بیداری مہم کے تحت نکالی کئی ریلیاں

Published

on

ارریہ:(پی این این)گاجر گھاس بیداری مہم کرشی وگیان کیندر، ارریہ کے ذریعہ شروع کی گئی تھی جس کا مقصد کسانوں اور گاؤں والوں کو گاجر گھاس کے مضر اثرات اور کنٹرول کے بارے میں آگاہ کرنا تھا۔ RAWE کے طلباء نے KVK کے سائنسدانوں اور عملے کے ساتھ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
اس دوران سائنسدانوں نے گاجر گھاس سے ہونے والے زرعی، ماحولیاتی اور صحت سے متعلق نقصانات اور اس کے بروقت کنٹرول کے لیے سائنسی اقدامات سے آگاہ کیا۔
کاشتکاروں کو گاجر گھاس کے بیج بننے سے پہلے اسے کنٹرول کرنے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے آگاہ کیا گیا۔ مہم کے ذریعے گاجر گھاس سے پاک کھیتوں اور صاف ستھرا ماحول بنانے کا پیغام دیا گیا۔ KVK کے سائنسدانوں اور RAWE کے طلباء کی شرکت سے، مہم کو موثر اور عوامی بیداری پر مبنی بنایا گیا۔

Continue Reading

Bihar

ناظم امارت شرعیہ کے ہاتھوں علامہ بہاری ؒ کی حیات وخدمات پر مشتمل کتاب کا اجرا ء

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:پھلواری شریف ) دارالعلوم دیوبند کے مایہ ناز استاذالاساتذہ ، امام المنطق وا لفلسفہ حضرت علامہ محمد حسین بہاری کی حیات و خدمات اور اوصاف و کمالات پر ان کے صاحبزادے محترم مولانا احمد حسن قاسمی نے ایک جامع کتاب ’’سوانح حضرت علامہ بہاری‘‘ کے نام سے تصنیف کر کے ایک بڑا علمی کارنامہ انجام دیا۔
اسی طرح انہوں نے حضرت علامہ بہاری ؒکے شاگردوں کی طرف سے ایک طرح قرض کو ادا کیا، جس کے لیے وہ سب کی طرف سے مبارک باد کے مستحق ہیں،یہ باتیں ناظمِ امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال، مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے کتاب کی رسمِ اجرا کرتے ہوئے کہیں ، یہ رسمِ اجرا تقریب امارتِ شرعیہ، پھلواری شریف، پٹنہ میں منعقد ہوئی، جس میں ناظم صاحب نے کہا: حضرت علامہ دارالعلوم دیوبند کے ان ممتاز اساتذہ میں تھے، جنہیں محبین فخرِ بہار تک کہتے تھے، آپ بافیض وباکمال مدرس تھے ۔
اس موقع پرمرکزی دارالقضاء کے صدر قاضیِ شریعت مولانا مفتی محمد انظارقاسمی نے کہا کہ اگرچہ میں حضرت علامہ کی زیارت سے محروم رہا، مگر ان کے علمی کمالات کےاس قدر تذکرےسنےگویا کہ وہ شخصیت میرے لیے دید و شنید کے مانند ہو گئی، وہ بڑے باکمال اور صاحبِ علم تقویٰ ،عالمِ دین تھے۔امارتِ شرعیہ کے نائب ناظم مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نے کہا کہ مصنفِ کتاب نے حضرت علامہ کےتعلق سے بکھرے بکھرے ہوئے موتیوں کو پرو دیاہے تاکہ اس سے نئی نسل کو روشنی ملے، میری طرف سے وہ مبارک باد کے مستحق اور قابلِ ستائش ہیں،مولانا سہیل اختر قاسمی نائب قاضیِ شریعت نے کہا کہ حضرت علامہ کی شخصیت ہمہ جہت تھی، وہ ہرفن پر عبور رکھتے تھے، مگر منطق اور فلسفہ میں انہیں کمال درجہ کا درک تھا، مولانا مفتی وصی احمد قاسمی نائب قاضی امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ ،جھارکھنڈ و مغربی بنگال نے کہا کہ میں نے دارالعلوم دیوبند میں تعلیم کے دوران ان کے علمی کمالات کے بہت چرچے سنے، بلاشبہ علامہ بہاریؒ فخرِ بہار کے لقب کے مستحق تھے، مولانا رضوان احمدندوی نے کہا کہ حضرت علامہ میرے شفیق استاد تھے، ان کے پڑھانے کا انداز بڑا اچھوتا اور نرالا تھا، مولانا عطاء الرحمن مظاہری ناظم آزاد مدرسہ اسلامیہ ڈھاکہ، ضلع مشرقی چمپارن نے کہا کہ حضرت علامہ دارالعلوم دیوبند کے بے مثال مدرس تھے۔
اس موقع پر مصنفِ کتاب مولانا احمد حسن قاسمی ناظمِ تعلیمات آزاد مدرسہ اسلامیہ ڈھاکہ نے اپنے والدِ ماجد کی چندامتیازی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا کہ عرصے سے اس بات کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ ان پر کوئی کتاب مرتب کی جائے،میں نے اپنی سطح سے چند بکھری یادوں اور با توں کو جمع کر دیا ہےتاکہ وہ اگلی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہو،آخر میں رسمِ اجرا کی یہ تقریب دعا پر اختتام پذیر ہوئی ، اس تقریب میں امارتِ شرعیہ کے متعدد ذمہ داران و کارکنان نے شرکت کی ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network