Connect with us

Bihar

خانقاہ بشیریہ اصدقیہ میں 118 سالہ عرس شہودی اصدقی روایتی شان و شوکت کے ساتھ اختتام پذیر

Published

on

(پی این این)
بہار شریف:نالندہ کی تاریخی سرزمین پیر بیگہ شریف میں قطب عالم شیخ الجن والانس حضرت سیدنا خواجہ شاہ قیام اصدق الصادقی الچشتی الفخری النظامی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے خلف اکبر و جانشیں سند المحدثین قطب الارشاد حضرت علامہ الحافظ مولانا خواجہ غلام قطب الدین شاہ شہود الحق اصدقی الصادقی الچشتی رحمۃ اللہ علیہ کا 118 سالہ عرس شہودی اصدقی 18/17 ستمبر بروز جمعرات اور جمعہ مفکر اسلام سحبان الہند حضرت علامہ مولانا سید شاہ سیف الدین اصدق چشتی سجادہ نشیں خانقاہ بشیریہ اصدقیہ چشتی چمن پیر بیگہ شریف کی سرپرستی میں روایتی شان و شوکت کے ساتھ منعقد ہوا، 16 ستمبر بعدِ نمازِ عصر شہر بہار شریف کے حبیب خاں قبرستان میں شیخ طریقت، مجدد سلسلہ اصدقیت حضرت علامہ سید شاہ رکن الدین اصدق چشتی علیہ الرحمہ کے مزار پر انوار پر چادر پوشی، گل اندازی اور فاتحہ خوانی کا اہتمام ہوا، 17 ستمبر بروز جمعرات بعد نماز ظہر حلقہ ذکر و تقسیم لنگر اور بعد نماز مغرب آستانہ عالیہ میں حضرت خواجہ سیدنا شاہ شہود الحق اصدقی الصادقی الچشتی کی مزار مقدس پر چادر پوشی وگل اندازی کی رسم ادا کی گئی اور قوم و ملت کی امن و سلامتی کے لئے دعا مانگی گئی۔ بعد نماز عشاء گنبد موئے مبارک کے گراؤنڈ میں لنگر عام تقسیم کیا گیا۔
اس کے بعد خانقاہ بشیریہ اصدقیہ کے کمپاؤنڈ میں مفکر اسلام حضرت حافظ و قاری علامہ الحاج سید شاہ سیف الدین اصدق چشتی سجادہ نشیں خانقاہ بشیریہ اصدقیہ کی صدارت میں ایک عظیم الشان جلسہ میلاد النبی کا انعقاد ہوا تلاوتِ کلامِ مقدس سے محفل کا آغاز ہو۔
ا اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اگر آپ اپنے شیخ، پیر و مرشد سے محبت کرتے ہیں تو ان کی کتابوں کو خریدیں اور مطالعہ کریں تاکہ سیرتِ طیبہ، بزرگوں کے اقوال، قرآنی اسباق اور احادیث مبارکہ پڑھنے سمجھنے کا موقع مل سکے۔

مولانا موصوف نے کہا کہ حضرت علامہ سید شاہ رکن الدین اصدق چشتی علیہ الرحمہ کی کتابوں کا گہرائی سے مطالعہ کرو انہوں نے مکتوباتِ اصدقی، حیات اصدق، خطرات کے بادل، تاریخ ہجرت، آئینہ مخدوم جہاں، درس رسول ﷺ اور حضرت کی دیگر کتابوں کا مطالعہ کرکے بزرگان دین کی تعلیمات، ان کی خدمات، اور رشد و ہدایت پڑھ کر اپنے دلوں کو منور و مجلہ کرے، حضرت کی کتابیں پڑھ کر تمہیں خواجہ شاہ شہود الحق اصدقی چشتی اور خواجہ شاہ قیام اصدق الصادقی الچشتی کے مقام و مرتبہ کا پتہ چلے گا انہوں نے کہا کہ کتابوں کے ذریعہ بزرگوں کے طرزِ زندگی اور اخلاقِ حسنہ سے آگاہی ملتی ہے جو ہمارے کردار کو سنوارتی ہے۔ اس موقع پر ناظم عرس معمار قوم و ملت حضرت علامہ مولانا سید شاہ نور الدین اصدق چشتی مہتمم مدرسہ اصدقیہ مخدوم شرف نے کہا کہ اگر بزرگوں سے محبت ہے تو خانقاہ سے رشتہ مضبوط رکھیں، رشتہ مضبوط کرنے کا طریقہ باقاعدہ حاضری اور صحبتِ صالح بزرگانِ دین کے آستانوں پر باقاعدگی سے حاضری دیں۔ سجادہ نشیں کی صحبت میں وقت گزاریں، کیونکہ اچھے لوگوں کی بیٹھک انسان کے اخلاق اور سوچ کو بدل دیتی ہے۔ مولانا موصوف نے کہا کہ خانقاہی نظام کا اصل مقصد صرف حاضری دینا نہیں، بلکہ وہاں سکھائے جانے والے اسباق جیسے صبر، شکر، عاجزی، اور توکل کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہے، خانقاہوں میں ہونے والی ذکر کی محافل، درود شریف کی کثرت اور دعاوں میں شریک ہوں تاکہ دل کو روحانی طاقت ملے اور انہوں نے کہا کہ خانقاہیں ہمیشہ سے لنگر اور غریبوں کی مدد کا مرکز رہی ہیں۔ وہاں ہونے والے فلاحی کاموں اور لنگر وغیرہ میں اپنی استطاعت کے مطابق جانی یا مالی تعاون کریں، اور مریدوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ عرس شہودی اصدقی میں بلاناغہ تشریف لائے، اس کے بعد حافظ محمد فہیم اصدقی دھنبادوی، اور الحاج عبد السعید کوثر اصدقی رانچی نے یکے بعد دیگرے شیخ طریقت حضرت علامہ سید شاہ رکن الدین اصدق چشتی علیہ الرحمہ کی شان میں منقبت کے اشعار پڑھے جس کو سن کر تمام لوگوں کی آنکھیں آنسوؤں کی سوغات پیش کرنے لگی، بعدۂ قاری دانش رضا اور قاری ارشد اقبال نے نعتیہ کلام کے اشعار پڑھے، اس کے بعد حضرت مولانا سید شاہ ارشد افضلی فریدی اصدقی خانقاہ افضلیہ فریدیہ اصدقیہ نوادہ کے سجادہ نشیں نے کہا کہ حضرت خواجہ قیام اصدق چشتی نے ملک گیر سطح پر سفر کیا ملک کے گوشے گوشے میں احیائے دین اور تبلیغ تصوف کے لیے سرگرم رہ کر دین و ملت اور احکام و سنت کو استحکام بخشا اور عقائد باطنہ کی خوب خوب مخالفت و مدافعت کی، علامہ موصوف نے کہا کہ مجدد سلسلہ اصدقیت، شیخ طریقت حضرت علامہ الحاج سید شاہ رکن الدین اصدق چشتی علیہ الرحمہ کو مجھ سے بے حد محبت تھی انہوں نے آخری ملاقات میں کہا کہ آپ بلا ناغہ عرس شہودی اصدقی میں تشریف لائیں گے وہ ہمارے رہنما رہبر تھے اب کہاں ایسا رہبر و رہنما ملنے والا، اس کے بعد شہزادہ وقار ملت قاری محمد وقار تابش نے نعتیہ کلام کے بہترین اشعار پڑھ کر سامعین کے قلوب کو منور و مجلہ کیا بعدۂ محمد توصیف عالم اصدقی بہاری نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے کہا کہ حضرت علامہ سید شاہ رکن الدین اصدق چشتی علیہ الرحمہ نے ادارہ قائم کرکے بہار شریف والوں پر احسان کیا آج شہر کے ہر محلوں میں حضرت کے مدرسے کا حفاظ نظر آتا ہے اور نہ جانے ہم جیسے کتنے غلاموں کو اس در اصدق کی چوکھٹ پر لاکر کھڑا کردیا، اس کے بعد مولانا سید عابد اللّٰہ قادری نے اپنی ناصحانہ خطاب سے سامعین کو محظوظ کیا، مولانا محمد فرحان رضا ثقافی نے اپنی اصلاحانہ خطاب کے ذریعہ قوم مسلم کے اتحاد پر زور دیا، اس موقع پر ٹی پی آئی انگلش اسکول کے طلبا حافظ محمد عبید عالم اور شہنین احمد نے سورہ التین کی تلاوت کی اور ایک نے اس کا ترجمہ پڑھ کر سامعین کو محظوظ کیا 18 ستمبر بروز جمعہ بعد نماز فجر خانقاہ میں قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا۔ اس کے بعد 8 سے 9 بجے موئے مبارک کی زیارت کرائی گئی، اور آقا کریم ﷺ کی بارگاہ میں درود و سلام کا نذرانہ پیش کیا گیا، اس کے بعد 9 سے 1 بجے تک محفل سماع و فاتحہ خواجگان کے بعد مجلس اختتام کو پہنچا۔ بعد نماز جمعہ لنگر تقسیم کیا گیا۔ بعد نمازِ مغرب محفل ذکر منعقد ہوا عرس شہودی اصدقی میں ہندوستان کے مختلف صوبوں، شہروں، قصبوں سے علماء و مشائخ، مریدین، متوسلین، معتقدین ، معززین ، مخلصین اور عقیدت مندوں نے حاضری دے کر بزرگوں کے روحانی فیوض و برکات سے مالامال ہوئے۔ اس موقع پر معمار قوم و ملت حضرت علامہ سید شاہ نورالدین اصدق چشتی نے تمام علماء ومشائخ اور مریدین ، معززین ، معتقدین مخلصین ، متوسلین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ۔

Bihar

سیمانچل میں بیشتر اوقافی املاک بے تجاوزات اور عدم تحفظ کا شکار:مولانا طارق انور

Published

on

(پی این این)
پورنیہ:اوقاف کے امور کے فعال کارکن اور معروف سماجی کارکن مولانا سید طارق انور نے بہار، بالخصوص سیمانچل خطہ میں واقع قیمتی اوقافی املاک کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ، شفاف انتظام اور مؤثر استعمال کیلئے فوری اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ امید پورٹل کے آغاز سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ طویل عرصے سے چلی آرہی بے ضابطگیوں پر قابو پایا جائے گا، اوقافی املاک کا منظم ریکارڈ تیار ہوگا، غیر محفوظ اور متنازع اراضی کی نشاندہی ہوگی اور اوقاف کی املاک اپنے اصل مقصد اور عوامی فلاح کے لیے محفوظ ہوسکیں گی۔ تاہم اب تک زمینی سطح پر ایسی پیش رفت واضح طور پر نظر نہیں آرہی ہے جس سے عوام کی توقعات پوری ہوتی دکھائی دیں۔مولانا سید طارق انور نے کہا کہ بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ کی مؤثر توجہ اور مسلسل نگرانی نہ ہونے کے باعث سیمانچل کی متعدد وقف املاک آج بھی غیر قانونی قبضوں، مبینہ ناجائز استعمال، تجاوزات اور عدم تحفظ کے مسائل سے دوچار ہیں۔ انہوں نے پورنیہ کے بنمنکھی، کاجھا، گردا، مہندر پور، رام باغ، روٹا، امور اور بائسی سمیت متعدد علاقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں میں موجود وقف املاک کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات ضروری ہیں۔
انہوں نے خاص طور پر پورنیہ شہر کے رجنی چوک اور لکھن چوک کے درمیان واقع چہار دیواری والی وقف اراضی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قیمتی شہری اراضی کے تحفظ کے لیے متعلقہ وقف حکام کو بروقت قانونی اور انتظامی اقدامات کرنے چاہئیں، تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔مولانا نے کہا کہ سیمانچل کے دیگر اضلاع، خصوصاً ارریہ، کٹیہار اور کشن گنج میں بھی کروڑوں روپے مالیت کی متعدد اوقافی املاک کے سلسلے میں یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ وہ غیر مصرف، غیر محفوظ یا تنازعات سے دوچار ہیں۔ ایسی املاک کی باقاعدہ نشاندہی، دستاویزات کی جانچ اور قانونی تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے ایک اہم مسئلے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ بہت سی مساجد اور قبرستان آزادی سے قبل اور بعد سے مسلسل مسجد اور قبرستان کے طور پر استعمال ہوتے چلے آرہے ہیں، لیکن ان میں سے متعدد اراضی کا ریکارڈ اب تک وقف کے نام سے درست طور پر درج نہیں ہوسکا ہے۔ ایسی صورتحال میں متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تاریخی استعمال، دستیاب دستاویزات اور مقامی شواہد کی بنیاد پر ایسے مقامات کی قانونی حیثیت واضح کرنے اور ان کے تحفظ کے لیے مناسب راستہ نکالیں۔
مولانا طارق انور نے کہا کہ انہوں نے امید پورٹل پر سیمانچل کی متعدد اوقافی املاک کی تفصیلات اپ لوڈ کرنے کے عمل میں خود حصہ لیا ہے، اس لیے انہیں اس پورے معاملے کی پیچیدگیوں اور زمینی صورتحال کا براہِ راست ادراک ہے۔انہوں نے بتایا کہ امید پورٹل پر نئے اوقاف کے اندراج کے لیے سیمانچل کے درجنوں قبرستانوں اور دیگر اوقافی مقامات کے سلسلے میں درخواستیں دی گئی ہیں، لیکن مطلوبہ اور قدیم دستاویزات کی عدم دستیابی کے باعث متعدد معاملات میں رجسٹریشن کا عمل ابھی زیرِ التوا ہے۔
انہوں نے بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ سے مطالبہ کیا کہ ایسے معاملات میں صرف دستاویزات کی کمی کی بنیاد پر معاملہ زیرِ التوا رکھنے کے بجائے قانونی ماہرین، ریونیو حکام اور متعلقہ مقامی افراد کے تعاون سے دستاویزات کی تکمیل اور زمین کی تاریخی و موجودہ حیثیت کی جانچ کے لیے ایک مؤثر طریق? کار وضع کیا جائے، تاکہ ان اوقافی اراضی کا مستقبل محفوظ ہوسکے۔
مولانا سید طارق انور نے کہا کہ سیمانچل کی بہت سی وقف اسٹیٹس میں ایک طویل عرصے سے باقاعدہ انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل نہ ہونے کی وجہ سے بھی متعدد عملی اور انتظامی دشواریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ مقامی سطح پر اہلِ علاقہ اور وقف سے وابستہ افراد کی جانب سے کئی وقف اسٹیٹس کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی درخواستیں بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ، پٹنہ میں طویل عرصے سے زیرِ التوا ہیں، جس کے باعث ان اوقافی املاک کی نگرانی، دیکھ بھال اور قانونی تحفظ کا نظام مؤثر طور پر قائم نہیں ہوپا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وقف املاک کی حفاظت کے لیے مقامی سطح پر ذمہ دار، شفاف اور فعال کمیٹیوں کا قیام نہایت ضروری ہے۔ اس لیے وقف بورڈ کو چاہیے کہ زیرِ التوا درخواستوں کا ترجیحی بنیاد پر جائزہ لے، جہاں قانونی تقاضے مکمل ہوں وہاں بلاوجہ تاخیر کے بغیر کمیٹیوں کی تشکیل کا عمل مکمل کرے اور جہاں کوئی قانونی یا دستاویزی کمی ہو، وہاں درخواست گزاروں کو واضح طور پر اس کی نشاندہی کرکے ضروری رہنمائی فراہم کرے۔
آخر میں مولانا سید طارق انور نے کہا کہ اوقاف کسی فرد یا خاندان کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ ایک امانت ہیں۔ اس امانت کی حفاظت، درست ریکارڈنگ، قانونی تحفظ اور عوامی فلاح کے لیے استعمال یقینی بنانا متعلقہ وقف اداروں، انتظامیہ اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سیمانچل کی اوقافی املاک کے تحفظ کے لیے اب محض کاغذی کارروائی کے بجائے شفاف ریکارڈ، مؤثر نگرانی، قانونی معاونت اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ایسے میں انہوں نے عاجزانہ مگر واضح درخواست کرتے ہوئے کہا کہ بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ ان معاملات کو محض خط و کتابت، معلومات کے حصول یا رسمی کارروائی تک محدود نہ رکھے، بلکہ وقف املاک کے تحفظ، قانونی حیثیت کے تعین اور ریکارڈ کی تکمیل کے لیے ضروری ادارہ جاتی تعاون، قانونی رہنمائی اور عملی معاونت فراہم کرے، تاکہ قیمتی اوقافی املاک کو مزید نقصان، تجاوزات اور غیر قانونی تصرف سے محفوظ رکھا جاسکے اور یہ امانتیں آنے والی نسلوں کے لیے بھی برقرار رہیں۔

Continue Reading

Bihar

نئے سال سے تمام گاڑیوں کی آمدورفت کیلئے بحال ہوجائے گا وکرم شیلا پل،وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کیا اعلان

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کہا کہ وکرم شیلا پل پر نئے سال سے تمام گاڑیوں کی آمدورفت پہلے کی طرح شروع ہو جائے گی۔ گنگا کے پانی کی سطح مسلسل کم ہو رہی ہے۔ یکم اکتوبر سے بیلی برج کو کھولنے کا کام شروع کیا جائے گا۔ 31 دسمبر تک مستقل سلیب ڈالنے کا کام مکمل کر لیا جائے گا۔پل پر آمدورفت متاثر ہونے کے بعد دریائی راستے سے ٹریفک کی بحالی کی جائے گی۔ اس کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جہازوں اور کشتیوں کے ذریعے حفاظتی انتظامات کیے جائیں گے۔
وزیرِ اعلیٰ نے یہ اطلاع پولی ٹیکنک کالج میدان میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران دی۔ وزیرِ اعلیٰ مرکزی وزیرِ زراعت شیوراج سنگھ چوہان کے ساتھ سیلاب سے ہوئی تباہی کا جائزہ لینے بھاگلپور پہنچے تھے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق کام 30 نومبر تک مکمل کر لیا جانا تھا، لیکن گنگا کے پانی کی سطح میں غیر متوقع اضافے کے باعث شیڈول میں تبدیلی کرنی پڑی۔ پل کا سلیب گرنے کے بعد بی آر او کی مدد سے بیلی برج تعمیر کرکے آمدورفت بحال کی گئی تھی۔
قابلِ ذکر ہے کہ جب بیلی برج کھول کر پل کی بحالی کا کام شروع کیا جائے گا، اس وقت تہواروں کا موسم یعنی درگا پوجا، دیوالی اور چھٹھ اپنے عروج پر ہوگا۔ ایسے میں لوگوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔واضح ہو کہ 4 مئی کی نصف شب بھاگلپور کی جانب کا ایک سلیب ٹوٹ کر دریا میں جا گرا تھا، جس کے باعث پل پر آمدورفت مکمل طور پر متاثر ہو گئی تھی۔ پل کے ستون نمبر 133 کے قریب تقریباً 25 میٹر لمبا سلیب ٹوٹ کر گنگا میں گر گیا تھا، جس کی وجہ سے کئی دنوں تک بہار کے لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، حادثے کی پیشگی اطلاع مل جانے کے باعث پل پر آمدورفت روک دی گئی تھی، جس سے کسی بھی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
شمالی بہار کو جنوبی بہار سے جوڑنے والا وکرم شیلا پل سال 2001 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس پل کی لمبائی تقریباً 4.7 کلومیٹر ہے اور یہ دریائے گنگا پر تعمیر کیے گئے بڑے پلوں میں شمار ہوتا ہے۔بہار کو جوڑنے والے اس پل کا نام دنیا بھر میں معروف وکرم شیلا یونیورسٹی کے نام پر رکھا گیا ہے۔
یہ پل کٹیہار، ارریہ، کشن گنج، پورنیہ سمیت کئی اضلاع کو بھاگلپور اور جنوبی بہار سے جوڑتا ہے۔ اس پل کو بہار کی لائف لائن کہا جاتا ہے، کیونکہ آمدورفت کے ساتھ ساتھ تجارت کے نقطۂ نظر سے بھی اس کی بہت اہمیت ہے۔پل میں پہلے ہی دراڑیں پڑنے کی اطلاع محکمہ کو دے دی گئی تھی، لیکن بروقت مرمت کا کام نہیں کرایا جا سکا اور پل کا ایک حصہ منہدم ہو گیا۔ پل کا حصہ گرنے کے بعد پورے ملک میں اس معاملے پر زبردست سیاسی بحث چھڑ گئی تھی۔

 

 

Continue Reading

Bihar

وزیر کے سامنے ہی پارٹی پر سوال، ٹکٹ کے بدلے پیسے لینے کا الزام،امبیڈکر ہاسٹل میں ایل جے پی کارکن نے کھولا محاذ، مائیک کو لے کر وزیر سے ہوئی کھینچا تانی کی ویڈیو وائرل

Published

on

(پی این این)
گیا جی : پولیس لائن واقع امبیڈکر ہاسٹل کے معائنے کے دوران لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے ایک کارکن نے وزیر سنجے پاسوان کے سامنے ہی پارٹی تنظیم اور ٹکٹ کی تقسیم کو لے کر سوالات اٹھا دیے۔ کارکن نے پرانے اور زمینی سطح پر کام کرنے والے کارکنوں کو نظر انداز کئے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں کارکنوں کو متوقع عزت نہیں مل رہی ہے۔ ٹکٹ کی تقسیم میں پیسے لئے جانے کا بھی اس نے سنگین الزام لگایا۔ کارکن کے مسلسل اپنی بات رکھنے کے دوران مائیک لینے کو لے کر وزیر اور اس کے درمیان ہوئی کھینچا تانی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔
کارکن نے الزام لگایا کہ پارٹی دلتوں اور محروم طبقات کی آواز اٹھانے کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن انتخابات میں ٹکٹ دینے کے وقت زمینی سطح پر کام کرنے والے کارکنوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس نے پارٹی میں کارکنوں کی شمولیت اور انہیں تنظیم میں آگے بڑھانے کے نظام پر بھی سوال اٹھائے۔ پروگرام کے دوران کھلے طور پر تنظیم کے خلاف ناراضگی سامنے آنے کے بعد موقع پر موجود لوگوں میں بھی یہ معاملہ بحث کا موضوع بن گیا۔
وائرل ویڈیو میں کارکن مائیک لے کر اپنی بات رکھتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ اسی دوران وزیر سنجے پاسوان مائیک لینے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے بعد دونوں کے درمیان کچھ دیر تک کھینچا تانی ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
کارکن وزیر کی طرف انگلی اٹھا کر اپنی بات رکھتا ہوا بھی نظر آتا ہے۔ تاہم، وائرل ویڈیو کے مکمل پس منظر اور پورے واقعہ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ ہاسٹل کے معائنے کے دوران طلبہ کے مسائل کے ساتھ ہی پارٹی کارکن کی تنظیمی ناراضگی سامنے آنے سے پروگرام کا سیاسی پہلو بھی موضوعِ بحث بن گیا۔

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network