Connect with us

دلی این سی آر

50 فیصد لوگوں تک نہیں پہنچا ایس آئی آر کا اینیومریشن فارم:بھاردواج

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: دہلی میں جاری ایس آئی آر کے عمل کے تحت دیہات اور غیر مجاز کالونیوں میں رہنے والے 50 فیصد لوگوں تک اینیومریشن فارم نہیں پہنچا ہے۔
اس کے باوجود الیکشن کمیشن دعویٰ کر رہا ہے کہ اس نے 99 فیصد سے زائد اینیومریشن فارم لوگوں میں تقسیم کر دیے ہیں، جو زمینی حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ عام آدمی پارٹی کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے ایس آئی آر کے عمل میں ہونے والی بے ضابطگیوں کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ جب لوگوں کو اینیومریشن فارم ہی نہیں ملے گا تو وہ اسے بھر کر واپس کیسے جمع کریں گے اور ان کا ایس آئی آر کیسے ہوگا؟ گراؤنڈ رپورٹس کے مطابق، خاص طور پر دیہات اور غیر مجاز کالونیوں میں بڑی تعداد میں لوگوں تک فارم پہنچے ہی نہیں ہیں۔ کئی بی ایل اوز کے پاس اب بھی فارم پڑے ہوئے ہیں، لیکن انہیں تقسیم نہیں کیا جا رہا ہے۔ پیر کے روز آپ کے مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سوربھ بھاردواج نے کہا کہ دہلی میں ایس آئی آر کا عمل جاری ہے اور الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ 99 فیصد سے زائد اینیومریشن فارم تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
لیکن گراؤنڈ سے آنے والی رپورٹس بتا رہی ہیں کہ یہ بات پوری طرح غلط ہے۔ میڈیا سے اپیل ہے کہ وہ کسی گاؤں یا غیر مجاز کالونی میں جا کر لوگوں سے پوچھے تو تقریباً 50 فیصد لوگ یہی کہیں گے کہ ان کے پاس اینیومریشن فارم نہیں پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل اوز بڑی تعداد میں فارم اپنے پاس رکھے بیٹھے ہیں اور انہیں تقسیم نہیں کر رہے ہیں۔ کوٹھیوں اور ڈی ڈی اے فلیٹس میں فارم گھر گھر پہنچے ہیں، لیکن دیہات اور غیر مجاز کالونیوں میں، جہاں دہلی کی تقریباً 70 فیصد آبادی رہتی ہے، وہاں اینیومریشن فارم تقسیم نہیں کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب، براڑی سے رکن اسمبلی سنجیو جھا نے کہا کہ ایس آئی آر کے نام پر اتنی بڑی تعداد میں ووٹ کاٹے جا رہے ہیں، جس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ جن بی ایل اوز کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے، وہ لوگوں تک پہنچ ہی نہیں رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے حلقے براڑی کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بوتھ نمبر 64 پر کل 1670 ووٹ ہیں، لیکن صرف 510 فارم جمع ہوئے ہیں۔ بوتھ نمبر 158 پر 1460 ووٹوں میں سے صرف 427 فارم اور بوتھ نمبر 160 پر 1041 ووٹوں میں سے صرف 280 فارم ہی جمع کیے گئے ہیں۔ سنجیو جھا نے بتایا کہ ہر بوتھ پر صرف 30 سے 35 فیصد فارم ہی جمع ہوئے ہیں اور جب بی ایل اوز سے آگے کے عمل کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اوپر سے حکم ہے کہ باقی سبھی لوگوں کو شفٹڈ ظاہر کر دیا جائے، جس کا سیدھا مطلب ہے کہ شفٹڈ کے نام پر ان سب کے ووٹ کاٹ دیے جائیں گے۔سنجیو جھا نے ایک مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ایک شخص بی ایل او کو تلاش کرتے ہوئے اس کے پاس گیا تو بی ایل او نے کہہ دیا کہ اس کا ایس آئی آر پہلے ہی اتراکھنڈ میں ہو چکا ہے، جبکہ وہ شخص گزشتہ 30-40 سال سے دہلی میں رہ رہا تھا۔ جب میں نے اس کی جانچ کرائی تو معلوم ہوا کہ اس کا ایس آئی آر کہیں بھی نہیں ہوا تھا۔ بی ایل اوز محض خانہ پُری کر رہے ہیں اور سسٹم میں کسی بھی ملتے جلتے نام کو دیکھ کر، درست تصدیق کے بغیر ووٹ کاٹ رہے ہیں۔ سنجیو جھا نے کہا کہ غیر مجاز کالونیوں میں لوگ اتنے زیادہ تعلیم یافتہ نہیں ہیں، جس کا فائدہ اٹھا کر لاپروائی سے ان کے ووٹ کاٹے جا رہے ہیں۔ جون کی گرمی کی چھٹیوں کے دوران کرائے گئے پری ایس آئی آر کے دوران ہی تقریباً 13-14 لاکھ ووٹ کاٹ دیے گئے تھے اور اب جو لوگ گزشتہ مرتبہ ووٹ ڈال چکے ہیں، وہ شکایت کر رہے ہیں کہ ووٹر لسٹ میں ان کے نام موجود نہیں ہیں۔ سنجیو جھا نے عام آدمی پارٹی کی جانب سے الیکشن کمیشن سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یا تو اس عمل کی مدت میں توسیع کی جائے یا پری ایس آئی آر میں کاٹے گئے ووٹوں کے سلسلے میں کوئی حل نکالا جائے۔ اگر دہلی میں اسی طرح ایس آئی آر کرایا گیا تو غیر مجاز کالونیوں اور دیہات میں موجودہ ووٹوں کے صرف 30-40 فیصد ووٹ ہی باقی رہ جائیں گے اور گزشتہ مرتبہ کے مقابلے میں آدھے ووٹ رہ جائیں گے۔ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ ووٹ ڈالنے سے ایک بھی ووٹر محروم نہ رہے، لیکن اگر الیکشن کمیشن یہ طے کر لے کہ زیادہ سے زیادہ ووٹ کیسے کاٹے جائیں تو پھر جمہوریت ہی ختم ہو جائے گی۔وہیں، آپ کے سینئر لیڈر اور سابق رکن اسمبلی درگیش پاٹھک نے کہا کہ ایس آئی آر کے عمل پر ملک میں کافی بحث ہو چکی ہے۔ کچھ دن پہلے پنجاب میں بی جے پی کے ایک لیڈر کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسمبلی میں 25 سے 30 ہزار ووٹ کٹوا دو اور الیکشن جیت جاؤ۔ یہ کہنا کوئی مبالغہ نہیں ہوگا کہ آج دہلی میں جاری ایس آئی آر کے عمل کو بی جے پی نے پوری طرح اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ بی ایل اوز بہت نچلی سطح کے افسران ہوتے ہیں، جن پر دباؤ ڈال کر اور انہیں اراکین اسمبلی کے دفاتر میں بلا کر فہرستیں دی جا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں دہلی میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں کی جا رہی ہیں۔ درگیش پاٹھک نے دہلی میں رہنے والے کرایہ داروں کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خود میں اور سنجیو جھا کرائے کے مکان میں رہتے ہیں اور ہر چھ ماہ یا ایک سال میں اپنا گھر تبدیل کرتے ہیں۔ میں راجندر نگر میں رہتا ہوں اور اب تک تین مکان تبدیل کر چکا ہوں، جس کی وجہ سے میرا ووٹ بھی مختلف مقامات پر منتقل ہوا۔ حال ہی میں نئی جگہ منتقل ہونے کے بعد میں ووٹر لسٹ میں اپنا نام درج نہیں کرا سکا تھا، اس وقت بی ایل او ہمارے پرانے پتے پر گئے تھے۔ چونکہ لوگ ہمیں جانتے تھے، اس لیے رابطہ ہو گیا، لیکن عام لوگوں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔درگیش پاٹھک نے کہا کہ دہلی میں اتر پردیش، بہار، ہریانہ، پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں سے آ کر تقریباً 60 سے 70 فیصد لوگ کرائے کے مکانوں میں رہتے ہیں، جو اکثر اپنے گھر تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ آج ایسے تمام کرایہ داروں کے ووٹ کٹنے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن سے ہماری اپیل ہے کہ دہلی کے ایس آئی آر کے عمل کو دیگر ریاستوں کے مقابلے میں مختلف انداز سے دیکھا جانا چاہیے۔ دیگر ریاستوں میں تقریباً 80 فیصد علاقہ دیہی ہوتا ہے، جہاں کرایہ داروں کا مسئلہ نہیں ہوتا اور ہر گھر میں مکان مالک خود رہتا ہے۔ اس لیے الیکشن کمیشن کو دہلی کو ایک خصوصی معاملے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ درگیش پاٹھک نے بتایا کہ پولنگ افسران بھی کئی سطحوں پر اس مسئلے کو اٹھا رہے ہیں، لیکن اعلیٰ افسران پر دباؤ ہے کہ جلد از جلد اس عمل کو ختم کرکے ووٹ کاٹنے کا کام مکمل کیا جائے اور بی جے پی کو مطمئن کیا جائے۔ بی جے پی نے ہر بوتھ پر پارٹی کارکنوں اور پیسے دے کر لوگوں کو تعینات کرکے ووٹر لسٹ کو منظم کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ ہماری الیکشن کمیشن سے اپیل ہے کہ کرایہ داروں کے معاملے میں، جو دہلی کی ایک بہت بڑی آبادی ہیں، حساسیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور اس پورے عمل میں اصلاحات لانا ہوں گی۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

ایم پی اور ایم ایل ایز پر پارٹی چھوڑنے پر 10 سال کی لگے پابندی:سی جی پی

Published

on

نئی دہلی :کپل سبل نے ان ایم پیز اور ایم ایل اے پر 10 سال کی پابندی کی تجویز پیش کی ہے جو پیسے یا الیکشن لڑنے اور عوامی عہدہ رکھنے کے دباؤ کی وجہ سے پارٹیاں بدلتے ہیں۔ اس دوران کاکروچ جنتا پارٹی کے ارکان دو قدم آگے بڑھ گئے ہیں۔ایم پی اور ایم ایل ایز پر پارٹی چھوڑنے پر 10 سال کی پابندی! ایک کاکروچ کپل سبل سے دو قدم آگے بڑھ کر یہ مطالبہ کرتا ہے۔سینئر وکیل اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ کپل سبل نے ایسے ممبران پارلیمنٹ اور ایم ایل اے پر 10 سال کی پابندی لگانے کی تجویز پیش کی ہے جو پیسے یا دباؤ کی وجہ سے پارٹیاں بدلتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کے ٹکٹ اور نشان پر جیتنے والے اور پھر دوسری پارٹی میں شامل ہونے والے ایم پی اور ایم ایل اے کو ایک مدت کے لیے الیکشن لڑنے اور عوامی عہدہ رکھنے سے روک دیا جانا چاہیے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اس سے بھی زیادہ سخت سزا کا مطالبہ کر رہی ہے۔ CJP کے ترجمان سورو داس نے کہا، “ہمارے پہلے چارٹر آف ڈیمانڈز میں پہلے ہی ایسے لیڈروں پر الیکشن لڑنے اور 20 سال تک کسی بھی عوامی عہدے پر رہنے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔” اس سلسلے میں کاکروچ کپل سبل سے دو قدم آگے دکھائی دیتے ہیں۔ہارس ٹریڈنگ اینڈ ڈیموکریسی” پر ایک بحث میں سبل نے انحراف مخالف قانون اور آئین کے 10ویں شیڈول میں انضمام کی رعایت پر سوال اٹھایا۔ ان کا استدلال ہے کہ اگر کسی قانون ساز پارٹی کے دو تہائی ارکان کسی دوسری پارٹی سے منحرف ہو جاتے ہیں اور اسے “انضمام” سمجھا جاتا ہے تو بڑے پیمانے پر انحراف ایک جائز راستہ بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کا مقصد حقیقی سیاسی تنظیم نو کی حفاظت کرنا ہے، نہ کہ ایم ایل ایز کو پارٹی چھوڑنے سے بچانے کے لیے۔سبل نے کہا کہ انحراف کو روکنے کے لیے اگر ضروری ہو تو قانون کو پڑھا اور اس میں ترمیم کی جانی چاہیے۔
انہوں نے نااہلی کے مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لیے اسپیکر کی جگہ ایک آزاد ٹربیونل بنانے اور ایسے فیصلوں کے لیے ایک وقت مقرر کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔سورو داس نے سبل کی تجویز کا خیرمقدم کیا، یہ کہتے ہوئے کہ CJP کے پہلے کے چارٹر آف ڈیمانڈز میں اور بھی سخت دفعات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق پارٹی X کے ٹکٹ پر جیتنے والے لیکن پھر دباؤ یا رشوت کے تحت پارٹی Y میں شامل ہونے والے ایم پی اور ایم ایل اے کو 20 سال تک کسی بھی عوامی عہدے پر رہنے یا الیکشن لڑنے سے روک دیا جانا چاہیے۔داس نے سیاسی پارٹیوں کی تقسیم، ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے رخ بدلنے پر مجبور کرنے کے لیے 50-100 کروڑ روپے کی مبینہ رشوت، اور حکومتوں کا تختہ الٹنے کو ملک کے ساتھ غداری قرار دیا۔ انہوں نے موجودہ انسداد انحراف قانون کو فرسودہ قرار دیا اور تبدیلیوں کا مطالبہ کیا۔سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل کی طرف سے کسی بھی ایم پی اور ایم ایل اے پر پابندی لگانے کی تجویز کا جو پارٹی X کے نشان پر منتخب ہوتا ہے اور بعد میں پیسے کے لیے یا دباؤ میں پارٹی Y سے عیب دار ہوتا ہے۔ وہ 10 سال کی پابندی کا مطالبہ کرتا ہے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

صاف، جدید اور آسانی سے قابل رسائی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری : ریکھا گپتا

Published

on

نئی دہلی :دہلی کے شالیمار باغ علاقے کے رہائشیوں کو ایک نیا عوامی سہولت کا تحفہ ملا ہے۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے سنگل پور گاؤں کے لیبر چوک میں نئے تعمیر شدہ پبلک ٹوائلٹ کا افتتاح کیا۔ حکومت کے مطابق، اس سہولت کے کھلنے سے مقامی باشندوں کو صاف ستھرا اور بہتر عوامی بیت الخلا تک رسائی حاصل ہو گی۔ لیبر چوک کے علاقے میں روزانہ بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔ اس لیے پبلک ٹوائلٹ کی سہولت مقامی رہائشیوں کے ساتھ ساتھ راہگیروں اور آس پاس کام کرنے والے لوگوں کے لیے بھی کارآمد ثابت ہوگی۔ نئے ٹوائلٹ کو جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے، صاف اور آسان عوامی مقامات کو یقینی بنایا گیا ہے۔
اس پبلک ٹوائلٹ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ معذور افراد کی ضروریات کو بھی پورا کرتا ہے۔ پریشانی سے پاک استعمال کو یقینی بناتے ہوئے ان کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ اسے عوامی سہولیات کو سب کے لیے قابل رسائی بنانے کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جاتا ہے۔ بیت الخلا کی صفائی اور باقاعدہ دیکھ بھال کے بھی انتظامات کیے گئے ہیں۔ سہولت کی دیکھ بھال اور صارفین کی ضروریات کی نگرانی کے لیے ایک نگران مقرر کیا گیا ہے۔ اس سے ٹوائلٹ کی صفائی کو برقرار رکھنے اور عوام کے لیے بہتر تجربہ فراہم کرنے میں مدد کی توقع ہے۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے دارالحکومت میں شہری سہولیات کو مستحکم کرنے کے لیے جاری کوششوں پر زور دیا۔ دہلی حکومت کا کہنا ہے کہ شہر صاف، جدید اور آسانی سے قابل رسائی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اپنے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل بڑھا رہا ہے۔ دہلی کے مختلف علاقوں میں شہری سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے مختلف سرکاری محکمے مل کر کام کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد شہر کے قریبی علاقوں میں ضروری سہولیات فراہم کرنا اور روزمرہ کی زندگی کو آسان بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہلی میں صاف ستھرے اور جدید عوامی بیت الخلاؤں کی کمی کو دور کرنے کے لیے دہلی ٹورزم کو سڑکوں اور بازاروں میں ایک ہزار بیت الخلا کمپلیکس بنانے کا ہدف دیا گیا ہے۔ ان میں مردوں، خواتین اور معذور افراد کے لیے تین الگ الگ یونٹ ہوں گے، جبکہ خواتین کے لیے سینیٹری نیپکن کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔ چوبیس گھنٹے کیئر ٹیکر، ہر 20 کمپلیکس پر ایک سپروائزر اور جدید صفائی کی مشینوں کے ساتھ ان کی دیکھ بھال براہ راست حکومت کرے گی۔ دہلی کے باشندوں اور یہاں آنے والے سیاحوں کے لیے یہ سہولت مکمل طور پر مفت ہوگی۔

 

Continue Reading

دلی این سی آر

دہلی کے اسٹریٹ وینڈرز کے لیے ایک بڑی راحت

Published

on

نئی دہلی :دہلی ہائی کورٹ نے ایم سی ڈی اور این ڈی ایم سی کو ہدایت دی ہے کہ وہ سٹریٹ وینڈرز کے سامان کو ضبط کرنے کے 24 گھنٹے کے اندر ضبطی میمو جاری کریں۔ مزید برآں، عدالت نے ضبطی کے پورے عمل کی ویڈیو ٹیپنگ کا حکم دیا ہے۔ اس عدالتی فیصلے کو سڑکوں پر دکانداروں کی بڑی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔
ریہری پتری ایکتا منچ نے میمو جاری نہ ہونے کی شکایت کرتے ہوئے مفاد عامہ کی عرضی دائر کی۔جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ اور وکاس مہاجن کی بنچ نے حکم دیا کہ ایم سی ڈی اور این ڈی ایم سی اسٹریٹ وینڈرس کے سامان کو ضبط کرنے کے عمل کی ویڈیو ٹیپ کریں اور 24 گھنٹے کے اندر ضبط شدہ سامان کا میمو جاری کریں۔ میمو میں ضبطی کی تاریخ، ضبط کیے گئے سامان کی فہرست، ان کے ذخیرہ کرنے کی جگہ (شیلف نمبر)، ضبط کیے گئے سامان کی تفصیلات، اور اس عمل کا ذمہ دار اہلکار شامل ہونا چاہیے۔
عدالت نے کہا کہ اگر جرمانہ ادا کرنا ہے تو جرمانے کی تفصیلات اور متعلقہ اہلکار بھی سڑک پر دکاندار کو فراہم کریں۔ عدالت نے یہ حکم 10 ستمبر کو ریہری پتری ایکتا منچ کی طرف سے دائر مفاد عامہ کی عرضی کے جواب میں جاری کیا۔ اس قانونی چارہ جوئی کا تعلق سڑک کے دکانداروں کے ذریعہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر سامان ضبط کرنے سے ہے۔ الزام یہ تھا کہ جب بھی سامان ضبط کیا جاتا ہے تو MCD اور NDMC ضبطی میمو جاری نہیں کرتے ہیں۔ایم سی ڈی اور این ڈی ایم سی پر بھی سامان کی فہرست فراہم نہ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ سامان ضبط کرنے کے بعد انہوں نے صرف جرمانے کی رسید جاری کی۔ ایم سی ڈی اور این ڈی ایم سی کے وکلاء نے دلیل دی کہ سامان ایک مخصوص وقت پر ضبط کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں، اہلکاروں نے موقع پر ہی ایک ضبطی میمو تیار کیا، جس سے دوسرے دکانداروں کو چوکس کر دیا گیا، جس سے انہیں فرار ہونے کا موقع ملا۔
ایم سی ڈی اور این ڈی ایم سی کے وکلاء نے یہ بھی کہا کہ پہلے سامان ضبط کیا گیا تھا، اور شام کو، ضبطی میمو کے ساتھ جرمانے کی رسید جاری کی گئی تھی۔ حکام نے ضبط شدہ سامان کو ذخیرہ کرنے کے لیے ایک گودام کا انتظام کیا۔ دکانداروں کا سامان مخصوص شیلفوں پر رکھا گیا تھا، جس کی رسید پر شیلف نمبر لکھا ہوا تھا۔ جرمانے کی ادائیگی کے بعد دکانداروں کو ان کا سامان واپس کر دیا گیا۔اس حکم کے بعد، ہائی کورٹ نے کہا کہ ایم سی ڈی اور این ڈی ایم سی سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اسٹریٹ وینڈرس (روزی کا تحفظ اور اسٹریٹ وینڈنگ کے ضابطے) ایکٹ 2014 کے سیکشن 19 کی تعمیل کریں گے۔
اس قانون کے تحت ضبط شدہ سامان کی فہرست تیار کرنا اور دکاندار کو ایک کاپی فراہم کرنا لازمی ہے۔ اگر موقع پر ضبطی کا میمو تیار کرنا ممکن نہ ہو، تو MCD اور NDMC کو ضبطی کے 24 گھنٹے کے اندر ایک میمو جاری کرنا چاہیے۔ عمل کی ویڈیو گرافی لازمی ہے۔

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network