Connect with us

اتر پردیش

اے ایم یوکے گلستانِ سید میں پھولوں کی تاریخی نمائش کا افتتاح

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے گلستانِ سید میں دیرینہ روایت کے مطابق پھولوں کی سالانہ نمائش کا افتتاح وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے کیا۔اے ایم یو میں پھولوں کی نمائش سال میں دو مرتبہ منعقد کی جاتی ہے، جو یونیورسٹی کی ایک منفرد پہچان ہے، کیونکہ ملک کا کوئی اور تعلیمی ادارہ پھولوں کی نمائش کی ایسی قدیم اور مسلسل روایت نہیں رکھتا۔ دہائیوں پر محیط یہ روایت باغبانی، جمالیاتی ذوق اور ماحولیاتی شعور کے فروغ کے تئیں یونیورسٹی کے عزم کی عکاس ہے۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر نعیمہ خاتون نے کہا کہ اے ایم یو کے فلاور شو محض فطرت کے حسن کا جشن نہیں بلکہ یہ یونیورسٹی کی ثقافتی اور ماحولیاتی وراثت کے تحفظ کے عزم کی علامت بھی ہیں۔ یہ تقاریب ہم آہنگی، نظم و ضبط اور پائیدار ترقی کے لیے اجتماعی کوشش کی نمائندگی کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے اقدامات طلبہ اور معاشرے کو پائیدار طرزِ زندگی کی طرف مائل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
نمائش میں مختلف زمروں کے تحت کثیر تعداد میں انٹریز موصول ہوئی ہیں جن میں باغات (یونیورسٹی، ادارہ جاتی اور نجی) کے زمرے میں 51 اندراجات اور گملوں میں موسمی پھولوں کے زمرے میں سب سے زیادہ 304 اندراجات شامل ہیں۔ کٹ فلاور کے زمرہ میں گلاب کے 57 جبکہ دیگر موسمی پھولوں کی 143 انٹریز اور آرائشی پودوں کے زمرے میں 80 انٹریز موصول ہوئی ہیں۔ خصوصی اقسام جیسے کہ سکیولنٹس، کیکٹس، یوفوربیا، پوئنسیٹیا، بوگن ویلیا اور بونسائی وغیرہ کی مجموعی طور سے 117 انٹریز آئی ہیں۔
اس نمائش میں وی سی لاج، پی وی سی لاج، رجسٹرار لاج، ایڈمنسٹریٹیو بلاک، ایس ایس ہال (جنوبی و شمالی)، سرسید ہاؤس، گلستانِ سید، گیسٹ ہاؤس نمبر 1، شعبہ حیوانیات، انجینئرنگ کالج، کینیڈی ہال، گیسٹ ہاؤس نمبر 2 اور 3، الیکٹریکل انجینئرنگ شعبہ، اے ایم یو گرلز اسکول، البرکات پبلک اسکول، وی جی نرسری سمیت یونیورسٹی، ادارہ جاتی اور نجی باغات شرکت کررہے ہیں۔افتتاحی تقریب میں مہمانِ اعزازی کے طور پرکنشک سریواستو (اے ڈی ایم سٹی)، پروفیسر عاصم ظفر (رجسٹرار) اور پروفیسر ایم اطہر انصاری (ڈی ایس ڈبلیو)، پروفیسر محمد نوید خان (پراکٹر)، نورالسلام (فنانس آفیسر)، پروفیسر نفیس احمد خان، پروفیسر سرتاج تبسم،پروفیسر قدسیہ تحسین اور پروفیسر ملک شعیب سمیت دیگر معززین شریک ہوئے۔

اتر پردیش

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں3 روزہ ادبی میلےکا آغاز

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ویمنس کالج لٹریری سوسائٹی کے زیر اہتمام ”لیٹریٹی 2026“ کے عنوان سے تین روزہ ادبی میلہ کا آغاز ہوا۔
افتتاحی تقریب کی مہمان خصوصی پروفیسر وبھا شرما، ممبر انچارج،دفتر رابطہ عامہ نے اپنے خطاب میں افکار، اظہار اور شناخت کی تشکیل میں ادب کی پائیدار اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے طالبات کو ادبی سرگرمیوں میں جوش و خروش کے ساتھ حصہ لینے کی ترغیب دیتے ہوئے بامعنی مکالمے، تنقیدی سوچ اور تیزی سے ڈیجیٹل ہوتے ہوئے دور میں مادری زبان کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ پروفیسر وبھا شرما نے ویمنس کالج لٹریری سوسائٹی کی سابق صدر کی حیثیت سے اپنے تجربات بیان کئے اور طالبات کو ایسے پلیٹ فارمز کو اظہار خیال، اعتماد سازی اور فکری ترقی کے لیے استعمال کرنے کی تلقین کی۔
اس سے قبل ڈاکٹر شگفتہ نیاز (شعبہ ہندی) اور ڈاکٹر شگفتہ انجم (شعبہ انگریزی) نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ادبی سوسائٹیز کے کردار کو اجاگر کیا جو تخلیقی صلاحیتوں اور تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔پروگرام کا آغاز ویمنس کالج کے پرنسپل پروفیسر مسعود انور علوی کے استقبالیہ کلمات سے ہوا۔ ویمنس کالج لٹریری سوسائٹی کی صدر بصرہ حسن رضوی اور نائب صدر مائشہ منال تاج نے معزز مہمانوں، اساتذہ اور طالبات کا خیرمقدم کیا۔اس موقع پر”لیٹریٹی 2026“ کے پوسٹر کی رونمائی کی گئی۔تقریب کے آخر میں نائب صدر مس مریم خان نے شکریہ کے کلمات ادا کئے۔
ادبی میلے کے پہلے دن ایک ڈبیٹ مقابلہ ”طلبہ کی سرگرمی اور احتجاج سیاسی امور میں ادارہ جاتی غیر جانبداری کو متاثر کرتے ہیں“ کے موضوع پر منعقد کیا گیا، جس کے جج ڈاکٹر زید مصطفیٰ علوی، ڈاکٹر یاسمین انصاری اور ڈاکٹر فوزیہ فریدی تھے۔ نظامت کے فرائض ضحیٰ اویس (پی آر ہیڈ) اور اثنا خان (گرافک ڈیزائن ہیڈ) نے انجام دئے، جبکہ ڈاکٹر صدف فرید نے مہمانوں کی گلپوشی کی۔فیسٹیول کے پہلے دز اوپن مائیک سیشن اور کھیلوں و ریفریشمنٹ پر مشتمل انٹرایکٹیو اسٹالز خاص توجہ کا مرکز رہے۔

Continue Reading

اتر پردیش

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بی ٹیک، بی کام اور بی بی اے پروگرامز کے داخلہ امتحانات منعقد

Published

on

(پی این این )
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے بی ٹیک /بی آرک اور بی کام /بی بی اے پروگرامز میں داخلہ کے لیے علی گڑھ، لکھنؤ، پٹنہ، کولکاتا، سری نگر اور کوژی کوڈ کے متعدد مراکز پر داخلہ امتحانات خوش اسلوبی کے ساتھ منعقد کیے۔صبح کے سیشن میں بی ٹیک /بی آرک کے داخلہ امتحان میں مجموعی طور سے 12,571 طلبہ نے شرکت کی، جبکہ ان پروگرامز کے لیے 14,405 امیدواروں نے فارم پُر کئے تھے۔ بی کام / بی بی اے کورسز کے لیے شام کے سیشن میں منعقدہ داخلہ امتحان کے لیے 3,813 امیدواروں نے فارم پُر کئے ہیں۔
اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے پراکٹر پروفیسر ایم نوید خاں اور دیگر یونیورسٹی حکام کے ہمراہ، کیمپس میں قائم مختلف امتحانی مراکز کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔ پروفیسر خاتون نے کہا کہ یونیورسٹی ایک شفاف، منصفانہ اور طلبہ دوست داخلہ عمل کو یقینی بنانے کے تئیں پُرعزم ہے اور امتحانات کے خوشگوار انعقاد کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے گئے۔کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر مجیب اللہ زبیری نے بتایا کہ امتحانات کے شفاف انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے علی گڑھ اور اس کے باہر کے مراکز پر سینئر فیکلٹی ممبران کو مشاہد کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۔
نیشنل سروس اسکیم (این ایس ایس) کی جانب سے امیدواروں کی مدد کے لئے ریلوے اسٹیشن اور دیگر اہم مقامات پر خصوصی امدادی مراکز قائم کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ غیرسرکاری تنظیموں، طلبہ اور غیر تدریسی عملے کی جانب سے بھی کیمپ لگائے گئے، جہاں امیدواروں اور ان کے سرپرستوں کو پینے کے پانی کے ساتھ دیگر سہولیات فراہم کی گئیں۔

Continue Reading

اتر پردیش

دارالعلوم دیوبند میں فائر فائٹرز نے موک ڈرل کے ذریعہ طلبا کو بتائے آگ سے حفاظت کے طریقے

Published

on

(پی این این )
دیوبند: فائر سروس سیفٹی ویک کے ایک حصے کے طور پر آج فائر بریگیڈ ٹیم نے عالمی شہرت یافتہ اسلامی تعلیمی ادارے دارالعلوم دیوبند میں ایک خصوصی آگاہی مہم چلائی۔اس دوران مدرسہ کے طلباء اور عملے کو آگ سے حفاظت کے طریقے سمجھائے گئے۔فائر آفیسر روہت کمار کی قیادت میں ٹیم نے دارالعلوم دیوبند کے طلبہ اور ادارے کے عملے کو آگ لگنے کی صورت میں بچاؤ اور امدادی کارروائیوں کے لیے عملی تربیت (ماک ڈرل) فراہم کی۔
انہوں نے آگ لگنے کی وجوہات اور ابتدائی مراحل میں اس پر قابو پانے کے طریقے بتائے۔ روہت کمار نے زور دے کر کہا کہ آگ لگنے کی صورت میں گھبرانا نہیں چاہیے۔ اکثر، گھبراہٹ میں آدمی غلط قدم کی طرف جاتا ہے، جو نقصان کو بڑھاتا ہے، ایسے حالات میں دستیاب آلات کو پوری ہوشیاری اور حوصلے کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ اس موقع پر طلبہ کی کثیر تعداد موجود تھی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network