Connect with us

بہار

وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے سیتامڑھی میں ترقیاتی کاموں کالیا جائزہ

Published

on

(پی این این)
سیتامڑھی:وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے ضلع سیتامڑھی میں واقع پُنورادھام مندر کی تعمیر اور پورے علاقے کے ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ پُنورادھام مندر احاطہ میں منعقد اس اہم اجلاس میں ضلع مجسٹریٹ رچی پانڈے نے پریزنٹیشن کے ذریعے مجوزہ ماں سیتا پُنورادھام مندر سے متعلق تمام کاموں کی پیش رفت اور مستقبل کے منصوبوں کی مکمل جانکاری دی۔ پریزنٹیشن میں بتایا گیا کہ پُنورادھام کو ایک بڑے مذہبی و سیاحتی مرکز کے طور پر ترقی دینے کے لیے یاتری سہولت مرکز، شاندار داخلی دروازہ، گربھ گرہ اور سیتا کنڈ کی ترقی، وسیع بلٹ اپ ایریا، پارکنگ کی سہولت، انتظامی عمارت، ریلوے اسٹیشن کی بہتری، ماں جانکی کے جنم کنڈ کے احاطہ کی بحالی، ماسٹر پلان، سیکورٹی کے نقطہ نظر سے ضروری اقدامات، مجوزہ سیتا میوزیم اور سیٹلائٹ ٹاؤن شپ جیسے اہم منصوبوں پر کام جاری ہے۔ بہار اسٹیٹ ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی جانب سے ان منصوبوں کی تفصیلات بھی تیار کی گئی ہیں۔ضلع مجسٹریٹ نے بتایا کہ مٹی کی جانچ اور سروے کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ بیریکیڈنگ کا کام جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی مندر احاطہ کے گربھ گرہ اور کنڈ کی مجموعی ترقی کا بھی منصوبہ ہے۔
جائزہ کے دوران وزیر اعلیٰ نے افسران کو سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ماں جانکی کے پُنورادھام مندر کی تعمیر 31 دسمبر 2028 تک ہر حال میں مکمل کی جائے۔ انہوں نے تعمیراتی کام کے معیار پر خاص توجہ دینے اور اسے اعلیٰ سطح پر مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پُنورادھام علاقے کو ایک منظم ٹاؤن شپ کے طور پر تیار کیا جائے گا۔ ساتھ ہی ماں سیتا کی زندگی سے جڑے تمام اہم مقامات کو پُنورادھام سے جوڑنے کا بھی انتظام کیا جائے گا تاکہ یہاں آنے والے عقیدت مند کچھ دن قیام کرکے زیارت اور سیاحت کر سکیں۔
وزیر اعلیٰ نے لکشمنہ ندی سے متعلق امور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کی تاریخی اور مذہبی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ترقیاتی کام یقینی بنائے جائیں۔ اجلاس سے قبل وزیر اعلیٰ نے ماں جانکی مندر، پُنورادھام میں جانکی کی جائے پیدائش (سیتا جنم کنڈ) پر پوجا پاٹھ کرکے ریاست کی خوشحالی، امن اور ترقی کی دعا کی۔ اس دوران انہوں نے مجوزہ مندر کے ماڈل کا بھی معائنہ کیا۔ مقامی عوامی نمائندوں، رہنماؤں، ضلع انتظامیہ اور پُنورادھام مندر انتظامیہ کمیٹی کے اراکین نے وزیر اعلیٰ کا گلدستہ، شال اور یادگاری نشان پیش کر کے استقبال کیا۔

Bihar

عہدِ حاضر میں پیشہ ورانہ تعلیم کے ساتھ ساتھ مہارت بھی ضروری:پروفیسر مشتاق

Published

on

(پی این این)
دربھنگہ:عصرِ حاضر میں دن بہ دن پیشہ ورانہ تعلیم کی اہمیت بڑھ رہی ہے کہ تمام شعبوں میں پیشہ ورانہ طورپر مہارت رکھنے والے افراد کی تلاش ہو رہی ہے ۔ایسے وقت میں تعلیمی اداروں میں نصاب کی کتابوں کے ساتھ ساتھ عصری تقاضوں کے مطابق طلبا کی ذہن سازی کرنی ہوگی۔ بالخصوص جو طلبا پیشہ ورانہ تعلیم میں داخل ہیں انہیں آغاز سے ہی یہ تربیت دینی ہوگی کہ وہ ڈگری کے ساتھ ساتھ ماہرانہ صلاحیت بھی حاصل کریں۔
ان خیالات کا اظہارپروفیسر مشتاق احمد ، پرنسپل سی۔ایم کالج، دربھنگہ نے کیا ۔ پروفیسر احمد کالج میں شعبۂ کامرس و بی بی اے، بی سی اے کے زیر اہتمام جی آئی ایم ایس، گریٹر نوئیڈا کے تعاون سے یک روزہ ورکشاپ بہ موضوع’’ پیشہ ورانہ تعلیم اور روزگار کے مواقع‘‘کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ پروفیسر احمد نے کہا کہ خاص کر کامرس اور منجمنٹ کے طلبا وطالبات کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر پیشہ ورانہ مہارت حاصل کریں تاکہ انہیں کامرس کے شعبے میں روزگار مل سکے۔
پروفیسر احمد نے کہا کہ اس ورکشاپ کے لئے ڈاکٹر راجیش کمار جھا( دہلی) اور ڈاکٹر چندرکانت سنگھ( جمشید پور)بطور مہمان مقرر تشریف لائے ہیں ۔ کالج خاندان کے تئیں اظہارِ تشکر پیش کرتا ہے کہ وہ ہمارے طلبا کو پیشہ ورانہ تعلیم کی اہمیت وافادیت اور روزگار کے مواقع کے نسخے سے آگاہ کریں گے ۔
آغاز میں شعبہ کامرس کے صدر پروفیسر للت شرما نے موضوع کا تعارف اور مہمانوں کا استقبال کیا ۔ پروفیسر دوّیا شرما نے اس موضوع کی غیر معمولی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔اس ورکشاپ میں کامرس کے علاوہ دیگر شعبے کے اساتذہ اور طلبا وطالبات بھی شامل تھے۔

Continue Reading

Bihar

میرزا غالب کالج کے سابق پروفیسر محمد وجیہُ الحق کا انتقال، کالج میں سوگ

Published

on

میرزا غالب کالج کے سابق پروفیسر محمد وجیہُ الحق کا انتقال، کالج میں سوگ
گیا جی : میرزا غالب کالج، گیا کے شعبۂ کیمیا کے سابق پروفیسر پروفیسر محمد وجیہُ الحق کا سنیچر کی صبح انتقال ہوگیا۔ وہ 76 برس کے تھے۔ ان کے انتقال کی خبر سے کالج خاندان اور تعلیمی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
پروفیسر وجیہُ الحق نے سن 1976 میں میرزا غالب کالج کے شعبۂ کیمیا میں اپنی خدمات کا آغاز کیا تھا۔ طویل عرصے تک تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد وہ سن 2015 میں سبکدوش ہوئے تھے۔ وہ شہرِ گیا کے باشندہ تھے اور اپنے سادہ مزاج، خوش اخلاقی اور بہترین طرزِ تدریس کے لیے جانے جاتے تھے۔ پسماندگان میں ایک فرزند محمد کاشف اور ایک دختر لبنیٰ بانو شامل ہیں۔ ان کے انتقال کے بعد کالج میں سوگ کا ماحول قائم ہے۔ کالج خاندان نے غمزدہ اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
کالج گورننگ باڈی کے صدر شبی عارفین شمسی، سکریٹری ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن خان اور پرنسپل ڈاکٹر محمد علی حسین نے پروفیسر وجیہُ الحق کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے انتقال سے تعلیمی دنیا کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔کالج کے میڈیا انچارج ڈاکٹر ابرار خان اور ڈاکٹر اکرم وارس نے بتایا کہ پروفیسر وجیہُ الحق ایک مخلص اور باصلاحیت استاد تھے، جنہوں نے اپنے طویل تدریسی دور میں ہزاروں طلبہ کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کیا۔

 

 

Continue Reading

Bihar

ارریہ میں جنتا دربار میں 57 مقدمات کی ہوئی سماعت

Published

on

(پی این این)
ارریہ:سات نشچئے تین کے تحت نافذ کئے گئے”سب کا سمان”، جیون آسان” پروگرام کے تئیں گزشتہ روز کلکٹریٹ کے پرمان آڈیٹوریم میں ایک عوامی سماعت منعقد ہوئی، جس کی صدارت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دوہن نے کی۔
میٹنگ کے دوران ضلع کے مختلف بلاکس کے عام شہریوں کی شکایاتیں سنی گئی۔ کل 57/ مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے، ضلع مجسٹریٹ نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ مقدمات کو فوری، منصفانہ اور مؤثر طریقے سے نمٹانے کو یقینی بنائیں!۔ عوامی سماعت میں موصول ہونے والی سب سے زیادہ شکایات محکمہ ریونیو اور لینڈ ریفارمز سے متعلق تھیں۔
مزید برآں، محکمہ سماجی بہبود، محکمہ داخلہ، محکمہ دیہی تعمیرات، محکمہ دیہی ترقی، محکمہ سپلائی، اور محکمہ تعلیم سے متعلق معاملات بھی عوام کی جانب سے پیش کئے گئے۔رانی گنج بلاک کی بسیٹی پنچایت کا باشندہ اظہر انصاری نے باسگیت( پرچی) سرٹیفکیٹ والی زمین کو تجاوزات سے آزاد کرانے کی درخواست کی۔ رانی گنج بلاک کے پارسا ہاٹ کے رہنے والے شبھم کمار مہتا نے مین روڈ کی مرمت کا مطالبہ کیا۔
نرپت گنج بلاک کے ریواہی کے رہنے والے محمد عین الحق نے زمین پر غیر قانونی قبضہ کی شکایت درج کرائی ہے۔ بھرگاما بلاک کے دھنیشوری کے رہنے والے کامیشور یادو نے پنچایت سکریٹری کی طرف سے خدمات کے فوائد کی ادائیگی سے متعلق شکایت درج کرائی۔
ارریہ میونسپل کونسل کے رہنے والے جیوچھلال بہادر اور چھویلال بہادر نے ماتا ویشاری کے مقام کو خوبصورت بنانے کی درخواست کی۔ رانی گنج بلاک کے حسن پور کی رہنے والی پنکی دیوی نے انو کمپا کی بنیاد پر بحال ڈیلر کے انتخاب کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

جوکی ہاٹ کے رہنے والے عظیم الدین نے ایک طالب علم کے اسکول میں داخلے سے متعلق شکایت درج کرائی۔ نرپت گنج بلاک کے بھنگی پنچایت کے رہنے والے نیگھو رام نے زمین کی پیمائش کے لئے درخواست دی۔ ضلع مجسٹریٹ نے تمام متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت دی کہ وہ جنتا دربار میں موصول ہونے والی درخواستوں کی بروقت کارروائی کو یقینی بنائیں!۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network