Connect with us

دیش

اے ایم یو میں رنگریزہ آرٹ فیسٹ کا آغاز، تخلیقی صلاحیتوں اور فنی اظہار کا رنگا رنگ جشن

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے یونیورسٹی فائن آرٹس کلب کے زیر اہتمام منعقد ہونے والا رنگریزہ آرٹ فیسٹ 2026 پرجوش انداز میں شروع ہوا۔ پہلے دن تخلیقی صلاحیتوں کا جشن منایا گیا، جس میں جوش و خروش، فنکارانہ اظہار اور بامعنی شرکت نمایاں رہی۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز صبح 11:30 بجے معزز مہمانوں کی موجودگی میں ربن کاٹنے کی رسم سے ہوا۔ اس موقع پر مہمانِ خصوصی سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز تھے، جب کہ مہمانانِ اعزازی میں پروفیسر محمد شمیم (چیئرپرسن،شعبہ تپ دق و امراض تنفس، جے این ایم سی، اے ایم یو)، ڈاکٹر عابد ہادی (چیئرپرسن، شعبہ فائن آرٹس)، ڈاکٹر وسیم مشتاق وانی (صدر، یو ایف اے سی)، پروفیسر بدر جہاں (مینٹور) اور پروفیسر محمد رضوان خان (کوآرڈینیٹر، کلچرل ایجوکیشن سنٹر) شامل تھے۔
افتتاح کے بعد مہمانوں نے نمائش گاہوں کا دورہ کیا اور پیش کیے گئے فن پاروں کا مشاہدہ کیا۔ ان میں مختلف اقسام کی پینٹنگز اور تنصیبات (انسٹالیشنز) شامل تھیں۔ جنگ و تصادم، زیاں اور انسانی دکھ جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ غالب، زرینہ ہاشمی اور مجاز لکھنوی جیسی ادبی و فنکارانہ شخصیات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے والے فن پاروں نے فنی گہرائی و گیرائی اور حساسیت کا نمایاں طور سے اظہار کیا۔ ہر فن پارے نے اپنے تہہ دار بیانیے اور فکری وضاحت کے باعث مہمانوں کی توجہ اور ستائش حاصل کی۔
یہ دورہ سی ای سی کے لان تک جاری رہا، جہاں مزید فن پاروں نے شائقین کو محظوظ کیا اور بامعنی مکالمے کو فروغ دیا۔ اس کے بعد افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں مہمانوں کا رسمی استقبال کیا گیا اور انہیں گلدستے پیش کئے گئے۔
اپنے خطاب میں پروفیسر گلریز نے شرکاء کی محنت اور تخلیقی کاوشوں کی ستائش کی اور فیسٹیول میں نمایاں فکری پختگی اور فنکارانہ دیانت داری کو سراہا۔رنگریزہ 2026 کا پہلا دن بے حد کامیاب رہا۔ اپریل کی شدید گرمی کے باوجود فیسٹیول کا جوش و جذبہ برقرار رہا اور یہ ایک یادگار اور بامقصد تجربہ بن کر سامنے آیا۔

دیش

ائماکرائم ومؤذنین کی اجرت یکم جون سے بند،بنگال کے وزیر اعلیٰ سوبھیندو کا اعلان

Published

on

(پی این این)
کولکاتہ۔بنگال میں بی جے پی اقتدار میں آنے کے بعد نئے نئے فیصلے اور اعلانات کررہی ہے۔ بیف بند کرنے کے بعد اب سوبھیندو سرکار نے کئی اہم فیصلے کئے ہیں۔ انھوں نے اعلان کیا ہے کہ اب ائما کرام اور مؤذنین کی اجرت بند کی جائے گی۔ جو بنگال سرکار کے ذریعہ دی جارہی تھی۔ انھوں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ممتا حکومت کی بدعنوانیوں کی وہ گہرائی سے جانچ کرائیں گے۔ اور ہائی کورٹ کے جج کی قیادت میں یہ جانچ ہوگی۔انھوں نے کہا کہ امام ،موذن اور پوجاریوں کو دی جانے والی اجرت یکم جون سے بند کردی جائے گی۔ ساتھ ہی ساتھ خواتین کو انّا پورنا منصوبہ کے تحت 3000 روپیہ ماہانا، مفت بس سروس کا آغاز ہوگا۔ انھوں نے ساتویں پے کمیشن تشکیل کرنے اور او بی سی فہرست میں تبدیلی لانے کےلئے کئی فیصلے کئے۔
غورطلب ہے کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنے دور میں امام ، موذن اور پوجاریوں کی اجرت پانچ سو روپیہ بڑھانے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت مسجدوں کے امام کو تین ہزار روپے، موذن اور پوجاریوں کو دو ہزار روپے دیئے جارہے تھے۔

Continue Reading

دیش

پنجاب چنائو کو لیکر پنجاب کے مسلمانوں کی بڑی سیاسی میٹنگ مطالبات پورے نہ ہونے پر عام آدمی پارٹی کے بائیکاٹ کا اعلان:ایڈووکیٹ نعیم خان

Published

on

جالندھر: پنجاب میں 2027 اسمبلی انتخابات کے پیشِ نظر مسلم سماج کی سیاسی اور سماجی شمولیت کو مضبوط بنانے کے مقصد سے مسلم سنگٹھن پنجاب کا ایک اہم اجلاس سرکٹ ہائوس جالندھر میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت تنظیم کے صدر ایڈووکیٹ نعیم خان نے کی۔اس اجلاس میں پنجاب کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے سماجی، سیاسی، مذہبی اور تعلیمی نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں پنجاب سرکار سے ہر ضلع میں مسلم کمیونٹی ہال، مسلم آڈیٹوریم اور مسلم ایجوکیشن کالج قائم کرنے کے مطالبات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ مقررین نے کہا کہ تعلیم اور سماجی ترقی کے بغیر کسی بھی قوم کی ترقی ممکن نہیں، اس لیے حکومت کو مسلم سماج کی بنیادی ضروریات پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔مسلم تنظیم پنجاب کے جنرل سیکرٹری ایم. عالم مظاہری نے اجلاس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس پنجاب کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر ان کے حقوق اور مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کی اہم کوشش ہے۔ انہوں نے تمام شرکا کا تعارف بھی کرایا۔اس موقع پر مسلم سنگٹھن پنجاب کے صدر ایڈووکیٹ نعیم خان نے کہا کہ گزشتہ10 برسوں میں کسی بھی سیاسی جماعت نے پنجاب کے مسلمانوں کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیا، جس کے باعث مسلم سماج پنجاب سرکار سے خود کو نظر اندازمحسوس کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کئی مرتبہ عام آدمی پارٹی کے اعلیٰ لیڈر شپ اور وزیر اعلیٰ بھگونت مان سے ملاقاتیں کی گئیں، لیکن ہر بار صرف یقین دہانیاں ملیں اور وعدے پورے نہیں کئے گئے۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے مسلم سماج کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا، مگر اب مسلم سماج اپنے حقوق اور وجود کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کرے گی۔ ایڈووکیٹ نعیم خان نے واضح کیا کہ اگر عام آدمی پارٹی نے مسلم سماج کے مطالبات پورے نہ کئے تو آئندہ اسمبلی انتخابات میں پارٹی کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم سماج اب صرف انہی سیاسی جماعتوں کی حمایت کرے گا جو ان کے مسائل کو ترجیح دے کر ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں گی۔انہوں نے اعلان کیا کہ جلد ہی پنجاب بھر کے مسلمانوں کا ایک بڑا اجتماع عیدگاہ جالندھر میں منعقد کیا جائے گا، جس میں آئندہ سیاسی حکمت عملی اور اجتماعی فیصلوں کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ اجلاس میں پنجاب بھر کے مسلم نمائندوں سے مشورے لیے گئے ہیں اور اگلے اجلاس میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔اجلاس میں سابق اقلیتی کمیشن رکن حمید مسیح، مسلم سنگٹھن پٹھانکوٹ کے صدر محمد جمال، حاجی عابد حسن سلمانی، ایاز میکس سلمانی، مولانا انور امرتسری، شمشاد ٹھیکیدار نکودر، غلام سرور صبا پھگواڑہ، قاری غیور احمد لدھیانہ، مسلم سنگٹھن نواں شہر کے پردھان محمد نظام، جنرل سیکرٹری محمد شاہد سلمانی، عالمگیرگوجر آدم پور، مدرسہ دارِ ابی ایوب کے ناظم مولانا امان اللہ مظاہری، خوشی محمد کپور تھلہ، عبد الحمید سلطانپور لودھی، واحد کرتارپور، علائوالدین چاند، عبد المنان خان، مانک علی، مفتی شاہ عالم چترویدی امرتسر، مولانا طالب حسین، حیدر حسین، ریاض خان ہوشیارپور، قیوم خان جالندھر کینٹ، شکیل خان، عمران خان، دائود عالم، عتیق احمد، اقصیٰ آپٹیکل کے ایم ڈی محمد نہال، منظور حسین سلمانی بٹھنڈہ، عاقب جاوید سلمانی، ڈاکٹر ناصر خان، سرفراز، سکندر شیخ، اسلم خان، ارمان شیخ، حافط اطہر آزاد ،خاص صاحب شاہکوٹ سمیت بڑی تعداد میں نمائندوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

Continue Reading

دیش

جموں و کشمیر کے حقوق اور شناخت کو بحال کرےمرکز : شیو سینا

Published

on

سری نگر:شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) نے وادی کشمیر سے مرکزی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگ اب محض یقین دہانیوں سے مطمئن نہیں رہیں گے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ نئی دہلی کو اپنی پالیسی اور ارادے دونوں کو واضح طور پر بیان کرنا چاہیے اور خطے کے آئینی اور جمہوری حقوق کو مزید تاخیر کے بغیر بحال کرنا چاہیے۔
پارٹی کے تین روزہ کشمیر دورے کے دوسرے دن سری نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، شیو سینا (یو بی ٹی) جموں و کشمیر یونٹ کے صدر منیش ساہنی نے کہا، “عوام اور دہلی کے درمیان فاصلے کو کم کرنا چاہیے، اور جموں و کشمیر کو اپنا مکمل وقار اور حقوق دوبارہ حاصل کرنا چاہیے۔”انہوں نے جموں و کشمیر کو فوری طور پر مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا اور جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے پر زور دیا۔ ساہنی نے کہا کہ منتخب حکومت کے اختیارات کو کم کرنا جمہوریت کی روح کے خلاف ہے اور عوام کی آواز کو کمزور کرتا ہے۔ساہنی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر کو آئینی تحفظ کے فریم ورک کے تحت لایا جائے جیسا کہ کئی شمال مشرقی اور سرحدی ریاستوں کو آرٹیکل 371 کے تحت دیے گئے تحفظات کی طرح ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شمال مشرقی اور دیگر سرحدی ریاستوں کو ان کے منفرد جغرافیائی اور سماجی حالات کو دیکھتے ہوئے خصوصی تحفظات دیئے جا سکتے ہیں، تو جموں و کشمیر ایک سرحدی خطہ ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف سنگین چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔ منصفانہ نقطہ نظر.انہوں نے مزید کہا کہ مقامی باشندوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط آئینی اور انتظامی ڈھانچہ ضروری ہے، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ مقامی نوجوانوں کا زمین، وسائل اور روزگار کے مواقع پر پہلا حق ہو۔ساہنی نے مرکز پر لیفٹیننٹ گورنر سسٹم کے ذریعے فیصلہ سازی کو مرکزی بنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کے جمہوری مینڈیٹ کے خلاف ہے۔ انہوں نے حکومت ہند پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے ایک واضح اور وقتی روڈ میپ جاری کرے۔
بحالی کا کام ہاؤسنگ کالونیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیےکشمیری پنڈتوں کی واپسی کے معاملے پر پارٹی نے کہا کہ بحالی کا عمل صرف ہاؤسنگ کالونیوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ شیو سینا (یو بی ٹی) نے برقرار رکھا کہ بے گھر کشمیری پنڈت خاندانوں کی وادی میں واپسی کے لیے سلامتی، وقار اور سماجی قبولیت کو یقینی بنانا چاہیے، جس سے وہ اپنے اصل سماجی اور ثقافتی ماحول سے دوبارہ رابطہ قائم کر سکیں۔—شیو سینا (یو بی ٹی) کی توسیعسری نگر میں منعقدہ پروگرام کے دوران، مختلف اضلاع سے کئی نوجوانوں اور سماجی کارکنوں نے پارٹی کے نظریے پر یقین کا اظہار کرتے ہوئے شیو سینا (UBT) میں شمولیت اختیار کی۔ پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی حمایت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ لوگ اب ایسی قیادت کی طرف دیکھ رہے ہیں جو ان کے حقوق اور خواہشات کی بھرپور وکالت کر سکے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network