اتر پردیش
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں3 روزہ ادبی میلےکا آغاز
(پی این این)
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ویمنس کالج لٹریری سوسائٹی کے زیر اہتمام ”لیٹریٹی 2026“ کے عنوان سے تین روزہ ادبی میلہ کا آغاز ہوا۔
افتتاحی تقریب کی مہمان خصوصی پروفیسر وبھا شرما، ممبر انچارج،دفتر رابطہ عامہ نے اپنے خطاب میں افکار، اظہار اور شناخت کی تشکیل میں ادب کی پائیدار اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے طالبات کو ادبی سرگرمیوں میں جوش و خروش کے ساتھ حصہ لینے کی ترغیب دیتے ہوئے بامعنی مکالمے، تنقیدی سوچ اور تیزی سے ڈیجیٹل ہوتے ہوئے دور میں مادری زبان کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ پروفیسر وبھا شرما نے ویمنس کالج لٹریری سوسائٹی کی سابق صدر کی حیثیت سے اپنے تجربات بیان کئے اور طالبات کو ایسے پلیٹ فارمز کو اظہار خیال، اعتماد سازی اور فکری ترقی کے لیے استعمال کرنے کی تلقین کی۔
اس سے قبل ڈاکٹر شگفتہ نیاز (شعبہ ہندی) اور ڈاکٹر شگفتہ انجم (شعبہ انگریزی) نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ادبی سوسائٹیز کے کردار کو اجاگر کیا جو تخلیقی صلاحیتوں اور تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔پروگرام کا آغاز ویمنس کالج کے پرنسپل پروفیسر مسعود انور علوی کے استقبالیہ کلمات سے ہوا۔ ویمنس کالج لٹریری سوسائٹی کی صدر بصرہ حسن رضوی اور نائب صدر مائشہ منال تاج نے معزز مہمانوں، اساتذہ اور طالبات کا خیرمقدم کیا۔اس موقع پر”لیٹریٹی 2026“ کے پوسٹر کی رونمائی کی گئی۔تقریب کے آخر میں نائب صدر مس مریم خان نے شکریہ کے کلمات ادا کئے۔
ادبی میلے کے پہلے دن ایک ڈبیٹ مقابلہ ”طلبہ کی سرگرمی اور احتجاج سیاسی امور میں ادارہ جاتی غیر جانبداری کو متاثر کرتے ہیں“ کے موضوع پر منعقد کیا گیا، جس کے جج ڈاکٹر زید مصطفیٰ علوی، ڈاکٹر یاسمین انصاری اور ڈاکٹر فوزیہ فریدی تھے۔ نظامت کے فرائض ضحیٰ اویس (پی آر ہیڈ) اور اثنا خان (گرافک ڈیزائن ہیڈ) نے انجام دئے، جبکہ ڈاکٹر صدف فرید نے مہمانوں کی گلپوشی کی۔فیسٹیول کے پہلے دز اوپن مائیک سیشن اور کھیلوں و ریفریشمنٹ پر مشتمل انٹرایکٹیو اسٹالز خاص توجہ کا مرکز رہے۔
uttar pradesh
یوپی میں آندھی اور بارش سے بھاری تباہی،110 ہلاک،22 ٹرینیں منسوخ، راجستھان میں گرمی کا الرٹ، مدھیہ پردیش پر بھی ہیٹ ویوکا قہر
(پی این این)
لکھنؤ/بھوپال/نئی دہلی:اترپردیش میں 80 کلو میٹر کی رفتار سے طوفان آگیا، جس میں ایک شخص ہوا میں اڑ گیا اور شدید زخمی ہوگیا۔ آندھی طوفان کی رفتار کے تحت کئی حادثے ہوئے جس میں 110 لوگوں کی موت ہوگئی۔ بریلی میں ایک مکان گرگیا جس میں کئی لوگ دب گئے۔
اترپریش کے کئی اضلاع میں آندھی اور بارش نے زبردست تباہی مچائی۔ تیز آندھی کے سبب درخت اور بجلی کے کھمبے گر گئے جس سے کئی جگہ بجلی سپلائی معطل ہو گئی۔ خراب موسم کی وجہ سے ریاست کے مختلف اضلاع میں 110 لوگوں کی موت بھی ہو گئی جبکہ کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ وارانسی، پریاگ راج اور کانپور ڈویزن میں َلوگوں کی موت ہوئی ہے۔
دیہی علاقوں میں کچے مکان اور ٹین شیڈ اُڑ گئے وہیں فصلوں کو کافی نقصان ہوا ہے۔ تیز بارش اور دھول بھری آندھی کی وجہ سے سڑکوں پر آمد و رفت متاثر رہی۔ کئی جگہ درخت گرنے سے ٹریفک میں رخنہ پڑا ہے۔ جو خبریں سامنے آ رہی ہیں ان کے مطابق بھدوہی میں 18، اناؤ اور بدایوں میں 6-6، سیتاپور، رائے بریلی، چندوسی، کانپور دیہات، ہردوئی اور سنبھل میں 2-2، کوشامبی، شاہجہاں پور، سون بھدر اور لکھیم پور کھیری میں 1-1 شخص کی موت خراب موسم کے سبب ہوئی ہے۔
آندھی کی وجہ سے دہلی-ہاوڑا ریلوے روٹ میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے لئے رخنہ پڑا۔ وہیں فتح پور میں درخت گرنے سے او ایچ ای لائن ٹوٹ گئی۔ جس کی وجہ سے کانپور ہوکر آنے جانے والی 22 ٹرینیں متاثر ہوئیں۔
وہیں پریاگ راج۔جونپور ریل سیکشن پر تھروئی اور سرائے چنڈی ریلوے اسٹیشن کے درمیان ایک 4 بڑا درخت گرگیا جس سے ٹرینوں کی آمد و رفت ٹھپ ہوگئی۔ لکھنؤ اور پرتاپ گڑھ روٹ پر بھی کافی اثر پڑا۔وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاست میں بے موسم بارش، آندھی اور بجلی گرنے سے ہوئے نقصان پر متاثرین کو معاوضہ دینے کا حکم دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ متاثرین کو راحت پہنچانے کا کام 24 گھنٹے کے اندر پورا کیا جائے۔ انہوں نے ضلع مجسٹریٹوں سمیت دیگر محکموں کے افسران کو موقع پر پہنچ کر متاثرین کو ہر ممکن مدد پہنچانے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کام میں لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
دریں اثنا راجستھان میںتیز گرمی اور ہیٹ ویو کا قہر جاری ہے۔ جیسلمیر میں درجہ حرارت 46 ڈگری پار کرگیا ہے۔ اسی طرح بیکانیر ، جوت پور، جیسلمیر ، باڑمیر میں گرمی کا ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا۔ راجستھان کے 13اضلاع میں ہیٹ ویو کی وارننگ دی گئی ہے۔ مدھیہ پردیش کے 25 اضلاع میں ہیٹ ویو چل رہی ہے۔ اندور ، اجین ، دھار ، رتلام میں درجہ حرارت 45 پار کر گیا ہے۔ یہاں بھی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔
uttar pradesh
رامپورمیں تمباکوکنٹرول مہم تیز، اسکولوں کے آس پاس کاٹے گئے چالان
(پی این این)
رام پور:ضلع مجسٹریٹ اجے کمار دویدی کی ہدایت پر ضلع میں تمباکو کنٹرول مہم کو مسلسل تیز کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں تمباکو کنٹرول سیل کے ضلع مشیر ڈاکٹر شہزاد حسن خان اور اے ایچ ٹی یو کے سینئر سب انسپکٹر منوج ترپاٹھی پر مشتمل ایک مشترکہ ٹیم نے اسکولوں کے قریب چلنے والی دکانوں کا معائنہ کیا۔مہم کے دوران مہارشی ودیا مندر، وائٹ ہال پلے اسکول، سینٹ پال پلے اسکول، گرین ووڈ سینئر سیکنڈری اسکول، سینٹ میری سینئر سیکنڈری اسکول، گورنمنٹ رضا انٹر کالج، گورنمنٹ فزیکل ایجوکیشن کالج، رام لیلا پبلک اسکول، گورنمنٹ رضا کالج اور سرسوتی ودیا مندر سمیت کئی تعلیمی اداروں کا معائنہ کیا گیا۔معائنہ کے دوران سرسوتی ودیا مندر کے اساتذہ اور عملے کو کوٹپا ایکٹ اور تمباکو کے استعمال سے صحت پر پڑنے والے سنگین اثرات کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی گئی۔ ٹیم نے اسکولوں کے قریب واقع دکانوں کا معائنہ کیا اور تمباکو کی مصنوعات فروخت ہوتے پائے جانے پر فوری کارروائی کی۔مہم کے دوران سکولوں کے قریب تمباکو کی مصنوعات فروخت کرنے والی 8 دکانوں کو جرمانے لگائے گئے۔ دکانداروں کو بھی سختی سے متنبہ کیا گیا کہ اگر مستقبل میں اسکولوں کے قریب تمباکو کی مصنوعات فروخت ہوتی پائی گئیں تو سخت قانونی کارروائی کی جائے گی.ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ بچوں اور نوجوانوں کو تمباکو کی لت سے بچانے کے لیے یہ مہم جاری رہے گی۔ مہم کے دوران ٹوبیکو کنٹرول سیل اور اے ایچ ٹی یو پولیس اسٹیشن کی ایک مشترکہ ٹیم موجود تھی۔
اتر پردیش
ایڈیشنل ایس پی نے کیا معائنہ
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار6 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار12 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر9 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
