Connect with us

بہار

مدارس و مکاتب کا استحکام ہی امت کا روشن مستقبل: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

Published

on

(پی این این)
جالے :دارالعلوم سبیل الفلاح، جالے میں منعقدہ انعامی و دعائیہ اجلاس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کی کردار سازی اور دینی شعور کے استحکام کے لیے ہر گلی محلے میں مکاتب کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ایک منصوبہ بند طریقے سے مدارس کے خلاف سازشیں رچی جارہی ہیں اور عام مسلمانوں کا رشتہ دینی اداروں سے کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، لیکن یہ حقیقت فراموش نہیں کی جاسکتی کہ مدارس دراصل وہ پاور ہاؤس ہیں جہاں سے سماج کو سلیقے سے جینے کا حوصلہ اور راستہ ملتا ہے۔
رحمانی نے واضح کیا کہ اگر امت نے مدارس کی حفاظت اور مضبوطی کی طرف خاطر خواہ توجہ نہ دی تو آئندہ نسلیں دین سے دور ہوتی چلی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بڑے مدارس کو مضبوط رکھنے کے ساتھ ساتھ مکاتب کے جال کا پھیلانا بھی ضروری ہے تاکہ قرآن کی بنیادی تعلیم ہر گھر تک پہنچے اور سماج ایمانی طاقت سے مضبوط ہو سکے۔اجلاس کی نظامت مفتی محمد عامر مظہری قاسمی اور مولانا عفان قاسمی نے مشترکہ طور پر کی۔ اس موقع پر امارت شرعیہ کے رکن مرزا قاری نصیر احمد بیگ، اسلامک مشن اسکول کے ڈائریکٹر مولانا محمد ارشد فیضی، مولانا مظفر احسن رحمانی، پروفیسر بدر عالم، مولانا اسلم سبیلی قاسمی، مولانا عباس قاسمی، قاری نعمت اللہ، مفتی نصیر الدین قاسمی اور شاھین گروپ کے اساتذہ و دانشوران سمیت بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔
مرزا نصیر احمد بیگ نے کہا کہ دنیا بھر میں مدارس کا وسیع نیٹ ورک امت پر اللہ کی نعمت ہے، اور انہی اداروں کی قربانیوں نے مسلمانوں میں قرآن کی تعلیم اور دینی مزاج کو محفوظ رکھا ہے۔ سماجی کارکن سعید عالم عالم نے کہا کہ ایسے اداروں کی بقا قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور غفلت کی صورت میں امت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔مولانا رحمانی نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں مدارس کو اپنی افادیت اور کردار سماج کے سامنے مضبوطی سے پیش کرنا ہوگا تاکہ نئی نسل کو تعلیم، تہذیب اور اخلاق کی محفوظ پناہ گاہ میسر رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سازش کے تحت مسلمانوں کو ایسے نظام تعلیم کی طرف دھکیلا جارہا ہے جس سے ان کے اخلاق و کردار کو نقصان پہنچے، اس لیے مکاتب و مدارس دونوں کی مضبوطی ناگزیر ہے۔
تقریب میں حفظ قرآن مکمل کرنے والے چودہ طلبہ کو نشانِ حفظ ایوارڈ جبکہ ششماہی امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والوں کو نشانِ عابد ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ادارے میں بہترین کارکردگی پر مولانا عفان قاسمی اور مولانا اشفاق مظاہری کو نشانِ اعتراف دیا گیا۔اسی طرح عزیزہ عافیہ گلزار، آمنہ بدیع الزماں، عالیہ عاظم، ثناء شہاب الدین، مہر فاطمہ، حذیفہ زاہد، معاذ عالم، عدنان چک درگاہ اور افضال چک درگاہ سمیت دیگر طلبہ کو نشانِ امتیاز ایوارڈ 2025 سے سرفراز کیا گیا۔

بہار

ڈاکٹر محمد منظور عالم ایک روشن دماغ ماہر تعلیم تھے، امارت شرعیہ میں تعزیتی نشست منعقد

Published

on

(پی این این)
پٹنہ : ملک کے مشہور ماہر تعلیم ملی و سماجی دانشوراور آئی او ایس و آل انڈیا ملی کونسل کے روح رواں ڈاکٹر محمد منظور عالم عرصہ کی علالت کے دہلی کے میکس(Max) اسپتال میں رب کائنات کے دربار میں حاضر ہوگئے ،انا للہ و انا الیہ راجعون۔ڈاکٹر صاحب مرحوم ملی تحریکات کے سرگرم رکن تھے ،آپ فقہ اکیڈمی انڈیا اور ملی کونسل کے بانیوں میں سے تھے ،انسٹی ٹیوٹ آف انکلیو اسٹڈیز نئی دہلی کے چیرمین تھے انہوں اداروں کو اپنی خدمات اور کارناموں کے باعث ملکی و بین الاقوامی شہرت بنانے میں فعال کردار ادا کیا ،آپ نے فقیہ العصر قاضی القضاۃ حضرت نائب امیر شریعت امارت شرعیہ کا دست و بازو بن کر ان اداروں کو قوت عطا کی ،ڈاکٹر صاحب کا امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ و جھارکھنڈ سے بھی گہرا ربط و تعلق تھا،یہاں کے فلاحی و رفاہی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے ،مجلس ارباب حل و عقد ،امارت ایجوکیشنل ویلفیئر ٹرسٹ کے ٹرسٹی و دیگر مجالس امارت شرعیہ کے بھی ممبر تھے اکثر شرکت کرتےاور بہت صائب الرائے دیتے،آپ عرصہ سے مختلف امراض کے شکار تھے ،دوا و علاج کا سلسلہ جاری تھا مگر وقت موعود آ پہونچا،پھر کیا تھا کہ زندگی کے مسافر کو ابدی نیند آگئی ،رحمۃ اللہ واسعہ۔
ان کے وصال پر امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ و جھارکھنڈ کے امیر شریعت مولاناسید احمد ولی فیصل رحمانی نے صدمہ کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ایک روشن دماغ ماہر تعلیم تھے ،وہ ملی مسائل سے گہری دلچسپی رکھتے تھے ،اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والی نا انصافیوں پر پر زور آواز بلند کرتے ،اللہ ان پر رحمت کی بارش برسائے ،ناظم ارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ و جھارکھنڈ مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب مسلمانوں کے سچے ملی رہنماؤں میں سے ایک تھے ،در حقیقت وہ ایک بڑے مدبر اور مفکر انسان تھے ،اللہ ان کی مغفرت فرمائے ،ڈاکٹر صاحب کے وصال پر امارت شرعیہ پھلواری شریف میں ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئی ۔
جس میں قائم مقام ناظم اور صدر قاضی شریعت و جنرل سکریٹری امارت ایجوکیشنل ویلفیئر ٹرسٹ مولانا مفتی محمدانظار عالم قاسمی نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب بر صغیر کے عظیم اسکالرو دانشور تھے ،مسلم مسائل کو بڑی قوت کے ساتھ اٹھاتے اور اس کے حل کے لئے آخری حد تک جد و جہد کرتے رہے،اکابر امارت کی صحبت اور مشائخ کی تربیت نے انہیں پختہ کار بنا دیا تھا،بلا شبہ وہ ایک باکردار شخصیت کے مالک ہونے کی حیثیت سے اپنے پیچھے بہت سی یادیں چھوڑ گئے ،اللہ ان کے درجات کو بلند کرے۔امارت شرعیہ کے نائب ناظم مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب نے ہندوستان میں نظریہ سازی کی طرح ڈالی اور پورے ملک میں جغرافیائی طور پر تعلیمی ،سماجی اقتصادی لحاظ سے ڈاٹا جمع کیا تاکہ اس کی روشنی میں ہندوستانی مسلمانوں کے لئے اصلاح کا خاکہ بنانے میں معاون ہو۔
مولانا ومفتی وصی احمد قاسمی نائب قاضی شریعت نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ایک دوراندیش اسکالر تھے وہ تحقیق او رریسرچ کے ساتھ باتیں کرتے جس سے ان کی گفتگو میں وزن ہوا کرتا تھا ،مولانا سہیل اختر قاسمی نائب قاضی شریعت نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ایک اچھے تجزیہ نگار اور کالم نویس بھی تھے ان کی تحریروں میں ادبی چاشنی بھی ہوتی اور رعنائی بھی ،مولانا مفتی احتکام الحق صاحب نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ایک عظیم دانشور اور دور اندیش اسکالر تھے ،مولانا رضوان احمد ندوی صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ نےکہاکہ ڈاکٹر صاحب سے عرصہ تیس سالوں سے دید وشنید رہی ہے یقین مانیے کہ قدرت نے ان کو دین وملت کی خدمت پر ہی مامور کیا تھا ،مولانا ابو الکلام شمسی صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ نے ڈاکٹر صاحب اور امارت شرعیہ کے روابط پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا کہ ان کے رگ و ریشے میں فکر امارت پیوست تھی۔
اس تعزیتی نششت میں حاجی احسان الحق ، ڈاکٹر یاسرحبیب سکریٹری مولانا سجاد میموریل اسپتال ،مولانا شمیم اکرم رحمانی معاون قاضی شریعت امارت شرعیہ ،مولانا ارشد رحمانی آفس سکریٹر ی امارت شرعیہ ،مفتی محمد شارق رحمانی ،مولانا اسعداللہ قاسمی مینیجر نقیب امارت شرعیہ ،انجینئر ابو طلحہ ،مولانا ممتاز نے شرکت کی تعزیتی نششت کا آغاز قاری مفتی محمد مجیب الرحمن معاون قاضی شریعت کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا ،آخیر میں مولانا مفتی احتکام الحق نے اجتماعی طور پر دعا مغفرت کرائی ،اس نششت میں مشہور معالج جمشید انور کے والد نور الدین انصاری کے انتقال پر بھی دعا مغفرت کی گئی اور ایصال ثواب کا اہتمام کیا گیا ۔

Continue Reading

بہار

بہارمیں وسطانیہ امتحان پُرامن ماحول میں جاری

Published

on

(پی این این)
سیتامڑھی:بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ، پٹنہ کے زیرِ اہتمام وسطانیہ (آٹھویں) جماعت کا امتحان ضلع کے مختلف مراکز پر نہایت پُرامن، منظم اور نقل سے پاک ماحول میں جاری ہے۔ منگل کے روز امتحان کے تیسرے دن بھی تمام امتحان مراکز پر سخت نگرانی اور بہتر نظم و ضبط کے درمیان امتحان منعقد ہوا۔مدرسہ حمیدیہ دارالبنات حسینؔہ کے مرکز نگران و پرنسپل مولانا ضیاءالرحمن قاسمی اور نائب مرکز نگران مولانا امتیاز علی نے بتایا کہ اس مرکز پر کل 111 طلبا وطالبات رجسٹرڈ تھے، جن میں سے 110 طلبا وطالبات نے امتحان میں شرکت کی۔
اسی طرح مدرسہ اسلامیہ عربیہ، جامع مسجد کورٹ بازار کے مرکز نگران و پرنسپل مولانا علی مرتضیٰ ندوی اور نائب مرکز نگران و نائب پرنسپل مولانا ارشاد مظاہری، و مولانا محمد تنویر احمد کے مطابق یہاں 669 رجسٹرڈ طلبا وطالبات میں سے 650 طلبا وطالبات امتحان میں حاضر ہوئے۔مدرسہ رحمانیہ اندولی، پریہار کے انچارج مرکز نگران محمد مناظرالاسلام نے بتایا کہ اس مرکز پر 180 طلبا وطالبات رجسٹرڈ تھے، جن میں سے 160 طلبا وطالبات نے امتحان میں شرکت کئے ۔
مدرسہ فیضِ عام، پھلوریا باجپٹی کے مرکز نگران و پرنسپل مولانا محمد مطیع الرحمٰن قاسمی نے بتایا کہ یہاں 212 طلبا وطالبات میں سے 200 طلبا طالبات امتحان میں شریک ہوئے۔تمام مراکز نگران نے اس بات کی تصدیق کی کہ امتحان کو شفاف بنانے کے لیے سیکورٹی کے مضبوط انتظامات کیے گئے ہیں اور مدرسہ بورڈ کی تمام ہدایت پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔ ضلع بھر سے نقل یا کسی بھی طرح کی بدعنوانی کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی، جس سے طلبہ، سرپرستوں اور تعلیمی حلقوں میں اطمینان کا ماحول ہے۔

Continue Reading

بہار

ارریہ:ڈی ایم نے پیکس انتخابات کی تیاریوں کالیاجائزہ،پرامن اور منصفانہ الیکشن کرانے کی ہدایت

Published

on

(پی این این)
ارریہ: پیکس انتخابات 2026 کی تیاریوں کے حوالے سے ضلع مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دوہن کی صدارت میں ان کے چیمبر میں ضلع رابطہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کا مقصد آئندہ پیکس انتخابات کے پرامن، منصفانہ اور کامیاب انعقاد کو یقینی بنانا تھا۔ ڈسٹرکٹ کوآپریٹو آفیسر نے بتایا کہ ضلع کے پانچ بلاکس میں 23 پیکس انتخابات کے شیڈول ہیں۔ ان میں نرپت گنج بلاک میں ایک پیکس، ارریہ بلاک میں آٹھ، کرسا کانٹا میں چار، فاربس گنج میں چھ، اور سکٹی بلاک میں چار شامل ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ نے پیکس انتخابات کے حوالے سے تفصیلی جانکاری حاصل کی اور اب تک کئے گئے کاموں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے پیکس انتخابات کے کامیاب انعقاد کے لیے فوری طور پر مختلف سیل تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ انتخابی عمل کے لیے عملہ، مواد، بیلٹ پیپرز، میڈیا اور ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ سمیت مختلف محکمے تشکیل دیے جائیں گے۔
اس سلسلے میں ضلع مجسٹریٹ نے ہدایت کی کہ پولنگ ہال کے انتظامات، پولنگ اہلکاروں کی تربیت اور دیگر تمام ضروری کاموں کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے۔ انتخابی شیڈول کے مطابق، مقررہ فارم میں معلومات 5 جنوری 2026 کو شائع کی گئی تھیں۔ کاغذات نامزدگی 21 اور 22 جنوری 2026 کو صبح 11:00 بجے سے سہ پہر 3:00 بجے تک ہوں گے۔ جانچ پڑتال 24 اور 22 جنوری 2026 کو ہوگی۔ امیدواروں کی دستبرداری اور نشان کی تقسیم 29 جنوری 2026 کو کی جائے گی۔ ووٹنگ 6 فروری 2026 کو صبح 7:00 بجے سے شام 4:30 بجے تک ہوگی۔ ووٹوں کی گنتی ووٹنگ کے فوراً بعد یا اگلے دن ہوگی، اور انتخابی عمل 9 فروری 2026 کو اختتام پذیر ہوگا۔
بلاک وار پی اے سی ایس کے نام (جہاں انتخابات ہونے ہیں): نرپت گنج – بسمتیا پیکس۔ارریہ:- ترونا پیکس، بانس باڑی پیکس، بوچی پیکس، مدن پور پورب پیکس، مدن پور پچھم پیکس، رام پور کودر کٹی پیکس، پیک ٹولہ پیکس، پوکھریا پیکس،کرساکانٹا – لکشمی پور پیکس، لیلوکھر پیکس، شنکر پور پیکس، سورنگونپیکس۔ فاربیس گنج :- اوراہی پورب پیکس، خیرکھا پیکس، بوکرا پیکس، مرزا پور پیکس، شہباز پور پیکس، پوٹھیا پیکس۔ سکٹی:- آم گاچھی پیکس، ڈڑھوا پیکس، ٹھینگا پور پیکس، بوکنتری پیکس۔ میٹنگ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ارریہ، ڈپٹی ڈیولپمنٹ کمشنر، سب ڈویژنل آفیسر، ڈسٹرکٹ ٹرانسپورٹ آفیسر، سب ڈویژنل پولیس آفیسر، ڈسٹرکٹ کوآپریٹو آفیسر اور دیگر متعلقہ عہدیداروں نے شرکت کی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network