Connect with us

دیش

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ کا ہنگامی اجلاس منعقد،سپریم کورٹ کے عبوری فیصلے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر قرارداد منظور

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:آج آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ کا ایک ہنگامی آن لائن اجلاس صدر بورڈ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں وقف ترمیمی قانون 2025 پر سپریم کورٹ کے عبوری فیصلہ کا تفصیل سے جائزہ لے کر درج ذیل قرارداد منظور کی گئی۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ اللہ رب العزت کا بے پایاں شکر ادا کرتی ہے کہ اس کے فضل وکرم سے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، مسلم تنظیمیں اور امت مسلمہ ہندیہ کو متنازعہ، امتیازی، دستور ہند کی بنیادی دفعات سے متصادم اور وقف املاک کو ہڑپنے کے ارادے سے لائے گئے وقف قانون کے خلاف عوامی دباؤ بنانے میں کامیابی حاصل ہوئی، جس کے اثرات عدالت عظمیٰ کے عبوری فیصلے پر بھی نظر آئے۔ اسی کے ساتھ مجلس عاملہ اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ اور حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں کا پارلیمنٹ اور جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی میں ان کی غیر معمولی تائید وحمایت کے لئے تہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہے۔ بورڈ کی مجلس عاملہ کا احساس ہے کہ انصاف پسند غیر مسلم برادران وطن، حقوق انسانی کی تنظیمیں، سول سوسائٹی جہد کار اور ملک کے اقلیتی رہنما بھی قدم قدم پر ہمارے ساتھ رہے، ان کے بھی ہم مشکور وممنون ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ آئندہ بھی ان کا تعاون اور حمایت حاصل ہو تی رہے گی۔
مجلس عاملہ کا احساس ہے کہ عدالت عظمیٰ نے اپنے عبوری فیصلہ میں کلکٹر اور حکومت کی طرف سے نامزد افسر کے غیر معمولی اختیارات پر قدغن لگاکر ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ جہاں تک وقف بالاستعمال(Waqf by User) کا تعلق ہے تو سپریم کورٹ نے اپنے عبوری حکم میں سابقہ ’’وقف با لاستعمال‘‘ کو تحفظ عطا کیا ہے، جو یقیناََ ایک بڑی کامیابی ہے۔ البتہ مستقبل میں’’وقف بالاستعمال‘‘ اب کوئی دستیاب یاممکنہ راستہ باقی نہیں رہا اور اس پر کوئی حکم امتناعی جاری نہیں ہوا۔ بورڈ کا یہ بھی احساس ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے عبوری فیصلے میں وقف ترمیمی قانون کی کئی متنازعہ دفعات کو یا تو جواز فراہم کیا ہے یا ان پر خاموشی اختیار کی ہے۔ آثار قدیمہ کے تحت وقف املاک کی وقف حیثیت کے خاتمے، وقف رجسٹریشن کو لازمی قرار دینے، قبضہ مخالفانہ (Law of Limitation ) سے استثنیٰ کے خاتمے اور سینٹرل وقف کونسل و ریاستی وقف بورڈوں میں غیر مسلموں کی شمولیت کو عدالت عظمیٰ کا جواز فراہم کرنا ناقابل فہم اور مایوس کن ہے۔ مزید برآں واقف کے لئے 5 سال تک اسلام پر عامل ہونے کی شرط کو صرف ریاستوں کے ذریعہ اصول مرتب کرنے تک معطل رکھنا اور قبائلی علاقوں کے مسلمانوں پر اپنی زمین وقف کرنے پر عائد پابندی کو برقرار رکھنا بھی افسوسناک ہے۔ مجلس عاملہ عبوری فیصلے کے درج بالا شقوں پر اپنی تشویش اور دکھ کا اظہار کرتی ہے۔ عزت مآب جج صاحبان نے اپنے فیصلے کی بنیاد ہی اس غلط مفروضے پر قائم کرلی تھی کہ وقف املاک کے متولیان اور وقف بورڈز من مانے طریقے پر کام کرتے ہیں اور اکثر اپنے حدود سے تجاوز کرجاتے ہیں۔
مجلس عاملہ کا احساس ہے کہ جن دیگر مسائل پر عدالت نے حکم امتناعی نہیں دیا، وہ محض ایک عارضی کیفیت ہے۔ ان نکات پر ہم آئندہ بھی قانونی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اصلاََ ہماری لڑائی حکومت کی قانون سازی کی پالیسی سے ہے، جو وقف قوانین کے حوالے سے اختیار کی گئی ہے۔ عدالت کا مرحلہ اس کا دوسرا درجہ ہے۔ہمیں توقع ہے کہ ان شاءاللہ حتمی فیصلہ مزید بہتر آئے گا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ عدالت کے رویے اور نقطہ نظر میں وقتاََ قوقتاََ تبدیلی آتی رہتی ہے۔ اس کی مثال ہمیں سبریمالہ جیسے کئی دیگر معاملات میں بھی نظر آتی ہے۔
ہمارا موقف یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے لایا گیا یہ ترمیمی قانون بنیادی طور پر غلط ہے اور ایک مخصوص طبقہ کی جائیدادوں کو نشانہ بنانے کے مقصد سے مرتب کیا گیا ہے۔ لہذا ہماری یہ جدوجہد عدالت کے عبوری فیصلے پر ختم نہیں ہوتی۔ ہم اور ملت اسلامیہ ہندیہ اس بات کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے کہ حکومت اور اس کے ادارے ہندوستانی مسلمانوں کی اوقافی جائیدادوں میں کم از کم یا بالکل بھی مداخلت نہ کر سکیں۔
مجلس عاملہ اس بات کا بھی اعادہ کرتی ہے کہ وہ تحفظ اوقاف کی اپنی تحریک کو پورے عزم اور حوصلے کے ساتھ جاری رکھے گی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں، اقلیتی طبقات اور سول سوسائٹی کےجہد کاروں کے تعاون اور شرکت کے ساتھ اس تحریک کو اس وقت تک جاری رکھے گا، جب تک کہ حکومت ان متنازعہ ترمیمات کو واپس لے کر سابقہ وقف قانون کو بحال نہ کردے۔
مجلس عاملہ کے اجلاس کی صدارت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کی اور جنرل سکریٹری بورڈ مولانا محمد فضل الرحیم مجددی نے کاروائی چلائی۔ اجلاس میں درج ذیل ارکان عاملہ نے شرکت کی۔سید سعادت اللہ حسینی، نائب صدر بورڈ، مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی و مولانا یاسین علی عثمانی، سکریٹریز، ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس، ترجمان، مفتی ابوالقاسم نعمانی، مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی، مولانا خالد رشید فرنگی محلی، مولانا رحمت اللہ میر قاسمی، ڈاکٹر متین الدین قادری، مولانا عبدالشکور قاسمی، مولانا ملک محمد ابراہیم قاسمی، مولانا مفتی احمد دیولوی، جسٹس سید شاہ محمد قادری، مولانا محمود دریابادی، مولانا ابوطالب رحمانی، ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد، ایڈوکیٹ فضیل احمد ایوبی، ایڈوکیٹ طاہر حکیم، ایڈوکیٹ جلیسہ سلطانہ، پروفیسر مونسہ بشریٰ عابدی، پروفیسر حسینہ حاشیہ، نگہت پروین خان،محمد ادیب( سابق ایم پی)، مولانا رحمت اللہ، سرینگراور ایڈوکیٹ طلحہ عبدالرحمٰن۔

دیش

لیڈی حوابائی گرلس ہائی اسکول کی طالبات نے کیا ادارے کا نام روشن

Published

on

لیڈی حوابائی گرلس ہائی اسکول کی طالبات نے ایس ایس سی امتحان میں شاندار کامیابی حاصل کرکے نہ صرف اپنے والدین بلکہ اپنے اساتذہ اور ادارے کا نام بھی روشن کیا۔ امسال اسکول کا نتیجہ انتہائی قابلِ ستائش رہا، جس میں کئی طالبات نے نمایاں نمبرات حاصل کرکے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
نمایاں کامیابی حاصل کرنے والی طالبات میں لائذہ عمران خان پانسرے نے %90.40، طیبہ عبد اللہ شاہ نے %91.4 اور زینب فرحان شیخ نے %88 نمبرات حاصل کیے۔ ان کے علاوہ بھی متعدد طالبات نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعلیٰ نمبرات حاصل کیے، جس پر اسکول انتظامیہ، اساتذہ اور سرپرستوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
اس شاندار کامیابی کے موقع پر لیڈی حوابائی گرلس ہائی اسکول، کیمپ، پونے میں ایک پُروقار تہنیتی تقریب منعقد کی گئی، جس میں کامیاب طالبات کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ تقریب میں اسکول کے اہم ذمہ دار جناب عثمان ہیرولی صاحب نے طالبات کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ محنت، لگن اور مستقل مزاجی ہی کامیابی کی اصل کنجی ہے۔ انہوں نے طالبات کو مستقبل میں بھی اسی جذبے کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے اور قوم و ملت کی خدمت کرنے کی تلقین کی۔
اسکول کی پرنسپل محترمہ مسرت صاحبہ نے اپنی  طالبات کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی صرف طالبات ہی کی نہیں بلکہ اساتذہ، والدین اور پورے ادارے کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے طالبات کو مزید محنت، اعلیٰ تعلیم کے حصول اور عملی زندگی میں نمایاں مقام حاصل کرنے کی ترغیب دی۔
تقریب کے دوران طالبات کو پھولوں کے گلدستے پیش کیے گئے اور انہیں مبارک باد پیش کی گئی۔ اساتذہ کرام اور والدین نے بھی طالبات کی اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ بچیاں مستقبل میں بھی اپنی صلاحیتوں سے معاشرے اور ملک کا نام روشن کریں گی۔
Continue Reading

دیش

ہندوستان اور ویتنام کے درمیان کئی معاہدوں پر ہوئے دستخط

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:وزیر اعظم نریندر مودی نےاعلان کیا کہ ہندوستان اور ویتنام نے دو طرفہ تجارت کو 2030 تک 25 بلین امریکی ڈالر تک بڑھانے کے لئے ایک اسٹریٹجک روڈ میپ کو باضابطہ طور پر تیار کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سیکٹر سے متعلق تعاون میں نمایاں توسیع ہوگی۔ یہ اعلان اس وقت ہوا جب وزیر اعظم مودی اور ویتنام کے صدر ٹو لام نے دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں کئی مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یو) کے تبادلے کا مشاہدہ کیا۔
ایک مشترکہ پریس بیان دیتے ہوئے وزیراعظم نے مارکیٹ تک رسائی اور تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے اٹھائے گئے مخصوص اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہہم نے آج کئی اہم فیصلے لیے ہیں تاکہ 2030 تک اپنی باہمی تجارت کو 25 بلین ڈالر تک لے جایا جا سکے۔ ہمارے ڈرگ اتھارٹیز کے درمیان مفاہمت نامے سے اب ویتنام میں ہندوستانی ادویات تک رسائی بڑھے گی۔ ہندوستانی زرعی، ماہی گیری اور جانوروں کی مصنوعات کی ویتنام کو برآمد بھی آسان ہو رہی ہے۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ زرعی تبادلے سے دونوں ممالک کے صارفین کے لیے جلد ہی ٹھوس نتائج برآمد ہوں گے۔ بہت جلد، ویتنام ہندوستان کے انگوروں اور اناروں کا مزہ چکھے گا، اور ہم ویتنام کا مزہ چکھیں گے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ ہم نے سال کے آخر تک ہندوستان-آسیان تجارتی معاہدے کو اپ ڈیٹ کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اس سے ہندوستان اور تمام آسیان ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو نئی تحریک ملے گی۔

Continue Reading

دیش

ڈی آر ڈی او نے دفاعی پیداوار کے لیے ٹیکنالوجی کو آگے بڑھایا:راج ناتھ سنگھ

Published

on

(پی این این)
پریاگ راج:وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پیر کو کہا کہ حکومت نے دفاعی تحقیق کو اپنی ترجیحات کے مرکز میں رکھا ہے اور ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) نے پہلے ہی 2200 ٹیکنالوجیز کو مختلف شعبوں میں منتقل کیا ہے۔ہندوستانی فوج کے ناردرن اینڈ سینٹرل کمانڈز اور سوسائٹی آف انڈین ڈیفنس مینوفیکچررز کے ذریعہ یہاں منعقدہ تین روزہ ‘نارتھ ٹیک سمپوزیم’ کے افتتاحی سیشن میں دفاعی اہلکاروں، صنعت کے کپتانوں، اختراع کاروں اور اسٹارٹ اپس سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر نے تحقیق پر مسلسل توجہ مرکوز کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ دفاعی آر اینڈ ڈی بجٹ کا 25 فیصد صنعت، اکیڈمی اور اسٹارٹ اپس کے لیے مختص کیا گیا ہے، اور آج تک، ان اداروں نے بجٹ کے 4,500 کروڑ روپے سے زیادہ کا استعمال کیا ہے۔انہوں نے جدید دور کی جنگ میں دیکھنے والی تکنیکی تبدیلی کی دھماکہ خیز شرح کو نمایاں کیا، اس کے علاوہ حیرت کے مستقل “پہلے کبھی تصور بھی نہیں کیا گیا” عنصر کے ابھرنا۔ “روس یوکرائن کے تنازعے میں، جنگ کی نوعیت صرف تین یا چار سالوں میں ٹینکوں اور میزائلوں سے گیم چینجر ڈرون اور سینسرز میں تبدیل ہوگئی۔ مزید برآں، وہ چیزیں جو روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہیں، مہلک ہتھیاروں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ لبنان اور شام میں پیجر حملوں نے جدید طرز فکر کو فروغ دیا ہے۔ ایسی صورتحال میں، ہمیں تیار رہنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے ایک فعال انداز اپنانے اور ایسی صلاحیتوں کو تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو ملک کو ضرورت پڑنے پر اپنے مخالف کے خلاف غیر متوقع ہڑتال شروع کرنے کے قابل بنا سکیں۔راجناتھ سنگھ نے روشنی ڈالی کہ ٹیکنالوجی کی منتقلی کی ایک نئی پالیسی نافذ کی گئی ہے، جس میں 20 فیصد فیس، جو پہلے لگائی گئی تھی، مکمل طور پر ڈیولپمنٹ کم پروڈکشن پارٹنرز، ڈیولپمنٹ پارٹنرز، اور پروڈکشن ایجنسیوں کے لیے معاف کر دی گئی ہے۔
وزیر نے مزید کہا کہ DRDO نے ہندوستانی صنعتوں کو اپنے پیٹنٹ تک مفت رسائی دینے کی پالیسی شروع کی ہے، یہ ایک ایسا اقدام ہے جس سے ان کی تکنیکی صلاحیتوں اور عالمی مسابقت دونوں کو تقویت ملے گی۔ “ڈی آر ڈی او کی جانچ کی سہولیات بھی ادائیگی کی بنیاد پر صنعتوں کے لیے کھول دی گئی ہیں۔ ہر سال، سینکڑوں صنعتیں آر اینڈ ڈی سپورٹ کے لیے ان سہولیات کا استعمال کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت صنعتوں کو ہدایت یافتہ ای ویپنز، ہائپرسونک ہتھیاروں، پانی کے اندر ڈومین سے متعلق آگاہی، خلائی حالات سے متعلق آگاہی، کوانٹم ٹیکنالوجیز، مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ جیسے شعبوں میں آگے بڑھنے اور بہترین کارکردگی کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network