Connect with us

بہار

بہار میں قانون کی بالادستی کو بنایاجائے یقینی:امیر شریعت

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:شہر پٹنہ کے علاقہ پیر بہور تھانہ کے تحت لال باغ محلے میں ایک نہایت افسوسناک اور لرزہ خیز واقعہ پیش آیا، جس میں نواز عالم نامی شخص کو ایک نامعلوم حملہ آور نے اس کی رہائش گاہ پر نہایت بے دردی کے ساتھ گلا ریت کر قتل کر دیا۔ اس اندوہناک واقعہ میں مقتول کی اہلیہ بھی شدید زخمی ہو گئی ہیں، جو اس وقت پی ایم سی ایچ میں زیر علاج ہیں اور زندگی و موت کی جنگ لڑ رہی ہیں۔واقعہ کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق علاقے کے عوام اور مقتول کے لواحقین قاتل کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے پرامن طریقے سے گزشتہ 12 گھنٹوں سے لاش کے ساتھ سڑک پر احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری انتظامیہ نے اب تک کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھتی جا رہی ہے۔
اس واقعہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مولانا احمد ولی فیصل رحمانی امیر شریعت بہار اڈیشہ ،جھارکھنڈ نے کہا کہ ریاست میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا نہایت ضروری ہے،اس واقعے میں سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ دارالحکومت پٹنہ میں اس طرح کا افسوسناک واقعہ پیش آیا،انہوں نے کہا کہ ریاست میں اسی طرح سے آئے دن انسانی خون کے دردناک واقعات پیش آتے رہے توعوام کا امن و اطمینان خطرے میں پڑ سکتا ہےاوریہ سانحہ ریاست میں لا اینڈ آرڈر پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
امیر شریعت کی ہدایت پر مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی ناظم امارتِ شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ پھلواری شریف، پٹنہ نے اس افسوسناک واقعہ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی وفد جائے وقوع پر بھیجاچناںچہ مولانا احمد حسین قاسمی مدنی کی قیادت میں امارت شرعیہ کے وفد نے مقتول کے اہل خانہ سے ملاقات کی، اور انہیں تعزیت پیش کی نیز موجود لوگوں سے حالات کا جائزہ لیا۔ وفد میں مولانا رضوان احمد ندوی،مولانا ابوالکلام شمسی اور مولانا ممتاز شامل تھے۔وفد نے موقع پر موجود عوام کو جو کئی گھنٹوں سے اشوک راج پتھ روڈ پرانصاف کی گہار لگا رہے ہیں،انہیں صبر و تحمل کی تلقین کی اور یقین دلایا کہ وہ انتظامیہ تک عوام کے مطالبات مؤثر انداز میں پہنچائیں گے۔
اس موقع پرناظم امارتِ شرعیہ نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قاتل کو فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزاکو یقینی بنایاجائے اورمقتول کے وارثین کو معقول معاوضہ دیاجائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ہو۔واضح رہے کہ پٹنہ جیسے بڑے شہر میں اس نوعیت کا سنگین واقعہ قانون و انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جس پر فوری اور سخت کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

بہار

عیدالاضحی کے موقع پر امیرِ شریعت کا پیغام اور ضروری ہدایات

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف :امیرِ شریعت بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال مولانا احمد ولی فیصل رحمانی ، سجادہ نشیں خانقاہِ رحمانی مونگیر، نے عید الاضحیٰ کے مبارک موقع پر مسلمانوں کے نام اپنے پیغام میں فرمایا کہ : یہ عبادت ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ سیرت یاد دلاتی ہے جس میں ایمان، جرأت، اطاعت، مقصدیت اور اللہ کے لیے مکمل سپردگی جمع ہو جاتی ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کی قربانیوں کو قبول فرمائے، ہمیں عبدیت، اخلاص، نظم، عزیمت اور خیرِ امت کا اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور ہماری عید کو مبارک، بامقصد اور امت و انسانیت کے لیے خیر کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
امیرِ شریعت نے یہ بھی فرمایا کہ اسی مبارک مہینے میں اسلام کا عظیم رکن، فریضۂ حج، ادا کیا جاتا ہے۔ لاکھوں بندگانِ خدا حج کے اعمال ادا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے حج کو قبول فرمائے، اسے ان کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی، امت کے اتحاد، اخلاقی بیداری اور عملی اصلاح کا ذریعہ بنائے۔ حضرت امیرِ شریعت نے فرمایا کہ عید الاضحیٰ کا دن صرف خوشی کا دن نہیں، بلکہ عزم، نظم، ذمہ داری، خدمت اور اجتماعی وقار کا دن ہے۔ اس لیے ملک کے تمام مسلمانوں سے اپیل ہے کہ قربانی کے مبارک عمل کو کامل دینی شان، قانونی احتیاط، سماجی ذمہ داری، صفائی ستھرائی اور اعلیٰ اخلاق کے ساتھ انجام دیں۔
امیرِ شریعت نے قربانی کے تعلق سے مسلمانوں کو درج ذیل باتوں کی خصوصی تاکید فرمائی:قربانی شعائرِ اسلام میں سے ہے اور ہر صاحبِ نصاب پر واجب ہے۔ جانور کی قیمت صدقہ کر دینے سے واجب قربانی ادا نہیں ہوتی، اس لیے جو لوگ صاحبِ نصاب ہیں وہ شرعی حدود، قانونی تقاضوں اور مقامی حالات کا لحاظ رکھتے ہوئے قربانی ضرور کریں۔ربانی کو صرف ایک رسم نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے ایمان، اطاعت، نظم، صفائی، خدمت، وقار اور اجتماعی ذمہ داری کے ساتھ ادا کیا جائے۔ مسلمان کا ہر عمل ایسا ہونا چاہیے جس سے دین کی عظمت، اخلاق کی بلندی اور امت کی تہذیب ظاہر ہو۔
قربانی کے لیے ہمیشہ ایسے جانور کا انتخاب کیا جائے جس کی قربانی شرعاً درست اور مقامی قانون کے مطابق ہو۔قربانی سے پہلے مقامی ذمہ داران، مسجد کمیٹی، محلہ کمیٹی اور ضرورت ہو تو مقامی انتظامیہ سے مناسب رابطہ رکھا جائے، تاکہ قربانی کا عمل نظم، سکون اور اطمینان کے ساتھ مکمل ہو۔ ہر محلہ میں چند ذمہ دار افراد پہلے سے متعین کر دیے جائیں جو صفائی، نظم، رابطہ، گوشت کی تقسیم اور کسی ہنگامی صورتِ حال میں رہنمائی کا کام انجام دیں۔قربانی کے موقع پر صفائی ستھرائی کا غیر معمولی اہتمام کیا جائے۔ خون، آلائش، اوجھڑی، ہڈی، کھال یا دیگر فضلات نالیوں، سڑکوں، گلیوں، کھلے میدانوں یا عوامی جگہوں پر ہرگز نہ پھینکے جائیں۔ انہیں محفوظ طریقے سے جمع کر کے مقامی انتظام کے مطابق دفن کیا جائے یا ذمہ دار صفائی عملہ کے حوالے کیا جائے، تاکہ بدبو، گندگی، بیماری یا کسی کی اذیت کا سبب نہ بنے۔
٭ ہر محلہ میں انفرادی یا اجتماعی طور پر قربانی کے فوراً بعد صفائی کا اہتمام کیا جائے، جس جگہ قربانی ہوئی ہے اس کو فوراً دھودیا جائے، جراثیم کش دوا یا چونا وغیرہ کا استعمال کیا جائے ، ، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بدبو یا گندگی باقی نہ رہے۔ کیونکہ صفائی ہمارے ایمان، تہذیب اور اجتماعی وقار کا حصہ ہے۔ قربانی عبادت ہے، تماشا نہیں۔ قربانی کی جگہ شور و ہنگامہ، غیر ضروری بھیڑ، نعرہ بازی، بحث و مباحثہ، ویڈیو سازی یا غیر ذمہ دارانہ نقل و حرکت سے پرہیز کیا جائے۔ بچوں اور نوجوانوں کو بھی پہلے سے سمجھایا جائے کہ قربانی کے وقت ویڈیو سازی یا غیر ذمہ دارانہ نقل و حرکت سے پرہیز کریں۔ قربانی کے جانوروں کو لے جاتے ہوئے یا گوشت تقسیم کرتے ہوئے راستوں، بازاروں اور حساس مقامات پر غیر ضروری رکنے، بحث کرنے، دکھاوا کرنے یا کوئی ایسا انداز اختیار کرنے سے گریز کیا جائے جس سے اشتعال یا غلط فہمی پیدا ہو۔
خون آلود کپڑوں، تھیلوں، اوزاروں یا کھلے گوشت کے ساتھ باہر نہ نکلا جائے۔ گوشت کو صاف، ڈھکے ہوئے، محفوظ اور باوقار طریقے سے رشتہ داروں، پڑوسیوں، دوست احباب اور ضرورت مندوں تک پہنچایا جائے۔ قربانی کے گوشت کی تقسیم میں غرباء، مساکین، بیواؤں، یتیموں، بیماروں، مزدوروں اور ضرورت مند خاندانوں کو خاص طور پر یاد رکھا جائے؛ تاکہ عید کی خوشی صرف اپنے گھر تک محدود نہ رہے، بلکہ محلہ، بستی اور سماج کے کمزور لوگوں تک بھی پہنچے۔
قربانی کی کھال اگر کسی محتاج شخص، مستحق مدرسہ، دینی ادارہ، فلاحی مرکز یا معتبر رفاہی کام میں دی جا سکتی ہو تو ضرور دی جائے۔ اگر کھال فروخت کی جائے تو اس کی قیمت شرعی اصولوں کے مطابق مستحقین یا دینی و رفاہی مصرف میں دی جائے۔ سوشل میڈیا، واٹس ایپ، فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب یا کسی بھی پلیٹ فارم پر جانور کے ذبح، خون، آلائش، گوشت یا ایسے مناظر کی تصویر یا ویڈیو ہرگز اپ لوڈ یا شیئر نہ کی جائے۔ آج کے ماحول میں ایسی تصاویر اور ویڈیوز کو غلط سیاق میں استعمال کر کے فتنے، نفرت اور قانونی پریشانی پیدا کی جا سکتی ہے۔

Continue Reading

بہار

تعلیم میں عمدگی، قابل رسائی تعلیم، اور لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے اعزاز

Published

on

چھپرہ:سی پی ایس گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کے چیئرمین ڈاکٹر ہریندر سنگھ کو بہار کے وزیر تعلیم متھلیش تیواری نے پٹنہ کے رویندر بھون میں منعقدہ پرائیویٹ اسکول اینڈ چلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن کی 15ویں سالگرہ تقریب میں تعلیم کے میدان میں شاندار خدمات کے لیے اعزاز سے نوازا۔اس موقع پر سی پی ایس گروپ کے چیئرمین کے ساتھ گروپ کے 60 سے زائد اساتذہ کو بھی ان کی شاندار تعلیمی خدمات پر اعزاز سے نوازا گیا۔غور طلب ہے کہ ہر سال کی طرح اس ادارے کو CBSE کے 10ویں اور 12ویں کے امتحانات میں شاندار نتائج کے لیے خصوصی پہچان ملی۔تقریب میں ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر سید سمیل احمد نے گزشتہ 32 سالوں میں تعلیم کے میدان میں ڈاکٹر ہریندر سنگھ کے نمایاں کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دیہی علاقوں میں معیاری اور قابل رسائی تعلیم کے لیے ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پی ایس گروپ ہر سال 51 لڑکیوں کا مفت داخلہ کر کے لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دیتا ہے۔اس تنظیم نے معاشی طور پر کمزور طبقات کے بچوں کو سستی تعلیم فراہم کرنے اور حق تعلیم قانون کے تحت اندراج کو یقینی بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔طلباء کی ہمہ جہت ترقی کے لیے اسکول باقاعدگی سے کھیل،یوگا،ثقافتی پروگرام،سائنس کی نمائش،قیادت کی نشوونما،شخصیت کی نشوونما اور مختلف ہم نصابی سرگرمیوں کا اہتمام کرتا ہے۔جس سے طلباء کو خود اعتمادی اور قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے میں مدد ملتی ہے۔تقریب میں بہار کے مختلف اضلاع سے ماہرین تعلیم،اسکول کے منتظمین اور اساتذہ موجود تھے۔

Continue Reading

بہار

سیتامڑھی میں ضلع سطح کی اردو تقریری مقابلہ، طلبہ نے صلاحیتوں کا لوہا منوایا

Published

on

سیتامڑھی : اردو ڈائریکٹوریٹ بہار کی ہدایت پر ضلع انتظامیہ اور ضلع اردو زبان سیل سیتامڑھی کے زیر اہتمام جمعرات کو پریچرچہ بھون میں ضلع سطح کے مباحثہ و اردو تقریری مقابلہ کا شاندار انعقاد کیا گیا۔ “اردو بولنے والے طلبہ حوصلہ افزائی اسکیم” کے تحت منعقد اس پروگرام میں ضلع بھر کے مختلف اسکولوں، کالجوں اور مدارس کے طلبہ و طالبات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ پروگرام کا افتتاح ضلع اردو زبان سیل کے انچارج افسر شفیع احمد، کملا ہائی اسکول کے پرنسپل ڈاکٹر محمد قمرالہدیٰ، اوقاف کمیٹی کے صدر غلام مصطفیٰ عرف گوہر سمیع، پروفیسر مسعود عالم عرف گوہر صدیقی، محمد ارمان علی، محمد اجمل، مولانا محمد مطیع الرحمن قاسمی سمیت دیگر مہمانوں نے چراغ روشن کرکے کیا۔ اپنے خطاب میں شفیع احمد نے کہا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ تہذیب، محبت اور بھائی چارے کی پہچان ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اردو کی ترقی میں سرگرم کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آج کے طلبہ ہی ملک کا روشن مستقبل ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے موبائل فون کے بے جا استعمال سے بچنے اور تعلیم و تربیت پر توجہ دینے کی نصیحت کی۔ پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد قمرالہدیٰ نے کہا کہ اردو معاشرے کو جوڑنے والی زبان ہے اور اس کی ادبی و ثقافتی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ وہیں پروفیسر مسعود عالم عرف گوہر صدیقی نے کہا کہ اس طرح کے مقابلے نوجوانوں کے اعتماد اور صلاحیتوں کو نئی پرواز دیتے ہیں۔
مقابلے میں طلبہ نے اپنی شاندار تقاریر سے محفل کو جوش و خروش سے بھر دیا۔ میٹرک/فوقانیہ زمرے میں تسکین فاطمہ نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ انٹر/مولوی زمرے میں محمد غوث رضا رضوی فاتح قرار پائے۔ گریجویشن/عالم زمرے میں آسیہ رضوی نے پہلی پوزیشن حاصل کرکے سب کی توجہ حاصل کرلی۔ پروگرام کی نظامت پروفیسر گوہر صدیقی نے انجام دی۔ اس کامیاب انعقاد میں اردو مترجم محمد تبریز عالم، محمد جاوید اختر، تمیم اختر، آسیہ ناز، فلک ناز، نوریدہ خاتون، درخشاں پروین سمیت تمام اردو کارکنان اور اساتذہ کا اہم کردار رہا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network