Connect with us

بہار

سردار اور مسلمان دہشت گرد،بھارت چھوڑو!

Published

on

یومِ آزادی پر دربھنگہ میں شرپسندی، اشتعال انگیز پوسٹر اور کارڈ بورڈ ضبط،پولیس و مقامی افراد کی مستعدی سے امن قائم، ملزم گرفتار
(پی این این)
جالے:جب پورا ملک 15 اگست کو آزادی کا جشن منا رہا تھا، قومی یکجہتی، امن اور ترقی کے عہد و پیمان باندھ رہا تھا، اُسی وقت سنگھواڑہ تھانہ علاقہ میں شرپسند عناصر نے نفرت اور منافرت پھیلانے کی کوشش کی۔ سنگھواڑہ تھانہ حلقہ کے بھرواڑہ نگر پنچایت کے رضا چوک پر ایسے اشتعال انگیز پوسٹر اور کارڈ بورڈ برآمد ہوئے جن پر مسلمانوں اور سکھوں کے خلاف زہر آلود اور توہین آمیز نعرے درج تھے۔ ان کارڈ بورڈ پر لکھا تھا: سردار اور مسلمان بھارت چھوڑو، سردار اور مسلمان ملک کے دہشت گرد ہیں، بھارت میں اذان بند ہو، بقرعید کے نام پر گائے کاٹا جاتا ہے اور دیگر مذہب مخالف تحریریں، جنہیں دیکھ کر مقامی لوگ سکتے میں آگئے۔
یومِ آزادی کے موقع پر جہاں بچے ترنگا تھامے اسکول جا رہے تھے، نوجوان پرچم لگا کر ریلیاں نکال رہے تھے، گھروں اور دکانوں پر قومی پرچم لہرائے جا رہے تھے، وہیں اچانک رضا چوک پر یہ منافرت آمیز پوسٹر دیکھ کر ماحول مکدر ہو گیا۔ مشتعل بھیڑ نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی تھانہ انچارج بسنت کمار پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچے، تمام پوسٹر اور کارڈ بورڈ ضبط کر لیے گئے اور نستہ پنچایت کے ردھیا کٹی ( بھجورہ) گاؤں کے باشندہ لَلن چوپال (28) کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس کے پاس سے آدھا درجن قابلِ اعتراض کارڈ بورڈ بھی برآمد ہوئے۔ پولیس نے ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لیے ہلکا لاٹھی چارج بھی کیا، جس میں بھروارہ قاضی محلہ کے باشندہ زمان اللہ زخمی ہو گیا، جس کا علاج سنگھواڑہ اسپتال میں کرایا گیا۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی دربھنگہ کے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ جگوناتھ ریڈی جلا ریڈی کے حکم پر مختلف تھانوں کی پولیس بھروارہ پہنچ گئی اور علاقے میں فلیگ مارچ نکال کر ماحول کو قابو میں کیا۔ موقع پر نگر پولیس سپرنٹنڈنٹ اشوک کمار، ایس ڈی پی او صدر ٹو شوبھیندر سمن، پولیس انسپکٹر سریش رام، صدر تھانہ انچارج منوج کمار اور سمری تھانہ انچارج اروند کمار پولیس فورس کے ساتھ تعینات رہے۔
ادھر واقعہ کی خبر ملتے ہی راجد کے صوبائی ترجمان و سابق ایم ایل اے رشی مشرا، انصاف منچ کے نائب صدر نیّاز احمد، بلاک نائب پرمکھ ساجد مظفر ببلو ، امن کمیٹی کے رکن امجد عباس، ستار خان، ارشاد عالم، اظہار عالم منا، شَنبھو ٹھاکر، معراج علی،کانگریس لیڈر سید تنویر احمد، احمد علی تمنا اور صلاح الدین بھی رضا چوک پہنچے اور دونوں فریقوں سے صبر و تحمل کی اپیل کی۔ رشی مشرا نے کہا کہ سنگھواڑہ جیسے علاقے میں آج تک کبھی اس طرح کی شرپسندی نہیں ہوئی، یہ فرقہ پرست طاقتوں کی کارستانی ہے جو معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں۔
مقامی مسجد کے امام بارک حسن انصاری نے کہا کہ یہاں کبھی ایسا ماحول نہیں رہا، نہ جانے کون یہ حرکت کر رہا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے۔ عوامی نمائندوں اور بااثر شخصیات نے بھی واقعہ کے بعد میٹنگ کر کے مشترکہ طور پر اس ناپاک کوشش کی مذمت کی اور کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ ہندو اور مسلمان کو بانٹنے کی کوشش کس کے فائدے اور کس کے نقصان میں ہے؟ بہار میں انتخابی ماحول کے بیچ یہ واقعہ محض اتفاق ہے یا کسی بڑی سازش کا حصہ، یہ سمجھنا ہر امن پسند شہری کی ذمہ داری ہے۔ عوام نے عزم کیا کہ باہمی اتحاد و بھائی چارے کے ساتھ فرقہ پرست طاقتوں کو ناکام بنایا جائے گا۔

بہار

بہاراقلیتی رہائشی اسکولوں میں داخلہ کیلئے درخواستیں مطلوب

Published

on

(پی این این)
ارریہ: بہار کے ریاستی اقلیتی رہائشی اسکولوں میں تعلیمی سیشن 2026-27 کے لیے کلاس 9 اور 11 میں داخلے کے لیے آن لائن درخواستیں طلب کی جا رہی ہیں، نیز مسلم، سکھ، عیسائی، بدھ، جین، اور پارسی برادریوں کے طلباء کے ساتھ ساتھ اقلیتی رہائشی اسکول، جمہار پور، کاہار لینڈ، مائیناریٹی ریذیڈنٹ اسکول میں اور کیمور اضلاع، اور کیمپ ایٹ اضلاع سیوان، پورنیہ، سہرسہ، مونگیر اور سپول میں۔ آخری تاریخ، 01.05.2026 کو بڑھا دیا گیا ہے اور اہل طلباء 20.05.2026 تک درخواست دے سکتے ہیں۔ درخواست کا عمل محکمہ کی ویب سائٹ https://state.bihar.gov.in/minoritywelfare/CitizenHome.html پر آن لائن دستیاب ہے۔
آن لائن فارم کے ساتھ منسلک ہونے والی دستاویزات (خود تصدیق شدہ) ضمیمہ: سرکل آفیسر کے ذریعہ جاری کردہ رہائشی آمدنی کا سرٹیفکیٹ (امیدواروں کی زیادہ سے زیادہ سالانہ خاندانی آمدنی چھ لاکھ روپے ہونی چاہئے)، تعلیمی قابلیت کے سرٹیفکیٹ/نمبر سرٹیفکیٹ کی خود تصدیق شدہ کاپیاں، تین تصاویر، اور عمر کی حد کا ثبوت۔

Continue Reading

بہار

پسماندہ مسلمانوں کیلئے سیاسی ،معاشی اور سماجی میدان میں حصہ داری کا مطالبہ

Published

on

(پی این این)
چھپرہ :شہر کے آڈیٹوریم میں اتوار کو سائیں-شاہ سماج کی جانب سے ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔جس میں برادری کے معاشی،سماجی اور سیاسی فروغ کے موضوع پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔کانفرنس میں مقررین نے کہا کہ برسوں سے مختلف سیاسی جماعتوں نے اس سماج سے صرف ووٹ لینے کا کام کیا ہے۔مگر اس کی ترقی اور حقوق کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سماج کے ضلع صدر انجینئر دانش ہشام نے کہا کہ یہ برادری آج بھی نظر انداز اور پسماندہ حالت میں زندگی گزار رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد موجودہ مسائل کا حل تلاش کرنا اور آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کرنا ہے۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر آگے بڑھیں اور تعلیم،روزگار اور سماجی بیداری پر خاص توجہ دیں۔
بھاگلپور سے آئے سماجی کارکن و سابق مکھیا محمد کلام الدین نے کہا کہ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد حکومت کی توجہ اس برادری کی ہمہ جہت ترقی کی طرف مبذول کرانا ہے۔انہوں نے کہا کہ سائیں-شاہ سماج آج بھی سماجی اور معاشی طور پر کافی پسماندہ ہے اور زیادہ تر لوگ محنت مزدوری اور چھوٹے کاروبار پر انحصار کرتے ہیں۔انہوں نے مرکز اور ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس سماج کی ترقی کے لیے خصوصی اسکیمیں بنائی جائیں اور سرکاری فوائد آخری فرد تک پہنچائے جائیں۔
اس موقع پر کلام میموریل ٹرسٹ کے قومی سکریٹری محمد مِٹّھو شاہ نے کہا کہ آزادی کے 77 برس بعد بھی اس برادری کے حقوق کے لیے سنجیدگی سے آواز نہیں اٹھائی گئی۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس کمیونٹی کو بھی سیاسی نمائندگی میں مناسب مقام دیا جائے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس سماج کے نمائندوں کو اسمبلی، قانون ساز کونسل اور راجیہ سبھا جیسے اہم ایوانوں میں شامل کیا جائے تاکہ ان کی آواز بلند ہو سکے۔
کانفرنس کے نائب صدر شمیم احمد نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدہ قدم اٹھائے تو نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور باعزت زندگی کے مواقع حاصل ہو سکتے ہیں۔کانفرنس میں جنرل سیکرٹری محمد شہاب الدین،ضلع صدر محمد شمیم،چھپرہ صدر محمد اصغر علی،انجینئر شمشیر عالم،مظہر حسین،صفدر حسین،حاجی ہشام الدین،نظام شاہ سمیت بڑی تعداد میں برادری کے افراد موجود تھے۔

Continue Reading

بہار

وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے سیتامڑھی میں ترقیاتی کاموں کالیا جائزہ

Published

on

(پی این این)
سیتامڑھی:وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے ضلع سیتامڑھی میں واقع پُنورادھام مندر کی تعمیر اور پورے علاقے کے ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ پُنورادھام مندر احاطہ میں منعقد اس اہم اجلاس میں ضلع مجسٹریٹ رچی پانڈے نے پریزنٹیشن کے ذریعے مجوزہ ماں سیتا پُنورادھام مندر سے متعلق تمام کاموں کی پیش رفت اور مستقبل کے منصوبوں کی مکمل جانکاری دی۔ پریزنٹیشن میں بتایا گیا کہ پُنورادھام کو ایک بڑے مذہبی و سیاحتی مرکز کے طور پر ترقی دینے کے لیے یاتری سہولت مرکز، شاندار داخلی دروازہ، گربھ گرہ اور سیتا کنڈ کی ترقی، وسیع بلٹ اپ ایریا، پارکنگ کی سہولت، انتظامی عمارت، ریلوے اسٹیشن کی بہتری، ماں جانکی کے جنم کنڈ کے احاطہ کی بحالی، ماسٹر پلان، سیکورٹی کے نقطہ نظر سے ضروری اقدامات، مجوزہ سیتا میوزیم اور سیٹلائٹ ٹاؤن شپ جیسے اہم منصوبوں پر کام جاری ہے۔ بہار اسٹیٹ ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی جانب سے ان منصوبوں کی تفصیلات بھی تیار کی گئی ہیں۔ضلع مجسٹریٹ نے بتایا کہ مٹی کی جانچ اور سروے کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ بیریکیڈنگ کا کام جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی مندر احاطہ کے گربھ گرہ اور کنڈ کی مجموعی ترقی کا بھی منصوبہ ہے۔
جائزہ کے دوران وزیر اعلیٰ نے افسران کو سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ماں جانکی کے پُنورادھام مندر کی تعمیر 31 دسمبر 2028 تک ہر حال میں مکمل کی جائے۔ انہوں نے تعمیراتی کام کے معیار پر خاص توجہ دینے اور اسے اعلیٰ سطح پر مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پُنورادھام علاقے کو ایک منظم ٹاؤن شپ کے طور پر تیار کیا جائے گا۔ ساتھ ہی ماں سیتا کی زندگی سے جڑے تمام اہم مقامات کو پُنورادھام سے جوڑنے کا بھی انتظام کیا جائے گا تاکہ یہاں آنے والے عقیدت مند کچھ دن قیام کرکے زیارت اور سیاحت کر سکیں۔
وزیر اعلیٰ نے لکشمنہ ندی سے متعلق امور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کی تاریخی اور مذہبی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ترقیاتی کام یقینی بنائے جائیں۔ اجلاس سے قبل وزیر اعلیٰ نے ماں جانکی مندر، پُنورادھام میں جانکی کی جائے پیدائش (سیتا جنم کنڈ) پر پوجا پاٹھ کرکے ریاست کی خوشحالی، امن اور ترقی کی دعا کی۔ اس دوران انہوں نے مجوزہ مندر کے ماڈل کا بھی معائنہ کیا۔ مقامی عوامی نمائندوں، رہنماؤں، ضلع انتظامیہ اور پُنورادھام مندر انتظامیہ کمیٹی کے اراکین نے وزیر اعلیٰ کا گلدستہ، شال اور یادگاری نشان پیش کر کے استقبال کیا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network