بہار
ارریہ میں منایاگیا عالمی یوم ماہی پروری
(پی این این)
ارریہ :بہار کے ارریہ ضلع مجسٹریٹ انیل کمار کی صدارت میں کلکٹریٹ ارریہ کے پرمان آڈیٹوریم میں عالمی یوم ماہی پروری منایا گیا۔ پروگرام کا افتتاح ضلع مجسٹریٹ، ارریہ انیل کمار، اسپیشل آفیسر مسٹر دلیپ کمار، ضلع کے ترقی پسند مچھلی کاشتکار، مسٹر پربھات کمار سنگھ، بلاک فشریز کوآپریٹیو سوسائٹیز کے وزیر، اور ضلع ماہی پروری افسر، مسٹر بال کرشنا گوپال نے مشترکہ طور پر شمع روشن کرکے کیا۔ تقریباً 200 فش فارمرز اور ضلع کے بلاک لیول فشریز کوآپریٹیو کے ممبران نے پروگرام میں شرکت کی۔ پروگرام کے آغاز میں ڈسٹرکٹ فشریز آفیسر ارریہ مسٹر بال کرشنا گوپال نے مہمانوں کا استقبال کیا۔
فشریز ڈے کی اہمیت اور مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے، ڈسٹرکٹ فشریز آفیسر نے کہا کہ اس دن کا انعقاد ماہی گیروں میں مچھلی کے وسائل اور ان کے ماحولیاتی نظام کو کثرت اور تنوع کے ساتھ مستقبل کی نسلوں کے لیے محفوظ رکھنے کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ان کے مسلسل روزگار کو یقینی بنایا جا سکے۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے، ضلع مجسٹریٹ نے ماہی پروری برادری پر زور دیا کہ وہ آبی وسائل، ماحولیات اور ماحولیاتی نظام کی حفاظت کے لیے چوکس اور ذمہ دار رہیں تاکہ ان کی روزی روٹی برقرار رہے۔ انہوں نے حکومتی قواعد و ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے اور غیر قانونی ماہی گیری سے گریز کرتے ہوئے ماہی گیری کی اہمیت پر زور دیا جس سے بالآخر کمیونٹی کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے ماہی گیروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ حکومت کی جانب سے چلائی جانے والی اسکیموں سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اپنے واٹر ٹیکس کا مؤثر طریقے سے انتظام کریں۔
ضلع مجسٹریٹ نے کسانوں اور ماہی گیروں پر زور دیا کہ وہ فش فارمنگ کی نئی تکنیک اپنا کر مچھلی کی پیداوار میں اضافہ کریں تاکہ ضلع مچھلی کی پیداوار میں خود کفیل ہو کر دوسرے اضلاع کو برآمد کر سکے۔ انہوں نے ہیچری چلانے والوں کو ہدایت کی کہ وہ ضلع میں مچھلی کے بیج کی مناسب دستیابی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کاشتکاروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی آمدنی میں اضافے کے لیے اپنے کچھ تالابوں میں مچھلی کاشت کرنے کی اختراعی تکنیک اپنائیں ۔ فشرمین کوآپریٹو سوسائٹیز کی جانب سے اٹھائے گئے واٹر ٹیکس پر تجاوزات کے کیسز پر انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ تمام سوسائٹیز اپنے تجاوزات واٹر ٹیکس کی فہرست ڈسٹرکٹ فشریز آفیسر کے ذریعے فراہم کریں، تجاوزات ہٹانے کے لیے ضروری کارروائی ضرور کی جائے گی۔
پروگرام کے تکنیکی سیشن میں، ماہی پروری کے محکمہ کے علاقائی افسران نے ماہی گیروں کو مرکزی اسپانسر شدہ پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا اور چور وکاس اور ریاستی حکومت کی طرف سے چلائی جانے والی دیگر اسکیموں کے فوائد حاصل کرنے کے لیے ضروری دستاویزات، گرانٹس، آن لائن درخواست وغیرہ کے بارے میں آگاہ کیا۔ پروگرام کے اختتام پر، شری بالکرشن گوپال، ڈسٹرکٹ فشریز آفیسر، ارریہ نے شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ فشریز آفس ارریہ کے تمام افسران اور ملازمین موجود تھے۔
بہار
دربھنگہ میں گیس لیک سے بھیانک آتشزدگی،3ماہ کا بچہ سمیت 3ہلاک ،8سے زائد زخمی
(پی این این)
دربھنگہ :بہار کے دربھنگہ ضلع کے سندرپور علاقے میں ایک دردناک سانحہ پیش آیا جہاں گھریلو گیس کے رساؤ کے باعث اچانک آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے سلنڈر دھماکے کے ساتھ پورا گھر شعلوں کی لپیٹ میں آ گیا۔ اس ہولناک حادثے میں ایک ہی خاندان کے 3 افراد، میاں بیوی اور ان کا 3 ماہ کا معصوم بچہ جاں بحق ہو گئے، جب کہ 8 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے، جن میں ایک فائر بریگیڈ اہلکار بھی شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق مہلوکین کی شناخت گوبند داس (30)، ان کی اہلیہ نشو کماری (26) اور ان کے 3 ماہ کے بیٹے یوراج کمار کے طور پر ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نشو کماری اپنے بچے کو گود میں لے کر کچن میں کھانا تیار کر رہی تھیں کہ اسی دوران گیس لیک ہونے کی وجہ سے جیسے ہی ماچس جلائی گئی، اچانک آگ بھڑک اٹھی اور پورا کچن لپیٹ میں آ گیا۔ بچے کو بچانے کی کوشش میں گوبند داس بھی آگ میں کود پڑے، تاہم وہ بھی شدید جھلس گئے اور بعد میں جانبر نہ ہو سکے۔
عینی شاہدین کے مطابق آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ چند ہی منٹوں میں گھر کا بڑا حصہ شعلوں کی زد میں آ گیا، جب کہ کھڑکیوں اور وینٹی لیٹر سے دھواں اور آگ کے شعلے باہر نکلنے لگے۔ اطلاع ملتے ہی مقامی لوگ موقع پر جمع ہو گئے اور اپنی مدد آپ کے تحت بچاؤ کی کوششیں شروع کیں، تاہم آگ کی شدت کے باعث فوری قابو پانا ممکن نہ ہو سکا۔
ادھر اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی 4 گاڑیاں موقع پر پہنچیں اور کافی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا گیا۔ ریسکیو کارروائی کے دوران ایک فائر بریگیڈ اہلکار بھی جھلس کر زخمی ہو گیا۔ زخمیوں میں بیچن داس، گوتم داس اور پڑوسی آدتیہ ٹھاکر سمیت دیگر افراد شامل ہیں، جنہیں علاج کے لیے قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
یونیورسٹی تھانہ کے انچارج سدھیر کمار نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کچن حال ہی میں نچلی منزل سے تیسری منزل پر منتقل کیا گیا تھا اور کھانا بنانے کے دوران گیس کے رساؤ کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کی ہر پہلو سے جانچ کی جا رہی ہے۔
وہیں فائر بریگیڈ کے ڈی ایس پی محمد فیض نے کہا کہ اطلاع ملتے ہی ٹیمیں فوری طور پر روانہ کی گئیں اور بروقت کارروائی کے نتیجے میں آگ پر قابو پا لیا گیا، ورنہ نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔ انہوں نے گھریلو گیس کے استعمال میں احتیاط برتنے کی اپیل بھی کی۔
بہار
سی۔ایم کالج، دربھنگہ میں انٹر کالج کوئز مقابلہ کا اہتمام
(پی این این )
دربھنگہ:ہمارا ملک ہندوستان ایک کثیر اللسانی ملک ہے جہاں مختلف جغرافیائی خطے میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں اور ہماری قومی زبان ہندی ہے لیکن اس تلخ سچائی سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس دورِ عا لمیت میں انگریزی زبان کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوگئی ہے ۔ بالخصوص غیر ملکی کمپنیوں میں ملازمت حاصل کرنے کے لئے انگریزی زبان پر عبور حاصل کرنا لازمی ہے ۔ اس لئے ہمارے طلبا وطالبات کو جو انگریزی زبان کے ساتھ گریجویٹ اور ماسٹر ڈگری حاصل کر رہے ہیں انہیں انگریزی زبان پر دسترس حاصل کرنی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر مشتاق احمد، پرنسپل کالج ہذا نے کیا۔
پروفیسر احمد کالج کے شعبۂ انگریزی کے زیر اہتمام منعقد انٹر کالج کوئز مقابلہ کے اختتامیہ و جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کر رہے تھے۔پروفیسر احمد نے کہا کہ انگریزی شعبہ قابلِ مبارکباد ہے کہ انہوں نے انٹر کالج کوئز مقابلہ کا اہتمام کیا اور جس میں ایل این متھلا یونیورسٹی کے مختلف کالجوں کے تقریباً 150؍ طلبا وطالبات نے حصہ لیا اور نہ صرف انگریزی زبان پڑھنے والے بلکہ دوسرے موضوعات کے طلبا نے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ۔ پروفیسر احمد نے کہا کہ ہمارے بچوں کے اندر انگریزی زبان کی صلاحیت لکھنے تک تو ہوتی ہے لیکن وہ بات چیت کرنے میں ناکام رہتے ہیں اس لئے انگریزی زبان میں مکالمہ ضروری ہے تاکہ وہ کالج میں ہی اپنی کمیوں کو دور کر سکیں ۔
اس جلسہ کے مہمانِ خصوصی پروفیسرسنجیو کمار مشرا ، پرنسپل سی ایک سائنس کالج، دربھنگہ نے کہا کہ آج کے مقابلہ جاتی دور میں صرف نصابی کتابوںتک خود کو محدود نہ کریںبلکہ طلبا وطالبات اپنے اندر زبان کو لکھنے ، پڑھنے کی صلاحیت بھی پیدا کریں۔ کیوں کہ انگریزی زبان کا سیکھنا اور بولنا شخصیت میں نکھار کے ساتھ اعتماد بھی پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئز مقابلہ طلبا کے اندر تجسس پیدا کرتا ہے اور تجسس کی بنیاد پر سیکھنے کا عمل آسان ہو جاتا ہے۔
صدر شعبۂ انگریزی ڈاکٹر سبرتو کمار داس نے اس کوئز مقابلہ کی علمی اہمیت وافادیت پرروشنی ڈالی اور اس بات پر خوشی ظاہر کی کہ ہماری یونیورسٹی کے مختلف کالجوں کے طلبا نے اس میں حصہ لیا ۔ لٹریری سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر کمار گورو نے کہا کہ شعبۂ انگریزی کا یہ لٹریری سوسائٹی طلبا وطالبات کی صلاحیت کونکھارنے کا مسلسل کام کرتی رہتی ہے جس کا یہ کوئز مقابلہ ایک نمونہ ہے۔اس کوئز مقابلہ کو کامیاب بنانے میں شعبۂ انگریزی کے تمام اساتذہ ڈاکٹر رادھا نرائن، ڈاکٹر نریش کمار، ڈاکٹر بشریٰ تازین، ڈاکٹر امِ سلمہ نے اہم کردار ادا کیا ۔ اس موقع پر تمام شرکائے کوئز کو اسناد اور میڈل سے نوازا گیا ۔ آغاز میں صدر شعبہ انگریزی نے مہمانوں کاپاگ ، چادر اور گلدستہ سے استقبال کیا ۔
بہار
زیرِ زمین پانی کے پائیدار اور بہتر انتظام پر ریاستی سطح کی ورکشاپ کا وزیر سنجے سنگھ کے ہاتھوں افتتاح
(پی این این )
حاجی پور: محکمۂ صحتِ عامہ انجینئرنگ حکومتِ بہار کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زیرِ زمین پانی کے انتظام کے موضوع پر منعقد ریاستی سطح کی ورکشاپ کا افتتاح وزیر سنجے کمار سنگھ نے کیا۔ یہ ورکشاپ ریاست میں محفوظ اور پائیدار پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
اپنے افتتاحی خطاب میں وزیر سنجے کمار سنگھ نے کہا کہ “ہر گھر نل کا جل” اسکیم کے تحت ریاست کے کروڑوں دیہی خاندانوں تک صاف پینے کا پانی پہنچایا گیا ہے۔ جو حکومتِ بہار کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے موسمی حالات اور غیر متوازن بارش کی وجہ سے زیرِ زمین پانی پر بڑھتا ہوا دباؤ مستقبل کے لیے ایک سنگین چیلنج بن سکتا ہے، اس لیے پانی کے تحفظ اور اس کے بہتر انتظام کو اولین ترجیح دینا ضروری ہے۔
وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پینے کے پانی کی فراہمی کی اسکیموں کے ساتھ ساتھ زیرِ زمین پانی کے تحفظ، سطحی پانی پر مبنی منصوبوں، بین محکمہ جاتی تال میل اور عوامی شراکت داری کو بھی فروغ دینا ہوگا، تاکہ آنے والی نسلوں کیلئے آبی وسائل کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔ اس ورکشاپ میں مختلف محکموں کے سینئر افسران، انجینئرز، سائنسدانوں اور ترقیاتی شراکت دار اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس دوران زیرِ زمین پانی کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، آبی وسائل کے استحکام اور طویل مدتی آبی تحفظ سے متعلق مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے تبادلۂ خیال کیا گیا۔
پروگرام کے دوران ماہرین نے تکنیکی سیشنز کے ذریعے زیرِ زمین پانی کے سائنسی اور عملی پہلوؤں پر غور و خوض کیا اور ریاست میں آبی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔اس ورکشاپ کا مقصد ریاست میں موسمی حالات سے ہم آہنگ، مضبوط اور پائیدار پینے کے پانی کے انتظام کا نظام تیار کرنا ہے، تاکہ عوام کو مسلسل اور محفوظ پینے کا پانی فراہم کیا جا سکے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار5 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
بہار11 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ1 year agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
