Connect with us

بہار

ارریہ:ڈی ایم نے پیکس انتخابات کی تیاریوں کالیاجائزہ،پرامن اور منصفانہ الیکشن کرانے کی ہدایت

Published

on

(پی این این)
ارریہ: پیکس انتخابات 2026 کی تیاریوں کے حوالے سے ضلع مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دوہن کی صدارت میں ان کے چیمبر میں ضلع رابطہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کا مقصد آئندہ پیکس انتخابات کے پرامن، منصفانہ اور کامیاب انعقاد کو یقینی بنانا تھا۔ ڈسٹرکٹ کوآپریٹو آفیسر نے بتایا کہ ضلع کے پانچ بلاکس میں 23 پیکس انتخابات کے شیڈول ہیں۔ ان میں نرپت گنج بلاک میں ایک پیکس، ارریہ بلاک میں آٹھ، کرسا کانٹا میں چار، فاربس گنج میں چھ، اور سکٹی بلاک میں چار شامل ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ نے پیکس انتخابات کے حوالے سے تفصیلی جانکاری حاصل کی اور اب تک کئے گئے کاموں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے پیکس انتخابات کے کامیاب انعقاد کے لیے فوری طور پر مختلف سیل تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ انتخابی عمل کے لیے عملہ، مواد، بیلٹ پیپرز، میڈیا اور ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ سمیت مختلف محکمے تشکیل دیے جائیں گے۔
اس سلسلے میں ضلع مجسٹریٹ نے ہدایت کی کہ پولنگ ہال کے انتظامات، پولنگ اہلکاروں کی تربیت اور دیگر تمام ضروری کاموں کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے۔ انتخابی شیڈول کے مطابق، مقررہ فارم میں معلومات 5 جنوری 2026 کو شائع کی گئی تھیں۔ کاغذات نامزدگی 21 اور 22 جنوری 2026 کو صبح 11:00 بجے سے سہ پہر 3:00 بجے تک ہوں گے۔ جانچ پڑتال 24 اور 22 جنوری 2026 کو ہوگی۔ امیدواروں کی دستبرداری اور نشان کی تقسیم 29 جنوری 2026 کو کی جائے گی۔ ووٹنگ 6 فروری 2026 کو صبح 7:00 بجے سے شام 4:30 بجے تک ہوگی۔ ووٹوں کی گنتی ووٹنگ کے فوراً بعد یا اگلے دن ہوگی، اور انتخابی عمل 9 فروری 2026 کو اختتام پذیر ہوگا۔
بلاک وار پی اے سی ایس کے نام (جہاں انتخابات ہونے ہیں): نرپت گنج – بسمتیا پیکس۔ارریہ:- ترونا پیکس، بانس باڑی پیکس، بوچی پیکس، مدن پور پورب پیکس، مدن پور پچھم پیکس، رام پور کودر کٹی پیکس، پیک ٹولہ پیکس، پوکھریا پیکس،کرساکانٹا – لکشمی پور پیکس، لیلوکھر پیکس، شنکر پور پیکس، سورنگونپیکس۔ فاربیس گنج :- اوراہی پورب پیکس، خیرکھا پیکس، بوکرا پیکس، مرزا پور پیکس، شہباز پور پیکس، پوٹھیا پیکس۔ سکٹی:- آم گاچھی پیکس، ڈڑھوا پیکس، ٹھینگا پور پیکس، بوکنتری پیکس۔ میٹنگ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ارریہ، ڈپٹی ڈیولپمنٹ کمشنر، سب ڈویژنل آفیسر، ڈسٹرکٹ ٹرانسپورٹ آفیسر، سب ڈویژنل پولیس آفیسر، ڈسٹرکٹ کوآپریٹو آفیسر اور دیگر متعلقہ عہدیداروں نے شرکت کی۔

بہار

تعلیم میں عمدگی، قابل رسائی تعلیم، اور لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے اعزاز

Published

on

چھپرہ:سی پی ایس گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کے چیئرمین ڈاکٹر ہریندر سنگھ کو بہار کے وزیر تعلیم متھلیش تیواری نے پٹنہ کے رویندر بھون میں منعقدہ پرائیویٹ اسکول اینڈ چلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن کی 15ویں سالگرہ تقریب میں تعلیم کے میدان میں شاندار خدمات کے لیے اعزاز سے نوازا۔اس موقع پر سی پی ایس گروپ کے چیئرمین کے ساتھ گروپ کے 60 سے زائد اساتذہ کو بھی ان کی شاندار تعلیمی خدمات پر اعزاز سے نوازا گیا۔غور طلب ہے کہ ہر سال کی طرح اس ادارے کو CBSE کے 10ویں اور 12ویں کے امتحانات میں شاندار نتائج کے لیے خصوصی پہچان ملی۔تقریب میں ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر سید سمیل احمد نے گزشتہ 32 سالوں میں تعلیم کے میدان میں ڈاکٹر ہریندر سنگھ کے نمایاں کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دیہی علاقوں میں معیاری اور قابل رسائی تعلیم کے لیے ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پی ایس گروپ ہر سال 51 لڑکیوں کا مفت داخلہ کر کے لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دیتا ہے۔اس تنظیم نے معاشی طور پر کمزور طبقات کے بچوں کو سستی تعلیم فراہم کرنے اور حق تعلیم قانون کے تحت اندراج کو یقینی بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔طلباء کی ہمہ جہت ترقی کے لیے اسکول باقاعدگی سے کھیل،یوگا،ثقافتی پروگرام،سائنس کی نمائش،قیادت کی نشوونما،شخصیت کی نشوونما اور مختلف ہم نصابی سرگرمیوں کا اہتمام کرتا ہے۔جس سے طلباء کو خود اعتمادی اور قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے میں مدد ملتی ہے۔تقریب میں بہار کے مختلف اضلاع سے ماہرین تعلیم،اسکول کے منتظمین اور اساتذہ موجود تھے۔

Continue Reading

بہار

سیتامڑھی میں ضلع سطح کی اردو تقریری مقابلہ، طلبہ نے صلاحیتوں کا لوہا منوایا

Published

on

سیتامڑھی : اردو ڈائریکٹوریٹ بہار کی ہدایت پر ضلع انتظامیہ اور ضلع اردو زبان سیل سیتامڑھی کے زیر اہتمام جمعرات کو پریچرچہ بھون میں ضلع سطح کے مباحثہ و اردو تقریری مقابلہ کا شاندار انعقاد کیا گیا۔ “اردو بولنے والے طلبہ حوصلہ افزائی اسکیم” کے تحت منعقد اس پروگرام میں ضلع بھر کے مختلف اسکولوں، کالجوں اور مدارس کے طلبہ و طالبات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ پروگرام کا افتتاح ضلع اردو زبان سیل کے انچارج افسر شفیع احمد، کملا ہائی اسکول کے پرنسپل ڈاکٹر محمد قمرالہدیٰ، اوقاف کمیٹی کے صدر غلام مصطفیٰ عرف گوہر سمیع، پروفیسر مسعود عالم عرف گوہر صدیقی، محمد ارمان علی، محمد اجمل، مولانا محمد مطیع الرحمن قاسمی سمیت دیگر مہمانوں نے چراغ روشن کرکے کیا۔ اپنے خطاب میں شفیع احمد نے کہا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ تہذیب، محبت اور بھائی چارے کی پہچان ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اردو کی ترقی میں سرگرم کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آج کے طلبہ ہی ملک کا روشن مستقبل ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے موبائل فون کے بے جا استعمال سے بچنے اور تعلیم و تربیت پر توجہ دینے کی نصیحت کی۔ پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد قمرالہدیٰ نے کہا کہ اردو معاشرے کو جوڑنے والی زبان ہے اور اس کی ادبی و ثقافتی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ وہیں پروفیسر مسعود عالم عرف گوہر صدیقی نے کہا کہ اس طرح کے مقابلے نوجوانوں کے اعتماد اور صلاحیتوں کو نئی پرواز دیتے ہیں۔
مقابلے میں طلبہ نے اپنی شاندار تقاریر سے محفل کو جوش و خروش سے بھر دیا۔ میٹرک/فوقانیہ زمرے میں تسکین فاطمہ نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ انٹر/مولوی زمرے میں محمد غوث رضا رضوی فاتح قرار پائے۔ گریجویشن/عالم زمرے میں آسیہ رضوی نے پہلی پوزیشن حاصل کرکے سب کی توجہ حاصل کرلی۔ پروگرام کی نظامت پروفیسر گوہر صدیقی نے انجام دی۔ اس کامیاب انعقاد میں اردو مترجم محمد تبریز عالم، محمد جاوید اختر، تمیم اختر، آسیہ ناز، فلک ناز، نوریدہ خاتون، درخشاں پروین سمیت تمام اردو کارکنان اور اساتذہ کا اہم کردار رہا۔

Continue Reading

Bihar

ذات دیکھ کر انکاؤنٹر کرا رہے ہیں سمراٹ چودھری، تیجسوی یادو کا بہار حکومت پرالزام،عصمت دری کے مجرموں کا کب ہوگاانکاؤنٹر؟وزیراعلیٰ سے آرجے ڈی لیڈر کا سوال

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے لیڈر اور آر جے ڈی کے سربراہ تیجسوی یادو نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری ذات پات کی بنیاد پر انکاؤنٹر کرا رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے سوال کیا کہ خواتین کے ساتھ عصمت دری کرنے والے درندہ صفت مجرموں کا انکاؤنٹر آخر کب ہوگا؟راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے کارگزار صدر تیجسوی یادو نے کہا کہ سمراٹ چودھری کی قیادت میں این ڈی اے کی نئی حکومت بننے کے بعد بہار میں جرائم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ روزانہ خواتین اور بچیوں کے ساتھ عصمت دری اور قتل کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران پیش آنے والے متعدد واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
تیجسوی یادو نے منگل کو پٹنہ واقع آر جے ڈی دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بہار میں خواتین کی سلامتی پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ سمراٹ چودھری کی حکومت بنے ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور محکمۂ داخلہ خود وزیر اعلیٰ کے پاس ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے بڑے دعوے کرتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سمراٹ حکومت کے دور میں خواتین کے خلاف جرائم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مجرم خواتین پر قہر بن کر ٹوٹ رہے ہیں اور سمراٹ حکومت پوری طرح ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم کے اعداد و شمار انتہائی تشویشناک ہیں اور شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب ماؤں، بہنوں اور بچیوں کے خلاف جرم کا کوئی واقعہ سامنے نہ آتا ہو۔تیجسوی یادو نے کہا کہ اجتماعی عصمت دری اور ریپ کے معاملات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ آر جے ڈی لیڈر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حکومت میں شامل کئی وزراء ایسے ہیں جن کے خلاف فوجداری مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔
تیجسوی یادو نے سمراٹ چودھری کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے کے بعد ایک ماہ کے دوران، یعنی 15 اپریل سے 15 مئی کے درمیان، بہار کے مختلف اضلاع میں خواتین اور بچیوں کے ساتھ پیش آئے عصمت دری، اغوا اور قتل کے واقعات کا ذکر کیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں قانون و انتظام کی صورتحال پوری طرح تباہ ہو چکی ہے۔ تیجسوی نے کہا کہ انہوں نے صرف خواتین کے خلاف پیش آنے والے جرائم کا ہی تذکرہ کیا ہے، جبکہ اس کے علاوہ بھی قتل، لوٹ مار اور اغوا کی متعدد وارداتیں ہو چکی ہیں۔
قائدِ حزبِ اختلاف نے الزام عائد کیا کہ بہار میں ذات پات دیکھ کر انکاؤنٹر کیے جا رہے ہیں۔ تیجسوی یادو نے وزیر اعلیٰ سے سوال کرتے ہوئے کہا،“کیا سمراٹ چودھری مخصوص ذات کو دیکھ کر انکاؤنٹر کرا رہے ہیں؟ جن واقعات کا ہم نے ذکر کیا ہے، ان کے مجرموں کا انکاؤنٹر کب ہوگا؟ بالیکا گرہ کانڈ کے ملزم جنہیں یہ لوگ اپنا رہنما بنائے ہوئے ہیں، ان کا انکاؤنٹر کب کیا جائے گا؟ آپ دُشکرم کرنے والوں کی ذات بھی دیکھیے اور جن کے ساتھ ظلم ہوا اُن کی ذات بھی دیکھیے۔ آخر خواتین کو انصاف کب ملے گا؟”
تیجسوی یادو نے کہا کہ بہار کی 65 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’جیویکا دیدی‘‘ کو رسوئی گیس سلنڈر ملنا بند ہو گیا ہے اور خواتین کو مناسب غذائیت بھی فراہم نہیں کی جا رہی۔انہوں نے کہا کہ این ڈی اے حکومت نے بہار اسمبلی انتخابات سے قبل دو کروڑ خواتین کو 10-10 ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا تھا۔ تیجسوی نے سوال اٹھایا کہ آخر اس اسکیم کی دوسری قسط کب جاری کی جائے گی؟
آر جے ڈی لیڈر نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بہار میں این ڈی اے حکومت بنے چھ ماہ گزر چکے ہیں، لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست کو کوئی خاطر خواہ تعاون نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ بہار حکومت 71 ہزار کروڑ روپے کا قرض لینے کی تیاری کر رہی ہے۔تیجسوی یادو نے طنزیہ انداز میں کہا کہ موجودہ حکومت صرف ریل بنانے اور فوٹو شوٹ کرانے میں مصروف ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network