Connect with us

بہار

مدارس اور سنسکرت اسکولوں کے اساتذہ نظر ثانی شدہ تنخواہ اور مہنگائی الاؤنس کے علاوہ کسی اور مراعات کے حقدار نہیں:محکمہ تعلیم

Published

on

(پی این این)
پٹنہ: غیر سرکاری منظور شدہ مدارس اور سنسکرت اسکولوں کے اساتذہ اور عملہ سرکاری ملازم نہیں ہیں۔ وہ نظر ثانی شدہ تنخواہ اور مہنگائی الاؤنس کے علاوہ کسی اور مراعات کے حقدار نہیں ہیں۔ سنسکرت بورڈ کے ریٹائرڈ اساتذہ اور غیر سرکاری منظور شدہ، امداد یافتہ سنسکرت اسکولوں کے عملے کو کمائی ہوئی چھٹی کے بدلے نقد ادائیگی کرنے کے فیصلے کی روشنی میں، محکمہ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ وہ سرکاری ملازم نہیں ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ سنسکرت تعلیمی بورڈ نے مذکورہ اساتذہ اور عملے کو کمائی ہوئی چھٹی کے بدلے نقد رقم ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کی روشنی میں ثانوی تعلیم کے ڈائریکٹر سجن آر نے سنسکرت بورڈ کے ساتھ ساتھ ڈی ای او اور ڈی پی او اسٹیبلشمنٹ کو بھیجے گئے ایک مکتوب میں کہا گیا ہے کہ چھٹے نظرثانی شدہ پے اسکیل میں ریاستی حکومت کی طرف سے منظور شدہ 1,128 سے 128 اسکولوں کے ملازمین کو تنخواہوں (تنخواہ اور گریڈ پے) اور مہنگائی الاؤنس کی ادائیگی کا بندوبست کیا گیا ہے۔ اس سے آگے، کوئی الاؤنس/مالی سہولیات متوقع نہیں تھیں۔ ساتویں نظرثانی شدہ پے سکیل میں ملازمین کو مقررہ تنخواہ کے ساتھ صرف منظور شدہ مہنگائی الاؤنس ادا کیا جائے گا۔
وہیں ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے، کہا گیا ہے کہ ڈائریکٹر نے سپریم کورٹ کے LPA-43/2016 کے فیصلے میں کہا، جس میں 13 اگست 2019 کے حکم نامے کی روشنی میں کہا گیا تھا، “ہم ان اسکولوں کے تدریسی اور غیر تدریسی عملے کو ریٹائرمنٹ کے فوائد کی ادائیگی کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں، کیونکہ وہ اسکولوں کے ملازم ہیں، اس لیے انہیں سرکاری، انتظامی کمیٹیوں کے ملازمین نہیں سمجھا جا سکتا”۔
محکمہ نے کہا کہ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ غیر سرکاری تسلیم شدہ سنسکرت اسکولوں میں کام کرنے والے/ ریٹائر ہونے والے اساتذہ اور عملہ ریاستی حکومت کے ملازم نہیں ہیں۔ ان کی سروس کی شرائط کے ضوابط نہ تو کمائی ہوئی چھٹی کے بدلے نقد ادائیگی کا بندوبست کرتے ہیں اور نہ ہی کوئی بجٹ کا انتظام ہے۔ محکمہ نے بورڈ سے نقد ادائیگی کا آرڈر واپس لینے کو کہا ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

بہار

نتیش کمار نے بہارقانون ساز کونسل کی رکنیت سے دیااستعفیٰ

Published

on

(پی این این )
پٹنہ :بلآخر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار راجیہ سبھا رکن کے طور پر منتخب ہونے کے بعد قانون ساز کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جے ڈی یو لیڈر وجے کمار چودھری نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار پہلے ہی راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہو چکے ہیں، اس لیے استعفیٰ ضروری تھا۔ نتیش کمار کی جانب سے جے ڈی یو ایم ایل سی سنجے گاندھی نے بہار قانون ساز کونسل کے چیئر مین کو استعفیٰ سونپ دیا ہے۔
واضح ہوکہ نتیش کمار 2006 سے مسلسل قانون ساز کونسل کے رکن تھے، وہ رواں ماہ 16 مارچ کو راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہو گئے تھے۔ جے ڈی یو کے سربراہ ان لیڈران میں شامل ہیں جو چاروں ایوانوں کے رکن بنے ہیں۔ نتیش کمار نے راجیہ سبھا انتخاب لڑنے کے دوران کہا تھا کہ ان کی خواہش تھی کہ وہ راجیہ سبھا رکن کے طور پر منتخب ہوں، اس لیے انہوں نے یہ فیصلہ لیا ہے۔
واضح رہے کہ نتیش کمار 1985 میں ہرنوت اسمبلی سیٹ سے جیت حاصل کر اسمبلی پہنچے تھے۔ اس کے بعد 1989 میں وہ نویں لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے اور 2006 سے مسلسل قانون ساز کونسل کے رکن تھے۔ اب پہلی بار راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر وہ اپنی نئی پاری کی شروعات کرنے جا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق آئندہ ماہ 10 اپریل کو وہ راجیہ سبھا کی رکنیت حاصل کریں گے۔

Continue Reading

بہار

جیویش کمار نے ہائی اسکول کی عمارت کا کیا افتتاح

Published

on

(پی این این )
جالے: جالے اسمبلی حلقہ میں ترقیاتی کاموں کو مزید تقویت دیتے ہوئے رکنِ اسمبلی و سابق ریاستی وزیر جیویش کمار نے 2 اہم عوامی منصوبوں کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر مقامی نمائندے، معززینِ علاقہ اور بڑی تعداد میں عوام موجود رہے۔
راڑھی جنوبی پنچایت (بہاری) میں نوتعمیر شدہ ہائی اسکول عمارت کا افتتاح عمل میں آیا، جس کی تعمیر تقریباً 213.27 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل ہوئی ہے۔ اس عمارت کے قیام سے علاقے کے طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی۔
اسی طرح برہمپور مشرقی پنچایت (کٹائی) میں پنچایت سرکار بھون کا افتتاح کیا گیا، جس پر تقریباً 305.31 لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ اس عمارت کے ذریعے مقامی انتظامی نظام کو مضبوطی ملے گی اور عوام کو مختلف سرکاری خدمات ایک ہی جگہ فراہم کی جا سکیں گی۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکنِ اسمبلی جیویش کمار نے کہا کہ حلقہ میں تعلیم، دیہی ترقی اور بہتر حکمرانی کو فروغ دینا ترجیحات میں شامل ہے، اور اس سمت میں کام جاری رہے گا۔تقریب میں شریک افراد نے ان منصوبوں کو علاقہ کی ترقی کی جانب اہم قدم قرار دیا۔

Continue Reading

بہار

بہارمدرسہ بورڈ کا بڑااعلان: تمام امدادی مدارس میں مڈ ڈے میل لازمی

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں مدرسہ تعلیم کے نظام کو لے کر ایک بڑا اور اہم فیصلہ سامنے آیا ہے۔ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ نے سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے ریاست کے تمام امدادی مدارس میں مڈ ڈے میل (درمیانی کھانا) اسکیم کو لازمی طور پر نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔
مدرسہ بورڈ کے سکریٹری عبدالسلام انصاری نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر، مڈ ڈے میل اسکیم، بہار کو خط ارسال کرتے ہوئے فوری کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ کئی امدادی مدارس اب تک اس اسکیم سے محروم ہیں، جو ایک تشویشناک امر ہے۔ جاری خط میں کہا گیا ہے کہ مڈ ڈے میل اسکیم تمام تعلیمی اداروں کے لیے لازمی ہے، ایسے میں کسی بھی مدرسے کا اس سے باہر رہنا قابل قبول نہیں ہوگا۔
ہدایت دی گئی ہے کہ تمام محروم مدارس کو فوراً اس اسکیم سے جوڑا جائے تاکہ وہاں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کو غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کیا جا سکے۔ سکریٹری انصاری نے واضح طور پر کہا کہ اس اسکیم کا مقصد صرف کھانا فراہم کرنا نہیں بلکہ بچوں کی صحت بہتر بنانا اور اسکولوں میں ان کی حاضری بڑھانا بھی ہے۔ اس لیے کسی بھی سطح پر لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔ بورڈ کی جانب سے 1942 امدادی مدارس کی فہرست فراہم کر دی گئی ہے اور سبھی کو اسکیم کے دائرے میں لانے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔
سیتامڑھی کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو ضلع میں کئی مدارس میں پہلے سے مڈ ڈے میل چل رہا ہے، لیکن بڑی تعداد اب بھی اس سے محروم ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے سخت ہدایت دی گئی ہے کہ اپریل سے ہر حال میں ضلع کے تمام مدارس میں یہ اسکیم نافذ کر دی جائے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ انتظامیہ اس حکم کو زمینی سطح پر کتنی تیزی اور سنجیدگی سے نافذ کرتی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network