Connect with us

اتر پردیش

خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں مشن شکتی کے تحت شعری نشست کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں مشن شکتی کے تحت ایک بامقصد اور فکرانگیز شعری نشست و کاویہ پاٹھ کا انعقاد وائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا کی زیرِ نگرانی ہائبرڈ ہال ابوالکلام آزاد اکیڈمک بلاک میں کیا گیا۔ اس ادبی پروگرام کا بنیادی مقصد خواتین کے حقوق، ان کی آزادی، خودمختاری، مساوات اور بااختیار بنانے کے پیغام کو شاعری اور نظموں کے ذریعے طلبہ تک مؤثر انداز میں پہنچانا تھا۔ اس نشست نے ادب کو سماجی بیداری کے ایک طاقتور وسیلے کے طور پر پیش کیا، جہاں اشعار اور نظموں کے ذریعے عورت کے وجود، اس کی شناخت، اس کے خواب اور اس کے حقوق کو نہایت دلنشیں انداز میں اجاگر کیا گیا۔
اس موقع پر شعبۂ ہندی کی استاذ ڈاکٹر آرادھنا آستھانہ نے شعری نشست اور کاویہ پاٹھ کی معنویت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کاویہ پاٹھ ہندوستانی ادبی روایت کا ایک نہایت اہم حصہ ہے، جو نئی نسل کو اپنی تہذیبی جڑوں، اخلاقی اقدار اور سماجی شعور سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاعری میں عورت صرف حسن و محبت کی علامت نہیں بلکہ طاقت، حوصلے، مزاحمت اور خود شناسی کی علامت بھی ہے۔ ان کے مطابق زبان و ادب کے ذریعے خواتین کے وقار، خودمختاری اور سماجی بیداری کے پیغام کو زیادہ گہرائی اور اثر پذیری کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے۔
پروگرام کے دوران ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شویتا اگروال نے اپنے خطاب میں کہا کہ مشن شکتی محض خواتین کے تحفظ کی مہم نہیں بلکہ ان کے ذہنی، تعلیمی، تخلیقی اور قائدانہ استحکام کا ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاعری اور ادبی اظہار طالبات کو اپنی آواز بلند کرنے، اپنے تجربات بیان کرنے اور اپنی شناخت کو مضبوط بنانے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ان کے مطابق جب عورت اپنی بات شعر اور نظم کے پیرائے میں پیش کرتی ہے تو وہ صرف احساسات کا اظہار نہیں کرتی بلکہ اپنے حق، اپنی آزادی اور اپنی خودمختاری کا اعلان بھی کرتی ہے۔
اسی سلسلے میں لیگل اسٹڈیز کے ڈاکٹر انشل پانڈے نے اپنے بیان میں کہا کہ مشن شکتی خواتین کے قانونی حقوق، سماجی تحفظ اور انصاف تک رسائی کے شعور کو فروغ دینے کی ایک مضبوط مہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاعری ہمیشہ سے ظلم، ناانصافی اور سماجی نابرابری کے خلاف ایک توانا آواز رہی ہے۔ ادب اور قانون کا باہمی رشتہ معاشرے میں برابری، انصاف، احترامِ نسواں اور انسانی وقار کے تصور کو مضبوط کرتا ہے۔ ان کے مطابق جب حقوق کی زبان شاعری کے آہنگ سے ملتی ہے تو اس کا اثر دل و دماغ دونوں پر دیرپا ہوتا ہے۔
شعبۂ اردو کے ڈاکٹر ظفر النقی نے کہا کہ اردو شاعری کی روایت میں عورت کے کردار کو ہمیشہ ایک خاص مقام حاصل رہا ہے۔ کلاسیکی اور جدید اردو شاعری میں عورت کبھی محبت کی علامت، کبھی صبر و استقامت کی مثال اور کبھی مزاحمت، خودداری اور بیداری کی آواز کے طور پر سامنے آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیض، پروین شاکر، کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض جیسے شعرا و شاعرات نے عورت کے احساسات، اس کے مسائل اور اس کے حقوق کو شاعری کا موضوع بنا کر سماج میں بیداری پیدا کی۔ ان کے مطابق اس طرح کی شعری نشستیں طلبہ میں زبان و ادب سے شغف پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین کے حقوق کے تئیں حساسیت، احترام اور سماجی ذمہ داری کے شعور کو بھی فروغ دیتی ہیں۔

اتر پردیش

اے ایم یو کے وقار الملک ہال میں نصب شدہ بینچوں کا افتتاح

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وقارالملک ہال کے چار ہاسٹلز اور ہال کینٹین میں نصب نئی بینچوں کا افتتاح ایک تقریب میں عمل میں آیا۔ انھیں عوامی عطیہ کی مدد سے نصب کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر 21 بینچوں کی تنصیب کراؤڈ فنڈنگ کے ذریعے کی گئی جس میں طلبہ، پرووسٹ، وارڈنز اور عملے کے اراکین کی معاونت شامل رہی ہے۔ یہ اقدام سماجی ذمہ داری کے جذبہ کی عکاسی کرتا ہے۔
تقریب میں ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر پروفیسر محمد اطہر انصاری نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کرتے ہوئے ہال کے ذمہ داران اور طلبہ کی موجودگی میں بینچوں کا افتتاح کیا۔ انہوں نے اس پہل کی ستائش کی اور مشترکہ مالی تعاون کو کمیونٹی کی ترقی کے لیے ایک مؤثر ذریعہ قرار دیا، جو طلبہ میں اتحاد، ذمہ داری اور خدمت کے جذبہ کو مزید فروغ دے گا۔
پرووسٹ پروفیسر نوشاد علی پی ایم نے مہمانِ خصوصی کا خیرمقدم کیا اور طلبہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دیگر اقامتی ہالوں کے لیے ایک نمونہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے اس کامیابی میں ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر کے تعاون کا بھی اعتراف کیا۔ دیگر مقررین بشمول ہال عہدیداران اور طلبہ نمائندگان نے اس طرح کی مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ اس سے طلبہ کی شمولیت، اجتماعی فلاح اور کیمپس میں پائیدار ترقی کو فروغ ملتا ہے۔

Continue Reading

اتر پردیش

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں3 روزہ ادبی میلےکا آغاز

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ویمنس کالج لٹریری سوسائٹی کے زیر اہتمام ”لیٹریٹی 2026“ کے عنوان سے تین روزہ ادبی میلہ کا آغاز ہوا۔
افتتاحی تقریب کی مہمان خصوصی پروفیسر وبھا شرما، ممبر انچارج،دفتر رابطہ عامہ نے اپنے خطاب میں افکار، اظہار اور شناخت کی تشکیل میں ادب کی پائیدار اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے طالبات کو ادبی سرگرمیوں میں جوش و خروش کے ساتھ حصہ لینے کی ترغیب دیتے ہوئے بامعنی مکالمے، تنقیدی سوچ اور تیزی سے ڈیجیٹل ہوتے ہوئے دور میں مادری زبان کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ پروفیسر وبھا شرما نے ویمنس کالج لٹریری سوسائٹی کی سابق صدر کی حیثیت سے اپنے تجربات بیان کئے اور طالبات کو ایسے پلیٹ فارمز کو اظہار خیال، اعتماد سازی اور فکری ترقی کے لیے استعمال کرنے کی تلقین کی۔
اس سے قبل ڈاکٹر شگفتہ نیاز (شعبہ ہندی) اور ڈاکٹر شگفتہ انجم (شعبہ انگریزی) نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ادبی سوسائٹیز کے کردار کو اجاگر کیا جو تخلیقی صلاحیتوں اور تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔پروگرام کا آغاز ویمنس کالج کے پرنسپل پروفیسر مسعود انور علوی کے استقبالیہ کلمات سے ہوا۔ ویمنس کالج لٹریری سوسائٹی کی صدر بصرہ حسن رضوی اور نائب صدر مائشہ منال تاج نے معزز مہمانوں، اساتذہ اور طالبات کا خیرمقدم کیا۔اس موقع پر”لیٹریٹی 2026“ کے پوسٹر کی رونمائی کی گئی۔تقریب کے آخر میں نائب صدر مس مریم خان نے شکریہ کے کلمات ادا کئے۔
ادبی میلے کے پہلے دن ایک ڈبیٹ مقابلہ ”طلبہ کی سرگرمی اور احتجاج سیاسی امور میں ادارہ جاتی غیر جانبداری کو متاثر کرتے ہیں“ کے موضوع پر منعقد کیا گیا، جس کے جج ڈاکٹر زید مصطفیٰ علوی، ڈاکٹر یاسمین انصاری اور ڈاکٹر فوزیہ فریدی تھے۔ نظامت کے فرائض ضحیٰ اویس (پی آر ہیڈ) اور اثنا خان (گرافک ڈیزائن ہیڈ) نے انجام دئے، جبکہ ڈاکٹر صدف فرید نے مہمانوں کی گلپوشی کی۔فیسٹیول کے پہلے دز اوپن مائیک سیشن اور کھیلوں و ریفریشمنٹ پر مشتمل انٹرایکٹیو اسٹالز خاص توجہ کا مرکز رہے۔

Continue Reading

اتر پردیش

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بی ٹیک، بی کام اور بی بی اے پروگرامز کے داخلہ امتحانات منعقد

Published

on

(پی این این )
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے بی ٹیک /بی آرک اور بی کام /بی بی اے پروگرامز میں داخلہ کے لیے علی گڑھ، لکھنؤ، پٹنہ، کولکاتا، سری نگر اور کوژی کوڈ کے متعدد مراکز پر داخلہ امتحانات خوش اسلوبی کے ساتھ منعقد کیے۔صبح کے سیشن میں بی ٹیک /بی آرک کے داخلہ امتحان میں مجموعی طور سے 12,571 طلبہ نے شرکت کی، جبکہ ان پروگرامز کے لیے 14,405 امیدواروں نے فارم پُر کئے تھے۔ بی کام / بی بی اے کورسز کے لیے شام کے سیشن میں منعقدہ داخلہ امتحان کے لیے 3,813 امیدواروں نے فارم پُر کئے ہیں۔
اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے پراکٹر پروفیسر ایم نوید خاں اور دیگر یونیورسٹی حکام کے ہمراہ، کیمپس میں قائم مختلف امتحانی مراکز کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔ پروفیسر خاتون نے کہا کہ یونیورسٹی ایک شفاف، منصفانہ اور طلبہ دوست داخلہ عمل کو یقینی بنانے کے تئیں پُرعزم ہے اور امتحانات کے خوشگوار انعقاد کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے گئے۔کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر مجیب اللہ زبیری نے بتایا کہ امتحانات کے شفاف انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے علی گڑھ اور اس کے باہر کے مراکز پر سینئر فیکلٹی ممبران کو مشاہد کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۔
نیشنل سروس اسکیم (این ایس ایس) کی جانب سے امیدواروں کی مدد کے لئے ریلوے اسٹیشن اور دیگر اہم مقامات پر خصوصی امدادی مراکز قائم کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ غیرسرکاری تنظیموں، طلبہ اور غیر تدریسی عملے کی جانب سے بھی کیمپ لگائے گئے، جہاں امیدواروں اور ان کے سرپرستوں کو پینے کے پانی کے ساتھ دیگر سہولیات فراہم کی گئیں۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network