Connect with us

بہار

چھپرہ :ڈی ایم نے بوتھ ریشنلائزیشن کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے ساتھ کی میٹنگ

Published

on

(پی این این)
چھپرہ :الیکشن کمیشن آف انڈیا کی خصوصی نظر ثانی اور پری نظرثانی سرگرمی کے تحت پولنگ اسٹیشنوں کو ریشنلائز کرنے کے حوالے سے ڈسٹرکٹ الیکشن افسر کم ڈی ایم امن سمیر کی صدارت میں میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔جس میں تسلیم شدہ قومی اور ریاستی سطح کی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور تمام ای آر او،اسسٹنٹ ای آر او نے شرکت کی۔اس موقع پر ایم پی جناردن سنگھ سگریوال،ایم ایل اے رامانوج پرساد،جتیندر رائے،ستیندر کمار یادو،سریندر رام خصوصی طور پر موجود تھے۔
ڈی ایم نے جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ہدایت کے مطابق 12 سو ووٹروں کے لیے ایک بوتھ بنایا جانا ہے۔اس سے قبل ضلع میں 15 سو ووٹرز کی تعداد پر کل 3039 بوتھ تھے۔ریشنلائزیشن کے دوران کل 471 نئے بوتھس کی تعمیر کی تجویز ہے۔اس طرح یہ تعداد بڑھ کر 3510 ہو جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ کمیشن کی ہدایات کے مطابق بوتھس کی تعمیر کے دوران اسی عمارت کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔تاکہ ووٹرز کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔تمام نئے بوتھوں کو پرانی عمارت کے احاطے میں ہی قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔صرف آٹھ بوتھ کی عمارت کو تبدیل کرنے کی تجویز ہے۔انہوں نے کہا کہ کمیشن کے پروگرام کے مطابق آج پولنگ اسٹیشنوں کی فہرست شائع کر دی گئی ہے۔اعتراضات،تجاویز اور مشورے 6 جولائی تک طلب کی گئی ہیں۔متعلقہ ای آر او خود ان کی جانچ کر کے کارروائی کریں گے۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے درخواست کی کہ وہ وقت سے پہلے تجاویز دیں تاکہ بروقت فیصلہ کیا جا سکے۔میٹنگ میں موجود ای آر او کو بھی تجویز یا اعتراض کنندہ سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔ڈی ایم نے بتایا کہ 9 اور 10 جولائی کو دوبارہ میٹنگ منعقد کی جائے گی جس میں تجاویز کے نتائج پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔یہ تجویز 12 جولائی کو محکمہ الیکشن کو بھیجی جائے گی۔کمیشن سے منظوری کی تاریخ 18 جولائی ہے۔پولنگ اسٹیشنوں کی حتمی فہرست یکم اگست کو شائع کی جائے گی۔اس موقع پر ڈی ایم نے خصوصی نظر ثانی کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ جن ووٹر کے نام 2003 کی ووٹر لسٹ میں شامل ہیں انہیں یا ان کے بیٹے،بیٹیوں کو کاغذات دینے کی ضرورت نہیں۔صرف ووٹر لسٹ کے صفحے کی خود تصدیق شدہ کاپی اپ لوڈ کرنا ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ 2003 کی ووٹر لسٹ کمیشن کی ویب سائٹ پر شائع کر دی گئی ہے۔کوئی بھی شخص اپنا نام خود دیکھ سکتا ہے یا اپنا فارم اپ لوڈ کر سکتا ہے۔بہار یا باہر رہنے والا ووٹر بھی اپنے فارم پر دستخط کرکے ضروری دستاویزات کے ساتھ اپ لوڈ کرسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے بی ایل او پری پرنٹیڈ فارم لے کر ہر گھر اور ہر ووٹر تک پہنچ رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بی ایل او کی مدد کے لیے بی ایل او سپروائزر کی تعیناتی کے ساتھ وکاس مترا،پنچایت سیوک،ٹولہ سیوک،این ایس ایس،این سی سی،جیویکا وغیرہ کو رضاکار کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے بی ایل اوز کے ذریعے اس کام میں تعاون کریں۔
ڈپٹی الیکشن آفیسر جاوید اقبال نے بتایا کہ ایکما ودھان سبھا میں 48 نئے بوتھس شامل کرنے کی تجویز ہے۔جس کی وجہ سے پہلے سے قائم 308 بوتھس بڑھ کر 356 ہو جائیں گے۔مانجھی میں 54 نئے بوتھ شامل کرنے سے 309 بوتھس بڑھ کر 363 ہو جائیں گے۔بنیا پور میں 50 نئے بوتھ شامل کرنے سے 327 بوتھس بڑھ کر 377 ہو جائیں گے۔تریاں میں 39 نئے بوتھس شامل کرنے سے 315 بوتھس بڑھ کر 354 ہو جائیں گے۔مڑھوڑہ میں 39 نئے بوتھس شامل کرنے کی تجویز سے 294 بوتھس بڑھ کر 333 ہو جائیں گے۔چھپرہ میں 42 نئے بوتھس کی تجویز سے پہلے سے قائم 331 بوتھس بڑھ کر 373 ہو جائیں گے۔ گرکھا میں 54 نئے بوتھس بنانے سے 306 بوتھس بڑھ کر 360 ہو جائیں گے۔امنور میں 55 نئے بوتھس کی تجویز سے پہلے سے قائم 275 بوتھس بڑھ کر 330 ہو جائیں گے۔پرسا میں 46 نئے بوتھس بڑھانے سے 281 بوتھس سے 327 ہو جائیں گے۔سونپور میں 44 نئے بوتھس شامل کرنے کی تجویز ہے۔جس کی وجہ سے پہلے سے قائم 393 بوتھس بڑھ کر 337 ہو جائیں گے۔

بہار

بہاراقلیتی رہائشی اسکولوں میں داخلہ کیلئے درخواستیں مطلوب

Published

on

(پی این این)
ارریہ: بہار کے ریاستی اقلیتی رہائشی اسکولوں میں تعلیمی سیشن 2026-27 کے لیے کلاس 9 اور 11 میں داخلے کے لیے آن لائن درخواستیں طلب کی جا رہی ہیں، نیز مسلم، سکھ، عیسائی، بدھ، جین، اور پارسی برادریوں کے طلباء کے ساتھ ساتھ اقلیتی رہائشی اسکول، جمہار پور، کاہار لینڈ، مائیناریٹی ریذیڈنٹ اسکول میں اور کیمور اضلاع، اور کیمپ ایٹ اضلاع سیوان، پورنیہ، سہرسہ، مونگیر اور سپول میں۔ آخری تاریخ، 01.05.2026 کو بڑھا دیا گیا ہے اور اہل طلباء 20.05.2026 تک درخواست دے سکتے ہیں۔ درخواست کا عمل محکمہ کی ویب سائٹ https://state.bihar.gov.in/minoritywelfare/CitizenHome.html پر آن لائن دستیاب ہے۔
آن لائن فارم کے ساتھ منسلک ہونے والی دستاویزات (خود تصدیق شدہ) ضمیمہ: سرکل آفیسر کے ذریعہ جاری کردہ رہائشی آمدنی کا سرٹیفکیٹ (امیدواروں کی زیادہ سے زیادہ سالانہ خاندانی آمدنی چھ لاکھ روپے ہونی چاہئے)، تعلیمی قابلیت کے سرٹیفکیٹ/نمبر سرٹیفکیٹ کی خود تصدیق شدہ کاپیاں، تین تصاویر، اور عمر کی حد کا ثبوت۔

Continue Reading

بہار

پسماندہ مسلمانوں کیلئے سیاسی ،معاشی اور سماجی میدان میں حصہ داری کا مطالبہ

Published

on

(پی این این)
چھپرہ :شہر کے آڈیٹوریم میں اتوار کو سائیں-شاہ سماج کی جانب سے ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔جس میں برادری کے معاشی،سماجی اور سیاسی فروغ کے موضوع پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔کانفرنس میں مقررین نے کہا کہ برسوں سے مختلف سیاسی جماعتوں نے اس سماج سے صرف ووٹ لینے کا کام کیا ہے۔مگر اس کی ترقی اور حقوق کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سماج کے ضلع صدر انجینئر دانش ہشام نے کہا کہ یہ برادری آج بھی نظر انداز اور پسماندہ حالت میں زندگی گزار رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد موجودہ مسائل کا حل تلاش کرنا اور آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کرنا ہے۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر آگے بڑھیں اور تعلیم،روزگار اور سماجی بیداری پر خاص توجہ دیں۔
بھاگلپور سے آئے سماجی کارکن و سابق مکھیا محمد کلام الدین نے کہا کہ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد حکومت کی توجہ اس برادری کی ہمہ جہت ترقی کی طرف مبذول کرانا ہے۔انہوں نے کہا کہ سائیں-شاہ سماج آج بھی سماجی اور معاشی طور پر کافی پسماندہ ہے اور زیادہ تر لوگ محنت مزدوری اور چھوٹے کاروبار پر انحصار کرتے ہیں۔انہوں نے مرکز اور ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس سماج کی ترقی کے لیے خصوصی اسکیمیں بنائی جائیں اور سرکاری فوائد آخری فرد تک پہنچائے جائیں۔
اس موقع پر کلام میموریل ٹرسٹ کے قومی سکریٹری محمد مِٹّھو شاہ نے کہا کہ آزادی کے 77 برس بعد بھی اس برادری کے حقوق کے لیے سنجیدگی سے آواز نہیں اٹھائی گئی۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس کمیونٹی کو بھی سیاسی نمائندگی میں مناسب مقام دیا جائے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس سماج کے نمائندوں کو اسمبلی، قانون ساز کونسل اور راجیہ سبھا جیسے اہم ایوانوں میں شامل کیا جائے تاکہ ان کی آواز بلند ہو سکے۔
کانفرنس کے نائب صدر شمیم احمد نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدہ قدم اٹھائے تو نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور باعزت زندگی کے مواقع حاصل ہو سکتے ہیں۔کانفرنس میں جنرل سیکرٹری محمد شہاب الدین،ضلع صدر محمد شمیم،چھپرہ صدر محمد اصغر علی،انجینئر شمشیر عالم،مظہر حسین،صفدر حسین،حاجی ہشام الدین،نظام شاہ سمیت بڑی تعداد میں برادری کے افراد موجود تھے۔

Continue Reading

بہار

وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے سیتامڑھی میں ترقیاتی کاموں کالیا جائزہ

Published

on

(پی این این)
سیتامڑھی:وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے ضلع سیتامڑھی میں واقع پُنورادھام مندر کی تعمیر اور پورے علاقے کے ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ پُنورادھام مندر احاطہ میں منعقد اس اہم اجلاس میں ضلع مجسٹریٹ رچی پانڈے نے پریزنٹیشن کے ذریعے مجوزہ ماں سیتا پُنورادھام مندر سے متعلق تمام کاموں کی پیش رفت اور مستقبل کے منصوبوں کی مکمل جانکاری دی۔ پریزنٹیشن میں بتایا گیا کہ پُنورادھام کو ایک بڑے مذہبی و سیاحتی مرکز کے طور پر ترقی دینے کے لیے یاتری سہولت مرکز، شاندار داخلی دروازہ، گربھ گرہ اور سیتا کنڈ کی ترقی، وسیع بلٹ اپ ایریا، پارکنگ کی سہولت، انتظامی عمارت، ریلوے اسٹیشن کی بہتری، ماں جانکی کے جنم کنڈ کے احاطہ کی بحالی، ماسٹر پلان، سیکورٹی کے نقطہ نظر سے ضروری اقدامات، مجوزہ سیتا میوزیم اور سیٹلائٹ ٹاؤن شپ جیسے اہم منصوبوں پر کام جاری ہے۔ بہار اسٹیٹ ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی جانب سے ان منصوبوں کی تفصیلات بھی تیار کی گئی ہیں۔ضلع مجسٹریٹ نے بتایا کہ مٹی کی جانچ اور سروے کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ بیریکیڈنگ کا کام جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی مندر احاطہ کے گربھ گرہ اور کنڈ کی مجموعی ترقی کا بھی منصوبہ ہے۔
جائزہ کے دوران وزیر اعلیٰ نے افسران کو سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ماں جانکی کے پُنورادھام مندر کی تعمیر 31 دسمبر 2028 تک ہر حال میں مکمل کی جائے۔ انہوں نے تعمیراتی کام کے معیار پر خاص توجہ دینے اور اسے اعلیٰ سطح پر مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پُنورادھام علاقے کو ایک منظم ٹاؤن شپ کے طور پر تیار کیا جائے گا۔ ساتھ ہی ماں سیتا کی زندگی سے جڑے تمام اہم مقامات کو پُنورادھام سے جوڑنے کا بھی انتظام کیا جائے گا تاکہ یہاں آنے والے عقیدت مند کچھ دن قیام کرکے زیارت اور سیاحت کر سکیں۔
وزیر اعلیٰ نے لکشمنہ ندی سے متعلق امور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کی تاریخی اور مذہبی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ترقیاتی کام یقینی بنائے جائیں۔ اجلاس سے قبل وزیر اعلیٰ نے ماں جانکی مندر، پُنورادھام میں جانکی کی جائے پیدائش (سیتا جنم کنڈ) پر پوجا پاٹھ کرکے ریاست کی خوشحالی، امن اور ترقی کی دعا کی۔ اس دوران انہوں نے مجوزہ مندر کے ماڈل کا بھی معائنہ کیا۔ مقامی عوامی نمائندوں، رہنماؤں، ضلع انتظامیہ اور پُنورادھام مندر انتظامیہ کمیٹی کے اراکین نے وزیر اعلیٰ کا گلدستہ، شال اور یادگاری نشان پیش کر کے استقبال کیا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network