تازہ ترین
مظفرپور میں مفت طبی کیمپ کا انعقاد،ماہر ڈاکٹروں نے دی صحت سے متعلق رہنمائی،سیوا ٹرسٹ کی پہل، بچوں اور خواتین سمیت مختلف امراض کے مریضوں کو ملی طبی سہولت، مفت ادویات بھی تقسیمسپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیا جائیگا اردو ٹی ای ٹی امیدواروں کا مقدمہ دائرارریہ: سدبھاونا منچ کے اراکین نے مختلف درگا پوجا پنڈالوں کاکیا دورہ، باہمی محبت اور بھائی چارے کا دیا پیغام،وسرجن میں شامل ہونے والے افراد کا استقبال اور کیا جائے گا اعزازسرسید احمد خاں نے قوم کو تعلیم کی اہمیت سے کرایاروشناس ،اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام یومِ سرسید کی پر تقریب کا انعقادوائس چانسلر نعیمہ خاتون کے ہاتھوں دس کتابوں کا اجرا ،یوم سر سید پر سر سید اکیڈمی کی جانب سےتقریب رسم اجرا کا انعقاددھام پور میں جشنِ سرسید تقریب کا انعقاد، عصری علوم کے حصول پرزور،سرسید احمد خاں کی خدمات کوپروقار اور شاندار انداز میںپیش کیاگیا خراجِ عقیدت5 افراد کی موت کے معاملے میں بہن، بہنوئی سمیت تین گرفتاردہلی حکومت جمنا کو صاف کرنے کے لیےکر رہی ہے کام : سی ایم ریکھا
دلی این سی آر

ہائی کورٹ نے ستیہ نکیتن بلڈنگ گرنے پردیا سخت ریمارکس

نئی دہلی:ستیہ نکیتن عمارت گرنے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر سات ہو گئی ہے۔ اس معاملے میں مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے سخت ریمارک کیا کہ نہ صرف عمارت کا مالک بلکہ ایم سی ڈی اور دہلی یونیورسٹی بھی اس سانحے کے لیے ذمہ دار ہیں۔قے میں پانچ منزلہ عمارت گرنے کے معاملے پر ہائی کورٹ نے اپنی سماعت مکمل کر لی ہے۔ مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے غیر قانونی عمارتوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا۔ اس نے یہ بھی سخت ریمارک کیا کہ نہ صرف عمارت کا مالک بلکہ ایم سی ڈی اور دہلی یونیورسٹی بھی اس سانحے کے ذمہ دار ہیں۔ ستیہ نکیتن کے منہدم ہونے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر سات ہو گئی ہے۔ عمارت کے مالک کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔انیکیت کمار گپتا نامی شخص کی طرف سے آج صبح ہائی کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی عرضی (PIL) داخل کی گئی، جسے ہائی کورٹ نے فوری سماعت کے لیے درج کیا۔ یہ سماعت چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور جسٹس تیجس کریا پر مشتمل بنچ نے کی۔دہلی ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ کچھ پی جی مالکان اجازت کے بغیر لاپرواہی سے عمارتیں بنا رہے ہیں۔ پی جی اور پرائیویٹ ہاسٹلز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے اصول و ضوابط کا ایک مناسب سیٹ ہونا چاہیے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو 10 روز میں بیان حلفی داخل کرنے کی ہدایت کی۔عدالت نے نوٹ کیا کہ بعض اوقات صرف دو منزلہ تعمیر کی اجازت دی گئی عمارتیں بغیر مناسب بنیادوں کے چھ منزلہ تک تعمیر کی جاتی ہیں۔ عدالت نے ایم سی ڈی اور دہلی پولیس کی طرف سے دی گئی یقین دہانی کا بھی نوٹس لیا کہ تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں اور بچاؤ آپریشن جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔