تازہ ترین
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ’سوچھتا ہی سیوا 2026‘ کے تحت صفائی مِتر تحفظ کیمپ منعقدڈسٹرکٹ چائلڈ ویلفیئر اینڈ پروٹیکشن کمیٹی کا اجلاسخدمتِ عہد مہم 2026 کے تحت مہوا میں بلاک سطحی پینٹنگ اور تقریری مقابلہ منعقدوکست بھارت2047 کے تناظر میں ادبِ اطفال پر جے این یو میں اہم پروگرام کا انعقادماضی کے ورثے اور مستقبل کی تعمیرہےلائبریریریکھاگپتا نے مالویہ نگر علاقے میں گیتانجلی فائر اسٹیشن کا کیاافتتاحمسکان قتل کیس میں 350 صفحات کی چارج شیٹدہلی نے 18 سال میں ستمبر کی سب سے سرد رات
دلی این سی آر

مرکزی دھارے کی سیاست تمام مسائل کی جڑ :کجریوال

(پی این این)
نئی دہلی: نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال نے منگل کو 75 سالہ مرکزی دھارے کی سیاست کو تمام مسائل کی جڑ قرار دیتے ہوئے متبادل سیاست کی وکالت کی جس میں ترقی اور محبت کی سیاست ہونی چاہیے ۔مسٹر کیجریوال نے آج یہاں پارٹی کے طلبہ ونگ ایسوسی ایشن آف اسٹوڈنٹس فار الٹرنیٹو پولیٹکس (اے ایس پی اے ) کے آغاز کے موقع پر مرکزی دھارے اور متبادل سیاست کے درمیان فرق کی وضاحت کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور کانگریس پر حملہ کیا۔ کانسٹی ٹیوشن کلب میں پارٹی کے طلبہ ونگ کو نئے نام اور نئے انداز کے ساتھ دوبارہ لانچ کیا۔ اس کا نیا نام “ایسوسی ایشن آف اسٹوڈنٹس فار آلٹرنیٹو پالیٹکس (اے ایس اے پی)” رکھا گیا ہے۔ نوجوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کیجریوال نے کہا کہ اے ایس اے پی نہ صرف طلبہ سیاست کو نئی سمت دے گا بلکہ متبادل سیاست کا مضبوط پلیٹ فارم بھی بنے گا۔ اس کے ذریعے ہم ایسی نوجوان نسل تیار کریں گے جو سیاست کی تعریف کو بدل دے گی اور ملک کی خدمت کرے گی۔ اب نوجوانوں کی توانائی تبدیلی کی سیاست میں لگے گی۔
کیجریوال نے کہا کہ گزشتہ 75 سال سے چل رہی مین اسٹریم سیاست ہی ملک کی تمام بڑی مشکلات کی جڑ ہے۔ جہاں مین اسٹریم سیاست میں تعلیم مافیا کا راج ہے، وہیں “آپ” کی متبادل سیاست میں سب کو مساوی تعلیم کا حق ملتا ہے۔ اس موقع پر پنجاب انچارج منیش سسودیا، قومی میڈیا انچارج انوراگ ڈھانڈا، رکن پارلیمان گرومیت سنگھ، انمول گگن، سینئر رہنما اودھ اوجھا، ایم ایل اے جنرل سنگھ سمیت دیگر معزز شخصیات موجود تھے۔کیجریوال نے اے ایس اے پی کا لوگو لانچ کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ ونگ کو لانچ کرنا بڑی خوشی کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک کے سامنے بنیادی مسائل ہیں کھانے کو نہیں، تعلیم نہیں، علاج نہیں۔ 75 سال بعد بھی ملک میں اسپتال، دوائیں، سڑکیں، روزگار کی کمی ہے۔ ہر طرف بدحالی ہے، اور اس کی جڑ موجودہ سیاست ہے جسے مین اسٹریم سیاست کہا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔