uttar pradesh
عطر کے تاجر کی تلاش میں ای ڈی ٹیم کی دیوبند میں چھاپہ مار کارروائی
دیوبند:دیوبند میں صبح سویرے دارالعلوم کے آس پاس ای ڈی کی ٹیم نے ایک عطر تاجر کی تلاش میں کئی مقام پر پہنچ کر پوچھ تاچھ کی ۔بتایا جاتا ہے کہ ای ڈی ٹیم مشتبہ طور سے رقومات کی لین دین کی جانچ کے سلسلہ میں دیوبند پہنچی تھی حالانکہ کافی تلاش کے بعد عطر کا کاروبار کرنے والے کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں ہوسکی ۔تفصیل کے مطابق ای ڈی ٹیم نے جمعرات کے روز دیوبند میں کئی مقامات پر دبش دے کر عطر کے کاروبار کرنے والے ایک شخص کو تلاش کیا اور کچھ لوگوں سے معلومات بھی کی ۔ای ڈی ٹیم کے دیوبند پہنچنے کی اطلاع سے تاجروں اور مقامی لوگوں میں اضطرابی کیفیت پیدا ہوگئی ۔جبکہ ای ڈی ٹیم جس شخص کو تلاش کرنے کے لئے آئی تھی اس کے بارے میں اس کو کوئی پختہ جانکاری نہیں مل سکی ۔تفصیل کے مطابق ای ڈی کی ٹیم غیر ملکی لوگوں کی دراندازی اور ان کے نام نہاد مالی نیٹ ورک اور مشتبہ طور پر رقومات کی لین دین کی جانچ کرنے کے سلسلہ میں دارالعلوم کے قریب واقع محلہ محل پہنچی تھی ۔ای ڈی کی یہ ٹیم بنگال کے ایک باشندہ اور عطر کا کاروبار کرنے والے کی تلاش کررہی تھی جو کچھ سالوں پہلے دیوبند میں عطر کا کاروبار کیا کرتاتھا ۔بتایا جاتا ہے کہ عطرکا کاروبار کرنے والا یہ شخص تقریباً 3؍ سال پہلے دیوبند چھوڑ کر چلاگیا تھا ۔ای ڈی افسران نے دیوبند کے محلہ محل کے علاوہ شہر میں واقع عطر کی کئی دکانوں پر پہنچ کر مذکورہ عطر تاجر کے بارے میں معلومات حاصل کیں ۔ای ڈی افسران نے مقامی تاجروں سے اس کے ٹھکانے ،کاروبار اور اس کے تعلقات سے متعلق معلومات کیں ۔لیکن اس کے موجود ہ ٹھکانے یا سرگرمیوں کے بارے میں کوئی پختہ جانکار ی نہیں مل سکی ۔ای ڈی ٹیم نے روہنگیا اور بنگلہ دیشی درانداز کاروں کے نیٹ ورک اور ٹیررفنڈنگ معاملہ میں دیوبند میں چھاپہ ماری کی ،دیوبند کے علاوہ ای ڈی ٹیم نے اترپردیش دہلی ،ہریانہ اور مغربی بنگال میں ایک ساتھ 13؍ مقامات پر چھاپہ مارکارروائی کی بتایا جاتا ہے کہ کچھ چیریٹبل ٹرسٹ غیر قانونی طریقے سے غیر ممالک سے رقومات منگارہے تھے اور ان پیسوں سے در اندازی کرنے والوں کو فرضی دستاویزات تیار کرانے اور ان کی مالی مدد کرنے میں خر چ کی جاتی تھی ۔بتایا جاتا ہے کہ کچھ سالوںقبل اس عطر کے تاجر کا نا م ناجائز طریقہ سے در اندازی کرنے کے ایک معاملہ میں سامنے آیا تھا اس وقت بھی ای ڈی نے پوچھ تاچھ کے لئے اس کو حراست میں لیا تھا ؛لیکن پوچھ تاچھ کرنے کے بعد اس کو چھوڑ دیا گیا تھا ۔لوگوںکا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے بعد وہ دیوبند سے چلا گیاتھا لیکن ای ڈی ٹیم اب بھی مذکورہ شخص کو رقومات کی لین دین اور اس کے ممکنہ نیٹ ورک کودیوبند میں تلاش کررہی ہے ۔
uttar pradesh
مسجد کی زمین پر مرغاگینگ کی جانب سے قبضہ کئے جانے پر لوگوں میں شدید ناراضگی
دیوبند: دیوبند کے قریبی گائوں ہاشم پورہ میں مذہبی مقامات اور عوامی جائیدادوں واراضی پر غیر قانونی طریقوں سے قبضہ کرنے والے گروہ کے حوصلے اب اتنے بلند ہوچکے ہیں کہ انہوںنے مسجد کی زمین کو بھی نہیں بخشا ہے ۔ہاشم پورہ گائوں میں نام نہاد مرغاگینگ کے سرغنہ اور اس کے زمین مافیاء ساتھیوں کی جانب سے مسجد کی زمین کا فرضی اور غیر قانونی طریقہ سے بیع نامہ اپنے قریبی لوگوں کے نام کرانے کا سنگین اور چونکانے والا معاملہ سامنے آیا ہے ۔اس خلاصہ کے بعد پورے علاقہ میں کشیدگی اور زبردست ناراضگی دیکھی جارہی ہے ۔سرکاری دستاویزات ،نقل اور شجرہ کے مطابق جس زمین کا پرانا خسرہ نمبر 1885تھا جو اب چک بندی کے سروے کے بعد 3130/3930نمبر کے ساتھ درج ہے ؛لیکن اب اس زمین کو فرضی دستاویزات تیار کرکے قبضانہ کی کوشش کی جارہی ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ گائوں کے باشندے حمید ولد بخش نے مسجد کی زمین کو اپنے بیٹے پرویز کے نام بیع کردیا ہے ۔جب کہ یوسف ولد بخش نے اسی زمین کے فرضی دستاویزات تیارکرکے اسے اپنے پوتے افسر کے نام کردیا ہے ۔گرام پردھان عبدالستار نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مسجد کی ایک انچ زمین پر بھی زمین مافیائوں کا ناجائز قبضہ برداشت نہیں کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ گائوں اور مسجد کی اس امانت کی حفاظت کے لئے وہ تمام قانونی کارروائی کریں گے اور ان فرضی بیعناموں کو خارج کرائیں گے ۔انہوں نے بتایا کہ یہ مرغا گینگ اس سے قبل بھی زمینوں کی ہیرا پھیری اور فریب دہی میں ملوث رہ چکا ہے ۔اس سلسلہ میں ان کے خلاف دیوبند کوتوالی میں آئی پی سی 420کا مقدمہ پہلے سے درج ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ہاشم پورہ کے ایک تالاب پر قبضہ کرکے پانچ دکانیں غیر قانونی طریقہ سے تعمیر کرائی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ اس پورے نیٹ ورک میں عثمان عرف مرغا ،زاہد ،ارشاد ،وکیل ،فیضل ،یعقوب ،ساجد ،پرویز ،افسر ،حامد ،یوسف ،قیوم اور ایوب جیسے لوگ شامل ہیں جو پری پلان کے تحت دیوبند دیہات علاقہ میں ناجائز طریقہ سے زمینوں پر قبضہ کی وارداتوں کو انجام دے رہے ہیں ۔
uttar pradesh
میں اہم تھا، یہی میرا وہم تھا، تدفین کے بعد سامنے آ جائے گی حقیقت
آگرہ: مسجد نہر والی کے خطیب محمد اقبال نے خطبۂ جمعہ میں نمازیوں کو آخرت کی یاد دلاتے ہوئے دنیا کی حقیقت اور انسانی غفلت پر مؤثر گفتگو کی۔انہوں نے ایک جنازے میں شریک شخص کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ تدفین کے موقع پر قبرستان میں ایک قبر پر یہ جملہ لکھا دیکھا: میں اہم تھا، یہی میرا وہم تھا۔ یہ جملہ دیکھ کر میرے قدم چند لمحوں کے لیے رک گئے۔
خطیب محمد اقبال نے کہا کہ انسان دنیا میں عہدے، دولت، شہرت اور فالوورز کی وجہ سے خود کو بہت اہم سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ موت کے بعد انسان کو اپنی اصل حقیقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ قرآن کریم دنیا کی زندگی کو کھیل، تماشا، زینت اور باہمی فخر قرار دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن کریم سورۃ التکاثر میں انسان کو متنبہ کرتا ہے کہ مال و جاہ کی کثرت کی طلب اسے غفلت میں ڈال دیتی ہے، یہاں تک کہ وہ قبر تک پہنچ جاتا ہے۔ قبر میں انسان کا عہدہ، دولت اور شہرت کام نہیں آئے گی، بلکہ تقویٰ اور نیک اعمال کام آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے بغیر دفتر، دکان، فیکٹری یا ادارہ نہیں چل سکتا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی دنیا اپنی رفتار سے چلتی رہتی ہے۔
خطیب محمد اقبال نے کہا کہ اہم وہ نہیں جو لوگوں میں مشہور ہو، بلکہ اہم وہ ہے جو اللہ کے نزدیک مقبول ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انسان کی صورتوں اور مال کو نہیں بلکہ اس کے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔انہوں نے نمازیوں سے اپیل کی کہ دنیا کی خوش فہمی اور غفلت میں زندگی گزارنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا، تقویٰ اور نیک اعمال کے حصول کی کوشش کی جائے، کیونکہ حقیقی کامیابی آخرت کی کامیابی ہے۔
uttar pradesh
گورنمنٹ ماڈل ڈگری کالج کپوری گووند پور میں اے آئی ورکشاپ کا انعقاد
دیوبند:اے آئی کے ذریعہ سے صنعت کاری اور کاروبار کو ترقی دینے اور اسے موثر بنانے کی معلومات دینے کے مقصد سے گورنمنٹ ماڈل ڈگری کالج کپوری گووند پور میں گزشتہ روز ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا ۔اس ورکشاپ کے دوران پیسہ کو جمع کرنا اور سرمایہ کاری کرنے کی تیاری میں آرٹی فیشیل انٹلی جینس کا استعمال کرنے کے موضوع پر کالج کے پرنسپل ڈاکٹر راکیش کمار نے کہا کہ اے آئی کے استعمال اور اس کے ذریعہ سے تمام معاملات ،زبان اور اس کے استعمال کو پراثر بنانے کے لئے اقدامات کئے جاسکتے ہیں ۔یعنی اے آئی کے ذریعہ ہم صنعت کاری اور روزگار وسرمایہ کاری کو مزید مؤثر بناسکتے ہیں ۔ورکشاپ میں شریک اے آئی کے ماہرین نے طلبہ وطالبات کو نئے اقدامات اور سائنٹیفکٹ طریقوں سے ہرمیدان میں آگے بڑھنے اور نئے ایجاد کردہ طریقوں سے اپنے کاروبار کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔اے آئی کے ماہرین نے طلبہ کو اس بات کے لئے بھی تیار کیا کہ وہ اس جدید دور میں اے آئی کے ذریعہ سے اپنے مسائل کو حل کرنا سیکھیں ۔ڈاکٹر پورنیما سنگھ نے کہا کہ موجود ہ وقت میں اے آئی کی تعلیم اور تکنیکی میدان کے ساتھ ساتھ صنعت کاری ،سرمایہ کو جمع کرنا اور کاروبار وتجارتی منصوبہ کاری کرنا اور سرمایہ کاری کرنے کے لئے نہایت اہم رول ادا کئے جاسکتے ہیں ۔اس ورکشاپ میں ڈگری کالج کے اسٹاف ،مہمانوں واساتذہ کے علاوہ طلبہ وطالبات بڑی تعداد میں موجود رہے ۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
