تازہ ترین
مظفرپور میں مفت طبی کیمپ کا انعقاد،ماہر ڈاکٹروں نے دی صحت سے متعلق رہنمائی،سیوا ٹرسٹ کی پہل، بچوں اور خواتین سمیت مختلف امراض کے مریضوں کو ملی طبی سہولت، مفت ادویات بھی تقسیمسپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیا جائیگا اردو ٹی ای ٹی امیدواروں کا مقدمہ دائرارریہ: سدبھاونا منچ کے اراکین نے مختلف درگا پوجا پنڈالوں کاکیا دورہ، باہمی محبت اور بھائی چارے کا دیا پیغام،وسرجن میں شامل ہونے والے افراد کا استقبال اور کیا جائے گا اعزازسرسید احمد خاں نے قوم کو تعلیم کی اہمیت سے کرایاروشناس ،اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام یومِ سرسید کی پر تقریب کا انعقادوائس چانسلر نعیمہ خاتون کے ہاتھوں دس کتابوں کا اجرا ،یوم سر سید پر سر سید اکیڈمی کی جانب سےتقریب رسم اجرا کا انعقاددھام پور میں جشنِ سرسید تقریب کا انعقاد، عصری علوم کے حصول پرزور،سرسید احمد خاں کی خدمات کوپروقار اور شاندار انداز میںپیش کیاگیا خراجِ عقیدت5 افراد کی موت کے معاملے میں بہن، بہنوئی سمیت تین گرفتاردہلی حکومت جمنا کو صاف کرنے کے لیےکر رہی ہے کام : سی ایم ریکھا
Bihar

طلبہ پر لاٹھی چارج جمہوری اقدار پر حملہ

دربھنگہ : راشٹریہ جنتا دل (راجد) کے رہنما و بوکھڑا بلاک کے سابق نائب پرمکھ آفتاب عالم منٹو نے پٹنہ میں اپنے مطالبات کے حق میں پُرامن مظاہرہ کرنے والے طلبہ پر پولیس کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوری اقدار اور آئینی حقوق پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے بدھ کو جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا کہ جمہوری نظام میں ہر شہری کو اپنی بات رکھنے، احتجاج درج کرانے اور پُرامن مظاہرہ کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ ایسے میں طلبہ اور نوجوانوں کی جائز آواز کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ جمہوری روایات کے بھی منافی ہے۔
آفتاب عالم منٹو نے کہا کہ اگر طلبہ اپنی تعلیم، روزگار اور مستقبل سے متعلق سوالات اٹھا رہے ہیں تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی بات سنے اور مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بہار کی این ڈی اے حکومت نوجوانوں کے مسائل کو سمجھنے کے بجائے دباؤ اور طاقت کے استعمال کا راستہ اختیار کر رہی ہے، جو کسی بھی جمہوری حکومت کے لیے مناسب طرزِ عمل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاٹھیوں اور طاقت کے ذریعے وقتی طور پر سوالات کو دبایا جا سکتا ہے، لیکن نوجوانوں کے خواب، امیدیں اور امنگیں ختم نہیں کی جا سکتیں۔ حکومت نے نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے میدان میں بڑے بڑے وعدے کیے تھے، مگر زمینی سطح پر ان وعدوں کی تکمیل نظر نہیں آ رہی، جس کے باعث نوجوانوں میں بے چینی اور ناراضگی فطری امر ہے۔
راجد رہنما نے مزید کہا کہ طلبہ کے مسائل کا حل مذاکرات، مثبت اقدامات اور جوابدہی میں پوشیدہ ہے، نہ کہ لاٹھی چارج اور گرفتاریوں میں۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ نوجوانوں کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے ٹھوس پالیسی اختیار کرے اور ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے۔
آفتاب عالم منٹو نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ عوام سب کچھ دیکھ رہی ہے اور جمہوری نظام میں عوام ہی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔ وقت آنے پر عوام اپنے ووٹ کے ذریعے ہر فیصلے کا جواب دیتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تشدد اور دباؤ کی سیاست سے گریز کرتے ہوئے تعلیم، روزگار اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کے حوالے سے اپنی حقیقی ذمہ داری نبھائے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔