دلی این سی آر
دہلی-این سی آر میں موسلادھار بارش نے مچائی تباہی
نئی دہلی :دہلی-این سی آر میں صبح سے ہی موسلادھار بارش ہو رہی ہے۔ سارا دن بارش ہوئی۔ جہاں اس سے گرمی سے راحت ملی ہے، وہیں پانی جمع ہونے سے خاصی تکلیف ہو رہی ہے۔جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے ۔ دہلی، نوئیڈا، گروگرام اور فرید آباد کے کئی حصوں میں بارش ہو رہی ہے، جس میں کم سے کم درجہ حرارت 25.4 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ اس دوران محکمہ موسمیات نے صورتحال کے پیش نظر دہلی کے بڑے علاقوں میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ تازہ ترین پیشین گوئی کے مطابق، مانسون کا نظام شمال مغربی ہندوستان میں آگے بڑھ رہا ہے، جس سے اگلے چند گھنٹوں میں دہلی-این سی آر میں بھاری بارش ہو سکتی ہے۔ گرج چمک کے ساتھ طوفان کا الرٹ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
آئی ایم ڈی نے کہا ہے کہ اگلے دو سے تین گھنٹوں کے دوران گروگرام، نوئیڈا، فرید آباد اور غازی آباد سمیت دہلی-این سی آر کے بیشتر علاقوں میں درمیانی سے بھاری بارش اور گرج چمک کے ساتھ طوفان کا امکان ہے۔ مشرقی دہلی، شاہدرہ، وسطی دہلی، شمال مشرقی دہلی، نئی دہلی، جنوبی دہلی، شمال مغربی دہلی، اور شمالی دہلی میں 30 سے40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گرج چمک اور تیز ہوا چلنے کی بھی توقع ہے۔ جنوبی دہلی کے کچھ حصوں میں ہلکی بارش بھی ہوسکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق دہلی اور آس پاس کے علاقوں پر گہرے کنویکٹیو بادل یا بھاری بارش کے بادل بن رہے ہیں۔ ان کلاؤڈ بینڈز کو مانسون کی ایک فعال گرت اور بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والی وافر نمی کی مدد حاصل ہے۔ اس سے جہاں آنے والے دنوں میں گرمی سے راحت ملے گی وہیں اب لوگوں کو ٹریفک جام اور پانی بھر جانے کا سامنا ہے۔ نوئیڈا سے گروگرام تک بارش کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ پانی جمع ہونے اور تیز بارش کے باعث سڑکوں پر گاڑیاں رینگنے لگیں اور لوگ گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہے۔ گروگرام میں، منگل کو مون سون کی پہلی بارش سے سڑک کا ایک حصہ دھنس گیا، جس کی وجہ سے 10 کلومیٹر طویل ٹریفک جام ہوگیا۔
فرید آباد میں بدھ کو ہوئی موسلادھار بارش نے شہر کی رفتار کو بریک لگا دی۔ مسلسل بارش کی وجہ سے کئی اہم علاقوں میں پانی جمع ہوگیا جس سے لوگوں کو ٹریفک کے لیے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پرانا فرید آباد انڈر پاس سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں انتظامیہ نے حفاظتی وجوہات کی بنا پر پانی بھر جانے کی وجہ سے انڈر پاس کو بند کر دیا۔ اس سے ڈرائیوروں کو متبادل راستوں کا سہارا لینے پر مجبور ہونا پڑا اور کئی مقامات پر ٹریفک ٹھپ ہو کر رہ گئی۔بارش کا اثر نیشنل ہائی وے سمیت شہر کی مختلف بڑی سڑکوں اور کالونیوں پر نظر آیا۔ پانی بھری سڑکوں نے دو پہیوں اور چار پہیوں والی گاڑیوں کی رفتار کو سست کر دیا۔ دفتر جانے والوں، طلباء اور دیگر پیدل چلنے والوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے عوام کی پریشانی بڑھ گئی۔
8 سے 13 جولائی تک عموماً آسمان پر بادل چھائے رہیں گے اور کئی علاقوں میں ہلکی بارش ہو سکتی ہے۔ 8 اور 9 جولائی کو دہلی کے متعدد حصوں میں صبح یا دوپہر سے پہلے ہلکی بارش کا امکان ہے، جبکہ بعض مقامات پر درمیانی درجے کی بارش بھی ہو سکتی ہے۔ اس دوران 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل سکتی ہیں، جن کی رفتار 50 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ آندھی چلنے اور آسمانی بجلی چمکنے کی بھی پیش گوئی کی گئی ہے۔ محکمۂ موسمیات نے بارش کے لیے یلو الرٹ جاری کیا ہے۔محکمۂ موسمیات کے مطابق 10 اور 11 جولائی کو بھی آسمان پر بادل چھائے رہیں گے اور دوپہر کے آس پاس ہلکی بارش، آندھی اور گرج چمک کا امکان ہے۔ 12 اور 13 جولائی کو بھی موسم میں زیادہ تبدیلی کی توقع نہیں ہے اور آسمان پر بادل چھائے رہ سکتے ہیں۔ آئندہ چند دنوں کے دوران زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 32 سے 38 ڈگری سلسیس کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جبکہ کم سے کم درجۂ حرارت 24 سے 29 ڈگری سلسیس کے آس پاس رہ سکتا ہے۔ محکمۂ موسمیات نے لوگوں کو تیز ہواؤں اور آندھی کے دوران احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔ بارش کے باعث بعض علاقوں میں پانی جمع ہونے اور آمد و رفت متاثر ہونے کا بھی امکان برقرار رہے گا۔