Uncategorized
بیٹیوں کو بی جے پی حکومت سے ملا دھوکہ: بھاردواج
(پی این این)
نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے سائیکل خریداری گھوٹالے کو لے کر رکشا بندھن کے موقع پر جمعہ کے روز ایک بار پھر بی جے پی کی ریکھا گپتا حکومت پر حملہ بولا۔
انہوں نے کہا کہ رکشا بندھن کا تہوار دہلی کی بیٹیوں کو بی جے پی حکومت سے ملے دھوکے کی یاد دلا رہا ہے۔ چند روز قبل ہی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے تھرڈ کلاس سائیکل کو کلاس ون کی سائیکل بتا کر بچیوں کو تھمایا اور اسے ایک بڑا تحفہ قرار دیا تھا۔ لیکن بی جے پی حکومت کے اس دھوکے کا پردہ فاش ہونے کے بعد دہلی کی بیٹیاں حیران و ششدر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رکشا بندھن پر تحفہ دینے کی روایت ہے، دھوکا دینے کی نہیں۔ لیکن بی جے پی حکومت نے کروڑوں روپے کا گھوٹالہ کرکے ہزاروں بیٹیوں کے ساتھ دھوکا کیا ہے، جس کا عوام حساب مانگ رہے ہیں۔سوربھ بھاردواج نے رکشا بندھن کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ بی جے پی نے سائیکل گھوٹالہ کیا ہے۔ دہلی کی بیٹیوں کے ساتھ دھوکا برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بی جے پی کی دہلی حکومت نے محکمہ تعلیم کے نام پر بڑا گھوٹالہ کیا ہے۔ جو سائیکل کھلے بازار میں 4000 روپے میں مل رہی ہے، اسی سائیکل کو ہماری کم عمر بچیوں کو دینے کے لیے 7000 روپے میں خریدا گیا۔ مجموعی طور پر 1,30,000 سائیکلوں کی تھوک خریداری میں معیار بھی تھرڈ کلاس کا رہا۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ نمبر ون ٹینڈر کے تحت تھرڈ کلاس سامان خریدا گیا اور بیٹیوں کو حکومت کی جانب سے تحفہ بتا کر دیا گیا۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ رکشا بندھن پر بہنوں کو تحفہ دیا جاتا ہے، دھوکا نہیں۔ 4000 روپے کی سائیکل 7000 روپے میں خریدی گئی۔
بیٹیوں کے نام پر 39 کروڑ روپے کا گھوٹالہ کیا گیا۔ عوام حساب مانگ رہی ہے۔ سوربھ بھاردواج نے آپ کے ایک کارکن کی ویڈیو بھی شیئر کی ہے۔ کارکن کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی دہلی حکومت نے سائیکل گھوٹالہ کیا ہے، جس کے بارے میں آج لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے جان رہے ہیں۔ جو سائیکل کھلے بازار میں 4000 روپے میں مل رہی ہے۔
، اسی سائیکل کو دہلی حکومت نے کم عمر بچیوں کو دینے کے لیے 7000 روپے میں خریدا۔ بازار میں ایک سائیکل 4000 روپے میں مل جاتی ہے، جبکہ دہلی حکومت کے محکمہ تعلیم نے بچیوں کو دینے کے لیے تھوک میں 1 لاکھ 30 ہزار سائیکلیں خریدیں، اس کے باوجود فی سائیکل 7000 روپے کے حساب سے ادائیگی کی گئی۔ آپ کارکن نے کہا کہ آج رکشا بندھن کا دن ہے۔ رکشا بندھن پر بھائی اپنی بہنوں کو تحفہ دیتے ہیں، دھوکا نہیں دیتے۔ لیکن دہلی حکومت نے ہماری کم عمر بچیوں اور بہنوں کو دھوکا دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی حکومت میں کس طرح کھلی لوٹ مچی ہوئی ہے، یہ سب عوام کے سامنے ہے۔ اس بات کا جواب کون دے گا کہ 4000 روپے کی سائیکل تھوک میں 7000 روپے میں کیوں خریدی گئی؟ آپ کارکن نے کہا کہ یہ انتہائی شرم کی بات ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے حکومت نے نمبر ون سائیکل کے لیے ٹینڈر جاری کیا ہو، لیکن اسی نمبر ون ٹینڈر کے نام پر بچیوں کو تھرڈ کلاس کی سائیکل تھما دی گئی ہو۔ بچیوں کے ساتھ کیے گئے اس دھوکے اور گھوٹالے کے لیے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی حکومت کو شرم آنی چاہیے۔
Uncategorized
طلبا کوسستی رہائش فراہم کیلئے سرکار پرعزم :ایل جی
(پی این این)
نئی دہلی:دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں عمارت گرنے سے طلبہ کی موت کے بعد حکومت، انتظامیہ اور لیفٹیننٹ گورنر سبھی متحرک ہو گئے ہیں۔ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر ترنجیت سنگھ سندھو نے ڈی ڈی اے کے عہدیداروں سے ملاقات کی اور انہیں زمین تلاش کرنے کا حکم دیا جہاں پی جی بنائے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “ہم طلباء کو محفوظ، باوقار، اور سستی رہائش فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔” ایل جی نے اس کی اطلاع ٹویٹ کر کے ٹویٹر پر ڈی ڈی اے حکام کے ساتھ میٹنگ کی تصاویر بھی شیئر کیں۔
لیفٹیننٹ گورنر ترنجیت سنگھ سندھو نے ڈی ڈی اے کے وائس چیئرمین سرون کمار سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ انہوں نے کہا، “یہ میٹنگ طلباء کے لیے متبادل پی جی رہائش کے بارے میں تھی۔ اس میٹنگ کے دوران، میں نے ڈی ڈی اے کو حکم دیا کہ وہ پی جی کے قیام کے لیے مناسب زمین کی نشاندہی کرے۔ اس کے بعد ایک ایکشن پلان تیار کیا جانا چاہیے۔ یونیورسٹی کے اہلکاروں کو شامل کرکے ایکشن پلان پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔” شہر میں ہاسٹل کی سہولیات کی ترقی کے لیے نئے ماسٹر پلان کے تحت کام شروع کیا جائے۔ انہوں نے لکھا کہ ہماری توجہ طلباء کو محفوظ، معیاری اور سستی رہائش فراہم کرنے پر ہے۔
دہلی کا ماسٹر پلان 2041 ہاسٹلز اور پی جی کے حوالے سے بھی کچھ اصول طے کرتا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ادائیگی کرنے والے مہمانوں کو صرف رہائشی اور مخلوط استعمال والے علاقوں میں ہی رکھا جا سکتا ہے۔ اس کے رہنما خطوط میں کہا گیا ہے کہ A اور B زمرہ کے رہائشی علاقوں میں کوچنگ، ٹیوشن سینٹرز، ہاسٹلز اور PGs کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ستیہ نکیتن پی جی عمارت کے گرنے سے دہلی کے شہری بنیادی ڈھانچے کے بارے میں سوالات اٹھ گئے ہیں اور بے تحاشا غیر قانونی تعمیرات کے مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔ اس نے طالب علموں کے خراب حالات میں رہنے اور انہیں برقرار رکھنے کے لیے کافی رقم خرچ کرنے کے شیطانی چکر کو بھی بے نقاب کیا ہے
Uncategorized
شادی کی تقریب میں 2 فریقوں میں زبردست مارپیٹ
دیوبند:دیوبند میں منعقدہ شادی کی ایک تقریب کے دوران مہمانوں کے دو گروپ میں زبر دست مارپیٹ ہوگئی ۔پرانی رنجش کے سبب ہونے والی اس مارپیٹ میں دو افراد شدید طور پر زخمی ہوگئے ۔متاثرہ فریق نے تقریباً ایک درجن لوگوں کے خلاف دیوبند کوتوالی میں شکایت درج کرائی ۔تفصیل کے مطابق دیوبند کے قاسم پورہ روڑ پر واقع ایک شادی ہال میں پیر کے روز محلہ خانقاہ کے باشندہ عرفان کی بیٹی کی شادی کی تقریب چل رہی تھی۔ اسی دوران پورقاضی قصبہ سے بارات بھی شادی ہال پہنچ گئی ۔بارات پہنچنے کے بعد محلہ خانقاہ کے باشندہ نثار کے بیٹے محرم اور ان کے بھائی مکرم پر کھانا کھانے کے دوران کچھ لوگوں نے حملہ کردیا ۔الزام ہے کہ دیوبند کے محلہ خانقاہ اور جٹول گائوں کے تقریباً ایک درجن لوگوں نے پرانی رنجش کی سبب لاٹھی ڈنڈوں سے دونوں بھائیوں پر حملہ کردیا جس کے نتیجہ میں وہ شدید طور پرزخمی ہوگئے ۔بتایا جاتا ہے کہ سنیجر کے روز ملزمان اور متاثرہ فریق کے درمیان کیندکی گائوں میں شادی کی ایک تقریب کے دوران تلخ کلامی ہوگئی تھی لیکن اس وقت معاملہ کو رفع دفع کردیا گیا تھا ۔اسی پرانی رنجش کے سبب آج ملزمان کے گروپ نے محرم اور ان کے بھائی مکرم پر اس وقت حملہ کردیا جب وہ شادی ہال میں کھانا کھارہے تھے ۔
اچانک ہونے والی اس مارپیٹ کی وجہ سے شادی ہال میں افراتفری پیدا ہوگئی ۔محرم نے تقریباً ایک درجن لوگوں کے خلاف کوتوالی دیوبند میں تحریر دے کر کارروائی کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے وہیں دوسری فریق نے بھی مارپیٹ کا الزام عائد کرتے ہوئے پولیس کوایک تحریر دی ہے ۔
پولیس نے زخمی افراد کا میڈیکل کرانے کے بعد قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔
Uncategorized
قومی تعمیر میں اقلیتی تعلیمی اداروں کے کردار اور وکست بھارت 2047 کے وژن پر اجلاس
لکھنؤ: قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے مقاصد کو آگے بڑھانے اور اقلیتی تعلیمی اداروں کی شراکت کو مضبوط بنانے کے لیے اتوار کو اندرا بھون، لکھنؤ میں ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا۔
اس اجلاس کا مشترکہ انعقاد نیشنل کمیشن فار مائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (این سی ایم ای آئی)، حکومت ہند اور محکمہ اقلیتی فلاح و اوقاف، حکومت اتر پردیش کی جانب سے کیا گیا۔ اجلاس کا موضوع ’’قومی تعمیر میں اقلیتی تعلیمی اداروں کا کردار اور وکست بھارت2047 کا وژن‘‘ تھا۔
اجلاس کی صدارت این سی ایم ای آئی کے قائم مقام چیئرمین پروفیسر (ڈاکٹر) شاہد اختر نے کی، جبکہ اتر پردیش حکومت کے وزیر مملکت برائے اقلیتی فلاح، اوقاف و حج دانش آزاد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ اس موقع پر محکمہ اقلیتی فلاح اتر پردیش کے ڈائریکٹر شیلندر سنگھ یادو سمیت لکھنؤ اور اطراف کے مختلف اقلیتی تعلیمی اداروں کے منتظمین، عہدیداران، ماہرین تعلیم اور نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اجلاس کے دوران اقلیتی تعلیمی اداروں کو درپیش مختلف مسائل، ان کے حقوق کے تحفظ، قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے نفاذ اور ملک کو سال 2047 تک ایک ترقی یافتہ قوم بنانے کے ہدف میں ان اداروں کے کردار پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر (ڈاکٹر) شاہد اختر نے کہا کہ اقلیتی تعلیمی ادارے نہ صرف تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ قومی یکجہتی، سماجی ہم آہنگی اور انسانی وسائل کی ترقی میں بھی ان کی خدمات نمایاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این سی ایم ای آئی ملک بھر میں اقلیتی تعلیمی اداروں کے آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے اور ایسے اداروں کو درپیش انتظامی و قانونی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اداروں کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ اقلیتی درجہ حاصل کرنے کے لیے متعلقہ محکموں اور حکام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں اور ضروری دستاویزی کارروائی کو بروقت مکمل کریں تاکہ انہیں قانون کے تحت دستیاب تمام سہولیات اور تحفظات حاصل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی حیثیت کا حصول اداروں کو اپنے تعلیمی اور انتظامی امور کو زیادہ مؤثر انداز میں چلانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
وکست بھارت@2047 کے وژن کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر شاہد اختر نے کہا کہ جب بھارت اپنی آزادی کے 100 سال مکمل کرے گا تو ملک کو ترقی یافتہ، بااختیار اور علم پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنے کے لیے تعلیمی اداروں کا کردار فیصلہ کن ہوگا۔ انہوں نے تمام اقلیتی تعلیمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے اداروں کے لیے جامع عملی منصوبے تیار کریں، اہداف کا تعین کریں اور ان کے حصول کے لیے ذمہ داریاں واضح طور پر تقسیم کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ادارے اپنے تعلیمی، انتظامی اور سماجی چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہوئے کم از کم پانچ قابلِ عمل تجاویز تیار کریں اور انہیں کمیشن کے ساتھ شیئر کریں تاکہ پالیسی سازی کے عمل میں زمینی حقائق اور اداروں کی ضروریات کو شامل کیا جا سکے۔
مہمانِ خصوصی دانش آزاد انصاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ اتر پردیش حکومت اقلیتوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی ترقی کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کا مقصد یہ ہے کہ اقلیتی طبقے کے نوجوانوں کو بہتر تعلیمی مواقع، روزگار کے امکانات اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ ملک کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ اقلیتی فلاح مختلف فلاحی اور تعلیمی اسکیموں کے ذریعے اقلیتی برادری کے طلبہ اور تعلیمی اداروں کی مدد کر رہا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ جدید تعلیم، ہنرمندی اور روزگار سے متعلق پروگراموں کو مزید وسعت دی جائے تاکہ نوجوانوں کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے۔
اجلاس میں شریک مختلف اقلیتی تعلیمی اداروں کے نمائندوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اداروں کو درپیش مسائل، انتظامی امور، بنیادی سہولیات، تعلیمی معیار میں بہتری اور حکومتی تعاون سے متعلق متعدد تجاویز پیش کیں۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اقلیتی تعلیمی اداروں کو قومی ترقی کے دھارے میں مزید مؤثر طریقے سے شامل کرنے کے لیے مسلسل مکالمے اور تعاون کی ضرورت ہے۔
اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء، منتظمین اور معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا گیا۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اقلیتی تعلیمی ادارے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے اہداف اور وکست بھارت@2047 کے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے اور تعلیم کے ذریعے ملک کی ہمہ جہت ترقی میں اپنا حصہ بڑھائیں گے۔
-
بہار10 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
