دلی این سی آر

اردو زبان ہماری مشترکہ تہذیب کی جیتی جاگتی مثال: لیکھ راج

Published

on

نئی دہلی:اردو اکادمی، دہلی گزشتہ تین دہائیوں سے اردو تھیٹر ورکشاپ کا انعقاد کرتی آ رہی ہے۔ گزشتہ سال سے اکادمی کی جانب سے سمر کیمپ کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے۔ دہلی سرکار اور وزیر برائے فن و ثقافت و السنہ جناب کپل مشراکی خصوصی توجہ اور سرپرستی کے سبب اس سال بھی سمر کیمپ اور اردو تھیٹر ورکشاپ کا کامیاب انعقاد ممکن ہو سکا۔اس سال سمر کیمپ 14 مئی تا 2 جون 2026 اردو اکادمی، دہلی میں منعقد ہوا، جس میں خطاطی، غزل گائیکی، پینٹنگ، شخصیت سازی، اردو زبان دانی اور داستان گوئی جیسے موضوعات شامل تھے۔سمر کیمپ کے اختتام کے بعد یکم جون تا 22 جون 2026 ’’اردو تھیٹر ورکشاپ‘‘ کا انعقاد کریسنٹ اسکول، موجپور اور اردو اکادمی، کشمیری گیٹ، دہلی میں کیا گیا۔ ورکشاپ میں ماہرینِ ڈراما نے طلبا کو فنِ اداکاری، اسٹیج پرفارمنس اور ڈرامے کی مختلف تکنیکوں سے روشناس کرایا۔ ورکشاپ کے دوران دونوں مراکز پر طلبا کے ذریعے دو ڈرامے تیار کیے گئے۔آج کریسنٹ اسکول، موجپور مرکز پر طلبا کے ذریعے تیار کیا گیا ڈراما ’’چیونٹی، چیونٹے اور چینی‘‘ پیش کیا گیا، جسے ناظرین نے بے حد پسند کیا۔
جس طرح اردو اکادمی، دہلی کا اردو ڈراما فیسٹیول فنکاروں کے حلقے میں توجہ کا مرکز ہوتا ہے، اسی طرح بچوں کے لیے منعقد ہونے والی ’’اردو تھیٹر ورکشاپ‘‘ میں تیار کیے گئے ڈرامے بھی اردو برادری میں خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی یہ پروگرام دہلی کے قلب میں واقع سری رام سینٹر، منڈی ہاؤس کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔اس سال پروگرام میں داستان گوئی اور ڈرامے کے ساتھ غزل گائیکی کا بھی اضافہ کیا گیا۔پروگرام اپنے مقررہ وقت پر جناب اطہر سعید کی نظامت میں شروع ہوا۔ تمام فنکاروں کا اردو اکادمی، دہلی کے سکریٹری محترم لیکھ راج نے پودا پیش کرکے استقبال کیا۔
اپنے خطاب میں سکریٹری اکادمی نے کہا کہ اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے اردو اکادمی، دہلی جو کام انجام دیتی ہے، ان میں سمر کیمپ کا انعقاد سب سے اہم ہے، جس کے نتائج ادارے کے احاطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ ڈرامے کے مرکزی مرکز منڈی ہاؤس تک پہنچتے ہیں۔ ایسی عمدہ کارکردگی کسی اور ادارے میں نظر نہیں آتی۔انھوں نے کہا کہ ہمارے یہ ننھے منے بچے ثقافت اور تہذیب کو بڑی دلچسپی سے سیکھتے ہیں۔ یہی بچے مستقبل کے فنکار بنیں گے اور ہماری ثقافت کی نمائندگی بھی کریں گے۔ مجھے فخر ہے کہ مجھے اردو اکادمی، دہلی کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، کیونکہ یہاں کے اسٹاف دہلی کی دیگر اکادمیوں کے مقابلے میں زیادہ پرجوش اور پُرعزم نظرآتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ اردو زبان ہماری مشترکہ تہذیب کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ ہم روزمرہ زندگی میں اردو ہی بولتے ہیں۔ اب ہم اپنے حلقوں اور گھروں میں بھی سب کو اردو سیکھنے کی ترغیب دیتے ہیں اور میں خود بھی اس سلسلے میں کوشش کر رہا ہوں۔
پروگرام کا باضابطہ افتتاح داستان گوئی سے ہوا، جس کے ہدایت کار جناب ساحل آغا اور محترمہ اسما رحمان تھیں۔ اِنایہ عظیم نے ’’تعریف اس خدا کی‘‘، الویہ خان نے ’’ایک نئی صبح کا سبق‘‘، محمد حاشر نے ’’ملا نصرالدین اور چاند‘‘، عنایہ خان نے ’’پیاسا کوا‘‘، افرا افتخار نے ’’ایک بکری، اس کے سات بچے اور ایک بھیڑیا‘‘، عائشہ تمحیدنے ’’امانت کا چراغ‘‘، مسکان راجو نے ’’پیتل کا مٹکا‘‘ اور ابوبکر نے ’’ایماندار لکڑہارا‘‘ کے عنوانات سے اپنی داستانیں پیش کیں۔اس کے بعد الویہ اور فوزیہ نے غزل گائیکی کے فن کا مظاہرہ کیا۔ الویہ نے قتیل شفائی کی غزل ’’پہلے تو اپنے دل کی رضا جان جائیے‘‘ اور فوزیہ نے تسلیم فاضلی کی مشہور غزل ’’رفتہ رفتہ وہ مری ہستی کا ساماں ہو گئے‘‘ پیش کی۔ ان کے استاد ڈاکٹر ذیشان ضمیر نے ہارمونیم پر ان کا ساتھ دیا۔
اس کے بعد ننھے منے بچوں کی ایک بڑی ٹیم نے ڈراما ’’چیونٹی، چیونٹے اور چینی‘‘ پیش کیا۔ تقریباً آدھے گھنٹے پر مشتمل اس ڈرامے نے ناظرین کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔ کہانی میں تجسس، اداکاری میں چابک دستی، مکالموں کی برجستہ ادائیگی اور موسیقی کی عمدہ پیشکش کے ساتھ تحفظِ ماحولیات کا ایک اہم پیغام بھی پیش کیا گیا۔ یہ ایک عمدہ ڈراما تھا جس کے ہدایت کار جناب فہد خان تھے۔
بعد ازاں سکریٹری اکادمی جناب لیکھ راج کے ذریعہ تمام بچوںکو اسناد تقسیم کی گئیں۔ پروگرام میں اساتذہ، والدین، سرپرستوں اور علم دوست افراد کی شرکت قابلِ ذکر رہی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network