تازہ ترین
بہار میں 15 لاکھ سے زائد سم کارڈ بند، کوئی اور کر رہا تھا استعمالگیاجی: ورک تنظیم نے لگایا مفت طبی کیمپ، 300 افراد کا علاجخانقاہ رحمانی میں مدارسِ اسلامیہ کنونشن کی تیاری کے لیے مشاورتی نشستارریہ پولیس کی2 بڑی کارروائی، غیر قانونی اسلحہ اور 1734 گرام اسْمیک برآمد، 4افراد گرفتارشادی کے 10 ماہ بعد شوہر نے بیوی کوجلادیا زندہ2دنوں میں 5.59 لاکھ افرادنے جمع کئے فارم-6 , یوپی میں ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے کے لیے چلائی گئی خصوصی مہم،چیف الیکشن آفیسرنے کی عوام کی ستائشکرکٹ میچ کے دوران مارپیٹ اور پتھر بازی،15 افراد گرفتار ، پولیس نے دونوں فریقوں کے زیرحراست افرادکو عدالت میں پیش کرنے کےبعدبھیجا جیلنظام تعلیم وتربیت کو بہتر بنائیں اربابِ مدارس ، اتحاد ویک جہتی کے ساتھ رہیںذمہ دارانِ مدارس ، برادرانِ وطن سے رکھیںخوش گوار اور برادرانہ تعلقات
دلی این سی آر

اتراکھنڈ حکومت کا مدرسہ بورڈ ختم کرنے کا فیصلہ غیر آئینی :مفتی محمد مکرم احمد

(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں مسلمانوں کو تاکید کی کہ خواتین کے حقوق ضرور ادا کریں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں خواتین کے حقوق ادا کرنے کی سخت تاکید فرمائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک سیکولر جمہوری ملک ہے جو آئین کی روشنی میں ترقی کی طرف گامزن ہے اگر یہ سیکولر جمہوری آئین نہ ہوتا تو شاید بھارت میں جو ترقی آج نظر آرہی ہے وہ نہ آتی ائین نے تعلیم کا حق سب کو دیا ہے اور ہر فرقہ کو یہ بھی حق دیا ہے کہ وہ اپنے مذہب کے مطابق عمل کرے اور اپنے بچوں کے لیے مذہبی تعلیم کا بندوبست کرے اسی لیے ہر ریاست میں مدرسوں کا قیام عمل میں آیا ہے ۔ کچھ ریاستوں میں مدرسوں کو تعصب کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے یہ باعث افسوس ہے۔ حال ہی میں اتراکھنڈ کے وزیراعلی نے اعلان کیا ہے کہ مدرسہ بورڈ ختم کر دیا جائے گا اور تمام مدارس کو یکساں تعلیمی نظام سے متعارف کرانے کے تحت جولائی 2026 سے اتراکھنڈ تعلیمی بورڈ کے نصاب کو اپنانے کی ہدایت دی گئی ہے ہری دوار میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دھامی نے اس فیصلے کو تعلیم کی جدید کاری کی جانب ایک تاریخی قدم قرار دیا اور کہا جو ادارے اس پر عمل نہیں کریں گے انہیں بند کر دیا جائے گا۔
مفتی مکرم نے کہا کہ اتراکھنڈ حکومت کا یہ فیصلہ سراسر غیر آئینی ہے اتراکھنڈ تعلیمی بورڈ کا نصاب الگ ہے اور مدارس کا نصاب بالکل مختلف ہے یہ اقلیتی فرقہ کے بنیادی حقوق میں سراسر مداخلت ہے جو ناقابل برداشت ہے۔ مفتی مکرم نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ انتظامی شفافیت کے ساتھ مدرسہ کی تعلیم کو جاری رکھا جائے یہ ہمارا بنیادی حق ہے اگر مدرسہ بورڈ ختم کیا جاتا ہے تو بھی حالات کے مطابق حسن تدبیر اور صلاح و مشورہ سے علمی خدمات کو انجام دیا جائے۔
مفتی مکرم نے مشرق وسطی میں جنگ بندی میں توسیع کا خیر مقدم کیا انہوں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ امریکہ کی طرف سے سمندری ناکہ بندی کے نام سے کچھ ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جو سراسر غیر قانونی ہیں ۔ امریکہ اور اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کا پابند بنانا بہت ضروری ہے ورنہ عالمی بدامنی کا خطرہ ہر وقت بنا رہے گا اس میں سب کا نقصان ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔