Connect with us

uttar pradesh

اب خاموش نہیں بیٹھے گی کانگریس،ریاست میں طے ہے تبدیلی،ایک ایک کارکن عوام کے حقوق کے لیےاٹھائے گا آواز :اجے رائے

Published

on

(پی این این)
لکھنؤ: اتر پردیش کانگریس کی سیاسی امور کمیٹی کا اہم اجلاس جمعرات کو ریاستی کانگریس ہیڈکوارٹر، لکھنؤ میں ہوا۔ اجلاس میں 2027 کے اسمبلی انتخابات کی تیاری اور پارٹی تنظیم کو مضبوط بنانے پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔ اجلاس میں ریاستی انچارج راجیندر پال گوتم، ریاستی کانگریس صدر اجے رائے، قومی سیکریٹری دھیرج گجر، راجیش تیواری اور توقیر عالم سمیت کئی اہم رہنما موجود تھے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق ضلع اور بوتھ سطح تک تنظیم کو مضبوط کرنے، عوامی مسائل پر احتجاجی مہم تیز کرنے اور انڈیا اتحاد میں سیٹوں کی تقسیم کے بارے میں ابتدائی بات چیت بھی ہوئی۔ ریاستی انچارج نے تمام رہنماؤں کو ہدایت دی کہ وہ عوام کے درمیان زیادہ سے زیادہ جائیں اور زمینی سطح پر اپنی سرگرمیاں بڑھائیں۔ 2027 کے اسمبلی انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے کانگریس مسلسل اپنی کور کمیٹی کے اجلاس کر رہی ہے۔
اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے جمعرات کو کہا کہ ان کی پارٹی اب عوام سے جڑے مسائل کو لے کر سڑک سے لے کر ایوان (سدن) تک جدوجہد کرے گی اور پارٹی کا ہر کارکن لوگوں کے حقوق کی لڑائی لڑنے کے لیے میدان میں اترے گا۔
اتر پردیش کانگریس کمیٹی کی پولیٹیکل افیئرز کمیٹی (پی اے سی) کا ایک اہم اجلاس صوبائی ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت صوبائی صدر اجے رائے نے کی، جبکہ اتر پردیش کے انچارج اور درج فہرست ذات (ایس سی) شعبہ کے قومی صدر راجیندر پال گوتم نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ اس اجلاس میں ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال، تنظیم کو مضبوط بنانے اور 2027 کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اجے رائے نے کہا کہ یہ محض ایک رسمی میٹنگ نہیں تھی، بلکہ ریاست میں عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف عوامی تحریک کا بگل بجا دیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کانگریس اب خاموش نہیں بیٹھے گی اور پارٹی کا ایک ایک کارکن عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھائے گا۔اس اجلاس میں قومی اور صوبائی سطح کے سینئر عہدیداروں، اراکینِ پارلیمان (ایم پیز)، اراکینِ اسمبلی (ایم ایل ایز) اور دیگر رہنماؤں نے حصہ لیا۔ تمام رہنماؤں نے بوتھ سطح تک پارٹی کو متحرک کرنے اور عوامی مسائل کو مؤثر طریقے سے اٹھانے کا عہد کیا۔رہنماؤں نے آنے والے دنوں میں ریاست بھر میں عوامی رابطہ مہم اور تحریکوں کو تیز کرنے پر اتفاق کیا۔ اجے رائے نے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا،’’کانگریس کا ایک ایک سپاہی اب سڑک پر اتر کر عوام کے حق کا حساب مانگے گا۔ تبدیلی اب طے ہے۔” انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام “جے ہند، جے کانگریس” کے نعرے کے ساتھ کیا۔
پارٹی کی خاص توجہ دلت، پسماندہ طبقات اور اقلیتی ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے پر ہے۔ اجلاس میں رکنِ پارلیمنٹ کے ایل شرما، تنوج پونیا اور اجول رمن سنگھ، سابق ریاستی صدر برج لال کھابری، رکنِ اسمبلی ویریندر چودھری، سابق رکنِ پارلیمنٹ دانش علی، سابق ایم ایل سی دیپک سنگھ اور وویک بنسل بھی شریک ہوئے۔

اس کے علاوہ سابق رکنِ اسمبلی سنجے کپور، بھگوتی چودھری، سابق وزیر نکُل دوبے، ممتا چودھری، شہلا اہراری، ڈاکٹر پرمود پانڈے، کرشمہ کپور اور کمیٹی کے دیگر رہنما بھی اجلاس میں موجود تھے۔

 

 

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

uttar pradesh

متاثرین کو فوری طور پر فراہم کیا جائے مناسب معاوضہ اور پکی چھت

Published

on

دیوبند:بڈھانہ کوتوالی علاقے کے گاؤں حبیب پور میں شدید بارش کے باعث ایک خستہ حال مکان گرنے سے دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا۔ اس حادثے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد ملبے تلے دب کر ہلاک ہو گئے۔ اس دردناک واقعے کے بعد پورے علاقے میں کہرام مچ گیا اور ماحول انتہائی غمگین ہے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی کی ہدایت پر ایک وفد نے متاثرہ گاؤں کا دورہ کیا اور پسماندگان سے ملاقات کر کے تعزیت کا اظہار کیا۔ذرائع کے مطابق، حبیب پور گاؤں میں مسلسل ہونے والی بارش کی وجہ سے اسلام الدین نامی شخص کا مکان اچانک زمین دوز ہو گیا۔ جاں بحق ہونے والے بچوں میں رخسار (عمر 11 سال)، شفاء (عمر 6 سال)، عبد الاحد (عمر 4 سال) اور محض 10 ماہ کا معصوم ذیشان شامل ہیں۔
جمعیۃ علماء کا ایک وفد حبیب پور پہنچا۔ وفد کی قیادت جمعیۃ علماء کے صوبائی نائب صدر مفتی بن یامین قاسمی نے کی۔ انہوں نے متاثرہ خاندان سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی المناک اور ناقابل تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جمعیۃ علماء اس دکھ کی گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔ہمارا وفد یہاں صرف تعزیت کے لیے نہیں، بلکہ انسانی ہمدردی کے ناطے اس غمزدہ خاندان کا سہارا بننے آیا ہے۔ ہم پسماندگان کو یقین دلاتے ہیں کہ جمعیۃ علماء اس کڑے وقت میں ہر سطح پر ان کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔مولانا موسیٰ قاسمی سکریٹری، جمعیۃ علماء مغربی اتر پردیش نے کہا کہ بارش کی وجہ سے غریب کا مکان گرنا اور ایک ہنستا کھیلتا خاندان ملبے تلے دب کر ختم ہو جانا ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ کاغذی کارروائیوں سے اوپر اٹھ کر متاثرہ خاندان کی فوری اور ٹھوس مالی امداد کرے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ متاثرین کو فوری طور پر مناسب معاوضہ اور پکی چھت فراہم کی جائے تاکہ بچ جانے والے افراد اپنی زندگی کو دوبارہ پٹری پر لا سکیں۔ جمعیۃ علماء اس مطالبے کو انتظامیہ کے سامنے مضبوطی سے اٹھائے گی۔مفتی عبدالقادر (نائب صدرجمعیۃ علماء ضلع مظفر نگر) ،مفتی اقبال قاسمی متاثرہ خاندان سے ملاقات کرنے والے وفد میں،مولانا احسان قاسمی، قاری محمد عمر، قاری عبدالرحمان، مولانا نظر، قاری شعیب موجودرہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

پولیس نے دہلی جانے والے کانگریس لیڈران کو گھروں میں کیا نظر بند

Published

on

دیوبند:راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کی حمایت میں دہلی جانے والے کانگریس لیڈران کے خلاف پولیس کی کارروائی ضلع سہارنپور کانگریس کے ضلع صدر سندیپ رانا کو پولیس نے راستہ میں روک کرحراست میں لیا ۔
تفصیل کے مطابق دہلی کے جنتر منتر پر کانگریس لیڈران راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی ودیگر سینئر کانگریسی لیڈران کے دھرنے کی حمایت میں جانے کی تیاری کرنے والے سہارنپور کے کانگریس پارٹی کے لیڈران کو پولیس نے ان کے گھروں میں نظر بند کردیا ۔جبکہ ضلع کانگریس صدر سندیپ سنگھ رانا کو دہلی جاتے ہوئے ٹول پلازہ پر پولیس نے حراست میں لے لیا ۔
پولیس نے اس سلسلہ میں مزید کارروائی کرتے ہوئے سابق اسمبلی رکن مسعود اختر ،ضلع صدر چودھری مظفر علی ،منیش تیاگی اورایم پی کے نمائندہ ڈاکٹر مجید کو ان کے گھروں پر نظر بند کردیا گیا ۔اس کے علاوہ ضلع نائب صدر اور انچارج نتن شرما ،کانگریس اقلیتی سیل کے سونو پٹھان ،سابق شہر صدر ورون شرما ،ہری او م مشرا ،اور سردار چندر جیت سنگھ سمیت دیگر کئی کانگریس لیڈران کو بھی پولیس نے گھر وں سے باہر نکلنے نہیں دیا ۔کانگریس کے ضلع ترجمان گنیش دت شرما نے پولیس کارروائی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پر امن طریقہ سے احتجاج کرنا سب کا حمہوری حق ہے ۔
انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس لیڈران کو دہلی جانے سے روکنے کے لئے پولیس کی جانب سے اپنا یا جانے والا طریقہ جمہوری حقوق کے خلاف ہے بلکہ یہ غیر اعلانیہ ایمرجنسی ہے ۔وہیں دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ قانونی نظم ونسق کو قائم رکھنے اور کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار حالات سے بچنے کے لئے احتیاط کے طور پر یہ کارروائی کی گئی ۔لیکن پولیس کی اس کارروائی کے بعدپورے ضلع میں سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے ۔
پولیس وانتظامیہ کے ان اقدامات سے کانگریس کا رکنان میں انتظامیہ کے تئیں سخت ناراضگی ہے ۔

Continue Reading

uttar pradesh

کانوڑ یاترا میں ڈی جے چلانے والوں کیلئے انتظامیہ کی سخت وارننگ

Published

on

دیوبند:کانوڑ یاتر ا 2026کو محفوظ ،پرامن اور منظم طریقہ سے منعقد کرانے کے مقصد سے ریزرو پولیس لائن میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ایس ایس پی کی مشترکہ صدارت میں ڈی جے چلانے والوں کے ساتھ ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا ۔اس میٹنگ میں سہارنپور کے علاوہ یمنانگر ،کرنال اور آس پاس کے علاقوں اور صوبوں سے آنے والے ڈی جے چلانے والوں اور تیارکرنے والوں نے شرکت کی ۔میٹنگ کے دوران انتظامیہ اور افسران نے واضح کیا کہ کانوڑ یاتر ا کے دوران ڈی جے ٹرکوں اور دیگر گاڑیوں کی اونچائی نیز ان کی صوتی سطح انتظامیہ کی جانب سے طے شدہ ضابطوں کے مطابق ہی رکھی جائے ۔افسران نے کہا کہ ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ضلع انتظامیہ نے احکامات دیتے ہوئے کہا کہ ڈی جے کے ذریعہ بجائے جانے والے گیتوں اور بھجنوں کی پین ڈرائیوتیار کرکے پہلے متعلقہ تھانہ انچارج کے پاس جمع کرانی ہوگی اور پولیس کی جانب سے گانوں اور بھجنوں کو صحیح قرار دینے اور اجازت دینے کے بعد ہی ڈی جے کے ذریعہ بجایا جاسکے گا ۔افسران کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ایسے گیتوں پر پابندی عائد کرنا ہے جن گائوں اور بھجنوں سے سماجی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہوں یا کسی کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہوں ۔اس کے علاوہ ڈی جے والی گاڑیوں کو پولیس وانتظامیہ کی جانب سے طے شدہ راستوں پر چلائے جانے کی اجازت ہوگی ۔ اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کچے یا غیر منظور شدہ راستوں سے آمد ورفت مکمل طور پر بند رہے گی ۔میٹنگ کے دوران افسران نے بتایا کہ کانوڑی جانے کے راستوں پر وسیع پیمانہ پر حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں ۔ان راستوں کی سیکٹر مجسٹریٹ پولیس افسران اور پیٹرولنگ کرنے والی ٹیمیں مسلسل نگرانی کررہی ہے ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ضابطوں پر عمل کرنے والے ڈی جے چلانے والوں اور کانوڑ میں جانے والے عقیدت مندوں کو پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے آمد ورفت کے انتظامات کے علاوہ حفاظت اور دیگر ضروری سہولیات مہیا کرائی جائے گی ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network