Connect with us

اتر پردیش

آج ثقافتی تنوع کی حقیقت پر غور کرنے کی ضرورت : پروفیسر ہیم لتا مہیشور

Published

on

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ ہندی کے زیر اہتمام2روزہ قومی سیمینار کاانعقاد
(پی این این)
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ ہندی کے زیرِ اہتمام دو روزہ قومی سیمینار بعنوان ”معاصر ہندی ناول: وقت، سماج اور ثقافت کی مزاحمتی آواز“ کے دوسرے اور آخری دن کے اجلاس میں بھی پہلے دن کی طرح گرانقدر علمی و فکری مباحثے ہوئے۔ جہاں پہلے دن وقت، سماج اور نظریات کے باہمی رشتوں پر گفتگو ہوئی، وہیں دوسرے دن کا مرکز بحث ثقافتی تنوع، نسائی خودمختاری اور ماحولیاتی شعور جیسے اہم موضوعات رہے۔خاص مقرر پروفیسر ہیم لتا مہیشور(جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی) نے دلت ناولوں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں ثقافتی تنوع کی حقیقت پر سنجیدگی سے غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادب کو نہ صرف حاشیے پر رہنے والے طبقات کی آواز کو جگہ دینی چاہیے بلکہ تجربے اور تخیل کے درمیان ایک پُل کی طرح کا کردار بھی ادا کرنا چاہیے۔
پروفیسر کہکشاں احسان سعد نے نسائی تحریروں میں خواتین کی خودمختاری کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاصر خاتون ناول نگاروں نے تخلیقی آزادی اور بیانیہ کو ایک نئی سمت عطا کی ہے۔ انہوں نے نسائی ادب میں آنے والی تبدیلیوں اور ابھرنے والے چیلنجوں پر بھی روشنی ڈالی۔ پروفیسر وبھا شرما (شعبہ انگریزی، اے ایم یو اور ممبر انچارج، دفتر رابطہ عامہ) نے ماحولیاتی انسانیات کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیزی سے بدلتی دنیا میں انسان کی حساسیت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹھہراؤ ہی انسان کو فطرت سے دوبارہ جوڑتا ہے، اور یہ ٹھہراؤ اپنی نوعیت میں ایک مزاحمت کی شکل ہے۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر طارق چھتاری نے کہا کہ سماج ناول کی اصل بنیاد ہے، اور کہانی ہمیشہ اپنے عہد کی اخلاقی، ثقافتی اور جذباتی حقیقتوں کی عکاسی کرتی ہے۔ ڈاکٹر دیپ شکھا سنگھ نے بھی معاصر ہندی ناولوں کے نئے موضوعات اور بدلتی ہوئی سماجی ساخت پر اظہارِ خیال کیا۔اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر رام چندر (جواہر لعل نہرو یونیورسٹی) نے کہا کہ آج کے ادیب اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جنہیں سابقہ ادب نے خالی چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ معاصر کہانی کاروں نے غیر جمہوری رجحانات کو توڑنے کا حوصلہ دکھایا ہے۔
پروفیسر کرشن مراری مشرا نے کہا کہ مزاحمت کی آواز دنیا کے ہر ادب میں پائی جاتی ہے کیونکہ مزاحمت خود سماج کی فطرت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاصر ناول میں فلسفے کی جگہ اب ایک نئی بصیرت نے لے لی ہے۔ پروفیسر تسنیم سہیل نے اپنے اختتامی خطاب میں سیمینار کی علمی دستیابیوں کی تلخیص پیش کی۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر جاوید عالم نے کی جبکہ پروفیسر شمبھو ناتھ تیواری نے شکریہ ادا کیا۔بڑی تعداد میں ماہرین، اساتذہ اور طلبہ کی شرکت نے شعبہ ہندی کے اس سیمینار کو یادگار بنا دیا۔

uttar pradesh

سہارنپورمیں مسجد کا انہدامی معاملہ تشویشناک،آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی ’گاندھی-امبیڈکر سماد یاترا‘ چوتھے دن پہنچی بجنور

Published

on

(پی این این)
بجنور: ’’گاندھی-امبیڈکر سماد یاترا‘‘ کا پہلا مرحلہ جس کا علی گڑھ سے چل کر سہارنپور جانا ہے آج بجنور پہنچی۔بجنور کے ضلع کانگریس دفتر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے معزز شاہنواز عالم قومی سیکریٹری/ شریک انچارج بہار نے سچر کمیٹی پر تفصیل سے چرچہ کی۔ سابق وزیر اعظم مرحوم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بہت بڑی پہل رہی کہ مسلمانوں کی سماجی، سیاسی اور تعلیمی حالت کا جائزہ لیا گیا لیکن اس پر مکمل عمل نہ ہو پانے پر تشویش ظاہر کی۔
جلسے میں موجود جے این یو طالب علم ہاشم علی نے آسام میں حد بندی کر کے مسلمانوں کی نمائندگی کو کم کرنے کی سازش کی مذمت کی اور ملک بھر میں بھی آسام ماڈل پر حد بندی کرنے کی مودی حکومت کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے اپوزیشن پارٹی کے رہنماؤں کو ہوشیاری سے کام لینے کی اپیل کی۔جلسے میں موجود بجنور شہر کانگریس کمیٹی کے صدر ہمایوں بیگ نے ’گاندھی- امبیڈکر سماد یاترا‘ جیسی کوشش کے لیے’ہم بھارت کے لوگ‘ تنظیم کی تعریف کی۔ انہوں نے مکالمے کے تمام مسائل پر اتفاق کیا اور حد بندی جیسے اہم مسئلے پر کھل کر غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
جلسے کی صدارت بجنور شہر کانگریس کمیٹی کے صدر ہمایوں بیگ جی نے کی اور نظامت پی سی سی ممبر نزاکت علوی نے کی۔ اتر پردیش صوبائی ترجمان تمجید احمد جی نے حکومت کی آئین مخالف پالیسیوں کی اسٹیج سے مخالفت کی۔ حال ہی میں سہارنپور کی مسجد کے انہدام پر گہری تشویش ظاہر کی اور اپوزیشن پارٹیوں سے اس مسئلے کو پرزور طریقے سے اٹھانے کی مانگ کی، یاترا میں معزز شاہنواز عالم قومی سیکریٹری/ شریک انچارج بہار، صوبائی ترجمان جناب تمجید احمد، محمد کیف، محمد جشم، محمد عاصم وغیرہ اہم طور پر شامل رہے۔ضلع کانگریس دفتر پر ہوئی میٹنگ میں محترم ہمایوں بیگ بجنور شہر صدر، پی سی سی ممبر نزاکت علوی، ضلع نائب صدر ونود تومر ایڈووکیٹ، ضلع نائب صدر وکرم سنگھ، حاجی ناصر چودھری، رفاقت چودھری، محمد حنیف، سید حسنین زیدی، مینو گوئل، وسیم اکرم، عبدالصمد آزاد، محمد رفعت، یوسف انصاری، قمر النساء، چودھری شورویر سنگھ، چتون شرما، انوپ سنگھ، انل تیواری، قاضی عاطف علی، حاجی نسیم انصاری، تارا، ابراہیم، رقیب عالم وغیرہ کانگریسی موجود رہے۔

 

 

Continue Reading

uttar pradesh

دارالعلوم فاروقیہ میں موطا امام مالک کے پہلے سبق کی مجلس، مولانا مجیب اللہ گونڈوی نے درس کاکرایاباوقار آغاز

Published

on

(پی این این)
دیوبند:معروف دینی ادارہ دارالعلوم فاروقیہ دیوبند میں مدرسہ کے بانی و مہتمم مولانا نور الہدیٰ قاسمی بستوی کی خواہش پر موطا امام مالک کے پہلے سبق کی مناسبت سے ایک علمی مجلس کا انعقاد کیا گیا۔ مجلس کی صدارت دارالعلوم دیوبند کے معروف استاذ حدیث مولانا مجیب اللہ گونڈوی نے کی، جنہوں نے موطا امام مالک کا پہلا درس دے کر کتاب کی تدریس کا باقاعدہ آغاز کرایا۔ درس کے دوران مولانا مجیب اللہ نے حدیث پاک کی اہمیت، طلبہ کے لیے حصول علم کے آداب اور امام مالک ؒکی علمی عظمت و عشق رسولؐ پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے موطا امام مالک کی وجہ تسمیہ کے حوالے سے محدثین کے مختلف اقوال بیان کرتے ہوئے اس موضوع پر مفید علمی گفتگو کی۔ انہوں نے طلبہ کو ادارے، اس کے ذمہ داران اور اساتذہ کے ادب و احترام کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ علم کا سلسلہ واسطہ در واسطہ آگے منتقل ہوتا ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح بجلی کا بلب کھمبوں اور تاروں کے ذریعے روشن ہوتا ہے، اسی طرح طلبہ بھی اپنے اساتذہ کے ذریعے اپنے مستقبل کو روشن کرتے ہیں۔ اس موقع پر ادارہ کے شیخ الحدیث مولانا ابو شبلی، مفتی افتخار کیرانوی، حذیفہ نور، مفتی رشید احمد، مفتی محمد احمد، مفتی اطہر، مفتی ایوب، مولوی عبدالرحمن، قاری احباب سمیت ادارہ کے اساتذہ اور جملہ طلبہ موجود رہے۔ مجلس کے اختتام پر مولانا مجیب اللہ نے دعا کرائی، جس میں ادارہ کی ترقی، اساتذہ و طلبہ کے بہتر مستقبل اور پوری امت کی بھلائی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

 

Continue Reading

uttar pradesh

جانی فوسٹر وسیع تخلیقی کینوس کے ایک معتبرشاعر : پروفیسر گلریز،اے ایم یو میں’’در ودیوار سے پہلے‘‘کی تقریب رسم اجرا کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ: آج یہاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے آرٹس فیکلٹی لاؤنج میں معروف شاعر جانی فوسٹر کے شعری مجموعہ” در و دیوار سے پہلے” کی رسم اجرا پروفیسر محمد گلریز، سابق وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور پروفیسر محمد رضوان خان ،ڈین فیکلٹی آف آرٹس، اے ایم یوکے ہاتھوں عمل میں آئی۔ پروگرام کاآغاز جناب ساجد حسن رحمانی کے تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ تقریب رسم رونمائی کی صدارت ڈین فیکلٹی آف آرٹس نے کی اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر محمد گلریز نے شرکت فرمائی۔ جبکہ پروفیسر شمبھو ناتھ تیواری اور ڈاکٹر مشتاق صدف نے شعری مجموعے پر سیر حاصل گفتگو کی۔
پروفیسر محمد گلریز نے کتاب کے مصنف جانی فوسٹر کو دلی مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں جانی فوسٹر کو دشینت کمار جیسے شعرا کے زمرے میں شمار کرتا ہوں۔ ان کی شاعری ہمارے دلوں کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔وہ سوشلسٹ شاعر ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ وہ کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے یہاں آسان لب و لہجے میں گہری شاعری دیکھنے کو ملتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جانی فوسٹر وسیع تخلیقی کینوس کے ایک معتبر شاعر ہیں۔ان کی شاعری میں متانت، سنجیدگی اور سادگی ہمیں سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔نیزانہوں نے ہندوستانی تہذیب اور اخلاقی قدروں کی پاسداری بڑی خوش اسلوبی سے کی ہے۔اور یہ ان کی بڑی شناخت ہے۔پروفیسر محمد رضوان خان نے کہا کہ جانی فوسٹر کے یہاں موضوعات کی رنگارنگی دیکھنے کو ملتی ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے یہاں نئے شعری وجدان کی تشکیل بڑی خوبصورتی سے کی گئی ہے۔پروفیسر شمبھو ناتھ تیواری نے کہا کہ سماج کے بدلتے رویوں اور تیور پر ان کی شاعری طنز کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ان کی نظموں میں صدیوں پرانی تہذیب و ثقافت کی نمائندگی بھی دکھائی دیتی ہے۔
ڈاکٹر مشتاق صدف نے کہا کہ جانی فوسٹر کی غزلیں ہمیں ایک نئی شعری دنیا سے متعارف کراتی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ حسن و عشق کے پاکیزہ خیالات، حقائق میں تیکھاپن، جذبات میں شدت ،زندگی کے اسرار و رموز کی عقدہ کشائی اور لہجے کی بے باکی سے ان کی غزلیہ شاعری روشن ہے۔واضح رہے کہ اس مجموعہ کا مقدمہ ڈاکٹر مشتاق صدف نے تحریر فرمایا ہے۔صاحب کتاب جانی فوسٹر نے اس موقع پر موجود اے ایم یو کے اساتذہ،طلبا و طالبات اور شہر علی گڑھ کی سرکردہ شخصیات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ علیگ برادری نے جس طرح میری حوصلہ افزائی کی ہے اس کا میں زندگی بھر قرضدار رہوں گا۔ انہوں نے سامعین کواپنے کلام سے بھی نوازا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network