uttar pradesh
بلند شہر میں فیتہ کاٹ کر حج سہولت سنٹر کا افتتاح
بلند شہر:اتر پردیش ریاستی حج کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کی تعمیل میں، مدرسہ قاسمیہ عربیہ اسلامیہ، اوپرکوٹ بلند شہر میں ایک حج سہولت مرکز قائم کیا گیا ہے۔ آج 13 جولائی 2026 کو مہمان خصوصی، ڈسٹرکٹ حج ٹریننگ اینڈ ویکسی نیشن سنٹر کے انچارج/منیجر حاجی نور محمد قریشی نے مدرسہ قاسمیہ عربیہ اسلامیہ، اپرکوٹ بلند شہر میں فیتہ کاٹ کر حج سہولت سنٹر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔
اس موقع پر حاجی نور محمد قریشی نے بتایا کہ 2027 حج کے لیے آن لائن درخواست فارم 22 جون 2026 سے بھرنا شروع ہوئے اور بھرنے کی آخری تاریخ 20 جولائی 2026 ہے، 2027 کے حج کے لیے درخواست دینے والے عازمین اپنا موبائل نمبر، دسمبر 2027 تک ایک بین الاقوامی پس منظر کی تصویر کے ساتھ ایک سفید پاس پورٹ پر اپ لوڈ کریں۔ 31، 2027، ایک آدھار کارڈ، ایک پین کارڈ، ایک بلڈ گروپ رپورٹ، اور ایک بینک پاس بک/منسوخ شدہ چیک۔
2027 کی حج پالیسی کے مطابق عازمین حج مفت میں آن لائن درخواست دے سکیں گے۔ قریشی نے کہا کہ اگر 2027 کے حج کے لیے درخواستوں کی تعداد مختص کوٹہ سے زیادہ ہوتی ہے تو عازمین کا انتخاب قرعہ اندازی کے ذریعے کیا جائے گا۔
پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے مدرسہ کے پرنسپل مولانا عرفان احمد صدیقی نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ضلع کے عازمین کو فارم بھرنے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، آج مدرسہ قاسمیہ عربیہ اسلامیہ میں حج ای فسیلیٹیشن سنٹر کا افتتاح کیا گیا۔ ضلع بلند شہر کے عازمین حج اپنے حج فارم مفت میں حج سہولت مرکز، مدرسہ قاسمیہ عربیہ اسلامیہ، اوپر کوٹ بلندشہر، صبح 9:00 بجے سے دوپہر 12:00 بجے تک بھر سکتے ہیں۔ اس موقع پر سابق سینئر ڈسٹرکٹ حج ٹرینر حاجی خورشید عالم راہی، ڈاکٹر ظہیر احمد، ماسٹر شجاعت اللہ خان، اور مدرسہ کا تمام عملہ موجود تھا۔
مزید معلومات کے لیے ضلع کی حج ہیلپ لائن پر رابطہ کریں:ہیلپ لائن نمبرز: 9412503151، 9219123333
uttar pradesh
خطرے میں ہے ملک کا آئین،ایودھیا پہنچے ابو عاصم اعظمی ، 2027 کے اسمبلی انتخابات کے لیے سپا کے پوری طرح سے تیارہونے کاکیا دعوی
(پی این این)
ایودھیا:سماج وادی پارٹی مہاراشٹر کے ریاستی صدر اور ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی کا ایودھیا پہنچنے پر پارٹی کارکنوں نے شاندار استقبال کیا۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے اعظمی نے کہا کہ سماج وادی پارٹی ان کا اپنا خاندان ہے اور وہ اپنے خاندان سے ملنے ایودھیا آئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کارکن آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور تنظیم کو مضبوط کرنے کے لیے سب کو متحد کریں گے۔
اعظمی نے کہا کہ ملک کے نوجوان جدوجہد آزادی کے دوران پیدا نہیں ہوئے تھے، لیکن اب یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کی حفاظت کے لیے چوکس رہیں۔اس مقصد کے لیے وہ نوجوانوں سے مسلسل رابطہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا آئین خطرے میں ہے اور معاشرے سے نشے کی لت کو مکمل طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ایودھیا کے بعد وہ خلیل آباد جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی 2027 کے اسمبلی انتخابات کے لئے پوری طرح سے تیار ہے۔ ان کے مطابق جب چائے کی دکانوں، بس اسٹیشنوں، رکشہ چلانے والوں اور عام لوگوں میں حکومت کے خلاف عدم اطمینان کی چرچا ہورہی ہے تو سیاسی تبدیلی یقینی ہوتی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اتر پردیش میں مذہب کے نام پر سیاست کھیلی جارہی ہے اور بغیر کسی جرم کے لوگوں کے گھروں کو گرانا غلط ہے۔ اعظمی نے ایودھیا میں معین خان کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک کیس میں گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اور ان کے گھر کو بھی مسمار کر دیا گیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ بے قصور ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی تعمیرات غیر قانونی قرار دی جائیں تو قانون کے مطابق اور یکساں طور پر کارروائی کی جائے۔ بابری مسجد-رام جنم بھومی تنازعہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مذہبی مقامات سے متعلق تمام فریقین کے عقیدے کا احترام کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مندر اور مسجد دونوں محفوظ رہیں اور کسی کے مذہبی عقائد کو ٹھیس پہنچانا درست نہیں ہے۔
uttar pradesh
’’میرے خوابوں کا بھارت‘‘ مہم کے تحت پوسٹر سازی مقابلہ
(پی این این)
دیوبند: ’’میرے خوابوں کا بھارت‘‘ مہم کے تحت پریشد کے اسکولوں میں جاری دو روزہ مصوری و پوسٹر سازی مقابلے کا آج اختتام ہوگیا۔ آخری روز بلاک کے مختلف پرائمری اور اعلیٰ پرائمری اسکولوں، سلطان پور، سانپلا کھتری، گنارسہ، ساکھن کلاں، بی بی پور، ساکھن خورد، رن کھنڈی، کھڑنجہ احمد پور، پھلاس اکبرپور، سانپلا بقال، امرپور نین، امبیہٹہ شیخاں، مقبرہ، راستَم، باستَم اور دیوال ہیڑی کے طلبہ و طالبات نے مختلف موضوعات پر دلکش پوسٹر تیار کرکے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
طلبہ نے پوسٹروں کے ذریعے ترقی یافتہ بھارت، عالمی امن، ’’چلو ویدوں کی طرف‘‘، سائنس کے کرشمے اور ماحولیات کے تحفظ جیسے موضوعات پر مؤثر پیغامات پیش کیے۔اس موقع پر اعلیٰ پرائمری اسکول سلطان پور میں گرام پردھان انیل کمار نے طلبہ کے تیار کردہ پوسٹروں کا معائنہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی سطح پر منعقد ہونے والا یہ پروگرام بچوں کو حب الوطنی، ترقی، فن، ادب، سائنس، ماحولیات اور ثقافت سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔مقابلے کے دوران پرومود کمار، خورشید احمد صدیقی اور رِچا شرما سمیت دیگر افراد موجود رہے۔
uttar pradesh
ماحولیات ہماری زندگی کے لیے نہایت ضروری:پروفیسر پی کے شرما،شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی پروفیسر ارتضیٰ کریم کی نئی کتاب”ماحولیاتی ادبی تنقید“ کی رسم اجراہ و مذاکرہ
میرٹھ:کسی بھی کتاب کا اجراء کتاب کی اہمیت میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔”ماحولیاتی ادبی تنقید“بہت اہم کتاب ہے۔ بغیر انوائیر مینٹ کے ہم زندہ نہیں رہ سکتے۔ یہ مو ضوع بہت ہی عمدہ اور افادیت سے بھر پور ہے اور اس موضوع پر تفصیلی گفتگو ہونا چاہئے۔ماحولیات ہماری زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔آج ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ کتاب کا ترجمہ کرنا بھی بہت آسان ہے۔ارتضیٰ کریم صاحب سے میری درخواست ہے کہ اس کا دیگر زبانوں میں بھی ترجمہ کرائیں تاکہ یہ دیگر زبانوں کے طالب علموں اور ریسرچ اسکالرز تک پہنچے۔یہ الفاظ تھے سابق شیخ الجامعہ سہیل دیو یونیورسٹی، اعظم گڑھ پروفیسر پی کے شرما کے جومہمان خصوصی کی حیثیت سے شعبہئ اردو میں منعقدپروفیسر ارتضیٰ کریم کی کتاب”ماحولیاتی ادبی تنقید“ کی رسم اجراء و مذکراہ کے دوران اپنی تقریرکے دوران ادا کررہے تھے۔
اس سے قبل پروگرام کا آ غاز محمد عیسیٰ رانا نے تلا وت کلامِ پاک سے کیا۔ ہدیہئ نعت ایم اے اردو کی طالبہ مہوش نے پیش کیا۔ پروگرام کی صدارت کے فرائض معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری نے انجام دیے۔ مہمان خصوصی کے بطور سابق شیخ الجامعہ سہیل دیو یونیورسٹی، اعظم گڑھ پروفیسر پی کے شر ما نے شر کت فر مائی۔ مہمانانِ اعزازی کے بطور معروف فکشن نگار و منفرد شاعر پروفیسر شفق سو پوری، پروفیسر اے۔کے۔ چوبے]سابق صدر شعبہ زو لوجی[اور پروفیسر کویتا تیاگی]سابق صدر شعبہئ ہندی،میرٹھ کالج[ نے شر کت کی۔استقبالیہ کلمات ڈاکٹر شاداب علیم، نظامت کے فرائض ڈاکٹر آصف علی اور شکریے کی رسم ڈاکٹر الکا وششٹھ نے ادا کی۔
اس موقع پراظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے کہا کہ نئی صدی میں نئے مو ضوع پر لکھی گئی نئی کتاب کا نام”ماحولیاتی ادبی تنقید“ہے۔ جس کو بڑی جانفشانی کے ساتھ پروفیسر ارتضی کریم نے ترتیب دی ہے۔ نئی صدی میں ماحولیات ایک اہم اور نیا مو ضوع جس سے اردو والے ذرا کم ہی واقفیت رکھتے ہیں۔اردو ادب میں ما حولیات ہمارے ادبا و شعرا سے اچھوتا نہیں رہا ہے۔جب بھی ہم اردو ادب میں ماحولیاتی ادبی تنقید کی بات کرتے ہیں تو یہاں ماحولیاتی تنقید پر زیادہ سر مایہ نظر نہیں آتا۔ابھی ماحولیاتی ادبی تنقید پر اردو میں کوئی مستند اور معتبر کتاب منظر عام پر نہیں آئی تھی۔ یہ سعادت باری تعالیٰ نے پروفیسر ارتضیٰ کریم کو بخشی، جنہوں نے ما حولیات کو براہِ راست ادبی تنقید کا مو ضوع بنایا۔
پروفیسر کویتا تیا گی نے کہا کہ یہ موضو ع آج ہندوستان کے لیے بہت ضروری ہے۔ جب کو ئی مصنف لکھتا ہے تو وہ کتاب اس کی پرچھائی ہوتی ہے۔کتاب کی افادیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اردو اور ہندی میں بھی ترجمہ ہونا چاہئے تا کہ ان زبانوں کے قارئین تک بھی اس کتاب کا میسیج پہنچے۔روایت سے ہٹ کر آج کے مصنفین ایسے موضوعات کو برت رہے ہیں جن کی آج سماج کو بہت زیادہ ضرورت ہے۔پروفیسر اے۔کے چوبے نے کہا کہ ما حولیات کے تعلق سے جو چیزیں سامنے آ رہی ہیں ان پر بات کرنا بہت ضروری ہے۔ہمیں اپنے اپنی حفاظت کرتے ہوئے ترقی کی جانب بھی گامزن ہونا ہے۔ اس لیے ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اپنے ما حول کو سمجھیں اور اس کے مطابق کام کریں۔آج جو نیچرکے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہورہی ہے اس پر بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے ہمیں اس کی حفاظت کرنی چاہئے۔بہترین کتاب کے لیے ارتضیٰ کریم صا حب کو مبارک باد!
پروفیسر شفق سو پوری نے کہا کہ ابھی تک بہت سے اسکالرز ما حولیاتی تنقید کو پورے طور پر نہیں سمجھ پائے۔ سب سے پہلے ماحولیاتی ادب کی شناخت ضروری ہے۔ماحولیاتی تنقید کا مفہوم میرے خیال سے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے آ یا ہے اور اردو میں یہ نیا تنقیدی رجحان”ماحولیاتی ادبی تنقید“ کی صورت میں سا منے آ یا ہے اور اس کا سہرا پروفیسر ارتضیٰ کریم کے سر جاتا ہے۔ ان کے لٹریچر کو پڑھ کر سمجھنا چاہئے۔ ارتضیٰ کریم کی تنقید میں اوچھا پن نہیں ملتا، ان کی تنقید کا ایک معیار ہے’۔ ”ماحولیاتی ادبی تنقید“ اردو میں انقلاب لائے گی۔میں اس شعبے میں آنے کا بڑا خواہش مند تھا۔ سوشل میڈیا پر میں نے شعبے کی ایکٹویٹیز دیکھی ہیں،نہایت ہی فعال شعبہ ہے۔ میں شعبے کے تمام اراکین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ کتاب بھی بچے کی مانند ہوتی ہے۔ایک دن میں جوان نہیں ہو سکتی، اس کے لیے وقت در کار ہوتا ہے۔ اے آئی سے ہمارا ماحول متاثر ہورہا ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ماحولیاتی تنقید صرف ما حولیات کی ہی تنقید نہیں ہے ہمیں اس کی گہرا ئی کو سمجھنا ہے۔NEP میں جن مقامی زبانوں کو اپنانے کا ذکر کیا گیا ہے، مقامی بولیوں اور زبانوں کو نصاب میں شامل کیا ہے اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ان مقامی بولیوں اور زبانوں کی حفاظت کی جاسکے۔یہ بھی ما حولیاتی تنقید کا حصہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری یہ کتاب عن قریب ہندی میں بھی شائع ہو گی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک یہ کتاب پہنچ سکے۔
آخر میں اپنی صدارتی تقریر کے دوران پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ شعبہئ اردو میں بہت سی کتابوں کا اجراء ہو تا رہا ہے لیکن اس کتاب کا اجراء بہت اہم ہے۔ کیو نکہ آج ایک نیا تنقیدی دبستان”ماحولیاتی ادبی تنقید“ کا آغاز ہوا ہے۔کتاب کسی بھی موضوع پر ترتیب دی جائے بس شرط یہ ہے کہ اس کا موضوع اچھا ہو،منفرد ہو تو ایسی کتاب تخلیقی کتاب سے بھی زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ یہ کتاب ہمیں کس کس طرف متوجہ کرتی ہے۔ ہمارے آس پاس کی چیزیں ہمارے ادب کو بھی متاثر کرتی ہیں،یہ بھی ماحولیاتی ادبی تنقید کا حصہ ہے۔ اس کتاب کی یہ بھی اہمیت ہے کہ ماحولیات کی سبھی زبانوں میں بات کی جاتی ہے۔میں ارتضیٰ کریم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ارتضیٰ کریم نے ایک نیا موضوع ہمیں دیا اور ایک نئی تنقید سے ہمیں رو شناس کرایا۔اس موقع پر ڈاکٹر عفت ذکیہ، انل شر ما، ہینت گویل، جتیندر سی راج،آفاق احمد خاں، سراج الدین احمد، عابد سیفی،محمد ندیم، اریبہ سر فراز،طاہرہ پروین، نایاب، نمرہ،عائقہ صدیقہ، سیدہ مریم الٰہی،شاکر مطلوب اور طلبہ و طالبات موجود رہے۔
-
بہار10 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
