Connect with us

دلی این سی آر

ایم ایل اے کرنیل سنگھ کی نفرت انگیزی پر جمعیۃ علماء ہند کے وفد کی اے سی پی سےکی ملاقات

Published

on

نئی دہلی: حسب مشورہ صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی، جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں ایک وفد نے آج رانی باغ تھانے میں اے سی پی منگول پوری شری مراری لال سے ملاقات کی اور پیتم پورہ (شکور بستی) کے رام لیلا گراؤنڈ کے قریب پیش آئے حالیہ تنازع اور انہدامی کارروائی کے تعلق سے ایک تفصیلی میمورنڈ م پیش کیا ۔ اس موقع پرمتعلقہ تھانہ کے ایس ایچ او بھی موجود تھے ۔
وفد نے مقامی ایم ایل اے کرنیل سنگھ کے اشتعال انگیز بیانات و اقدامات کی سخت مذمت کرتے ہوئے دہلی پولیس سے مطالبہ کیا کہ علاقے میں امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے فوری قانونی کارروائی کی جائے۔ وفد نے اپنے مکتوب کے ساتھ ویڈیو ریکارڈنگ، میڈیا رپورٹوںور سوشل میڈیا مواد سمیت متعدد شواہد بھی پولیس حکام کے حوالے کیے۔
جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے پیش کردہ مکتوب میں واضح کیا گیا کہ کرنیل سنگھ کی جانب سے یہ دعویٰ کہ منہدم کی گئی دیوار یا ڈھانچہ مسجد یا مدرسہ کا حصہ تھابے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔ مکتوب میں کہا گیا کہ مذکورہ دیوار یا ڈھانچہ نہ مسجد کا حصہ تھا اور نہ ہی مدرسہ کا، بلکہ مقامی ایم ایل اے اس کو جان بوجھ کر فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے اس طرح پیش کیا ۔
مکتوب میں مزید کہا گیا کہ کرنیل سنگھ نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر نہ صرف دیوار گرائے بلکہ مسلسل اشتعال انگیز اور نفرت آمیز بیانات دیے، جنہیں مختلف قومی میڈیا اداروں نے نشرکیا اور جو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیلائے گئے۔ خود کرنیل سنگھ نے بھی ان ویڈیوز اور خبروں کو اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر شیئر کرتے ہوئے فخریہ انداز میں اپنی کامیابی کے طور پر پیش کیا۔ ایک ویڈیو میں انہوں نے یہاں تک کہا کہ یہاں نہ مدرسہ چلنے دیا جائے گا اور نہ مسجد۔
جمعیۃ علماء ہند کے وفد نے اس بات پر شدید تشویش ظاہر کی کہ ایسے بیانات اور اقدامات نے علاقے میں خوف، بے چینی اور فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کردی ہے اور امن و امان کی صورت حال کو متاثر کیا ہے۔ میمورنڈم میں کہا گیا کہ ایک منتخب عوامی نمائندے کی جانب سے نعروں کے درمیان انہدامی کارروائی کرنا اور ایک مخصوص مذہبی طبقے کو نشانہ بنانا کھلی اشتعال انگیزی اور نفرت پھیلانے کے مترادف ہے، جو مستقبل میں قانون ہاتھ میں لینے کے رجحان کو فروغ دے سکتا ہے۔
وفد نے دہلی پولیس سے مطالبہ کیا کہ کرنیل سنگھ کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعات 153A، 153B، 295A، 505 اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جائے۔
ساتھ ہی منہدم کیے گئے ڈھانچے کی ملکیت اور نوعیت کی غیر جانبدارانہ تحقیق کر کے عوام کے سامنے حقیقت واضح کی جائے۔ نیز مسجد میں آنے والے نمازیوں کی حفاظت کا معقول بندوبست کیا جائے۔
میمورنڈ م میں یہ بھی مطالبہ کیا گیاکہ کوئی بھی فرد، خواہ وہ کسی بھی عہدے یا سیاسی حیثیت کا حامل ہو، قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دی جائے اور تمام شہریوں کے آئینی حقوق اور ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ہر حال میں تحفظ یقینی بنایا جائے۔اس مکتوب کی نقول لیفٹیننٹ گورنر دہلی اور وزیر اعلیٰ کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔
اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے بتایا کہ وہ دہلی پولیس کمشنر اور متعلقہ ڈی سی پی سے صور ت حال سے متعلق کئی دنوں سے رابطہ رابطے میں ہیں، تاکہ علاقے میں کسی بھی قسم کی فرقہ وارانہ کشیدگی کو روکا جا سکے اور قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔وفد میں ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند کے ہمراہ مولانا آفتاب عالم صدیقی ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء صوبہ دہلی ،مولانا مفتی خلیل قاسمی نائب صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی، قاری محمد عارف قاسمی نائب صدر جمعیۃ صوبہ علماء دہلی ،حافظ محمد یوسف الاعظمی ناظم تنظیم جمعیۃ علماء صوبہ دہلی، مرکزی دفتر جمعیۃعلماءہند دہلی سے مفتی ذاکر حسین قاسمی ، مقامی ذمہ داروں میں مولانا جمشید امام مسجد نور الٰہی پیتم پورہ، ڈاکٹر محمد یوسف پیتم پورہ شامل تھے۔

 

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

بڑے پیمانے پرنوجوانوں کو تباہ کر رہی ہےبی جے پی :کجریوال

Published

on

نئی دہلی :عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال نے منشیات کے مسئلے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت حملہ کیا ہے جو پنجاب کے نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر تباہ کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں آنے والی 80 فیصد منشیات بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں سے آرہی ہیں۔ انہوں نے پارٹی کے زیر اقتدار کئی ریاستوں کا نام لیا، خاص طور پر اس کے لیے گجرات کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ دریں اثنا، کجریوال نے پنجاب میں بی جے پی کے انسداد منشیات مارچ کو بے شرمی قرار دیتے ہوئے تنقید کی اور کہا کہ اگر بی جے پی منشیات کے استعمال کو روکنا چاہتی ہے تو اسے پنجاب میں اے اے پی حکومت سے سیکھنا چاہئے۔ کیجریوال نے بی جے پی کو ہر چیز پر سیاست نہ کرنے کا مشورہ بھی دیا۔سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں کیجریوال نے لکھا، “2022 میں جب ہماری حکومت بنی تو 80 فیصد منشیات پاکستان سے آتی تھیں، AAP حکومت نے اینٹی ڈرون سسٹم لگا کر پاکستان سے آنے والی منشیات کو کنٹرول کیا، جس کے نتیجے میں آج صرف 20 فیصد منشیات پاکستان سے آتی ہیں۔”
انہوں نے منشیات کی اسمگلنگ کے لیے بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا، “آج 80 فیصد منشیات بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں جیسے گجرات، راجستھان، ہریانہ، اتر پردیش، اور دہلی سے آرہی ہیں۔ کیا بی جے پی اپنی ریاستوں میں منشیات کے کاروبار کو روکنے میں ناکام رہی ہے، یا وہ نہیں چاہتی؟” وہ تیس سال سے گجرات میں برسراقتدار ہیں اور وہاں منشیات کا کاروبار سب سے زیادہ ہے۔پوسٹ کے آخر میں، AAP کنوینر نے لکھا، مندرا بندرگاہ کے ذریعے بھارت میں منشیات داخل ہوتی ہیں، جس کی ذمہ داری مرکزی بی جے پی حکومت پر عائد ہوتی ہے، اور ان کی بے شرمی دیکھیں، یہ لوگ پنجاب میں منشیات کے خلاف مارچ کر رہے ہیں۔ اگر آپ سیکھنا چاہتے ہیں تو پنجاب سے سیکھیں، AAP سے سیکھیں، اور اپنی ریاستوں میں بھی منشیات کا خاتمہ کریں۔ ہر چیز پر سیاست نہ کریں۔”
کیجریوال نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ایک مضمون بھی شیئر کیا، جس میں وضاحت کی گئی ہے کہ جہاں پولس نے سرحد پار سے آنے والی منشیات کو روکنے میں زبردست کامیابی حاصل کی ہے، وہیں دوسری طرف ان ادویات کی مانگ پڑوسی ریاستوں سے فارماسیوٹیکل ادویات درآمد کرکے پوری کی جارہی ہے۔
مضمون میں پولیس کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پنجاب میں داخل ہونے والی تقریباً 80 فیصد دوائیاں اب گجرات، اتر پردیش، راجستھان، ہریانہ اور دہلی سے آتی ہیں۔ اس عرصے کے دوران، 2025 سے اب تک 1.154 ملین گولیاں اور کیپسول قبضے میں لیے جا چکے ہیں۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ جہاں پولیس ڈرونز اور پاکستان کی سرحد پر توجہ نے ایک سپلائی روٹ میں خلل ڈالا ہے، وہیں فارماسیوٹیکل چینلز کی شکل میں ایک نیا اور زیادہ خطرناک نیٹ ورک سامنے آیا ہے۔ پولیس نے اطلاع دی ہے کہ طبی مقاصد کے لیے منشیات کو غیر قانونی مارکیٹ میں موڑ دیا جا رہا ہے، جو اس چیلنج کو مجرمانہ اور ریگولیٹری دونوں بناتا ہے۔

 

 

Continue Reading

دلی این سی آر

جامعہ کے طلبہ کی وی ایم اے سی 2026 میں شاندار کارکردگی

Published

on

نئی دہلی جامعہ ملیہ اسلامیہ کی فیکلٹی آف لاء نے ورچوئل میڈی ایشن ایڈووکیسی کمپٹیشن وی ایم اے سی) 2026 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اپنے طلبہ عزیز عمر (تیسرے سال)، سیدہ یسرا (چوتھے سال) اور سارہ اظفر (تیسرے سال) کو مبارکباد پیش کی ہے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے طلبہ نے اس باوقار مقابلے میں 60 سے زائد ٹیموں کا مقابلہ کیا اور ثالثی (Mediation)، وکالت (Advocacy)، گفت و شنید (Negotiation) اور سہولت کاری (Facilitation) کے شعبوں میں غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
قابلِ تحسین کارکردگی کے اعتراف میں ٹیم کو 20,000 روپے کی وی ایم اے سی اسکالرشپ دی گئی۔ اس کے علاوہ ٹیم نے ‘اسپیشل ایوارڈز کیٹیگری’ میں پانچواں انعام بھی حاصل کیا، جس کے تحت اسے 1,000 روپے کی انعامی رقم دی گئی۔ اس طرح ٹیم نے مجموعی طور پر 21,000 روپے کے انعامات اور اعزازات حاصل کیے۔
یہ کامیابی طلبہ کی محنت، تیاری اور متبادل تنازعات کے حل (Alternative Dispute Resolution – ADR) کے شعبے میں اپنی مہارت کو فروغ دینے کے عزم کی عکاس ہے۔ ان کی شاندار کارکردگی سے فیکلٹی آف لاء کا وقار بلند ہوا ہے اور قومی و بین الاقوامی اے ڈی آر مقابلوں میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بڑھتی ہوئی موجودگی میں ایک اور اہم کامیابی کا اضافہ ہوا ہے۔
فیکلٹی نے فیکلٹی آف لاء کے ڈین پروفیسر (ڈاکٹر) غلام یزدانی اور فیکلٹی کنوینر ڈاکٹر علیشہ خاتون کی مسلسل حوصلہ افزائی اور تعاون کا بھی اعتراف کیا، جنہوں نے طلبہ کو ADR مقابلوں میں شرکت اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے مواقع فراہم کیے۔
میڈی ایشن ایڈووکیسی امتحان میں بھی ٹیم نے غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 100 فیصد مجموعی اسکور کے ساتھ کامیابی سے امتحان مکمل کیا، جو میڈی ایشن ایڈووکیسی کی مہارتوں پر ان کی مضبوط گرفت کو ظاہر کرتا ہے۔
ٹیم نے پورے مقابلے کے دوران وقف شدہ رہنمائی، قیمتی مشوروں اور مسلسل تعاون کے لیے محترمہ اسرا مختار اور محترمہ خدیجہ مرزا کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
فیکلٹی آف لاء نے اس قابلِ تحسین کامیابی پر عزیز عمر، سیدہ یسرا اور سارہ اظفر کو دلی مبارکباد پیش کی اور ان کی آئندہ کوششوں میں مسلسل کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

 

Continue Reading

دلی این سی آر

ایم پی اور ایم ایل ایز پر پارٹی چھوڑنے پر 10 سال کی لگے پابندی:سی جی پی

Published

on

نئی دہلی :کپل سبل نے ان ایم پیز اور ایم ایل اے پر 10 سال کی پابندی کی تجویز پیش کی ہے جو پیسے یا الیکشن لڑنے اور عوامی عہدہ رکھنے کے دباؤ کی وجہ سے پارٹیاں بدلتے ہیں۔ اس دوران کاکروچ جنتا پارٹی کے ارکان دو قدم آگے بڑھ گئے ہیں۔ایم پی اور ایم ایل ایز پر پارٹی چھوڑنے پر 10 سال کی پابندی! ایک کاکروچ کپل سبل سے دو قدم آگے بڑھ کر یہ مطالبہ کرتا ہے۔سینئر وکیل اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ کپل سبل نے ایسے ممبران پارلیمنٹ اور ایم ایل اے پر 10 سال کی پابندی لگانے کی تجویز پیش کی ہے جو پیسے یا دباؤ کی وجہ سے پارٹیاں بدلتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کے ٹکٹ اور نشان پر جیتنے والے اور پھر دوسری پارٹی میں شامل ہونے والے ایم پی اور ایم ایل اے کو ایک مدت کے لیے الیکشن لڑنے اور عوامی عہدہ رکھنے سے روک دیا جانا چاہیے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اس سے بھی زیادہ سخت سزا کا مطالبہ کر رہی ہے۔ CJP کے ترجمان سورو داس نے کہا، “ہمارے پہلے چارٹر آف ڈیمانڈز میں پہلے ہی ایسے لیڈروں پر الیکشن لڑنے اور 20 سال تک کسی بھی عوامی عہدے پر رہنے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔” اس سلسلے میں کاکروچ کپل سبل سے دو قدم آگے دکھائی دیتے ہیں۔ہارس ٹریڈنگ اینڈ ڈیموکریسی” پر ایک بحث میں سبل نے انحراف مخالف قانون اور آئین کے 10ویں شیڈول میں انضمام کی رعایت پر سوال اٹھایا۔ ان کا استدلال ہے کہ اگر کسی قانون ساز پارٹی کے دو تہائی ارکان کسی دوسری پارٹی سے منحرف ہو جاتے ہیں اور اسے “انضمام” سمجھا جاتا ہے تو بڑے پیمانے پر انحراف ایک جائز راستہ بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کا مقصد حقیقی سیاسی تنظیم نو کی حفاظت کرنا ہے، نہ کہ ایم ایل ایز کو پارٹی چھوڑنے سے بچانے کے لیے۔سبل نے کہا کہ انحراف کو روکنے کے لیے اگر ضروری ہو تو قانون کو پڑھا اور اس میں ترمیم کی جانی چاہیے۔
انہوں نے نااہلی کے مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لیے اسپیکر کی جگہ ایک آزاد ٹربیونل بنانے اور ایسے فیصلوں کے لیے ایک وقت مقرر کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔سورو داس نے سبل کی تجویز کا خیرمقدم کیا، یہ کہتے ہوئے کہ CJP کے پہلے کے چارٹر آف ڈیمانڈز میں اور بھی سخت دفعات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق پارٹی X کے ٹکٹ پر جیتنے والے لیکن پھر دباؤ یا رشوت کے تحت پارٹی Y میں شامل ہونے والے ایم پی اور ایم ایل اے کو 20 سال تک کسی بھی عوامی عہدے پر رہنے یا الیکشن لڑنے سے روک دیا جانا چاہیے۔داس نے سیاسی پارٹیوں کی تقسیم، ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے رخ بدلنے پر مجبور کرنے کے لیے 50-100 کروڑ روپے کی مبینہ رشوت، اور حکومتوں کا تختہ الٹنے کو ملک کے ساتھ غداری قرار دیا۔ انہوں نے موجودہ انسداد انحراف قانون کو فرسودہ قرار دیا اور تبدیلیوں کا مطالبہ کیا۔سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل کی طرف سے کسی بھی ایم پی اور ایم ایل اے پر پابندی لگانے کی تجویز کا جو پارٹی X کے نشان پر منتخب ہوتا ہے اور بعد میں پیسے کے لیے یا دباؤ میں پارٹی Y سے عیب دار ہوتا ہے۔ وہ 10 سال کی پابندی کا مطالبہ کرتا ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network