تازہ ترین خبریںمحاسبہ

حاکم وقت نے یہ کیسا ہندوستان کر دیا

محاسبہ…………….سید فیصل علی

بہار میں سیاسی شعبدہ بازی دکھانے کے بعد بی جے پی بنگال کی تیاری کر رہی ہے۔ بہار کی جیت سے اس کے حوصلے اتنے بڑھ چکے ہیں کہ حصول اقتدار کیلئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتی ہے، حتی کہ وہ گلی کوچوں کے چناؤ اور بلدیاتی انتخابات میں بھی اسی طرح حصہ لینے کی شروعات کر چکی ہے، جس طرح پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات میں کرتی آ رہی ہے۔ حیدرآباد کے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات یکم دستمبر کو ہونے والے ہیں۔ لیکن اس مقامی چناؤ میں بی جے پی نے جس طرح پی ایم سے لے کر یوگی آدتیہ ناتھ، فڑنویس، جے پی نڈا، سمبت پاترا، اسمرتی ایرانی اور جاویڈکر قومی رہنماؤں کو اتارا ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ ہر قیمت پر یہ چناؤ جیت کر اویسی اور ٹی آر ایس کے قلعے کو منہدم کرنا چاہ رہی ہے۔ دام درمے سخنے کے علاوہ بی جے پی کا حیدرآباد کے مقامی چناؤ میں حصہ لینا اس بات کا غماز ہے کہ وہ ملک کو یک رنگی بنانے کے لئے جو بساط بچھا رہی ہے وہ کتنی تشویش ناک ہے، کورونا اور معیشت کے بدحالی کے اس دور میں ملک میں جو ہو رہا ہے اسے آئینی وانتظامی ادارے بھی بے بسی سے دیکھ رہے ہیں اور اب تو ایسا لگنے لگا ہے کہ ہندوستان کی رگوں میں مذہبی انتہا پسندی، نام نہاد راشٹرواد کی حرارت کی سیاست سے ملک کو مغلوب کرنے کا کھیل کامیاب ہو رہا ہے۔ اس کے آگے تمام ایشوز تمام مسائل حتی کہ کورونا اور پیٹ کی آگ بھی ٹھنڈی پڑتی جا رہی ہے۔ اب نہ کسی کو وکاس سے مطلب ہے اور نہ کسی کے ذہن میں ملک کی ڈوبتی ہوئی تہذیب کا کوئی غم ہے۔

چنانچہ اس دور بے حسی میں بنگال، آسام، تمل ناڈو، پڈوچیری، کیرالہ سمیت پانچ ریاستوں میں بی جے پی کا چناوی بساط ایک تشویش پیدا کر رہا ہے کہ اکثریتی طبقہ کے اذہان میں نفرت و تعصب کے جراثیم بھر کر ملک کی تکثیریت کو یک رنگی بنانے کا یہ کھیل ہندوستان کو کس خطرناک موڑ پر لے جائے گا یہ سوچ کر ہر ذی شعور پریشان ہے۔ چونکہ 7 برسوں کے عرصے میں وکاس تو ہوا نہیں جبکہ ملک تہذیبی وناش کی طرف جا رہا ہے، گائے کے بعد اب لو جہاد ہندوتو کا نیا چناوی ایشو بن چکا ہے۔ اس پر قانون لانے کی تیاریاں تو قبل سے چل رہی ہیں، بنگال میں بی جے پی امور کے انچارج وجے ورگیہ سمیت مدھیہ پردیش، آسام، کرناٹک کی حکومتیں تو قبل سے اعلان کر چکی ہیں کہ وہ نئی سرکار بننے پر لو جہاد کے خلاف قانون بنائیں گی، لیکن اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سب پر بازی مار چکے ہیں، یوپی میں تبدیلی مذہب کے تئیں قانون پر مہر لگ چکی ہے جس کے تحت اس جرم کی سزا 10 سال قید بامشقت ہوگی۔ گویا بی جے پی پورے کیل کانٹے کے ساتھ ملک کے معصوم اذہان کو مذہبی انتہا پسندی کے نشہ سے دوچار کرنے کے لئے تیار ہے۔ اب لو جہاد بنگال، آسام سے لے کر جنوبی ہند میں چناوی ایشو بنے گا۔

بی جے پی کو اپنے نام نہاد ہندوتو کی طاقت پر اتنا گمان ہے کہ اب وہ مقامی انتخابات میں بھی اس ہتھیار کا استعمال کر دیا ہے، جس کا آغاز حیدرآباد سے ہو رہا ہے، جہاں یوگی آدتیہ ناتھ زعفرانی روڈ شو ہو رہا ہے۔ حیدرآباد میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے چناؤ میں بی جے پی کے 22 سے زائد قومی لیڈران اور اسٹار پرچارک ڈور ٹو ڈور ووٹ مانگ رہے ہیں، حتیٰ کہ اس انتخاب میں پی ایم مودی تک مقامی لوگوں سے ووٹوں کی گہار لگا رہے ہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ کیا بی جے پی کے اس کروفر اور شان وشوکت والے انتخابی تشہیر کا مقابلہ دوسری جماعتوں کے مقامی غریب امیدوار کر سکیں گے۔ کیا لوکل لیبل پر ہونے والے اس کارپوریشن انتخاب میں بھی بی جے پی کا وہی داؤ چلے گا جو بہار میں چلا۔ جس کے تحت مخالفت کی لہر میں بھی بی جے پی جیت گئی۔

حیرت کی بات تو یہ بھی ہے کہ بہار الیکشن کی طرح حیدرآباد کے کارپوریشن انتخاب کے نگراں بھی مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ دویندر فڑنویس ہیں اور یہ بلدیاتی تاریخ کا پہلا انتخاب ہے جہاں بی جے پی نے باضابطہ انتخابی منشور جاری کیا ہے۔ بی جے پی کے اس انتخابی منشور میں بھی بہار کی طرح ووٹروں کو مفت کورونا ویکسین دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ سیلاب متاثرین کو 25 ہزار روپے پردھان منتری آواس کے تحت لاکھوں بے گھروں کو گھر کے علاوہ دہلی سرکار کی طرح خواتین کو بسوں میں مفت سفر ہی نہیں، بلکہ میٹرو میں بھی مفت سفر کی لالچ دی گئی ہے۔ علاوہ مفت بجلی، مفت پانی، طلباء کو مفت لیپ ٹاپ کے ساتھ وائی فائی کے درجنوں لبھاؤ نے وعدے کئے گئے ہیں ظاہر ہے کہ مقامی سطح پر اس منشور کا اثر ہو سکتا ہے۔ اب تک تو کسی پارٹی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ گلی کوچوں کے چناؤ کیلئے منشور جاری کیا جائے گا اور ووٹروں نے بھی نہیں سوچا ہوگا کہ ایسے موقع پر پی ایم، سی ایم تک ان سے ووٹ مانگنے آ سکتے ہیں۔

سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ دراصل حیدرآباد کے ایک معمولی چناؤ میں وزیر اعظم مودی، یوگی آدتیہ ناتھ اور پارٹی کے ہندوتو نواز فائر برانڈ لیڈروں کی شمولیت سے عوام کے ذہن کو ہندو راشٹر کے تئیں موڑنے کی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے تاکہ عوام بنیادی ایشو کے بجائے ہندوتو اور راشٹر واد کو ترجیح دیں۔ بلاشبہ میونسپل کارپوریشن کے اس معمولی انتخاب میں وزیر اعظم کی شمولیت ایک حیرتناک منظرنامہ ہے اور مجھے اس بات سے بھی اتفاق ہے کہ ہندوتو کی زمینی سطح پر پکڑ مضبوط کرنے کے لئے اور معمولی معمولی جگہوں کو بھی قبضانے کے لئے یہ بی جے پی کی نئی مگر موثر حکمت عملی ہے۔ اب تو لگتا ہے کہ ایک دور آئیگا کہ مکھیا اور پردھانی کے چناؤ میں بھی پی ایم، سی ایم ووٹ مانگتے نظر آئیں گے۔

گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی 150 سیٹوں پر یکم دسمبر کو ووٹنگ ہوگی اور 4دسمبر کو ریزلٹ آئیں گے۔ چنانچہ چناؤ میں بی جے پی نے پوری طاقت صرف کردی، اے آئی ایم آئی ایم کے قلعہ میں سیندھ لگانے کے لئے یوگی، نڈا، فڈنویس، اسمرتی ایرانی اور جاوڈیکر سمبت پاترا وغیرہ وغیرہ تک در در گھوم کر عوام سے ووٹ مانگتے پھر رہے ہیں۔یوگی، نڈا کا اویسی کے حیدرآباد میں زعفرانی روڈ شو دراصل ہندوتو کی طاقت کا مظاہرہ ہے، تشہیری مہم کے آخری دن اتوار کو مودی اور امت شاہ بھی ووٹروں سے خطاب کریں گے۔

بہرحال گلی، کوچے، نکڑ کے اس معمولی چناؤ میں اتنی بڑی تعداد میں بی جے پی کے قومی لیڈروں کا پہنچنا اس بات کا اشارہ ہے کہ مکھیا پردھان، پنچایتی، بلدیاتی چناؤ سے لے کر اسمبلی و پارلیمانی چناؤ تک بی جے پی یکساں حربہ اور حکمت عملی استعمال کرے گی اور ہر چناؤ کو اسی طاقت سے لڑے گی۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں ایک ہی چناؤ ہونا چاہئے تو کیا یہ سب ایک ہی چناؤ کا پیش خیمہ ہے جہاں بی جے پی مقامی سطح سے لے کر پارلیمانی سطح تک چناؤ کے لئے اپنے کیل کانٹے درست کر رہی ہے؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ اویسی حیدرآباد میں اپنی مقبولیت کا دبدبہ برقرار رکھتے ہیں یا بھاجپا ان کے قلعہ میں سیندھ لگانے میں کامیاب ہوتی ہے۔ کیونکہ جب پی ایم، سی ایم اور وزیر داخلہ کے قدم گلی کوچے کے معمولی چناؤ تک پہنچ جائیں تب لوکل افسران کتنے دباؤ میں رہیں گے، اک خوف کی تلوار ان کے سروں پر لٹکی رہے گی، ایسے عالم میں ووٹروں پر بھی اس کا کتنا اثر پڑے گا، یہ بڑا سوال ہے۔ بقول شاعر:

حاکم وقت نے یہ کیسا ہندوستان کردیا
سیکولر علامتوں کو بھی ہندو-مسلمان کردیا

([email protected])

محاسبہ………………………………………………………………………………………سید فیصل علی

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close